Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
118 - 212
حدیث ۶۵:
بعینہٖ یہی مضمون احمدوابو یعلٰی ۵؂نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔
 (۵؂مسند احمد بن حنبل عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۳۸۶)
حدیث آخر ابو نعیم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ، حضور مالک غیور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی تھیں :
لما خرج من بطنی فنظرت الیہ فاذا انابہ ساجد ثم رایت سحابۃ بیضاء قد اقبلت من السماء حتی غشیتہ فغیب عن وجھی ، ثم تجلت فاذا انابہ مدرج فی ثوب صوف ابیض وتحتہ حریرۃ خضراء وقد قبض علی ثلٰثۃ مفاتیح من اللؤلوء الرطب واذا قائل یقول قبض محمد علی مفاتیح النصرۃ ومفاتیح الربح ومفاتیح النبوۃ ثم اقبلت سحابۃ اخرٰی حتی غشیتہ فغیب عن عینی ثم تجلت فاذا انابہ قد قبض علی حریرۃ خضراء مطویۃ واذقائل یقول بخٍ بخٍ قبض محمد علی الدنیا کلھا لم یبق خلق من اھلھا الادخل فی قبضتہ۱؂ ۔ھذا مختصر۔والحمدللہ رب العالمین
جب حضور میرے شکم سے پیداہوئے میں نے دیکھا سجدے میں پڑے ہیں ،پھر ایک سفید ابر نے آسمان سے آکر حضور کو ڈھانپ لیا کہ میرے سامنے سے غائب ہوگئے ، پھر وہ پردہ ہٹا تو میں کیا دیکھتی ہوں کہ حضورایک اونی سفید کپڑے میں لپٹے ہیں اورسبز ریشمیں بچھونا بچھا ہے اورگوہر شاداب کی تین کنجیاں حضور کی مٹھی میں ہیں اورایک کہنے والا کہہ رہا ہے کہ نصرت کی کنجیاں ، نفع کی کنجیاں، نبوت کی کنجیاں، سب پر محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے قبضہ فرمایا ۔ پھر اور ابر نے آکر حضور کو ڈھانپا کہ میری نظر سے چھپ گئے ۔ پھر روشن ہوا تو کیا دیکھتی ہوں کہ ایک سبز ریشم کا لپٹا ہوا کپڑا حضور کی مٹھی میں ہے اورکوئی منادی پکار رہا ہے واہ واہ ساری دنیا محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مٹھی میں آئی زمین وآسمان میں کوئی مخلوق ایسی نہ رہی جو ان کے قبضہ میں نہ آئی ۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
(۱؂الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابو نعیم عن ابن عباس باب ماظہر فی لیلۃ مولدہ مرکز اہلسنت گجرات الہند ۱ /۴۸)
حدیث ۶۶:
حافظ ابو زکریا یحییٰ بن عائذ اپنی مولد میں بروایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما حضرت آمنہ زہریہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی ، رضوان خازن جنت علیہ الصلٰوۃ والسلام نے بعد ولادت حضور سید الکونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اپنے پروں کے اندر لے کر گوش اقدس میں عرض کی :
معک مفاتیح النصرۃ قد البست الخوف والرعب لایسمع احد بذکرک الا وجل فؤادہ وخاف قلبہ وان لم یرک یا خلیفۃاللہ  ۱؂۔
حضور کے ساتھ نصرت کی کنیاں ہیں رعب ودبدبہ کا جامہ حضو ر کو پہنایا گیا ہے جو حضور کا چرچا سنے گا اس کا دل ڈر جائے گا اورجگر کانپ اٹھے گا اگرچہ حضو ر کو نہ دیکھا ہو اے اللہ کے نائب !صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
(۱؂الخصائص الکبرٰی باب ما ظہر فی لیلۃ مولدہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مرکز اہلسنت گجرات الہند ۱ /۴۹)
ایمان کی آنکھ میں نور ہوتو ایک اللہ کا نائب ہی کہنے میں سب کچھ آگیا، اللہ کا نائب ایسا ہی تو چاہئے کہ جس کا نام محمد ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں ۔ ایک دنیا کے کتے کا نائب کہیں کا صوبہ اسکی طرف سے وہاں کے سیاہ وسپید کا مختار ہوتاہے مگر اللہ کا نائب کسی پتھر کا نائب ہے
وما قدروا اللہ حق قدرہ ۲؂۔
 (اللہ کی قدر نہ جانی جیسی چاہئے تھی ۔ت)
(۲؂القرآن الکریم ۶ /۹۱ و  ۳۹/ ۶۷۰)
بے دولتوں نے اللہ ہی کی قدرت نہ جانی لاواللہ اللہ کا نائب اللہ کی طرف سے اللہ کے ملک میں تصرف تام کا اختیار رکھتاہے جب تو اللہ کا نائب کہلایا صلی ا للہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
حدیث ۶۷:
امام دارمی اپنی سنن میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، حضور مالک جنت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
انا اول الناس خروجا اذا بعثوا وانا قائدھم اذا وفدوا وانا خطیبھم اذا انصتواو انا شفیعھم اذا حبسوا وانا مبشرھم اذا یئسوا الکرامۃ والمفاتیح یومئذ بیدی ولو اء الحمد یومئذ بیدی ۳؂۔الحدیث
میں سب سے پہلے قبر سے باہر آؤں گا جب لوگ اٹھائے جائیں گے ، اورمیں ان کا پیشوا ہوں جب وہ حاضر بارگاہ ہوں گے ، اورمیں ان کا خطیب ہوں جب وہ دم بخود ہوں گے ، اورمیں ان کا شفیع ہوں جب وہ محبوس ہوں گے ، اورمیں خوشخبری دینے والاہوں جب وہ ناامید ہوں گے ، عزت اورکنجیاں اس دن میرے ہاتھ ہوں گی اور لواء الحمد اس دن میرے ہاتھ ہوگا۔
(۳؂مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ الترمذی والدارمی باب فضائل سیدالمرسلین قدیمی کتب خانہ کراچی ص۵۱۴)

(سنن الدارمی باب ما اعطی النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الفضل حدیث ۴۹دارالمحاسن للطباعۃ القاہر ۃ ص ۳۰)

(الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بانہ اول من تنشق الارض منہ مرکز اہلسنت گجرات الہند ۲ /۲۱۸)
والحمدللہ رب العالمین، شکر اس کریم کا جس نے عزت دینا اس دن کے کاموں کا اختیار پیارے رؤف ورحیم کے ہاتھ میں رکھا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔ اس لئے شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مدارج شریف میں فرماتے ہیں :
  دراں روز ظاہر گرددکہ وے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نائب مٰلک یوم الدین ست روز روز اوست وحکم حکمِ اوبحکم رب العالمین ۱؂۔
اس دن ظاہر ہوجائے گا کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ماک یوم دین کے نائب ہیں۔ وہ دن آپ کا ہوگا اوراس میں رب العالمین کے حکم سے آپ کا حکم چلے گا۔ (ت)
(۱؂مدارج النبوۃ )
حدیث ۶۸:
ابن عبد ربہ کتاب بہجۃ المجالس میں راوی کہ حضور پر نور افضل صلوات اللہ تسلیماتہ علیہ فرماتے ہیں :
ینصب الی یوم القیٰمۃ منبر علی الصراط وذکر الحدیث (الٰی ان قال ) ثم یأتی ملک فیقف علی اول مرقاۃٍمن منبری فینادی معاشرالمسلمین من عرفنی فقد عرفنی ومن لم یعرفنی فانا مٰلک خازن النار ان اللہ امرنی ان ادفع مفاتیح جہنم الی محمد وان محمداًامرنی ان ادفع الی ابی بکرٍھاہ۔ اشھدواھاہ اشھدوا ثم یقف ملک اٰخر علی ثانی مرقاۃٍ من منبری فینادی معاشرالمسلمین من عرفنی فقد عرفنی ومن لم یعرفنی فانا رضوان خازن الجنان ان اللہ امرنی ان ادفع مفاتیح الجنۃ الی محمد وان محمدا امرنی ان ادفعہا الی ابی بکرٍھا ہ اشھدوا ھاہ اشھدوا الحدیث۔ (اوردہ العلامۃ ابراہیم بن عبداللہ المدنی الشافعی فی الباب السابع من کتاب التحقیق فی فضل الصدیق من کتابہ الاکتفاء فی فضل الاربعۃ الخلفاء ۱؂۔
روز قیامت صراط کے پاس ایک منبر بچھایا جائیگا پھر ایک فرشتہ آکر اس کے پہلے زینہ پر کھڑا ہوگا اورنداکرے گا اے گروہ مسلمانان !جس نے مجھے پہچانا اس نے پہچانا اورجس نے نہ پہچانا میں مالک داروغہ دوزخ ہوں اللہ تعالٰی نے مجھے حکم دیا ہے کہ جہنم کی کنجیاں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دے دوں اورمحمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا حکم ہے کہ ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ )کے سپرد کردوں ، ہاں ہاں گواہ ہوجاؤ ہاں ہاں گواہ ہوجاؤ۔ پھر ایک اورفرشتہ دوسرے زینہ پرکھڑا ہوکر پکارے گا: اے گروہ مسلمین ! جس نے مجھے جانااس نے جانا اورجس نے نہ جانا تو میں رضوان داروغہ جنت ہوں مجھے اللہ تعالٰی نے حکم فرمایا ہے کہ جنت کی کنجیاں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دے دوں اورمحمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا حکم ہے کہ ابوبکر (رضی اللہ عنہ )کے سپرد کردوں ۔ ہاں ہاں گواہ ہوجاؤ ہاں ہاں گواہ ہوجاؤ۔ (علامہ ابراہیم بن عبداللہ المدنی الشافعی نے اپنی تحقیقی کتاب الاکتفاء فی فضل الاربعۃ الخلفاء کے ساتویں باب میں فضائل صدیق میں بیان کیاہے ۔ت)
Flag Counter