Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
117 - 212
آیات واحادیث عطائے مفاتیح عالم بحضور پر نور مولائے اعظم صلی اللہ علیہ وسلم
آیت ۴۴،از تورات شریف :
بیہقی وابو نعیم دلائل النبوۃ میں حضرت ام الدرداء سے راوی میں نے کعب احبار سے پوچھا : تم تورات میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نعت کیا پاتے ہو؟کہا : حضو رکا وصف تورات مقدس میں یوں ہے :
محمدرسول اللہ اسمہ المتوکل لیس بفظٍ ولا غلیظ ولا سخاب فی الاسواق واعطی المفاتیح لیبصراللہ بہ اعینا عوراً ویسمع بہ اٰذاناً صما ویقیم بہ السنۃ معوجۃ حتی یشھدوا ان لا الٰہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ یعین المظلوم ویمنعہ من ان یستضعف۱؂۔
محمد اللہ کے رسول ہیں ان کا نام متوکل ہے ، نہ درشت خوہیں نہ سخت گو، نہ بازاروں میں چلّانے والے ، وہ کنجیاں دئے گئے ہیں تاکہ اللہ تعالٰی ان کے ذریعہ سے پھوٹی آنکھیں بینا اوربہرے کان شنو ااورٹیڑھی زبانیں سیدھی کردے یہاں تک کہ لوگ گواہی دیں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اس کا ساجھی نہیں وہ نبی کریم ہر مظلوم کی مدد فرمائیں گے اوراسے کمزور سمجھے جانے سے بچائیں گے۔
(۱؂الخصائص الکبرٰی باب ذکرہ فی التوراۃ والانجیل مرکز اہلسنت گجرات الہند   ۱ /۱۱)

(دلائل النبوۃ للبیہقی باب صفۃ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی التوراۃ والانجیل دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۳۷۷)
آیت ۴۵،از انجیل جلیل :
حاکم بافادہ تصحیح اورابن سعد وبیہقی وابو نعیم روایت کرتے ہیں ام المومنین ومحبوبہ محبوب رب العالمین حضرت عائشہ صدیقہ صلی اللہ تعالٰی علیہ بعلہا وابیہا وعلیہا وسلم فرماتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علہ وسلم کی صفت وثنا انجیل پاک میں مکتوب ہے :
لافظ ولا غلیظ ولا سخاب فی الاسواق واعطی المفاتیح ۱؂الخ مثل ما مرّسواءً بسواء ۔
نہ سخت دل ہیں نہ درشت خُو، نہ بازاروں میں شور کرتے ، انہیں کنجیاں عطاہوئی ہیں۔ باقی عبارت مثل تورات مبارک ہے
 (۱؂ الخصائص الکبرٰی باب ذکرہ فی ا لتوراۃ والانجیل الخ مرکز اہلسنت گجرات الہند ۱ /۱۱)

(المستدرک للحاکم کتاب التاریخ کان اجود الناس بالخیر دارالفکر بیروت ۲ /۶۱۴)

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر صفۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی التوراۃ والانجیل دارصادر بیروت ۱ /۳۶۳)
حدیث ۶۱:
بخاری ومسلم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، حضور مالک المفاتیح صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
 بینا انا نائم اتیت بمفاتیح خزائن الارض فوضعت فی یدی۲؂ ۔
میں سور رہا تھا کہ تمام خزائن زمین کی کنجیاں لائی گئیں اورمیرے دونوں ہاتھوں میں رکھ دی گئیں ۔
(۲؂صحیح البخاری کتاب الاعتصام باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعثت بجوامع الکلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۰۸۰)

(صحیح مسلم کتاب المساجد وموضع الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۹)
حدیث ۶۲:
امام احمد وابوبکر بن ابی شیبہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے راوی حضور مالک ومختارصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
  اعطیت مالم یعط احدمن الانبیاء قبلی نصرت بالرعب واعطیت مفاتیح الارض الحدیث۳؂۔
مجھے وہ عطاہوا جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملا ، رعب سے میری مدد فرمائی گئی (کہ مہینہ بھر کی راہ پر دشمن میرا نام پاک سن کر کانپے ) اورمجھے ساری زمین کی کنجیاں عطاہوئیں ، الحدیث ۔
 (۳؂مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۹۸)

( المصنف لابن ابی شیبۃ کتاب المناقب حدیث ۳۱۶۳۸دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۳۰۸)

(الخصائص الکبری باب اختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بالنصر بالرعب مرکز اہل سنت گجرات الہند ۲ /۱۹۳)
امام جلال الدین سیوطی نے اس حدیث کی تصحیح کی ۔
حدیث ۶۳:
امام احمد اپنی مسند اور ابن حبان اپنی صحیح اورضیاء مقدسی صحیح مختارہ ، ابو نعیم دلائل النبوۃ میں بسند صحیح حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ، حضور مالک تمام دنیا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اتیت بمقالید الدنیا علی فرس ابلق جاء نی بہ جبریل علیہ قطیفۃ من سندس ۱؂۔
دنیا کی کنجیاں ابلق گھوڑے پر رکھ کر میری خدمت میں حاضر کی گئیں جبریل لے کر آئے اس پر نازک ریشم کازین پوش بانقش ونگار پڑا تھا۔
 (۱؂مسند احمد بن حنبل ، عن جابر رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۳۲۸)

(الخصائص الکبرٰی بحوالہ احمد وابن حبان وابی نعیم باب اختصاصہ بالنصر مرکز اہلسنت گجرات الہند ۲ /۱۹۵)
حدیث ۶۴:
امام احمد مسند اورطبرانی معجم کبیر میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ، حضور پرنور ابوالقاسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اوتیت مفاتیح کل شیئ الا الخمس ۲؂۔
مجھے ہر چیز کی کنجیاں عطاہوئیں سوا ان پانچ کے ۔یعنی غیوب خمسہ۔
(۲؂مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۸۵)

(المعجم الکبیر عن ابن عمر رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیرو ت ۱۲ /۳۶۱)
علامہ حفنی حاشیہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں :
 ثم اعلم بھا بعد ذٰلک ۳؂۔
پھر یہ پانچ بھی عطاہوئیں ان کا علم بھی دے دیاگیا۔
  (۳؂حواشی الحفنی علی الجامع الصغیر علی ہامش السراج المنیر الحدیث اوتیت مفاتیح الخ المطبعۃ الازہریۃ المصریہ مصر۲ /۷۳)
اسی طرح علامہ سیوطی نے بھی خصائص کبرٰی ۴؂میں نقل فرمایا : علامہ مدابغی شرح فتح المبین امام ابن حجر مکی میں فرماتے ہیں یہی حق ہے ۔ وللہ الحمد۔
 (۴؂الخصائص الکبرٰی باب اختصاصہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بالنصر بالرعب مرکز اہل سنت گجرات الہند ۲ /۱۹۵)
Flag Counter