Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
116 - 212
آیت ۴۳،از زبور مقدس :
نیزتحفہ میں زبور شریف سے منقول :
یا احمد فاضت الرحمۃ علی شفتیک من اجل ذٰلک ابارک علیک فتقلد السیف فان بھائک وحمدک الغالب (الٰی قولہٖ) والامم یخرون تحتک کتاب حق جاء اللہ بہ من الیمن والتقدیس من جبل فاران وامتلاء ت الارض من تحمید احمد وتقدیسہ وملک الارض ورقاب الامم ۲؂۔
اے احمد ! رحمت نے جوش مارا تیرے لبوں پر ، میں اس لئے تجھے برکت دیتاہوں ، تو اپنی تلوار حمائل کر کہ تیری چمک اورتیری تعریف غالب ہے ، سب امتیں تیرے قدموں میں گریں گی ، سچی کتاب لایا اللہ برکت وپاکی کے ساتھ مکہ کے پہاڑسے بھرگئی زمین احمد کی حمد اوراس کی پاکی بولنے سے ، احمد مالک ہوا ساری زمین اورتمام امتوں کی گردنوں کا ۔صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
 (۲؂تحفہ اثنا عشریہ باب ششم دربحث نبوت وایمان انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۹)
اے احمد پیارے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مملوکو خوشی وشادمانی ہے ، تمہارے لئے تمہارا مالک پیارا سراپاکرم سراپارحمت ہے ،
والحمدللہ رب العالمین ؎

عہد مابالب شیریں دہناں بست خدائے 

ماہمہ بندہ وایں قوم خداوندا نند۳؂
 (ہمارا عہد وپیمان اللہ تعالٰی نے میٹھے منہ والوں کے لبوں کے ساتھ باندھ دیا ہے ۔ ہم سب غلام ہیں اوریہ قوم مالکوں کی ہے ۔ت )
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب 	

 یعنی محبوب ومحب میں نہیں میرا تیرا۴؂۔
 (۴؂حدائق بخشش مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی ص۲)
ولہذا حضرت امام اجل عارف باللہ سید ی سہل بن عبداللہ تستری رضی اللہ تعالٰی عنہ ، پھر امام اجل قاضی عیاض شفاء شریف ، پھر امام احمد قسطلانی مواہب لدنیہ شریف میں نقلاً وتذکیرًا، پھر علامہ شہاب الدین خفاجی مصری نسیم الریاض ، پھر علامہ محمد عبدالباقی زرقانی شرح مواہب میں شرحاً وتفسیراً فرماتے ہیں :
من لم یرولایۃ الرسول علیہ فی جمیع احوالہ ویرنفسہ فی ملکہ لایذوق حلاوۃ سنتہ ۱؂۔
 (۱؂الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ الباب الثانی لزوم مجتہ صلی اللہ علیہ وسلم المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲ /۱۶)

( نسیم الریاض فی شرح القاضی عیاض الباب الثانی لزوم مجتہ صلی اللہ علیہ وسلم مرکز اہلسنت گجرات ہند ۳/۳۴۶و۳۴۷)

(المواہب اللدنیۃ المقصد السابع المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۹۹و۳۰۰)

(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ الفصل الاول دارالمعرفۃ بیروت ۶ /۳۱۳)
جوہر حال میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اپنا ولی اور اپنے آپ کو حضو رکی ملک نہ جانے وہ سنت نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حلاوت سے اصلاً خبردار نہ ہوگا۔
والعیاذباللہ رب العٰلمین۔
فائدہ عظیمہ :
الحمدللہ سنیوں کی اقبالی ڈگری۔ ان آیات تورات وزبور پر فقیر غفراللہ تعالی لہ کو دو آیت تورات وانجیل مبارک مع چند احادیث کے یا دآئیں مگران کے ذکر سے پہلے امام الطائفہ کے ایک انجان پنے کا اقرار سن لیجئے ۔ تقویۃ الایمان فصل ثانی اشراک فی العلم کے شروع میں لکھا ہے : 

''جس کے ہاتھ میں کنجی ہوتی ہے قفل اسی کے اختیار میں ہوتا ہے جب چاہے تو کھولے جب چاہے نہ کھولے ۔ ''انتہیٰ۲؂۔
 (۲؂تقویۃ الایمان الفصل الثانی مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۱۴)
بھولا  نا دان لکھتے تو لکھ گیا مگر ؎

کیا خبر تھی انقلاب آسماں ہوجائیگا 

دین نجدی پائمال سنیاں ہوجائیگا۔

غریب مسکین کیا جانتا تھا کہ وہ تو چند ورق بعدیہ کہنے کو ہے کہ ''جس کا نام محمد یا علی ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں''۳؂۔
 (۳؂تقویۃ الایمان الفصل الرابع مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۲۸)
یہاں اس کے قول سے تمام عالم پر محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اختیار تام ثابت ہوجائیگا بیچارے مسکین عزیز کے دھیان میں اس وقت یہی لوہے پیتل کی کنجیاں تھیں جو جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بساطی(ف) پیسے پیسے بیچتے اس کی خواب میں بھی خیال نہ تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے رب جل وعلا نے اس بادشاہ جبار جلیل الاقتدار عظیم الاختیار صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو کیا کیا کنجیاں عطافرمائی ہیں ہاں ہم سے سن اوروہ سن کہ سن ہوجا۔
ف: بساطی : خردہ فروش ۔ضرورت کی چھوٹی موٹی چیزیں بیچنے والا۔
Flag Counter