Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
115 - 212
پنج آیت از تورات وانجیل وزبور مقدسہ
آیت ۴۱، تورات شریف :
امام بخاری حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما اوردارمی وطبرانی ویعقوب بن سفیٰن حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ تورات مقدس میں حضور پرنور دافع البلاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صفت یوں ہے :
یٰایھاالنبی انا ارسلنٰک شاھدًاومبشراً ونذیرا حرزاً للامیین (الٰی قولہٖ تعالٰی)یعفوویغفر۱؂۔
اے نبی ! ہم نے تجھے بھیجا گواہ اورخوشخبری دینے والا اور ڈرسنانے والا اوربے پڑھوں کے لیے پناہ (الی قولہ تعالٰی) معاف کرتاہے اورمغفرت فرماتاہے ۔
(۱؂سنن الدارمی باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الکتب قبل مبعثہ دارالمحاسن للطباعۃ قاہرۃ ۱ /۱۴)

(دلائل النبوۃ للبیہقی باب صفۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی التورات والانجیل دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۲۷۶)

(صحیح البخاری کتاب البیوع ۱ /۲۸۵  و کتاب التفسیر سورۃ الفتح   ۲ /۷۱۷       قدیمی کتب خانہ کراچی )

( الخصائص الکبرٰی باب ذکرہ فی التوراۃ والانجیل الخ مرکز اہلسنت گجرات الہند ۱ /۱۰)

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر صفۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی التوراۃ والانجیل دارصادر بیروت ۱ /۳۶۰و۳۶۲)
حرز بھی رب العزت جل وعلاکی صفات سے ہے ۔ حدیث میں ہے :
یا حرز الضعفاء یاکنزالفقراء ۲؂۔
اے ضعیفوں کی پناہ ! اے غریبوں کے خزانے !
علامہ زرقانی شرح مواہب شریف میں فرماتے ہیں :
جعلہ نفسہ حرزًا مبالغۃ لحفظہ لھم فی الدارین۳؂۔
یعنی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پناہ دینے والے ہیں مگر رب تبارک وتعالٰی نے حضور کو بطور مبالغہ خودپناہ کہا (جیسے عادل کو عدل یا علم کو علم کہتے اوراس وصف کی وجہ یہ ہے کہ ) حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دنیا وآخرت میں اپنی امت کے محافظ ونگہبان ہیں۔
والحمدللہ رب العٰلمین۔
 (۳؂شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ)
آیت ۴۲،از تورات :
 ہاں ہاں خبردار وہوشیار، اے نجدیان نابکار،ذراکم سن نو پیدا عیارہ خام پارہ وہابیت نکارہ کے ننھے سے کلیجے پر ہاتھ دھر لینا تورات وزبور کی دو آیتیں تلاوت کی جائیں گے نو خیز وہابیت کی نادان جان پر قہر الہٰی کی بجلیاں گرائیں گے افسوس تمہیں تورات وزبور کی تکذیب کرتے کیا لگتا تھا جب تم قرآن کی نہ سنو اللہ کا کذب تم ممکن گنو مگر جان کی آفت گلے کی غل تویہ ہے کہ آیات جناب شاہ عبدالعزیزصاحب نے نقل فرمائیں کلام الہٰی بتائیں ، یہ امام الطائفہ کے نسب کے چچا، شریعت کے باپ، طریق کے دادا ۔ اب انہیں نہ مشرک کہے بنتی ہے نہ کلام الہٰی پر ایمان لانے کو روٹھی وہابیت ملتی ہے ، نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن (نہ رہنے کا یارا ، نہ چلنے کی تاب۔ ت) ؎
دوگونہ رنج وعذاب است جان لیلی را 	

بلائے صحبت مجنوں وفرقت مجنوں (۱)
 (لیلی کی جان کو دوقسم کا دکھ اورعذاب ہے ،مجنوں کی صحبت اوراس کی جدائی کی مصیبت ۔ت)
ہاں اب ذراگھبرا ئے دلوں ، شرمائی چتونوں سے لجائی انکھڑیاں اوپر اٹھائیے اوربحمد اللہ وہ سنئے کہ ایمان نصیب ہوتوسنی ہوجائیے ، جناب شاہ صاحب تحفہ اثنا عشریہ میں لکھتے یں تورات کے سفر چہارم میں ہے :
قال اللہ تعالٰی لابراھیم ان ھاجرۃ تلد ویکون من ولدھا من یدہ فوق الجمیع وید الجمیع مبسوطۃ الیہ بالخشوع۲؂۔
 (۲؂تحفہ اثنا عشریہ باب ششم دربحث نبوت وایمان انبیاء علیہم الصلٰوت والسلام سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۶۹)
اللہ تعالٰی نے ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم سے فرمایا بیشک ہاجرہ کے اولاد ہوگی اوراس کے بچوں میں وہ ہوگا جس کا ہاتھ سب پر بالا ہے اورسب کے ہاتھ اس کی طرف پھیلے ہیں عاجزی اورگڑگڑانے میں ۔

وہ کون ؟محمد رسول اللہ سید الکون معطی العون صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔ قربان تیرے اے بلند ہاتھ والے ، اے دوجہان کے اجالے ۔ حمد اس کے وجہ کریم کو جس نے ہماری عاجزی ومحتاجی کے ہاتھ ہرلئیم بے قدرت سے بچائے اورتجھ جیسے کریم رؤف ورحیم کے سامنے پھیلائے ، والحمدللہ ر ب العٰلمین۔ ؎

اسے حمد جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا

ہمیں بھیک مانگنے کو ترا  آستاں  بتایا  ۱؂
 ( ۱؂حدائق بخشش مکتبہ رضویہ کراچی حصہ دوم ص۵۳)
Flag Counter