Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
114 - 212
آیت ۳۸:
ومن احیاھا فکانما احیا الناس جمیعا ۳؂۔
جس نے ایک جان کو زندہ کیا اس نے گویا سب آدمیوں کو جلا لیا ۔
 (۳؂القران االکریم  ۵ /۳۲)
یہ آیت اس کے بارے میں ہے جس نے کسی کے قتل ناحق سے احتراز کیا یا قاتل سے قصاص نہ لیا چھوڑدیا اسے فرماتا ہے کہ اس نے اس شخص کو زندہ کیا اور ایک اسی کو کیا گویا تمام آدمیوں کو جلا لیا ۔
معالم شریف میں ہے :
ومن احیاھا وتورع عن قتلھا۴؂۔
اور جس نے ایک جان کو زندہ کیا اور اس کے قتل سے اجتناب کیا ۔(ت)
(۴؂معالم التنزیل (تفسیر بغوی )تحت الایۃ ۵/۳۲ دارالکتب العلمیہ بیروت   ۲ /۲۵)
اس میں ہے :
ومن احیاھا ای عفا عمن وجب علیہ القصاص لہ فلم یقتلہ۱؂۔
اور جس نے اسے زندہ کیا یعنی جوقصاص اس پر واجب ہو چکا تھاوہ معاف کردیا اور قصاص میں اس نے قتل نہیں کیا ۔ ت)
(۱؂معالم التنزیل (تفسیر البغوی ) تحت الایۃ دارالکتب العلمیہ بیروت  ۲ /۲۵)
وہابی صاحب بتائیں کہ دفع بلا زیادہ ہے یازندہ کرنا ،جلا لینا ،حیات دینا ۔
آیت ۳۹:
الا ترون انی اوف الکیل وانا خیر المنزلین ۲؂۔
یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے بھائیو ں سے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں پورا پیمانہ عطا فرماتا ہوں اور میں سب سے بہتر اتارنے والا ہوں کہ جو میرے سایہ رحمت میں اترتاہے اسے وہ راحت بخشتا ہوں کہ کہیں نہیں ملتی ۔
 (۲؂القران الکریم ۱۲ /۵۹)
یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے تو یہ فرمایا ،اور رب عزوجل نوح علیہ الصلاۃ والسلام سے فرماتا ہے  :
قل رب انزلنی منزلامبارکا وانت خیرالمنزلین ۳؂۔
اے نوح جب تو اور تیرے ساتھ والے کشتی پر ٹھیک بیٹھ لیں تو میری حمد بجا لانا اور یوں عرض کرنا کہ اے رب میرے مجھے برکت والا اتارنا اتار اور تو سب سے بہتر اتارنے والاہے ۔
 (۳؂القران الکریم  ۲۳ /۲۹)
یہ اللہ عزوجل کی خاص صفت نبی صدیق علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے لئے کیسی ثابت فرمائی اور جب نبی صدیق صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سب سے بہتر اتارنے والے راحت ونعمت بخشنے والے ہوئے تو دافع البلاء سے بھی بڑھ کر ہوئے
کما لا یخفی
 (جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ت)
آیت ۴۰:
انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین اٰمنوا الذین یقیمون الصلٰوۃ وؤتون الزکوٰۃ وھم راکعون ۱؂۔
یعنی اے مسلمانو! تمہارا مددگار نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اوروہ ایمان  والے جو نماز قائم رکھتے اورزکوٰۃ دیتے اور وہ رکوع کرنے والے ہیں ۔
 (۱؂القرآن الکریم    ۵ /۵۵)
اقول:(میں کہتاہوں ۔ت) یہاں اللہ ورسول اورنیک بندوں میں مدد کو منحصر فرمادیا کہ بس یہی مددگار ہیں تو ضرور یہ مدد خاص ہے جس پر نیک بندوں کے سوا اورلوگ قادر نہیں عام مددگاری کا علاقہ تو ہرمسلمان کے ساتھ ہے ۔
قال تعالٰی :
 والمؤمنون والمؤمنٰت بعضھم اولیاء بعض ۲؂۔
مسلمان مرد اورمسلمان عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں ۔
 (۲؂ القرآن الکریم       ۹ /۷۱ )
حالانکہ خود ہی دوسری جگہ فرماتاہے :
مالھم من دونہٖ ولیٍ ۳؂۔
اللہ کے سوا کسی کا کوئی مددگار نہیں ۔
 (۳؂ القرآن الکریم        ۱۸ /۲۶)
معالم میں ہے :
 (مالھم)
ای ما لاھل السمٰوٰت والارض
(من دونہٖ)
ای من دون اللہ
(من ولیٍّ)
ناصر۴؂۔
نہیں ہے ان کے لیے یعنی آسمان اورزمین والوں کیلئے اس کے ، یعنی سوا اللہ تعالٰی کے کوئی ولی یعنی مددگار ۔(ت)
 (۴؂معالم التنزیل (تفسیر البغوی )   تحت الآیۃ ۱۸ /۲۶   دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۳ /۱۳۲)
وہابی صاحبو! تمہارے طور پر معاذاللہ کیسا کھلا شرک ہوا کہ قرآن نے خدا کی خاص صفت امداد کو رسول وصلحاء کے لیے ثابت کیا جسے قرآن ہی جابجا فرماچکا تھا کہ یہ اللہ کے سوا دوسرے کی صفت نہیں ، مگر بحمداللہ اہل سنت دونوں آیتوں پر ایمان لاتے اورذاتی اور عطائی کا فرق سمجھتے ہیں ، اللہ تعالٰی بالذات مددگار ہے ، یہ صفت دوسرے کی نہیں ،اوررسول واولیاء اللہ کے قدرت دینے سے مددگار ہیں، وللہ الحمد ، اب اتنا اورسمجھ لیجئے مددکاہے کے لیے ہوتی ہے ؟ دفع بلاء کے واسطے ۔تو جب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اوراللہ کے مقبول بندے بنص قرآن مسلمانوں کے مددگار ہیں تو قطعاًدافع البلاء بھی ہیں ، اورفرق وہی ہے کہ اللہ سبحانہ بالذات دافع البلاء ہے اورانبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء بعطائے خدا۔
والحمدللہ العلی الاعلی۔
Flag Counter