علامہ احمد بن محمد شہاب خفاجی عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی میں امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی وامام فخررازی رحمۃ اللہ علیہ سے اس معنی کی تائید میں نقل فرماتے ہیں :
ولذا قیل اذا تحیرتم فی الامور فاستعینوا من اصحاب القبور الا انہ لیس بحدیث کما توھّم ولذا اتفق الناس علی زیارۃ مشاھد السلف والتوسل بھم الی اللہ وان انکرہ بعض الملاحدۃ فی عصرنا والمشتکٰی الیہ ھو اللہ ۲۔
یعنی اس لئے کہا گیا کہ جب تم کاموں میں متحیر ہوتومزارات اولیاء سے مددمانگو ۔ مگر یہ حدیث نہیں ہے جیسا کہ بعض کو وہم ہوا۔ اوراسی لئے مزارات سلف صالحین کی زیارت اورانہیں اللہ عزوجل کی طرف وسیلہ بنانے پر مسلمانوں کا اتفاق ہے اگرچہ ہمارے زمانے میں بعض ملحد بے دین لوگ اس کے منکر ہوئے اورخدا ہی کی طرف ان کے فساد کی فریاد ہے ۔
(۱عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی (حاشیۃ الشہاب علی البیضاوی) تحت الآیۃ ۷۹ /۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۹ /۳۹۹)
لاحول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم ۔
ہاں میں نے کہا تھا کہ یہ صفت حضرت عزت کی ہے ، نہیں نہیں یہ خاص صفت اسی کی ہے ۔
رب عزوجل فرماتاہے :
قل من یزرق من السماء والارض امن یملک السمع والابصار ومن یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی ومن یدبر الامر فسیقولون اللہ فقل افلا تتقونo۱
اے نبی! ان کافروں سے فرما وہ کون ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے رزق دیتاہے یا کون مالک ہے کان اورآنکھوں کا، اورکون نکالتا ہے زندہ کو مردے اورنکالتاہے مردے کو زندہ سے ، اورکون تدبیر کرتاہے کام کی، اب کہہ دیں گے کہ اللہ ، تو فرما پھر ڈرتے کیوں نہیں۔
(۱القرآن الکریم ۱۰ /۳۱)
قرآن عظیم خود ہی فرماتاہے کہ یہ صفت اللہ عزوجل کے لئے ایسی خاص ہے کہ کافر مشرک تک اس کا اختصاص جانتے ہیں ان سے بھی پوچھو کہ کام کی تدبیر کرنے والا کون ہے ، تواللہ ہی کو بتائیں گے دوسرے کا نام نہ لیں گے اورخود ہی اس صفت کو اپنے مقبول بندوں کیلئے ثابت فرماتاہے کہ : قسم ان محبوبان خدا کی جو عالم میں تدبیر وتصرف کرتے ہیں ۔''ایمان سے کہنا وہابیت کے دھرم پر قرآن عظیم شرک سے کیونکر بچا ۔ اے ناپاک طائفے کی سنگت والو!جب تک ذاتی وعطائی کے فرق پر ایمان نہ لاؤ گے کبھی قرآن وحدیث کے قہروں سے پناہ نہ پاؤ گے ، اوراس پرایمان لاتے ہی یہ تمہاری شرکیات کے راگ متعلقہ تدیبر وتصرف واستمداد واستعانت ودافع البلاء وحاجت روا ومشکلکشا وعلم غیب وندا وغیرہا سب کافور ہوجائیں گے اور اللہ تعالٰی کے مبارک منصور (نصرت دئے گئے، مدد دئے گئے ) بندے آنکھوں دیکھے منصور نظر آئیں گے۔
الا ان حزب اللہ ھم الغٰلبون ۲۔
تو بیشک اللہ ہی کا گروہ غالب ہے ۔ (ت)
(۲القرآن الکریم ۵۸ /۲۲)
آیت ۳۳:
قل یتوفٰکم ملک الموت الذی وکل بکم۳۔
توفرما تمہیں موت دیتاہے وہ مرگ کا فرشتہ جو تم پر مقرر ہے ۔
(۳القرآن الکریم۳۲ /۱۱)
آیت ۳۴:
توفتہ رسلنا۱۔
موت دی اسے ہمارے رسولوں نے ۔
(۱القرآن الکریم۶ /۶۱)
حالانکہ خود فرماتاہے :
اللہ یتوفٰی الا نفس۲۔
اللہ ہے کہ موت دیتاہے جانوں کو۔
(۲القرآن الکریم۳۹ /۴۲)
آیت ۳۵:
لاھب لک غلٰماً زکیاً۳۔
(جبریل نے مریم سے کہا)کہ میں عطاکروں تجھے ستھرا بیٹا، صلی اللہ تعالٰی علیہم وسلم۔
(۳القرآن الکریم۱۹ /۱۹)
اللہ اللہ ! اب تو جبریل بیٹا دے رہے ہیں ۔ بھلانجدیہ کے یہاں اس سے بڑھ کر اورکیا شرک ہوگا۔
ولا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
وہابیہ تو اسی کو روتے تھے کہ محمد بخش ، احمد بخش نام رکھنا شرک ہے یہاں قرآن عظیم سیدنا عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جبریل بخش بتارہا ہے ۔
وللہ الحجۃ السامیۃ ۔
آیت ۳۶:
فان اللہ ھو مولٰہ وجبرائیل وصالح المومنین والملائکۃ بعد ذلک ظہیر ۴۔
بیشک اللہ اپنے نبی کا مدد گار ہے اور جبرائیل اور نیک مسلمان اور اس کے بعد سب فرشتے مدد پر ہیں۔
(۴القران الکریم ۶۶ /۴)
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا :
صالح المومنین ابوبکر وعمر رواہ الطبرانی فی الکبیر۵وابن مردویہ والخطیب عن ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ۔
یہ نیک مسلمان ابو بکر صدیق وعمر فاروق ہیں رضی اللہ تعالی عنہما ۔ (طبرانی نے کبیر میں اور ابن مردویۃ اور خطیب نے ا بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے اس کو روایت کیا ۔ت )
(۵المعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۷۷ المکتب الفیصلیۃ بیروت ۱۰ /۲۵۳)
(الدر المنثور بحوالہ ابن مردویہ وابی نعیم تحت الایۃ ۶۶ / ۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۸/ ۲۰۸)
بلکہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کی قرا ء ت میں یوں ہی تھا :
وصالح المومنین ابوبکر وعمر والملائکۃ بعد ذلک ظہیر ۱۔
نیک مسلمان ابوبکروعمر اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں ۔(ت) یہاں اللہ عزوجل اپنے نام مبارک کے ساتھ اپنے محبوبوں کو فرماتاہے اللہ اورجبرائیل اور ابوبکروعمر مدگارہیں
آیت ۳۷:
انی وجدت امرأۃً تملکہم واوتیت من کل شیئ ولھا عرش عظیم ۲۔
ہدہد نے ملک سبا سے آکر سیدنا سلیمن علیہ الصلواۃ والسلام سے عرض کی میں نے ایک عورت پائی کہ وہ ان کی مالک ہے اور اسے سب کچھ دیا گیا ہے اور اس کا بڑا تخت ہے ۔
(۲القران الکریم ۲۷ /۲۳)
یہاں بادشاہ کو رعایا کا مالک فرمایا تو رعایا کہ آزاد وغلام سب اس کے مملوک ہوئے مگر کوئی اگر محبوبان خدا کو اپنا مالک اور اپنے آپ کو ان کا بندہ مملوک کہے وہابیہ کے دین میں شرک ٹھہرے ۔