جب وحی بھیجی تیرے رب نے فرشتوں کو کہ میں تمھارے ساتھ ہوں تم ثابت قدمی دو ایمان والوں کو ۔
(۳القران الکریم ۸/ ۱۲ )
آیت ۳۲:
فالمدبرات امرًا۴۔
قسم ہے ان فرشتوں کی کہ تمام کاروبارِ دنیا ان کی تدبیر سے ہے۔
(۴القران الکریم ۷۹ /۵)
یہ صفت بھی بالذات ذات الہٰی جل وعلاکی ہے ۔
قال اللہ تعالٰی :
یدبر الامر ۵
کام کی تدبیر فرماتاہے ۔(ت)
(۵القران الکریم ۳۲ /۵ )
خازن ومعالم التنزیل میں ہے :
قال ابن عباس ھم الملٰئکۃ وکلوا بامورعرفھم اللہ تعالٰی العمل بھا قال عبدالرحمن بن سابط یدبر الامر فی الدنیا اربعۃ جبریل ومیکائیل وملک الموت واسرافیل علیھم السلام، اما جبریل فمؤکل بالریاح والجنود واما میکائیل فمؤکل بالقطر والنبات واما ملک الموت فمؤکل بقبض الانفس واما اسرافیل فھو ینزل علیہم بالامر ۱۔
یعنی عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا : یہ مدبرات الامر ملائکہ ہیں کہ ان کاموں پر مقرر کئے گئے جن کی کارروائی اللہ عزوجل نے انہیں تعلیم فرمائی، عبدالرحمن بن سابط نے فرمایا: دنیا میں چار فرشتے کاموں کی تدبیر کرتے ہیں جبریل ، میکائیل ، عزرائیل ، اسرافیل علیہم السلام۔ جبریل توہواؤں اورلشکروں پر مؤکل ہیں (کہ ہوائیں چلانا، لشکروں کو فتح وشکست دینا ان کا تعلق ہے ) اورمیکائیل باراں وروئیدگی پر مقررہیں ۔ (کہ مینہ برساتے اوردرخت اور گھاس اورکھیتی اگاتے ہیں ) اورعزرائیل قبض ارواح پر مسلط ہیں ۔اسرافیل ان سب پر حکم لے کر اترتے ہیں علیہم السلام اجمعین ۔
(۱لباب التأویل (تفسیر الخازن) تحت الآیۃ ۷۹ /۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۳۹۱)
( معالم التنزیل (تفسیرالبغوی )تحت الآیۃ ۷۹ /۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۴۱۱)
اللہ اکبر!قرآن عظیم وہابیہ پر ایک سے ایک سخت تر آفت ڈالتاہے۔
حدیث میں فرمایا :
القرآن ذووجوہ ۔ رواہ ابو نعیم ۲عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما عن النبی صلی ا للہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
قرآن متعدد معانی رکھتاہے ۔ (اس کو ابونعیم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ت)
(۲کنزالعمال بحوالہ ابی نعیم عن ابن عباس حدیث ۲۴۶۹موسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۵۵۱)
علماء فرماتے ہیں قرآن عظیم اپنے ہر معنی پر حجت ہے ۔
ولم یزل الائمۃ یحتجون بہٖ علی وجوھہ وذٰلک من اعظم وجوہ اعجازہ وقد فصلنا ھذا المرام فی رسالتنا الزلال الانقٰی من بحر سبقۃ الاتقٰی ۔
ائمہ کرام ہمیشہ قرآن کے تمام معنی سے استدلال کرتے رہے ہیں ۔ اوریہ بات قرآن مجید کے وجوہ اعجاز میں سے عظیم ترین وجہ ہے ۔ اس کی تفصیل ہم نے اپنے رسالہ
''الزلال الانقٰی من بحر سبقۃ الاتقٰی ''
میں بیان کردی ہے ۔ (ت)
اب آیہ کریمہ کے دوسرے معنی لیجئے، تفسیر بیضاوی شریف میں ہے :
اوصفات النفوس الفاضلۃ حال المفارقۃ فانھا تنزع عن الابدان غرقا ای نزعاشدیدامن اغراق النازع فی القوس وتنشط الی عالم الملکوت وتسبح فیہ فتسبق الی حظائر القدس فتصیر لشرفھا وقوتھا من المدبرات۱۔
یعنی یا ان آیات کریمہ میں اللہ عزوجل ارواح اولیاء کرام کاذکر فرماتاہے جب وہ اپنے پاک مبارک بدنوں سے انتقال فرماتی ہیں کہ جسم سے بقوت تمام جدا ہوکر عالم بالا کی طرف سبک خرامی اور دریائے ملکوت میں شناوری کرتی حظیر ہائے حضرت قدس تک جلد رسائی پاتی ہیں پس اپنی بزرگی وطاقت کے باعث کاروبارعالم کے تدبیر کرنے والوں سے ہوجاتی ہیں۔