لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیھم رسولاً من انفسھم یتلوا علیھم اٰیٰتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتٰب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلٰلٍ مبین۲۔
بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا ایمان والوں پر جبکہ بھیجا ان میں ایک رسول انہیں میں سے کہ پڑھتاہے ان پر آیتیں اللہ کی اورپاک کرتاہے انہیں گناہوں سے اورعلم دیتا ہے انہیں قرآن وحکمت کا اگرچہ تھے اس سے پہلے بیشک کھلی گمراہی میں ۔
(۲القرآن الکریم ۳ /۱۶۴)
آیت ۲۵:
ھوالذی بعث فی الامیین رسولاً منہم یتلواعلیہم اٰیٰتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال واٰخرین منھم لما یلحقوابھم وھو العزیز الحکیم ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم۳۔
اللہ ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں میں ایک رسول انہیں میں سے یہ ان پر آیات الہٰیہ پڑھتا اورانہیں ستھراکرتا اورانہیں کتاب وحقائق کا علم بخشتا ہے اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے نیز پاک کرے گا اورعلم عطافرمائے گا ان کی جنس کے لوگوں کو جواب تک ان سے نہیں ملے اوروہی غالب حکمت والا ہے ، یہ خد اکا فضل ہے جسے چاہے عطافرمائے اوراللہ بڑے فضل والا ہے ۔
(۳القرآن الکریم ۶۲ / ۲تا۴)
الحمدللہ !اس آیہ کریمہ نے بیان فرمایا کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا عطافرمانا ، گناہوں سے پاک کرنا ، ستھرا بناناصرف صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے خاص نہیں بلکہ قیام قیامت تک تمام امت مرحومہ حضورکی ان نعمتوں سے محظوظ اورحضور کی نظر رحمت سے ملحوظ رہے ۔
والحمدللہ رب العٰلمین۔
بیضاوی شریف میں ہے :
ھم الذین جاءوابعد الصحابۃ الی یوم الدین۱۔
یعنی یہ دوسرے جنہیں مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علم دیتے اورخرابیوں سے پاک کرتے ہیں تمام مسلمان ہیں کہ صحابہ کرام کے بعد قیامت تک ہوں گے۔
قال ابن زید ھم جمیع من دخل فی الاسلام بعد النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم (الی یوم القیٰمۃ) وھی روایۃ ابن ابی نجیحٍ عن مجاھد۲۔
ابن زید نے فرمایا : یہ دوسرے لوگ تمام اہل اسلام ہیں کہ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد قیامت تک اسلام میں داخل ہوں گے ۔اوریہی معنی امام مجاہد شاگرد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ابن ابی نجیح نے روایت کئے۔
(۲معالم التنزیل (تفسیر البغوی) تحت الآیۃ ۶۲ /۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۳۱۱)
الحمدللہ !
قرآن عظیم میں حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ان تعریفوں کا اس قدر اہتمام ہے کہ چارجگہ یہ اوصاف بیان فرمائے دو جگہ سورہ بقرہ ، تیسرے آل عمران ، چوتھے سورہ جمعہ ، اور ا سکے آخر میں تو وہ جانفزا کلمے ارشادہوئے جنہوں نے ہم خفتہ بختوں کی تقدیر جگا دی بیماردلوں پر بجلی گرادی ۔
والحمدللہ رب العٰلمین۔
آیت ۲۶:
جب ابولبابہ وغیرہ بعض صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم نے غزوہ تبوک میں ہمراہ رکاب سعادت حاضر نہ ہوئے تھے اپنے آپ کو مسجد اقدس کے ستونوں سے باندھ دیا کہ جب تک حضور والا صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ نہ کھولیں گے نہ کھلیں گے ، آیت اُتری :
خذ من اموالھم صدقۃ تطھرھم وتزکیھم بھا وصل علیہم ان صلٰوتک سکن لھم۱۔
اے نبی!لے لو ان توبہ کرنے والوں کے مالوں سے صدقہ کہ تم پاک کرو انہیں اور تم ستھرا کرو انہیں گناہوں سے اس صدقے کے سبب، اوردعائے رحمت کرو ان کے حق میں کہ تمہاری دعاان کے دلوں کا چین ہے ۔
(۱القران الکریم ۹/۱۰۳)
دیکھو حضور دافع البلاصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں گناہوں سے پاک کیااور حضور نے بلائے گناہ ان کے سروں سے ٹالی ، اورجب حضور کی دعا ان کے دلوں کا چین ہواا تویہی دفع الم ہے
صلی اللہ تعالٰی علی دافع البلاء والالم وعلٰی اٰلہ وصحبہ وبارک وسلم۔
آیت ۲۷:
لایملکون الشفاعۃ الا من اتخذ عند الرحمن عھدا۲۔
اللہ عزوجل کے یہاں شفاعت کے مالک وہی ہیں جنہوں نے رحمن کےساتھ عہدو پیمان کر رکھاہے ۔
(۲القران الکریم ۱۹ /۸۷ )
آیت ۲۸:
ولایملک الذین یدعون من دونہ الشفاعۃ الا من شھد بالحق وھم یعلمون۳۔
جنہیں مشرکین اللہ کے سوا پوجتے ہیں ان میں شفاعت کے مالک صرف وہی ہیں جنہوں نے حق کی گواہی دی اوروہ علم رکھتے ہیں (یعنی عیسٰی وعزیر وملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام )
(۳القران الکریم۴۳ /۸۶ )
ان آیات میں مولٰی تعالٰی اپنے محبوبوں کو شفاعت کا مالک بتاتاہے اورعہد وپیمان مقرر ہوجانے سے تقویۃ الایمان کی اس بدلگامی کا منہ بھی سی دیا کہ شفاعت میں کسی کی خصوصیت نہیں جسے چاہے گا کھڑاکردے گا۔