یوسف نے کہا پلٹ جا اپنے رب کے پاس سواس سے پوچھ کیا حال ہے ان عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے۔
(۳القرآن الکریم ۱۲ /۵۰)
سبحان اللہ !
بادشاہ وغیرہ کو تو مجازی پرورش کے باعث اس کا رب ، تیرا رب ، میرا رب کہنا صحیح ہو ،اللہ فرمائے اللہ کا رسول فرمائے اورمصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دافع البلاء کہنا شرک ۔
آیت ۱۸:
رب جل وعلا اپنے مبارک بندے عیسٰی ابن مریم علیہما الصلٰوۃ والسلام سے فرماتاہے :
اورجب تو بناتا مٹی سے پرند کی شکل میری پروانگی سے ، پھر پھونک مارتا اس میں تو وہ ہوجاتی پرند میری پروانگی سے ، اورتو اچھا کرتا مادر زاد اندھے اورسفید داغ والے کو میری پروانگی سے ، اورجب توقبروں سے مُردے نکالتا میری پروانگی سے ۔
(۴القرآن الکریم ۵ /۱۱۰)
دفعِ بلائے مرض وابرائے اکمہ وابرص میں کتنا فرق ہے ۔
آیت ۱۹:
حضرت مسیح علیہ الصلٰوۃ والتسلیم فرماتے ہیں :
انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اللہ وابرئ الاکمہ والابرص واحی الموتٰی باذن اللہ وانبئکم بما تأکلون وما تدخرون فی بیوتکم
(الی قولہ )
ولاحل لکم بعض الذی حرم علیکم۱۔
میں بناتاہوں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت پھر پھونکتاہوں ا سمیں تو وہ ہوجاتی ہے پرند اللہ کی پروانگی سے ، اورمیں شفاء دیتاہوں مادر زا داندھے اوربدن بگڑے کو، اورمیں زندہ کرتاہوں مردے اللہ کی پروانگی سے ، اورمیں تمہیں خبردیتاہوں جو تم کھاتے اور جو گھروں میں بھر رکھتے ہو تاکہ میں حلال کردوں تمہارے لئے بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں۔
(۱القرآن الکریم ۳ /۴۹و۵۰)
سبحان اللہ !
عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام جو فرمارہے ہیں میں خلق کرتاہوں ، شفا دیتاہوں، مردے جِلاتاہوں ، بعض حراموں کو حلال کئے دیتاہوں۔ ان اسنادوں کی نسبت کیا حکم ہوگا!
آیت ۲۰ :
وانکحوا الا یامٰی منکم والصالحین من عبادکم واما ئکم۲ ۔
نکاح کردو اپنی بے شوہر عورتوں اوراپنے نیک بندوں اورکنیزوں کا۔
(۲القرآن الکریم ۲۴ /۳۲)
یہاں مولا عزوجل ہمارے غلاموں کو ''ہمارابندہ''فرمارہا ہے ۔ اللہ کی شان زید کابندہ، عمروکا بندہ، اس کا بندہ ، اس کا بندہ اللہ فرمائے رسول فرمائے صحابہ فرمائیں ائمہ فرمائیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا بندہ کہا اورشرک فروشوں نے حکم شرک جڑا، شائد ان کے نزدیک زید وعمرو خدا کے شریک ہوسکتے ہوں گے ۔
وہ لوگ کہ پیروی کریں گے اس بھیجے ہوئے غیب کی باتیں بتانے والے بے پڑھے کی جسے لکھا پائیں گے اپنے پاس توریت وانجیل میں، وہ انہیں حکم دے گا بھلائی کااور روکے گا برائی سے ، او رحلال کرے گا ان کے لیے ستھری چیزیں اورحرام کرے گا ان پر گندی چیزیں، اوراتارے گا ان پر سے ان کا بھاری بوجھ اورسخت تکلیفوں کے طوق جو ان پر تھے ۔ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم)
(۱القرآن الکریم ۷ /۱۵۷)
جان جہان وجہان جان اس جان جان وجان ایمان صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاک مبارک ہاتھوں پر قربان جس نے ہماری پیٹھوں سے بھاری بوجھ اتارلئے ہماری گردنوں سے تکلیفوں کے طوق کا ٹ دئے ۔ للہ انصاف ! اوردافع بلاکسے کہتے ہیں، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
آیت ۲۲:
سیدنا ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنے رب عزوجل سے عرض کی :
اے رب ہمارے ! اوران میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیج کہ ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انہیں کتاب وحکمت سکھائے اوروہ پیمبر انہیں گناہوں سے پاک کردے ، بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا۔
(۲القرآن الکریم ۲ /۱۲۹)
یہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہوئے کہ :
انا دعوۃ ابی ابراھیم ۳۔
میں اپنے باپ ابراہیم کی دعاہوں (صلی اللہ تعالٰی علیہما وسلم)
(۳دلائل النبوۃ باب ذکر مولادالمصطفٰی الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۸۱)
( الدرالمنثور تحت الآیۃ ۲ /۱۲۹ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۰۳و۳۰۴)
جس طرح بھیجا ہم نے تم میں ایک رسول تمہیں سے کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت کرتا اورتمہیں پاکیزہ بناتا اورتمہیں قرآن وعلم سکھاتا اوران باتوں کا تم کو علم دیتا ہے جو تم نہ جانتے تھے ۔