Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
110 - 212
آیت ۱۳:
یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا :
انہ ربی احسن مثوای۳؂۔
بیشک عزیز مصر میرارب ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا۔
(۳؂القرآن الکریم ۱۲ /۲۳)
فی الجلالین انہ ای الذی اشترانی ربی سیدی ۴؂۔
 تفسیر جلالین میں ہے بیشک وہ جس نے مجھے خریدا وہ میرا رب یعنی میرا آقا ہے ۔(ت)
 (۴؂جلالین کلاں تحت الآیۃ ۱۲/۲۳ اصح المطابع دہلی ص۱۹۱)
آیت ۱۴ :
امااحدکما فیسقی ربہ خمرا۵؂۔
اے زندان کے ساتھیو! تم میں ایک تواپنے رب کو شراب پلائے گا۔
 (۵؂القرآن الکریم   ۱۲ /۴۱)
آیت ۱۵:
وقال للذی ظن انہ ناج منہما اذکرنی عند ربک۶؂۔
 اوریوسف نے کہا اس سے جسے ان دونوں میں چھٹکارا پاتا سمجھا کہ اپنے رب کے پاس میرا چرچا کیجیو۔ یعنی بادشاہ مصر کے سامنے ۔
(۶؂القرآن الکریم   ۱۲ /۴۲)
آیت ۱۶ :
اس پر مولٰی تبارک وتعالٰی فرماتاہے :
 فانسٰہ الشیطٰن ذکر ربہٖ۱؂۔
تو اسے بھلادیا شیطان نے اپنے رب بادشاہ مصر کے آگے یوسف کا ذکر کرنا۔
(۱؂القرآن الکریم ۱۲ /۴۲)
فی الجلالین ای الساقی الشیطن ذکر یوسف عند ربہ۲؂ ۔
جلالین میں ہے یعنی ساقی کو شیطان نے یوسف علیہ السلام کا ذکر اس کے رب کے آگے کرنا بھلادیا۔ (ت)
 (۲؂جلالین کلاں تحت الآیۃ ۱۲ /۴۲ اصح المطابع دہلی ص۱۹۳)
آیت ۱۷:
قال ارجع الی ربک فاسئلہ مابال النسوۃ التی قطعن ایدیھن۳؂ ۔
یوسف نے کہا پلٹ جا اپنے رب کے پاس سواس سے پوچھ کیا حال ہے ان عورتوں کا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے۔
 (۳؂القرآن الکریم ۱۲ /۵۰)
سبحان اللہ !
بادشاہ وغیرہ کو تو مجازی پرورش کے باعث اس کا رب ، تیرا رب ، میرا رب کہنا صحیح ہو ،اللہ فرمائے اللہ کا رسول فرمائے اورمصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دافع البلاء کہنا شرک ۔
آیت ۱۸:
رب جل وعلا اپنے مبارک بندے عیسٰی ابن مریم علیہما الصلٰوۃ والسلام سے فرماتاہے :
واذ تخلق من الطین کھیئۃ الطیر باذنی فتنفخ فیھا فتکون طیراً باذنی وتبرئ الاکمہ والابرص باذنی واذتخرج الموتٰی باذنی۴؂۔
اورجب تو بناتا مٹی سے پرند کی شکل میری پروانگی سے ، پھر پھونک مارتا اس میں تو وہ ہوجاتی پرند میری پروانگی سے ، اورتو اچھا کرتا مادر زاد اندھے اورسفید داغ والے کو میری پروانگی سے ، اورجب توقبروں سے مُردے نکالتا میری  پروانگی سے ۔
(۴؂القرآن الکریم   ۵ /۱۱۰)
دفعِ بلائے مرض وابرائے اکمہ وابرص میں کتنا فرق ہے ۔
آیت ۱۹:
حضرت مسیح علیہ الصلٰوۃ والتسلیم فرماتے ہیں :
 انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیراً باذن اللہ وابرئ الاکمہ والابرص واحی الموتٰی باذن اللہ وانبئکم بما تأکلون وما تدخرون فی بیوتکم
(الی قولہ )
ولاحل لکم بعض الذی حرم علیکم۱؂۔
میں بناتاہوں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت پھر پھونکتاہوں ا سمیں تو وہ ہوجاتی ہے پرند اللہ کی پروانگی سے ، اورمیں شفاء دیتاہوں مادر زا داندھے اوربدن بگڑے کو، اورمیں زندہ کرتاہوں مردے اللہ کی پروانگی سے ، اورمیں تمہیں خبردیتاہوں جو تم کھاتے اور جو گھروں میں بھر رکھتے ہو تاکہ میں حلال کردوں تمہارے لئے بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں۔
 (۱؂القرآن الکریم ۳ /۴۹و۵۰)
سبحان اللہ !
عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام جو فرمارہے ہیں میں خلق کرتاہوں ، شفا دیتاہوں، مردے جِلاتاہوں ، بعض حراموں کو حلال کئے دیتاہوں۔ ان اسنادوں کی نسبت کیا حکم ہوگا!
آیت ۲۰ :
  وانکحوا الا یامٰی منکم والصالحین من عبادکم واما ئکم۲؂ ۔
نکاح کردو اپنی بے شوہر عورتوں اوراپنے نیک بندوں اورکنیزوں کا۔
(۲؂القرآن الکریم ۲۴ /۳۲)
یہاں مولا عزوجل ہمارے غلاموں کو ''ہمارابندہ''فرمارہا ہے ۔ اللہ کی شان زید کابندہ، عمروکا بندہ، اس کا بندہ ، اس کا بندہ اللہ فرمائے رسول فرمائے صحابہ فرمائیں ائمہ فرمائیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا بندہ کہا اورشرک فروشوں نے حکم شرک جڑا، شائد ان کے نزدیک زید وعمرو خدا کے شریک ہوسکتے ہوں گے ۔
ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
آیت ۲۱:
الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوباعند ھم فی التوراۃ والانجیل یاْمرھم بالمعروف وینھٰھم عن المنکر ویحل لھم الطیبٰت ویحرم علیہم الخبٰئث ویضع عنہم اصرھم والاغلٰل التی کانت علیہم۱؂۔
وہ لوگ کہ پیروی کریں گے اس بھیجے ہوئے غیب کی باتیں بتانے والے بے پڑھے کی جسے لکھا پائیں گے اپنے پاس توریت وانجیل میں، وہ انہیں حکم دے گا بھلائی کااور روکے گا برائی سے ، او رحلال کرے گا ان کے لیے ستھری چیزیں اورحرام کرے گا ان پر گندی چیزیں، اوراتارے گا ان پر سے ان کا بھاری بوجھ اورسخت تکلیفوں کے طوق جو ان پر تھے ۔ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم)
(۱؂القرآن الکریم ۷ /۱۵۷)
جان جہان وجہان جان اس جان جان وجان ایمان صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاک مبارک ہاتھوں پر قربان جس نے ہماری پیٹھوں سے بھاری بوجھ اتارلئے ہماری گردنوں سے تکلیفوں کے طوق کا ٹ دئے ۔ للہ انصاف ! اوردافع بلاکسے کہتے ہیں، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
آیت ۲۲:
سیدنا ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنے رب عزوجل سے عرض کی :
ربنا وابعث فیھم رسولاً منھم یتلوا علیھم اٰیتک ویعلمھم الکتٰب والحکمۃ ویزکیھم انک انت العزیز الحکیم۲؂۔
اے رب ہمارے ! اوران میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیج کہ ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انہیں کتاب وحکمت سکھائے اوروہ پیمبر انہیں گناہوں سے پاک کردے ، بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا۔
 (۲؂القرآن الکریم      ۲ /۱۲۹)
یہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہوئے کہ :
انا دعوۃ ابی ابراھیم ۳؂۔
میں اپنے باپ ابراہیم کی دعاہوں (صلی اللہ تعالٰی علیہما وسلم)
 (۳؂دلائل النبوۃ باب ذکر مولادالمصطفٰی الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۸۱)

( الدرالمنثور تحت الآیۃ  ۲ /۱۲۹  داراحیاء التراث العربی بیروت      ۱ /۳۰۳و۳۰۴)
آیت ۲۳:
خود رب العزۃ جل وعلاء فرماتاہے :
کما ارسلنا فیکم رسولامنکم یتلوا علیکم اٰیٰتنا ویزکیکم ویعلمکم الکتٰب والحکمۃ ویعلمکم مالم تکونوا تعلمون۱؂۔
جس طرح بھیجا ہم نے تم میں ایک رسول تمہیں سے کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت کرتا اورتمہیں پاکیزہ بناتا اورتمہیں قرآن وعلم سکھاتا اوران باتوں کا تم کو علم دیتا ہے جو تم نہ جانتے تھے ۔
 (۱؂القرآن الکریم    ۲ /۱۵۱)
Flag Counter