Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
11 - 212
 (۲) امام الاقاصی والادانی فی الرسم القرآنی ابو عمرو دانی فرماتے ہیں:
قال الغازی بن قیس العذاب والعقاب والحساب والبیان والغفار والجبار والساعۃ والنھار بالالف یعنی فی المصاحف وذٰلک علی اللفظ قال ابو عمرو کذٰلک رسمواکل ماکان علی وزن فعال وفعال بفتح الفاء وکسرھا وعلی وزن فاعل نحو ظالم وفعال نحو خوار وفعلان نحوبنیان وفعلان نحو رضوان وکذٰلک المیعاد والمیقات والمیزان وما اشبھہ مما الفہ زائد البناء وکذٰلک ان کانت منقلبۃ من یاء او واؤحیث وقعت ۱؂ اھ باختصار الامثلۃ۔
غازی بن قیس فرماتے ہیں کہ عذاب ، عقاب، حساب ، بیان ، غفار، جبار، ساعۃ ، نہار مصاحف میں الف کے ساتھ مرقوم ہے ۔ جیسا کہ لفظ ہے ۔ ابو عمرو فرماتے ہیں یونہی تحریر کیا ہر وہ لحظہ جو فعال اور  فِعال کے وزن پر ہویا فاعل کے وزن پر ہو جیسے ظالم یا فعال کے وزن پر ہو جیسے خوار اورفعلان کے وزن پر ہو جیسے بنیان اور فعلان کے وزن پر ہوجیسے رضوان ، اورایسے ہی میعاد ، میقات ، میزان اوراس کے مشابہ الفاظ جس میں الف زائد بناء کے لیے ہو۔ ایسے ہی یا اورواو سے بدلاہوا بھی جہاں کہیں ہو مثالوں میں اختصار کردیاہے ۔
 (۱؂ المقنع فی رسم المصحف)
یہ مبارک کلام مفید عام کل سے ابتداء اورحیث وقعت پر انتہاہوکر تاکید الافادہ عموم لایا، اگرچہ بحکم:
ما من عام الاوقد خص منہ البعض حتی ھذہ القضیۃ لنفسھا بمثل قولہ سبحٰنہ
وھو بکل شیئ علیم۲؂۔
کوئی عام نہیں کہ اس سے بعض کی تخصیص نہ ہو خاص اس قضیہ میں بھی اللہ تعالٰی  کے قول
ھو بکل شیئ علیم
کی طرح جیسا کہ عقل سلیم پر ظاہر ہے ۔
 (۲؂القرآن الکریم   ۲ /۲۹)
بعض مستثنیات رکھتاہے ، جنہیں خود امام ممدوح نے مقنع میں مواضع متفرقہ پر افادہ فرمایا ہے ،
مثل عٰلم الغیب ولبلٰغ وبلغاوالضلٰل ومن خلٰلہ وظلٰلہ وغیرھا۳؂ ۔
 (۳؂ المقنع فی رسم المصحف)
ولہذا
''مرتع الغزلان فی رسم خط القرآن''
میں فرمایا: ع
وزن فعال وفاعل وفعلان 

ھم فعال وفعال وھم فعلان

نیز فعلان ومفعل وفعال 

ھم فعال ومفاعل وافعال

ھم مفاعیل ومفاعل وافعال	      

 بافعالی فواعل وفعال

جملگی فعلہا ومصدرہا	

 الف منقلب ز واؤ و زیا

ہمہ گی ثابت است درہمہ جا 

جزحروفے کہ گشتہ مستثنٰی ۱؂
فعال اورفاعل اورفعلان کا وزن 	____فعال اورفعال اورفعلان کا وزن _____فُعلان اورمفعل اورفعّال بھی

فُعال اورمفاعل اورافعال بھی ____ مفاعیل اورمفعل اورمفعال بھی____ فعالٰی  فواعل اورفِعّال 

اورافعال اورتمام مصادر____ جن کا الف واؤ سے بدلا ہو یا یا ء سے بدلاہوا ____تمام مقامات میں ایسا الف باقی اورثابت رہے گا البتہ چند حروف اس قاعدہ سے مستثنٰی  ہیں۔
(۱؂ مرتع الغزلان فی رسم خط القرآن)
مگرشک نہیں کہ وہ ہمیں ایک ضابطہ نافعہ بتاتا ہے کہ مستثنیات کے سوا ایسے سب کلمے ثابتات الالف ہیں ۔تو جب تک بالخصوص نقل معتمد سے خلاف ثابت نہ ہو ثابت ہی رکھیں گے کہ وہی اصل اور خود اصل رسم میں اصل ۔ خلاصۃ الرسوم سے بکلمی اور یبدلوا کلم اللہ بالحذف مترشح ہے ۔اخیر کی وجہ ظاہر ہے کہ امام حمزہ وامام کسائی نے یہاں کَلِم بر وزن کَنِفْ پڑھا ہے مگر کلامی میں مثل دو باقی فقیر کے نزدیک اثبات ارجح ہے ۔ واللہ تعالٰی  اعلم۔
 (۳) یہ کلمہ سات جگہ آیا ہے ، سب سے پہلے سورہ آل عمران میں  :
لایٰت لاولی الالبابo الذین یذکرون اللہ قیاما وقعودا وعلی جنوبھم ۲؂۔
نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لیے جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اوربیٹھے اورکروٹوں  پر  لیٹے ۔(ت)
(۲؂ القرآن الکریم   ۳ /۱۹۰ و ۱۹۱)
عام مصاحف میں یہاں بھی مع الالف ہے ۔ صاحب خلاصۃ الرسوم علامہ عثمان طالقانی رحمۃ اللہ علیہ نے صرف مائدہ کو ذکر کیا کہ :
قیٰماً
بحذف الف مرسوم است از جہت اشتمال برہردو قراء ت یا بنام اختصار۳؂۔
قیٰماً
الف کے حذف کے ساتھ لکھا گیا ہے ، دونوں قراء ت پر مشتمل ہونے کی وجہ سے یا اختصار کیلئے ۔(ت)
 (۳؂ خلاصۃ الرسوم )
اورحرف اول نساء کو اگرچہ لفظاًنہ بتایا مگر رسماً بحذف لکھا جس سے ظاہر باقی پانچ میں اثبات ہے اوریہی قول مرتع ع قیٰماً و ز ابتداء نساء ع آخر مائدہ قیٰماً داں۱ ؂کا مفاد ہے ۔
 (۱؂مرتع الغزلان فی رسم خط القرآن )
اوراس کی وجہ واضح ہے کہ امام نافع اورامام اجل ابن عامر نے حرف نساء جعل اللہ لکم قیٰما۲؂اورابن عامر نے حرف  مائدہ
قیٰماللناس۳؂
کو بے الف پڑھا فی التیسیر ، باقی سب میں اثباتِ الف ہے
باتفاق قراء سبعہ والرسم یتبع اللفظ لاسیما وھو فعّال کما مر ۔ واللہ تعالٰی  اعلم۔
 (۲؂ القرآن الکریم   ۴/  ۵) (۳؂ القرآن الکریم   ۵ /۹۷)
Flag Counter