وما نقموا الا اغنٰھم اللہ ورسولہ من فضلہ ۱۔
اورانہیں کیا برا لگا یہی نا کہ انہیں دولتمند کردیا اللہ اور اللہ کے رسول نے اپنے فضل سے ۔
ہاں یہ جگہ ہے کہ غیظ میں کٹ جائیں بیمار دل۔ اللہ تعالٰی فرماتاہے کہ اللہ اوراللہ کے رسول نے دولتمند کردیا اپنے فضل سے۔
اے اللہ کے رسول !مجھے اورسب اہلسنت کو دین ودنیا کا دولتمند فرما اور اپنے فضل سے ۔ صلی اللہ تعالٰی علیک وسلم ؎
میں گدا تو بادشاہ بھر دے پیالہ نور کا
نور دن دونا ترادے ڈال صدقہ نور کا۲
(۲حدائق بخشش مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی ۲ /۳)
ولو انھم رضوا مااٰتاھم اللہ ورسولہ وقالوا حسبنا اللہ سیؤتینا اللہ من فضلہٖ ورسولہ انا الی اللہ راغبون۳۔
اورکیا خوب تھا اگر وہ راضی ہوتے خدا اوررسول کے دئے پر ، اورکہتے ہمیں اللہ کافی ہے اب دے گا اللہ ہمیں اپنے فضل سے اوراس کا رسول، بیشک ہم اللہ کی طرف راغبت والے ہیں۔
یہاں رب العزت جل وعلانے اپنے ساتھ اپنے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو بھی دینے والا فرمایا اورساتھ ہی یہ بھی ہدایت کی کہ اللہ ورسول سے امید لگی رکھو کہ اب ہمیں اپنے فضل سے دیتے ہیں
جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ۱۔
اللہ نے اسے نعمت بخشی ، اوراے نبی !تو نے اسے نعمت دی۔
لہ معقبٰت من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ من امر اللہ۲ ۔
آدمی کے لیے بدلی والے ہیں اس کے آگے اور اس کے پیچھے کہ اس کی حفاظت کرتے یں اللہ کے حکم سے ۔
بدلی والے یہ کہ صبح کے محافظ عصر کو بدل جاتے ہیں اورعصر کے صبح کو ، وللہ الحمد۔
اللہ بھیجتاہے تم پر نگہبانوں کو ۔
ان آیات میں مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی فرشتوں کو ہمارا حافظ ونگہبان فرماتاہے ۔
یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المؤمنین ۴۔
اے نبی!کافی ہے تجھے اللہ اورجو مسلمان تیرے پیرو ہوئے۔
یہاں رب تبارک وتعالٰی نے اپنے نام پاک کے ساتھ صحابہ کرام کو ملاکر فرماتاہے : اے نبی ! اب کہ عمر اسلام لے آیا تجھے اللہ اوریہ چالیس مسلمان کفایت کرتے ہیں۔
حسبک اللہ وحسبک من اتبعک ۱۔
جلالین میں ہے کافی ہے تجھے اللہ اور کافی ہے تجھے وہ جس نے تیری پیروی کی ۔ (ت)
(۱جلالین کلاں تحت الآیۃ ۸ /۶۴ اصح المطابع دہلی ص۱۵۳)
ترجمہ شاہ ولی اللہ میں ہے :
اے پیغامبر کفایت ست ترا خدا وآناکہ پیروی توکردہ انداز مسلمانان۲۔
اے پیغمبر !کافی ہے تجھے خدا اوروہ مسلمان جنہوں نے تیری پیروی کی ۔ (ت)
(۲فتح الرحمن فی ترجمۃ القرآن (ترجمہ شاہ ولی اللہ ) مطبع ہاشمی دہلی ص۱۸۷)