Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
108 - 212
حدیث ۵۸:
عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسلام لاتے ہی حضو ر اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی :
 انی لاجد صفتک فی کتاب اللہ یا یھاالنبی انا ارسلنٰک شاھد اً ومبشراً ونذیراً الی قولہ لن یقبضہ اللہ حتی یقیم بہ الملۃ العوجاء حتی یقولوا لا الہ الا اللہ ویفتح بہ اعینا عمیاً واٰذا ناًصماً وقلوباً غلفاً ۳؂۔الطبرانی و ابو نعیم فی الدلائل وابن عساکر عن محمد بن حمزۃ بن یوسف بن عبداللہ بن سلام عن ابیہ عن جدہٖ وابن عساکر ایضاً من طریق زید بن اسلم عن عبداللہ بن سلام ، والدارمی والبیہقی من طریق عطاء بن یسارعنہ نحوہ ولہ طریق ثانی فی الباب الاٰتی ان شاء اللہ تعالٰی ۔
بیشک میں حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم )کی صفت تورات میں پاتاہوں، اے نبی !یقینا ہم نے تجھے بھیجا گواہ اوراپنی امت کے تمام احوال و افعال پر مطلع اورخوشخبری دیتا اورڈرسناتا ۔ اللہ عزوجل اس نبی کو نہ اٹھائے گا یہاں تک کہ لوگ لا الہ ا لا اللہ کہہ دیں اوراس نبی کے ذریعے سے اندھی آنکھیں اوربہرے کان اورغلاف چڑھے دل کھل جائیں گے ۔ (روایت کیا طبرانی اورابو نعیم نے دلائل میں ، اورابن عساکر محمد بن حمزہ بن یوسف بن عبداللہ بن سلام سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا سے ، نیز ابن عساکر نے بطریق زید بن اسلم عبداللہ بن سلام سے ، اوردارمی اوربیہقی نے بطریق عطاء بن یسار انہیں سے ایسے ہی  اورطریق دیگر آئندہ باب میں آئیگا ان شاء اللہ تعالٰی ۔ت)
(۳؂دلائل النبوۃ للبیہقی باب صفۃ رسول اللہ فی التوراۃ والانجیل دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۳۸۶)

(سنن الدارمی باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الکتب قبل مبعثہ دارالمحاسن للطباعۃ لقاھرۃ   ۱ /۱۴)

(الخصائص الکبری بحوالہ ابن عساکر والدارمی والبیہقی باب ذکرہ فی التوراۃ الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند   ۱ /۱۰)

(الطبقات الکبرٰی ذکر صفۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی التوراۃ والانجیل دارصادر بیروت ۱ /۳۶۰)

(تاریخ دمشق الکبیر باب ماجاء فی الکتب من نعتہ وصفاتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۱۸و۲۱۹)
حدیث ۵۹ :
کہ اللہ عزوجل نے شعیا علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کو وحی بھیجی :
انی باعث نبیا امیّاً افتح بہ اٰذاناً صمّاً وقلوباً غلفاً واعیناً عمیاً الی ان قال اھدی بہ من بعد الضلالۃ واعلم بہ بعد الجھالۃ وارفع بہ بعد الخمالۃ واسمی بہ بعد النکرۃ واکثر بہ بعدالقلۃ واغنی بہ بعدالعیلۃ واجمع بہ بعد الفرقۃ واؤلف بہ بین قلوب واھواء متشتتۃ وامم مختلفۃابن ابی حاتم عن وھب بن منبّہ۱؂۔
بیشک میں ایک نبی امی کو بھیجنے والا ہوں جس کے ذریعے سے بہرے کان اورغلاف چڑھے دل اوراندھی آنکھیں کھول دوں گا اوراس کے سبب گمراہی کے بعد ہدایت دوں گا، اس کے ذریعے سے جہل کے بعد علم دوں گا، اس کے وسیلے سے گمنامی کے بعد بلند نامی دوں گا، اس کے ذریعے سے ناشناسی کے بعد شناخت دوں گا، اس کے واسطے سے کمی کے بعد کثرت دوں گا ، اس کے سبب سے محتاجی کے بعد غنی کردوں گا، اس کے وسیلے سے پھوٹ کے بعد یکدلی دوں گا، اس کے وسیلے سے پریشان دلوں ، مختلف خواہشوں ، متفرق امتوں میں میل کردوں گا ۔ (ابن حاتم نے وہب بن منبہ سے روایت کیا۔ ت)
(۱؂الخصائص الکبرٰی بحوالہ ابن ابی حاتم عن وہب بن منبہ مرکز اہل سنت گجرات الہند ۱ /۱۳)
للہ انصاف ! یہ کس قدر بلاؤں کا حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم )کے وسیلے سے دفع ہونا ہے وللہ الحمد ۔
حدیث ۶۰:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
لما خلق اللہ العرش کتب علیہ بقلم من نورٍ ، طول القلم مابین المشرق والمغرب لاالہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ ، بہ اٰخذوبہ اعطی وامتہ افضل الامم وافضلھا ابوبکرن الصدیق ۔ الرافعی۱؂ عن سلمان  رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
جب اللہ تعالٰی نے عرش بنایا اس پر نور کے قلم سے جس کا طول مشرق سے مغرب تک تھا لکھا اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں محمد اللہ کے رسول ہیں ، میں انہیں کے واسطے سے لُوں گا اورانہیں کے وسیلے سے دوں گا،ان کی امت سب امتوں سے افضل ہے اوران کی امت میں سب سے افضل ابو بکر صدیق (رضی اللہ تعالٰی عنہ )(رافعی نے حضرت سلما ن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ ت)
 (۱؂کنزالعمال بحوالہ الرافعی عن سلمان حدیث ۳۲۵۸۱مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱/۵۴۹ و ۵۵۰)
بحمداللہ تعالٰی اسی حدیث جلیل جامع پرختم کیجئے کہ اللہ عزوجل کی بارگاہ کا تمام لینا دینا اخذ وعطاسب محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ہاتھوں ان کے واسطے سے ان کے وسیلے سے ہے ، اسی کو خلافت عظمٰی کہتے ہیں۔ وللہ الحمد حمداً کثیراً۔
دیکھو ! بشہادت خدا ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رزق پانا، مدد ملنا، مینہ برسنا، بلادور ہونا ، دشمنوں کی مغلوبی ، عذاب کی موقوفی ، یہاں تک کہ زمین کا قیام، زمین کی نگہبانی ، خلق کی موت ، خلق کی زندگی ، دین کی عزت، امت کی پناہ، بندوں کی حاجت روائی ،راحت رسانی سب اولیاء کے وسیلے اولیا ء کی برکت اولیاء کے ہاتھوں اولیاء کی وساطت سے ہے مگر مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دفع بلا کا واسطہ مانا اور شرک پسندوں نے مشرک جانا، اناللہ وانا الیہ راجعون، اوربحمداللہ تعالٰی تین حدیث اخیر نے روشن ومستنیر کردیا کہ جو نعمت ملی جو بلا ٹلی سب مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے باعث حاصل وزائل ہوئی ، بارگاہ الہٰی کا لینا دینا ساراکارخانہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ہاتھوں پر ہے ہاں ہاں لا واللہ ثم باللہ ایک دفع بلاوحصول عطا کیا تمام جہان اوراس کا قیام سب انہیں کے دم قدم سے ہے عالم جس طرح ابتدائے آفرینش میں ان کا محتاج تھا کہ
لولاک لما خلقت الدنیا ۱؂
 (اگر آپ نہ ہوتے میں دنیا کو پیدا ہی نہ کرتا ۔ ت)
 (۱؂تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر عروجہ الی السماء الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۹۷)
یونہی بقا میں بھی ان کا محتاج ہے ، آج اگر ان کا قدم درمیان سے نکال لیں ابھی ابھی فنائے مطلق ہوجائے ؎

وہ جو نہ تھے توکچھ نہ تھا ، وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو

جان ہیں وہ جہان کی ، جان ہے تو جہاں ہے ۲؂
 (حدائق بخشش مکتبہ رضویہ آرام باغ کراچی ۱ /۷۹)
صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ وبارک وکرم۔
Flag Counter