Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
107 - 212
حدیث ۵۳تا۸۷:
کہ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دعافرمائی :
اللھم اعز الاسلام بعمر بن الخطاب خاصۃ۱؂۔ ابن ماجۃ وابن عدی والحاکم والبیہقی عن ام المومنین الصدیقۃ وبلالفظ خاصۃ ابوالقاسم الطبرانی عن ثوبان والحاکم عن الزبیر وابن سعد من طریق الحسن المجتبٰی وخیثمۃ بن سلیمان فی الصحابۃ واللالکائی فی السنۃ وابو طالب ن العشاری فی فضائل الصدیق وابن عساکر جمیعاً من طریق النزال بن سبرۃ عن امیر المومنین علی وابن عساکر عنہما اعنی الزبیر والامیر معاً کالطبرانی فی الاوسط عن ابی بکر ن الصدیق بلفظ ایدالاسلام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ۔
الہٰی ! خاص عمر بن الخطاب کے ذریعے سے اسلام کو عزت دے ۔ (ابن ماجہ، ابن عدی ، حاکم اوربیہقی نے اس کو ام المومنین صدیقہ سے روایت کیا اورلفظ خاصّۃ کے بغیر اس کو ابوالقاسم طبرانی نے ثوبان سے ، حاکم نے زیبر سے ، ابن سعد نے بطریق حسن مجتبی وخیثمہ بن سلیمان نے صحابہ میں اورلالکائی نے سنّہ میں اورابو طالب عشاری نے فضائل صدیق میں اور ابن عساکر نے ، ان سب نے بطریق نزال بن سبرہ امیر المومنین سیدنا حضرت علی سے اورابن عساکر نے حضرت زبیر اورحضرت علی دونوں سے ، جیسا کہ طبرانی نے اوسط میں حضرت ابو بکر صدیق سے ''اید الاسلام ''کے لفظوں کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ۔ت)
 (۱؂سنن ابن ماجۃ فضل عمر رضی ا للہ عنہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۷۱) 

(الکامل لابن عدی ترجمہ مسلم بن خالد دارالفکر بیروت ۶/۲۳۱۰) 

(المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳/۸۳) 

(السنن الکبرٰی کتاب قسم الفئی والغنیمۃ دارصادر بیروت ۶/۳۷۰)

(المعجم الکبیر عن ثوبان حدیث ۱۴۲۸ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/۹۷)

(تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ عمر بن الخطاب ۵۳۰۲داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۷/۵۲)

(کنزالعمال بحوالہ خیثمہ واللالکائی والعشاری حدیث ۳۶۶۹۸موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳ /۲۳۲)

(المعجم الاوسط حدیث ۸۲۴۹مکتبۃ المعارف ریاض ۹ /۱۱۹و۱۲۰)
اس دعائے کریم کے باعث عمرفاروق اعظم کے ذریعہ سے جو عزتیں اسلام کو ملیں جو بلائیں اسلام ومسلمین پر سے دفع ہوئیں مخالف وموافق سب پر روشن ومبین ۔ ولہذا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
مازلنا اعزۃ منذ اسلم عمر ۱؂۔البخاری فی صحیحہٖ وابو حاتم الرازی فی مسندہ وابن حبان عنہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
ہم ہمیشہ معزز رہے جب سے عمر اسلام لائے۔ (امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی بخاری میں اورابو حاتم رازی نے اپنی مسند میں اور ابن حبان نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۱؂صحیح البخاری کتاب المناقب مناقب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۲۰)

(المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳ /۸۴)

(الطبقات الکبری لابن سعد اسلام عمر رضی اللہ عنہ دارصادر بیروت ۳ /۲۷۰)

(صفۃ الصفوۃ ذکر اسلام عمر رضی اللہ عنہ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۷۴)
نیز فرماتے ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہ :
کان اسلام عمر فتحا وھجرتہ نصراً وامارتہ رحمۃ لقد رأیتنا وما نستطیع ان نصلی بالبیت حتی اسلم عمر۲؂۔ رواہ ابو ظاھر السلفی واٰخرہ لابن اسحٰق فی سیرتہ بمعناہ ۔
عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ )کا اسلام فتح تھا اوران کی ہجرت نصرت اور ان کی خلافت رحمت ، بیشک میں نے اپنے گروہ صحابہ کو دیکھا کہ جب تک عمر مسلمان نہ ہوئے ہمیں کعبہ معظمہ میں نماز پر قدرت نہ ملی ۔ (اس کو روایت کیا ابو ظاہر سلفی نے اوراس کے بعد سیرۃ ابن اسحٰق میں انہیں معنوں میں ۔ت)
 (۲؂السیرۃ النبویۃ لابن ہشام اسلام ابن عمر رضی اللہ عنہ دارابن کثیر بیروت الجزئین الاولین ص۳۴۲)

(اسدالغابۃ ترجمہ ۳۸۲۴عمر بن الخطاب دارالفکر بیروت ۳ /۶۴۸)

الریاض النضرۃ الباب الثانی فی مناقب عمر بن الخطاب حدیث ۵۸۶   دارالمعرفۃ بیروت الجزء الثانی ص۲۴۴)
نیز فرماتے ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہ :
 ماصلینا ظاھرین حتی اسلم عمر ظھر الاسلام ودعاالی اللہ علانیۃً۔ اخرجہ الدولابی فی الفضائل ۱؂۔
جب تک عمر مسلمان نہ ہو ئے ہم نے آشکارنماز نہ پڑھی جس دن سے وہ اسلام لائے دین نے غلبہ پایا اور انہوں نے علانیہ اللہ عزوجل کی طرف بلایا(دولابی نے فضائل میں اسے بیان کیا۔ت)
 (۱؂الریاض النضرۃ الباب الثانی فی مناقب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حدیث ۵۸۶دارالمعرفۃ بیروت ،الجزء الثانی ص۲۴۴)
صہیب رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
لما اسلم عمر جلسنا حول البیت حلقاً وطفنابہ وانتصفنا ممن غلظ علینا ۔ خرجہ ابوالفرج فی صفۃ الصفوۃ ۲؂۔
جب عمر مسلمان ہوئے ہم گردخانہ کعبہ حلقہ باندھ کر بیٹھ گئے اورطواف کیا اورہم پر جو سختی کرتے تھے ان سے اپنا انصاف لیا ۔ (ابوالفرج نے اسے صفۃ الصفوۃ میں بیان کیا۔ ت)
 (۲؂صفۃ الصفوۃ ذکر اسلام عمر رضی اللہ عنہ دارالمعرفۃ بیروت    ۱ /۲۷۴)
Flag Counter