Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
106 - 212
حدیث ۴۱:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
اذا اراد اللہ بعبد خیراً صیر حوائج الناس الیہ ۔ مسند الفردوس ۳؂ عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
اللہ تعالٰی جب کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتاہے تو اسے لوگوں کا مرجع حاجات بناتاہے (مسند فردوس میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا گیا ۔ت)
 (۳؂الفردو س بماثور الخطاب حدیث ۹۳۸دارالکتب العلمیۃ بیروت   ۱ /۲۴۳)
حدیث ۴۲و۴۳ :
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم : میری تمہاری کہاوت ایسی ہے جیسے کسی نے آگ روشن کی ، پنکھیاں اورجھینگراس میں گِرنا شروع ہوئے وہ انہیں آگ سے ہٹا رہا ہے،
وانا اٰخذ بحجزکم عن النار وانتم تفلتون من یدی ۔ احمد ومسلم عن جابر واحمد۴؂عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
اورمیں تمہاری کمریں پکڑے تمہیں آگ سے بچارہا ہوں اورتم میرے ہاتھ سے نکلنا چاہتے ہو۔ (احمد اورمسلم نے حضرت جابر سے اوراحمد نے حضرت ابو ہریرۃ سے روایت کیا رضی اللہ تعالٰی عنہما۔ ت)
 (۴؂صحیح مسلم کتاب الفضائل باب شفقتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم علی اٰمتہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۴۸)

(مسند احمد بن حنبل عن جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۳۹۲)

(مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۵۴۰)
حدیث ۴۴:
کہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
لیس منکم رجل الا انا ممسک بحجزتہ ان یقع فی النار ۔ الطبرانی فی الکبیر۱؂ عن سمرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
 (۱؂المعجم الکبیر عن سمرۃ رضی اللہ عنہ حدیث ۷۱۰۰المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۷ /۲۶۹)
تم میں ایسا کوئی نہیں کہ میں اس کا کمر بند پکڑے روک نہ رہاہوں کہ کہیں آگ میں نہ گرپڑے ۔ (طبرانی نے کبیر میں سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث ۴۵:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم: اللہ عزوجل نے جو حرمت حرام کی اس کے ساتھ یہ بھی جاناکہ تم میں کوئی جھانکنے والا اسے ضرورجھانکے گا۔
الاو انی ممسک بحجز کم ان تھافتوا فی النار کما تھافت الفراش والذباب ۔ احمد والطبرانی ۲؂فی الکبیر عن ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
سن لو اور میں تمہارے کمر بند پکڑے ہوں کہ کہیں پے درپَے آگ میں پھاند نہ پڑو جیسے پروانے اورمکھیاں ۔ (احمد اور طبرانی نے کبیر میں ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ت)
(۲؂مسند احمد بن حنبل عن ابن مسعود المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۴۲۴)

( المعجم الکبیر عن ابن مسعود حدیث ۱۰۵۱۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰ /۲۶۵)
اللہ اکبر! اس سے زیادہ اورکیا دفع بلا ہوگا ،
ولٰکن الوھابیۃ لایعلمون
(لیکن وہابی نہیں جانتے ۔ ت)
تنبیہ : بائیس سے چوالیس تک چوبیس حدیثیں قابل اندراج وجہ دو تھیں کہ قطعاً للشغف یہیں درج ہوئیں ۔
حدیث ۴۶تا۵۲:
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل سے دعا کی :
اللھم اعز الاسلام باحب ھٰذین الرجلین الیک بعمربن الخطاب او بابی جھل بن ھشام ۱؂۔ احمد وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ وصححہ وابن سعد وابو یعلٰی والحسن بن سفٰین فی فوائدہٖ والبزار وابن مردویۃ وخیثمۃ بن سلیمان فی فضائل الصحابۃ وابو نعیم والبیہقی فی دلائلھما وابن عساکر کلھم عن امیر المومنین عمر ۔ والترمذی عن انس والنسائی عن ابن عمر واحمد وابن حمید وابن عساکر عن خباب بن الارت والطبرانی فی الکبیر والحاکم عن عبداللہ ابن مسعود والترمذی والطبرانی وابن عساکر عن ابن عباس والبغوی فی الجعد یات عن ربیعۃ السعدی رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ، ورواہ ابن عساکر عن ابن عمر بلفظ اللھم اشدد ۱؂وکابن النجار عنہ بلفظ الحدیث الثانی وابو داؤد الطیالسی والشاشی فی فوائدہ والخطیب عن ابن مسعود بلفظ الصدیق الآتی ۔
الہٰی ! اسلام کو عزت دے ان دونوں مردوں میں جو تجھے زیادہ پیارا ہو اس کے ذریعہ سے یا تو عمر بن الخطاب یا ابو جہل بن ہشام ۔ (روایت کیا اس کو احمد وعبدبن حمید وترمذی نے اوراسے حسن اورصحیح کہا۔ اورابن سعد وابویعلٰی وحسن بن سفیان نے اپنی فوائد میں ۔ اور بزار، ابن مردویہ ، خیثمہ بن سلیمان فضائل صحابہ میں ، ابو نعیم وبیہقی دلائل النبوۃ میں اورابن عساکر ، یہ تمام امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں۔ ترمذی نے اس سے ، نسائی نے ابن عمر سے ، احمد بن حمید وابن عساکر نے خباب بن الارت سے ، طبرانی نے کبیر میں اورحاکم نے عبداللہ بن مسعود سے ۔ ترمذی ، طبرانی اور ابن عساکر نے ابن عباس سے اوربغوی نے جعدیات میں ربیعہ بن سعدی سے روایت کیا رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ۔ اورابن عساکر نے اس کو ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ''اللھم اشدد''کے لفظ سے روایت کیا اورابن نجار کی طرح اس کو بلفظ حدیث دوم روایت کیا ۔ ابو داود طیالسی اورشاشی نے اپنی فوائد میں اورخطیب نے ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بلفظ صدیق روایت کیا جو آگے آرہاہے ، رضی اللہ تعالٰی عنہم ۔ ت )
(۱؂مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۹۵)

( المنتخب من مسند عبد بن حمید حدیث۷۵۹ عالم الکتب بیروت      ص۲۴۵)

(سنن الترمذی کتاب المناقب باب فی مناقب عمر بن خطاب حدیث ۳۷۰۱دارالفکر بیروت         ۵ /۳۸۳)

(سنن الترمذی کتاب المناقب باب فی مناقب عمر بن خطاب حدیث ۳۷۰۳دارالفکر بیروت    ۵ /۳۸۴) 

(کنزالعمال بحوالہ البغوی عن ربیع السعدی حدیث ۳۲۷۷۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱ /۵۸۳) 

(کنزالعمال حدیث ۷۴ ،۷۳ ،۷۲ ۔۳۲۷۷۱مؤسسۃ الرسالہ بیروت        ۱/۵۸۲)

(کنز العمال بحوالہ خیثمۃ فی فضائل الصحابۃ حدیث ۳۵۸۸۱موسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۲ /۶۰۲)

(کنزالعمال بحوالہ یعقوب بن سفیان حدیث ۳۵۸۴۰موسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۲ /۵۹۲)

(تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ عمر بن الخطاب ۵۳۰۲داراحیاء التراث العربی بیروت ۴۷/۵۰تا۶۸)

(کشف الخفاء تحت حدیث ۵۴۶دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۶۶)

(دلائل النبوۃ للبیہقی باب ذکر اسلام عمر بن الخطاب دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲/ ۲۱۶و۲۲۰)

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد ترجمہ ارقم بن ابی الارقم دارصادر بیروت ۳/  ۲۴۲ و ۲۶۷ و ۲۶۹)

(المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارصادر بیروت ۳/ ۸۳و۵۰۲)

(السنن الکبرٰی کتاب قسم الفئی والغنیمۃ دارصادر بیروت ۶ /۳۷۰)

(المعجم الکبیر عن ثوبان رضی اللہ عنہ حدیث ۱۴۲۸ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲ /۹۷)

(المعجم الکبیر عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ حدیث ۱۰۳۱۴ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۰ /۱۹۷)

(تاریخ بغداد ترجمہ احمد بن بشر ۱۶۶۱دارالکتاب العربی بیروت ۴ /۵۴)

(المعجم الاوسط حدیث ۴۷۴۹مکتبۃ المعارف ریاض ۵ /۳۷۸)

(المعجم الاوسط حدیث ۱۸۸۱مکتبۃ المعارف ریاض ۲ /۵۱۲)

(۱؂تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ عمر بن الخطاب ۵۳۰۲داراحیاء التراث العربی بیروت     ۴۷ /۵۱)
Flag Counter