Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص )
105 - 212
حدیث ۲۲و۲۳:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
اطلبوا الحوائج الی ذوی الرحمۃ من امتی ترزقوا وفی لفظ اطلبوا الفضل عند الرحماء من امتی تعیشوا فی اکنافھم فان فیھم رحمتی وفی لفظ اطلبوا الفضل من الرحماء وفی روایۃ اخرٰی اطلبوا المعروف من رحماء امتی تعیشوا فی اکنافھم۔ العقیلی ۲؂والطبرانی فی الاوسط باللفظ الاول وابن حبان والخرائطی والقضاعی وابوالحسن الموصلی والحاکم فی التاریخ ۳؂بالثانی والعقیلی بالثالث کلھم عن سعید الخدری والاخری للحاکم فی المستدرک ۴؂عن علی ن المرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
میرے رحم دل امتیوں سے حاجتیں مانگو رزق پاؤگے اورایک روایت میں ہے ان سے فضل طلب کرو ان کے دامن میں آرام سے رہوگے کہ ان میں میری رحمت ہے ۔ اورایک اور روایت میں ہے میری رحمدل امتیوں سے بھلائی چاہو ان کی پناہ میں چین سے رہوگے ۔ عقیلی اورطبرانی نے اوسط میں بلفظ اول اورابن حبان ، خرائطی ، قضاعی ، ابوالحسن موصلی اورحاکم نے تاریخ میں بلفظ دوم جبکہ عقیلی نے بلفظ سوم روایت کیا ہے ۔ ان سب نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے اورمستدرک حاکم میں دوسری روایت میں بروایت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے ۔(ت)
(۲؂کنزالعمال بحوالہ عق ، طس عن ابی سعید حدیث ۱۶۸۰۱موسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۵۱۸)

( الجامع الصغیر بحوالہ عق ، طس عن ابی سعید حدیث ۱۱۰۶دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۷۲)

(۳؂الجامع الصغیر بحوالہ الخرائطی فی مکام الاخلاق حدیث ۱۱۱۴   دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۷۲) 

(کنزالعمال بحوالہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق حدیث ۱۶۸۰۹مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۵۱۹)

(۴؂المستدرک للحاکم کتاب الرقاق اہل المعروف فی الدنیا الخ دارالفکر بیروت ۴ /۳۲۱) 

(کنزالعمال حدیث ۱۶۸۰۷مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۵۱۹)
حدیث ۲۴تا۳۷:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
اطلبوا الخیر والحوائج من حسان الوجوہ ۱؂۔
بھلائی اوراپنی حاجتیں خُوشرُویوں سے مانگو۔
(۱؂المعجم الکبیر عن ابن عباس حدیث ۱۱۱۱۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۸۱)
ع__________________ کہ معنی بود وصورت خوب را
کہ یہ خوش رو حضرات اولیائے کرام ہیں کہ حسن ازلی جن سے محبت فرماتاہے ۔
من کثرت صلوٰتہ باللیل حسن وجھہ بالنھار۲؂۔
 (جو رات کو کثرت سے نماز پڑھتا ہے اللہ تعالٰی اس کے چہرے کو دن کی روشنی جیسا حسن عطاکردیتاہے۔ت)
 (۲؂کنزالعمال حدیث ۲۱۳۹۴مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷ /۷۸۳)
اورجودکامل  وسخائے شامل بھی انہیں کا حصہ کہ وقت عطاشگفتہ روئی جس کا ادنٰی ثمرہ ۔
الطبرانی فی الکبیر عن ابن عباس بھٰذا اللفظ والعقیلی والخطیب وتمام  الرازی فی فوائد ہٖ والطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی شعب الایمان عنہ  وابن ابی الدنیا فی قضاء الحوائج والعقیلی والدارقطنی فی الافراد والطبرانی فی الاوسط وتمام والخطیب فی رواۃ مالک عن ابی ھریرۃ ، وابن عساکر والخطیب فی تاریخھما عن انس بن مالک ، والطبرانی فی الاوسط والعقیلی والخرائطی فی اعتلال القلوب وتمّام وابوسھل وعبدالصمدبن عبدالرحمن البزار فی جزئہ وصاحب المھر انیات فیھا عن جابر بن عبداللہ ، وعبدبن حمید فی مسندہ وابن حبان فی الضعفاء وابن عدی فی الکامل والسلفی فی الطیوریات عن ابن عمر، وابن النجار فی تاریخہ عن امیرالمومنین علی ، والطبرانی فی الکبیر عن ابی خصیفۃ وتمام عن ابی بکرۃ ، والبخاری فی التاریخ وابن ابی الدنیا فی قضاء الحوائج ، وابویعلٰی فی مسندہٖ ، والطبرانی فی الکبیر والعقیلی والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر عن ام المؤمنین الصدیقۃ کلھم بلفظ اطلبوا الخیر عند حسان الوجوہ۱؂ ، کماعند الاکثر اوالتمسوا ۱؂ کما التما م عن ابن عباس والخطیب عن انس۔ والطبرانی عن ابی خصیفۃ۔
طبرانی نے کبیر میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ان ہی لفظوں کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ عقیلی ، خطیب ، تمام رازی اپنی فوائد میں، طبرانی کبیر میں اور بیہقی شعب الایمان میں ان ہی سے راوی ہیں ۔ ابن ابی الدنیا نے قضاء الحوائج میں ، عقیلی ودارقطنی نے افراد میں، طبرانی نے اوسط میں ، تمام اور خطیب نے بواسطہ مالک حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ ابن عساکر اور خطیب نے اپنی تاریخ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ طبرانی نے اوسط میں ، عقیلی وخرائطی نے اعتلال القلوب میں، تمام وابو سہل اورعبدالصمد بن عبدالرحمن بزار نے اس کو اپنی جزء میں اورصاحب مہرانیات نے مہرانیات میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ جبکہ عبد بن حمید نے اپنی مسند میں ، ابن حبان نے ضعفاء میں ، ابن عدی نے کامل میں اورسلفی نے طیور یات میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ ابن نجار نے اپنی تاریخ میں امیر المومنین علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ۔ طبرانی نے کبیر میں ابو خصیفہ سے اور تمام نے ابو بکرہ سے روایت کیا۔ بخاری  نے تاریخ میں ، ابن ابی الدنیا نے قضاء الحوائج میں، ابو یعلٰی نے اپنے مسند میں ، طبرانی نے کبیر میں ، عقیلی وبیہقی نے شعب الایمان میں اورابن عساکر نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کیا ہے ۔ ان سب نے بایں الفاظ ذکر کیا ہے کہ ''خوشرویوں سے بھلائی طلب کرو''جیسا کہ اکثر کے نزدیک ہے ۔ یا اطلبوا کی جگہ التمسواہے جیسا کہ تمام نے ابن عباس ، خطیب نے حضرت انس اورطبرانی نے ابوخصیفہ سے روایت کیا رضی اللہ تعالٰی عنہم ۔
 (۱؂اتحاف السادۃ المتقین کتاب الصبر والشکربیان حقیقۃ النعمۃ واقسامہا دارالفکر بیروت ۹ /۹۱)

(کشف الخفاء تحت الحدیث ۳۹۴دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۲۲و۱۲۳)

(تاریخ بغداد ذکر مثانی الاسماء دارالکتاب بیروت ۴ /۱۸۵)

(تاریخ بغداد ترجمہ ایوب بن الولید ۳۴۸۳ دارالکتاب بیروت ۷ /۱۱)

(تاریخ بغداد ترجمہ عبدالصمد بن احمد ۵۷۲۲دارلکتاب بیروت ۱۱ /۴۳)

(تاریخ بغداد عصمۃ بن محمد الانصاری ۷۱۴۱دارالکتاب بیروت ۱۳ /۱۵۸)0

(الضعفاء الکبیر حدیث ۱۳۶۶دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۳۴۰)

( شعب الایمان تحت الحدیث ۳۵۴۳دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/۲۷۹)

(موسوعۃ رسائل ابن ابی الدنیا قضاء الحوائج حدیث ۵۳مؤسسۃ الکتب الثقافیہ بیروت ۲ /۵۱)

(کنزالعمال بحوالہ قط فی الافراد حدیث ۱۶۷۹۲موسسۃ الرسالہ بیروت         ۶ /۵۱۶)

(الجامع الصغیر بحوالہ قط فی الافراد حدیث ۴۴دارالکتب العلمیۃ بیروت        ۱ /۹ )

(الجامع الصغیر بحوالہ تخ حدیث ۱۱۰۷دارالکتب العلمیۃ بیروت          ۱ /۷۲)

(المعجم الاوسط عن ابی ہریرۃ حدیث ۳۷۹۹مکتبۃ المعارف ریاض        ۴ /۴۷۲)

(کنز العمال حدیث ۱۶۷۹۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت        ۶ /۵۱۶)

(المعجم الاوسط عن جابر رضی اللہ تعالی عنہ  حدیث ۶۱۱۳مکتبۃ المعارف ریاض      ۷/۷۱)

(مجمع الزوائد باب مایفعل طالب الحاجۃ وممن یطلبھا دارالکتاب بیروت        ۸ /۱۹۴و۱۹۵)

( الکامل لابن عدی ترجمہ سلیم بن مسلم، دارالفکر بیروت ۳ /۱۱۶۷)

(المنتخب من مسند عبد بن حمید حدیث ۷۵۱عالم الکتب بیروت         ص۲۴۳)

(اعتلال القلوب للخرائطی حدیث ۳۴۲و۳۴۳مکتبہ نزار مصطفی البازمکۃالمکرمۃ          ۱ /۱۶۶و۱۶۷)

(موسوعۃ رسائل ابن ابی الدنیا قضاء الحوائج حدیث ۵۲ و ۵۱ مؤسسۃ الکتب الثقافیۃ بیروت    ص۵۰و۵۱)

(الضعفاء الکبیر ترجمہ سلیمان بن راقم ۵۹۹  ۲ /۱۲۱ وترجمہ سلیمان بن کراز ۶۲۸     ۲ /۱۳۹)

( شعب الایمان حدیث ۳۵۴۱و۳۵۴۲دارالکتب العلمیۃ بیروت۳ /۲۷۸)

(۱؂المعجم الکبیر عن ابی خصیفۃ حدیث ۹۸۳المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۲ /۳۹۶)

(تاریخ بغداد ترجمہ محمد بن محمد ۱۲۸۷ دارالکتاب العربی بیروت ۳ /۲۲۶)
او ابتغو ا۲؂کما للدارقطنی عن ابی ھریرۃ ولفظہ عندابن عدی عن ام المؤمنین اطلبوا الحاجات وھو فی کاملہ ۳؂
یا لفظ ابتغوا ہے جیسا کہ دارقطنی نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے ۔ ابن عدی کی کامل میں بروایت ام المومنین حدیث کے الفاظ یوں ہیں کہ ''اپنی حاجات طلب کرو''۔
 (۲؂کنز العمال بحوالہ قط فی الافراد عن ابی ہریرۃ حدیث ۱۶۷۹۲موسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۵۱۶)

(۳؂الکامل لابن عدی ترجمہ الحکم بن عبداللہ دارالفکر بیروت ۲ /۶۲۲)
والبیہقی فی شعب عن عبداللہ بن جراد بلفظ اذا ابتغیتم المعروف فاطلبوہ عند حسان الوجوہ ۱؂ واحمد بن منیع فی مسندہ عن یزیدالقسملی بلفط اذا طلبتم الحاجات فاطلبوھا ۲؂ وابن ابی شیبۃ فی مصنفہ عن ابن مصعب ن الانصاری وعن عطاء وعن ابن شہاب الثلٰثۃ مراسیل رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ۔
بیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن جراد سے بایں الفاظ روایت کیاہے کہ ''جب بھلائی طلب کرو تو خوشرویوں کے پاس طلب کرو۔ ''احمد بن منیع نے اپنی مسند میں یزید القسملی سے ان لفظوں کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ''جب حاجات طلب کرو توخوشرویوں کے ہاں طلب کرو۔ ''ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں ابن مصعب انصاری ، عطاء اورابن شہاب سے روایت کیا ، یہ تینوں حدیثیں مرسل ہیں ، رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ۔(ت)
 (۱؂شعب الایمان حدیث ۱۰۸۷۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت۷/۴۳۵)

(۲؂اتحاف السادۃ المتقین کتاب الصبر والشکر بیان حقیقۃ النعمۃ واقسامہا دارالفکر بیروت ۹ /۹۱)

(کشف الخفاء تحت الحدیث ۳۹۴دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۲۳) 

(المصنف لابن ابی شیبۃ حدیث ۲۶۲۶۷،۲۶۲۶۸،۲۶۲۶۹دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۴۳۵)
حدیث ۳۸:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
اطلبوا الابادی عند فقراء المسلمین فان لھم دولۃ یوم القیٰمۃ۳؂ ۔  ابو نعیم فی الحلیۃ عن ابی الربیع السائح معضل۔
نعمتیں مسلمان فقیروں کے پاس طلب کرو کہ روز قیامت ان کی دولت ہے ۔ (ابو نعیم نے حلیہ میں ابو الربیع السائح سےمعضل(سخت مشکل) روایت کی۔ت)
 (۳؂حلیۃ الاولیاء ترجمہ ابی الربیع السائح ۴۱۸ دارالکتاب العربی بیروت ۸ /۲۹۷)
حدیث ۳۹:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
ان اللہ تعالٰی عبادااختصھم لحوائج الناس یفزع الناس الیھم فی حوائجھم اولٰئک الاٰمنون من عذاب اللہ ۔ الطبرانی فی الکبیر ۱؂عن ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بسند حسن۔
 (۱؂کنزالعمال بحوالہ طب عن ابن عمر حدیث ۱۶۰۰۷مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۳۵۰)
اللہ تعالٰی کے کچھ بندے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے انہیں حاجت روائی خلق کے لیے خاص فرمایاہے لوگ گھبرائے ہوئے اپنی حاجتیں اپنے پاس لاتے ہیں ، یہ بندے عذاب الہٰی سے امان میں ہیں ۔ (طبرانی نے کبیر میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ۔ت)
حدیث ۴۰ :
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
اذا اراد اللہ بعبد خیرا استعملہ علی قضاء حوائج الناس۔ البیھقی فی الشعب ۲؂عن ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
جب اللہ تعالٰی کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتاہے اس سے مخلوق کی حاجت روائی کا کام لیتا ہے (بیہقی نے شعب میں ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
 (۲؂شعب الایمان حدیث ۷۶۵۹دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۱۱۷)
Flag Counter