قرء القراٰن ثلٰثۃ (فذکر الحدیث الی ان قال ) ورجل قرأالقراٰن فوضع دواء القراٰن علی داء قلبہ فاسھر بہ لیلہ واظمأبہ نھارہ وقاموا فی مساجدھم واحبوابہ تحت برانسھم فھٰؤلاء یدفع اللہ بھم البلاء ویزیل من الاعداء وینزل غیث السماء فواللہ ھؤلاء من قراء القراٰن اعز من الکبریت الاحمر۔ ابن حبان ۲فی الضعفاء وابو نصر السجزی فی الابانۃ والدیلمی عن بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ورواہ البیھقی فی الشعب عن الحسن البصری رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
تین قسم کے آدمیوں نے قرآن پڑھا (دو قسمیں دنیا طلب وقاری بے عمل بیان کر کے فرمایا) ایک وہ شخص جس نے قرآن عظیم پڑھا اور دواکو اپنے دل کی بیماری کا علاج بنایا تو ا س نے اپنی رات جاگ کر اوراپنا دن پیاس یعنی روزے میں کاٹا اوراپنی مسجدوں میں قرآن کے ساتھ نماز میں قیام کیا اور اپنی زاہدانہ ٹوپیاں پہنے نرم آواز سے اس کے پڑھنے میں روئے ، تو یہ لوگ وہ ہیں جن کے طفیل میں اللہ تعالٰی بلا کو دفع فرماتااور دشمنوں سے مال ودولت وغنیمت دلاتا اورآسمان سے مینہ برساتا ہے خدا کی قسم قاریان قرآن میں ایسے لوگ گوگرد سرخ سے بھی کمیاب تر ہیں ۔ (ابن حبان نے الضعفاء میں اورابو نصر سجزی نے ابانۃ میں اوردیلمی نے حضرت بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اوربیہقی نے شعب میں حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ ت)
(۲شعب الایمان حدیث ۲۶۲۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۵۳۱و ۵۳۲)
(کنز العمال بحوالہ حب فی الضعفاء وابی نصر السجزی الخ حدیث ۲۸۸۲مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۶۲۳)
حدیث ۱۷:
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
النجوم امنۃ للسماء فاذا ذھبت النجوم اتی السماء ما توعد ، وانا امنۃ لاصحابی فاذا ذھبت اتٰی اصحابی مایوعدون ، واصحابی امنۃ لامتی فاذا ذھب اصحابی اتٰی امتی مایوعدون۔
ستارے امان ہیں آسمان کے لئے ، جب ستارے جاتے رہیں گے آسمان پر وہ آئے گا جس کا اس سے وعدہ ہے یعنی شق ہونا فنا ہوجانا ۔ اور میں امان ہوں اپنے اصحاب کےلئے جب میں تشریف لے جاؤں گا میرے اصحاب پر وہ آئے گا جس کا ان سے وعدہ ہے یعنی مشاجرات۔ اورمیرے صحابہ امان ہیں میر ی امت کے لیے ، جب میرے صحابہ نہ رہیں گے میری امت پر وہ آئے گا جس کا ان سے وعدہ ہے یعنی ظہور کذب ومذاہب فاسدہ وتسلط کفار۔
صدق رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ۔(ت)
احمد ومسلم۱ عن ابی موسی الاشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
امام احمد ومسلم نے حضرت ابو موسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
(۱صحیح مسلم کتاب الفضائل باب بیان ان بقاء النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم امان لاصحابہ قدیمی کتب خانہ کراچی۲/۳۸۸)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی موسٰی الاشعری المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۳۹۹)
حدیث ۱۸،۱۹:
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
النجوم امان لاھل السماء واھل بیتی امان لامتی۲۔
واللہ ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
اور برتقدیر خصوص ظہور طوائف ضالہ مراد ہو ،
کما فی روایۃ ابی یعلی فی مسندہ عن سلمۃ بن الاکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ بسند حسن والحاکم فی المستدرک وصحح وتعقب عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما ولفظہ النجوم امان لاھل الارض من الغرق واھل بیتی امان لامتی من الاختلاف ۱الحدیث۔
جیسا کہ مسند ابو یعلٰی کی روایت میں سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بسند حسن ہے ۔ اور حاکم نے مستدرک میں اسے روایت کیا ا وراس کی تصحیح کی اورابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اس کی پیروی کی ، ان کے الفاظ یہ ہیں : ستارے زمین والوں کے لئے غرق ہونے سے امان ہیں اور میرے اہل بیت میری امت کے لیے اختلاف سے امان ہیں، الحدیث ۔(ت)
(۱المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ اہل بیتی امان لامتی دارالفکر بیروت ۳ /۱۴۹)
حدیث۲۰:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :ا
ھل بیتی امان لامتی فاذ اذھب اھل ابیتی اتاھم مایوعدون۔ الحاکم ۲وتعقب عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
میرے اہلبیت میری امت کے لے امان ہیں جب اہل بیت نہ رہیں گے امت پروہ آئیگا جو ان سے وعدہ ہے (حاکم نے روایت کی اورجابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کی پیروی کی ۔ ت)
(۲المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ اہل بیتی امان لامتی دارالفکر بیروت ۳ /۱۴۹)
حدیث ۲۱:
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے کہ انہوں نے فرمایا :
کان من دلالات حمل رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان کل دابۃ کانت لقریش نطقت تلک اللیلۃ وقالت حمل رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ورب الکعبۃ وھو امان الدنیا وسراج اھلھا۱۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حمل مبارک کی نشانیوں سے تھا کہ قریش کے جتنے چوپائے تھے سب نے اس رات کلام کیا اورکہا رب کعبہ کی قسم !رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حمل میں تشریف فرماہوئے وہ تمام دنیا کی پناہ اوراہل عالم کے سورج ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
(۱الخصائص الکبرٰی بحوالہ ا بو نعیم عن ابن عباس باب مظہر فی لیلۃ مولدہ الخ مرکز اہلسنت گجرات ہند ۱ /۴۷)