الابدال فی امتی ثلٰثون بھم تقوم الارض وبھم تمطرون وبہم تنصرون۔ الطبرانی ۱فی الکبیر عن عبادۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ بسندٍ صحیحٍ ۔
ابدال میری امت میں تیس ہیں انہیں سے زمین قائم ہے انہیں کے سبب تم پر مینہ اترتا ہے ۔ انہیں کے باعث تمہیں مدد ملتی ہے ۔ (طبرانی نے کبیر میں عبادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بسند صحیح روایت کیا۔ت)
(۱کنزالعمال بحوالہ عبادۃ ابن الصامت حدیث ۳۴۵۹۳مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۸۶)
(مجمع الزوائد ، باب ماجاء فی الابدال الخ دارالکتب بیروت ۱۰ /۶۳)
(الجامع الصغیر بحوالہ الطبرانی عن عبادۃ بن الصامت حدیث ۳۰۳۳دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۸۲)
حدیث ۹:
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
ابدال شام میں ہیں اور وہ چالیس ہیں جب ایک مرتا ہے اللہ تعالٰی اس کے بدلے دوسرا قائم کرتاہے ۔
یسقٰی بھم الغیث وینتصر بھم علی الاعداء ویصرف عن اھل الشام بھم العذاب ۔ احمد۲ عن علی کرم اللہ تعالٰی وجھہ بسند حسن۔
انہی کے سبب مینہ دیا جاتاہے ، انہیں سے دشمنوں پر مدد ملتی ہے ، انہیں کے باعث شام والوں سے عذاب پھیرا جاتاہے ۔ (امام احمد نے حضرت علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ سے بسند حسن روایت کیا ۔ ت)
(۲مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۱۱۲)
دوسری روایت یوں ہے :
یصرف عن اھل الارض البلاء والغرق ۔ ابن عساکر ۳رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
انہیں کے سبب اہل زمین سے بلاء اورغرق دفع ہوتا ہے ۔(ابن عساکر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے روایت کیا۔ت)
(۳تاریخ دمشق الکبیر باب ماجاء ان بالشام یکون الابدال داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۱۳)
حدیث ۱۰:
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :ابدال شام میں ہیں ،
بھم ینصرون وبھم یرزقون ۔ الطبرانی فی الکبیر ۱عن عوف بن مالک وفی الاوسط عن علی المرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما کلاھما بسند حسن۔
وہ انہیں کی برکت سے مدد پاتے ہیں اورانہیں کی وسیلہ سے رزق۔ (طبرانی نے کبیر میں عوف بن مالک سے اوراوسط میں علی المرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما سے دونوں میں بسند حسن روایت کیا ۔ت)
(۱المعجم الکبیر عن عوف بن مالک حدیث ۱۲۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۸ /۶۵)
حدیث ۱۱:
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
لن تخلوالارض من اربعین رجلا مثل ابراھیم خلیل الرحمن فیھم تسقون وبھم تنصرون ۔ الطبرانی فی الاوسط۲ عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ بسند حسن ۔
زمین ہرگز خالی نہ ہوگی چالیس اولیاء سے کہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے پرتو پر ہوں گے، انہیں کے سبب تمہیں مینہ ملے گا اورانہیں کے سبب مدد پاؤ گے (طبرانی نے اوسط میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا۔ت)
لن یخلو الارض من ثلٰثین مثل ابراھیم بھم تغاثون وبھم ترزقون وبھم تمطرون۔ ابن حبان ۳فی تاریخہ عن ابی ھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلٰوۃ والثناء سے خُوبُو میں مشابہت رکھنے والے تیس شخص زمین پر ضرور رہیں گے ، انہیں کی بدولت تمہاری فریاد سنی جائے گی اورانہیں کے سبب رزق پاؤ گے اورانہیں کی برکت سے مینہ دئے جاؤ گے (ابن حبان نے اپنی تاریخ میں حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ت)
(۳کنزالعمال بحوالہ حب فی تاریخہ عن ابی ہریرۃ حدیث ۳۴۶۰۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۸۷)
حدیث ۱۳:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
لایزال اربعون رجلاً من امتی قلوبھم علی قلب ابراھیم یدفع اللہ بھم عن اھل الارض یقال لھم الابدال ۔ ابو نعیم فی الحلیۃ۱ عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
میری امت میں چالیس مرد ہمشیہ رہیں گے کہ ان کے دل ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے دل پر ہوں گے اللہ تعالٰی ان کے سبب زمین والوں سے بلا دفع کرے گا ان کا لقب ابدال ہوگا۔ (ابو نعیم نے حلیہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۱حلیۃ الاولیاء ترجمہ زید بن وہب ۲۶۳دارالکتاب العربی بیروت ۴ /۱۷۳)
(کنزالعمال بحوالہ طب عن ابن مسعود حدیث ۳۴۶۱۲مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۹۰)
حدیث ۱۴:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
لایزال اربعون رجلا یحفظ اللہ بھم الارض کلما مات رجل ابدل اللہ مکانہ اٰخر وھم فی الارض کلھا۔ الخلّال ۲عن ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما۔
چالیس مرد قیامت تک ہوا کریں گے جن سے اللہ تعالٰی زمین کی حفاظت لے گا جب ان میں کا ایک انتقال کرے گا اللہ تعالٰی اسکے بدلے دوسرا قائم فرمائیگا ، اوروہ ساری زمین میں ہیں ۔ (خلّال نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
(۲کنز العمال بحوالہ الخلال عن ابن عمر حدیث ۳۴۶۱۴موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۹۱)
حدیث ۱۵:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :بیشک اللہ تعالٰی کے لیے خلق میں تین سو اولیاء ہیں کہ ان کے دل قلب آدم پر ہیں ، اور چالیس کے دل قلب موسٰی اور سات کے قلب ابراہیم ، اورپانچ کے قلب جبریل، اورتین کے قلب میکائیل ، اورایک کا دل قلب اسرافیل پر ہے علیہم الصلٰوۃ والتسلیم ۔ جب وہ ایک مرتا ہے تین میں سے کوئی ایک اس کا قائم مقام ہوتاہے ، اورجب ان میں سے کوئی انتقال کرتاہے تو پانچ میں سے اس کا بدل کیا جاتاہے اورپانچ والے کا عوض سات اور سات کا چالیس اور چالیس کا تین سو اور تین سو کا عام مسلمین سے ،
فیھم یحیی ویمیت ویمطر وینبت ویدفع البلاء ۔ ابو نعیم فی الحلیۃ ۱وابن عساکر عن ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
انہیں تین سو چھپن اولیاء کے ذریعہ سے خلق کی حیات موت ، مینہ کا برسنا، نباتات کا اُگنا ، بلاؤں کا دفع ہونا ہواکرتاہے ۔ (ابو نعیم نے حلیہ میں اورابن عساکر نے ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۱حلیۃ الاولیاء مقدمۃ الکتاب دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۹)
(تاریخ دمشق الکبیر باب ماجاء ان بالشام یکون الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۲۳)