انی لاھم باھل الارض عذابا فاذا نظرت الی عماربیوتی والمتحابین فیّ والمستغفرین بالاسحارصرفت عنھم ۔ البھیقی فی الشعب عن انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قال ان اللہ تعالٰی یقول الحدیث۲۔
میں زمین والوں پر عذاب اتارنا چاہتاہوں جب میرے گھر آباد کرنے والے اورمیرے لئے باہم محبت رکھنے والے اورپچھلی رات کو استغفار کرنے والے دیکھتاہوں اپنا غضب ان سے پھیر دیتاہوں ۔ (بیہقی نے شعب الایمان میں انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کہ فرمایااللہ تعالٰی یہ حدیث بیان فرماتاہے ۔ت)
کہ حضور دافع البلاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لولاعباد للہ رکع وصبیۃ رضع وبھائم رتع تصب علیکم العذاب صبا ثم رض رضّا۔الطبرانی۱ فی الکبیروالبیہقی فی السنن عن مسافع ن الدیلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
اگر نہ ہوتے اللہ تعالٰی کے نماز ی بندے اور دود ھ پیتے بچے اورگھاس چرتے چوپائے تو بیشک عذاب تم پر بسختی ڈالا جاتا پھر مضبوط ومحکم کردیا جاتا(طبرانی نے کبیر میں اوربیہقی نے سنن میں مسافع الدیلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ ت)
(۱السنن الکبری للبیہقی کتاب صلٰوۃ الاستسقاء باب استحباب الخروج الخ مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ دکن ۳/ ۳۴۵)
( المعجم الکبیر حدیث۷۸۵المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۲ /۳۰۹)
حدیث ۳:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
ان اللہ تعالٰی لیدفع بالمسلم الصالح عن مائۃ اھل بیت من جیرانہ البلاء ۔
بیشک اللہ عزوجل نیک مسلمان کے سبب اس کے ہمسائے میں سو گھروں سے بلادفع فرماتاہے ۔
ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہمانے یہ حدیث روایت فرما کر آیہ کریمہ
ولو لا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لفسدت الارض
تلاوت کی ۔
رواہ عنہ الطبرانی فی الکبیر۲ وعبداللہ بن احمد ثم البغوی فی المعالم ۔
طبرانی نے کبیر میں ابن عمر سے اورعبداللہ بن احمد پھر بغوی نے معالم میں اس کو روایت کیا ۔ت)
(۲معالم التنزیل (تفسیر البغوی )تحت الآیۃ ۲ /۲۵۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۷۷)
(الترغیب والترہیب بحوالہ الطبرانی الترہیب من اذی الجار حدیث ۳۹مصطفی البابی المصر ۳ /۳۶۳)
(الدرالمنثور تحت الآیۃ ۲ /۲۵۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۷۲۶)
حدیث ۴:
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
من استغفرللمؤمنین والمؤمنات کل یوم سبعاً وعشرین مرۃ کان من الذین یستجاب لھم ویرزق بھم اھل الارض ۔ الطبرانی فی الکبیر۱عن ابی الدرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ بسند جید۔
جو ہر روز ستائیس بار سب مسلمان مردوں اورسب مسلمان عورتوں کے لئے استغفار کرے وہ ان لوگوں میں ہوجن کی دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی برکت سے تمام اہل زمین کو رزق ملتا ہے (طبرانی نے کبیر میں ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سند جید کے ساتھ روایت کیا۔ ت)
(۱کنزالعمال حدیث۲۰۶۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱ /۴۷۶)
حدیث۵:
فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
ھل تنصرون وترزقون الا بضعفائکم ۔ البخاری ۲عن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
کیا تمہیں مدد ورزق کسی اورکے سبب بھی ملتاہے سوائے اپنے ضعیفوں کے ۔ (بخاری نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ت)
(۲صحیح البخاری کتاب الجہاد باب من استعان بالضعفاء الخ قدیمی کتب خانہ ۱ /۴۰۵)
حدیث ۶:
کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم :
ان اللہ ینصرالقوم باضعفھم ۔ الحارث فی مسندہ ۳عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔
بیشک اللہ تعالٰی قوم کی مدد فرماتاہے ان کے ضعیف ترکے سبب ۔ حارث نے اپنی مسند میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ۔ ت)
زمانہ اقدس میں دوبھائی تھے ایک کسب کرتے ، دوسرے خدمت والا ئے حضور دافع البلاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوتے ۔ کما نے والے ان کے شاکی ہوئے ، فرمایا :
لعلک ترزق بہ ۔ الترمذی ۴وصححہ والحاکم عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
کیا عجب کہ تجھے اس کی برکت سے رزق ملے ۔(اسے ترمذی نے روایت کیا اوراس کی تصحیح کی ، اورحاکم نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ت)
(۴سنن الترمذی کتاب الزہد حدیث ۲۳۵۲دارالفکر بیروت ۴ /۱۵۴)
(المستدرک للحاکم کتاب العلم خطبۃ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی حجۃ الوداع دارالفکر بیروت ۱ /۹۴)