وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم ۱۔
اللہ ان کافروں پر عذاب نہ فرمائے گا جب تک اے محبوب ! تو ان میں تشریف فرما ہے ۔
ہمارے حضور دافع البلاء صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کفار پر سے بھی سبب دفع بلا ءہیں کہ مسلمانوں پر تو خاص رؤف ورحیم ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔
وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین ۲۔
ہم نے نہ بھیجا تمھیں مگر رحمت سارے جہان کیلئے ۔
(۲القران الکریم ۲۱ /۱۰۷)
پر ظاہر کہ رحمت سبب دفع بلا وزحمت (جو خوب ظاہر ہے کہ رحمت سبب ہے مصیبت وزحمت کی دوری کا ۔ت)
ولوانھم اذ ظلموا انفسہم جاءو ک واستغفروااللہ واستغفر لہم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما ۳۔
اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تیرے حضور حاضر ہوں پھر اللہ سے بخشش چاہیں اور معافی مانگیں ان کے لئے رسول ،تو بیشک اللہ کو توبہ کرنے والا مہربان پائیں ۔
آیۃ کریمہ صاف ارشا د فرماتی ہے کہ حضور پر نور عفو غفور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری سبب قبول توبہ ودفع بلائے عذاب ہے ،بلکہ آیت بیمار دلوں پر اور بھی بلا وعذاب کہ رب العزت قادر تھا یونہی گناہ بخش دے مگر ارشاد ہوتا ہے کہ قبول ہونا چاہو تو ہمارے پیارے کی سرکا ر میں حاضر ہو
صلی اللہ تعالی علیہ وسلم والحمد للہ رب العالمین ۔
ولولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لھدمت صوامع۱۔
اگراللہ تعالی آدمیوں کو آدمیوں سے دفع نہ فرمائے تو ہر ملت ومذہب کی عبادت گاہ ڈھادی جائے۔
ولو لادفع اللہ الناس بعضہم ببعض لفسدت الارض ولٰکن اللہ ذو فضل علی العٰلمین ۲۔
اگر نہ ہوتا دفع کرنا اللہ عزوجل کا لوگوں کو ایک دوسرے سے تو بیشک تباہ ہو جاتی زمین مگر اللہ فضل والا ہے سارے جہان پر۔
(۲القرآن الکریم ۲ / ۲۵۱)
ائمہ مفسرین فرماتے ہیں : اللہ تعالٰی مسلمان کے سبب کافروں اورنیکوں کے باعث بدوں سے بلادفع کرتا ہے ۔
ولو لارجال مؤمنون ونساء مؤمنٰت لم تعلموھم ان تطؤھم فتصیبکم منہم معرۃ بغیر علم لیدخل اللہ فی رحمتہ من یشاء لو تزیلوا لعذبنا الذین کفروا منھم عذابا الیما ۳۔
اوراگر نہ ہوتے ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں جن کی تمہیں خبر نہیں کہیں تم انہیں روندڈالو تو ان سے تمہیں انجانی میں مشقت پہنچے تاکہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں لے لے وہ اگر الگ ہوجاتے تو ہم ان میں سے کافروں کو دردناک عذاب دیتے ۔
یہ فتح مکہ سے پہلے کا ذکر ہے جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عمرے کے لئے مکہ معظمہ تشریف لائے ہیں اورکافروں نے مقام حدیبیہ میں روکا شہر میں نہ جانے دیاصلح پر فیصلہ ہوا ظاہر کی نظر میں اسلام کے لیے ایک دبتی ہوئی بات تھی اورحقیقت میں ایک بڑی فتح نمایاں تھی جسے اللہ عزوجل نے
(بےشک ہم نے تمہارے لئے روشن فتح فرمادی ۔ت)
فرمایا اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کی تسکین کو یہ آیت نازل فرمائی کہ اس سال تمہیں داخل مکہ نہ ہونے دینے میں کئی حکمتیں تھیں مکمہ معظمہ میں بہت مردوعورت مغلوبی کے سبب خفیہ مسلمان ہیں جن کی تمہیں خبر نہیں تم قہراً جاتے تو وہ بھی تیغ وبند کے روندنے میں آجاتے اوران کے سوا بھی وہ لوگ ہیں جو ہنوزکافر ہیں اورعنقریب اللہ تعالٰی انہیں اپنی رحمت میں لے گا اسلام دے گا ان کا قتل منطور نہیں ان وجوہ سے کفار مکہ پر سے عذاب قتل وقہر موقوف رکھاگیا یہ سب لوگ الگ ہوجاتے تو ہم ان کافروں پر عذاب فرماتے ۔کیسا صریح روشن نص ہے کہ اہل اسلام کے سبب کافروں پر سے بھی بلادفع ہوتی ہے وللہ الحمد۔