| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۳۰(فضائل وخصائص ) |
فقیر کہتاہے ایک دفع بلاء وامداد وعطاہی پر کیا موقوف مخلوق کی طرف اصل وجود ہی کی اسنادبمعنی حقیقی ذاتی نہیں پھر عالم کو موجود کہنے میں وہابیہ بھی ہمارے شریک ہیں کیا ان کے نزدیک عالم بذاتہٖ موجود ہے یا جو فسطائیہ کی طرح عقیدہ
حقائق الاشیاء ثابتۃ
(اشیاء کی حقیقت ثابت ہے ۔ت) سے منکر ہیں اورجب کچھ نہیں توکیا ظلم ہے کہ جو محاورے صبح وشام خود بولتے رہیں مسلمانوں کے مشرک بنانے کو ان کی طرف سے آنکھیں بندکرلیں ، کیا مسلمان پر بدگمانی حرام قطعی نہیں ، کیا اس کی مذمت پر آیات قرآنیہ واحادیث صحیحہ ناطق نہیں بلکہ انصاف کی آنکھ کھلی ہوتو اس ادعائے خبیث کا درجہ تو بدگمان سے بھی گزرا ہوا ہے ، سوئے ظن کے لئے اس گمان کی گنجائش تو چاہیے ، مسلمان کے بارہ میں ایسے خیال کا احتمال ہی کیا ہے اس کا موحد ہونا ہی اس کی مراد پر گواہ کافی ہے
کما لایخفی عند کل من لہ عقل ودین
(جیسا کہ کسی صاحب عقل ودین پر پوشیدہ نہیں۔ت)
فتاوی خیریہ کتاب الایمان میں ہے :
سئل فی رجل حلف انہ لایدخل ھذہ الدار الا ان یحکم علیہ الدھر فدخل ھل یحنث اجاب لاوھذا مجاز لصدورہ من الموحد واذا دخل فقد حکم ای قضٰی علیہ رب الدھر بدخولہا وھو مستثنی فلا حنث ۱اھ بتلخیص ۔
ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس نے قسم کھائی ہے کہ جب تک مجھے دہر حکم نہیں دے گا میں اس گھر میں داخل نہیں ہوں گا ، اوروہ داخل ہوگیا، کیا وہ قسم توڑنے والا ہے یا نہیں، اس کا جواب یہ تحریر ہے کہ حانث نہیں ہوا، یہ کلمہ مجازی ہے ، موحد جو خدا کو ایک مانتا ہے اس سے شرک کا صدور ناممکن ہے ۔ جب داخل ہوا تو رب الدہر یعنی خدا کے حکم سے داخل ہوا، اس لئے وہ حانث نہیں ہوا اھ ملخصاً(ت)
(۱الفتاوی الخیریۃ کتاب الایمان دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۸۱)
توایسا ناپاک ادعابدگمانی نہیں صریح افترا ہے ، وہ بھی مسلمان پر وہ بھی کفر کا ، مگر قیامت تو نہ آئیگی ، حساب تو نہ ہوگا ، ان خبائث کے دعووں سے سوال تو نہ کیا جائے گا، مسلمان کی طرف سے لاالہٰ الا الہ جھگڑتا ہوا نہ آئے گا ۔ ستمگر !جواب تیار رکھ اس سختی کے دن کا ،
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۲۔
(اور اب جاناچاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے ۔ت )
(۲القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷)
بالجملہ اس احتمال کو یہاں راہ ہی نہیں بلکہ انہیں دو سے ایک مراد بالیقین یعنی اسناد غیر ذاتی کسی قسم کی ہو اب جو اسے شرک کہا جاتاہے تو اس کی دو ہی صورتیں متصور بنظر مصداق(عہ) نسبت یا بنفس حکایت ۔
عہ: فرق یہ کہ اول میں حکم منع حکایت بنظر بطلان وعدم مطابقت ہوگا یعنی واقعہ میں موضوع ایسے صفت سے متصف ہی نہیں جو اس حکایت کا مصحح ہو ، اوردوم میں حکایت خود ہی محذور ہوگی اگر صادق ہوکہ صدق وصحت اطلاق الزام نہیں ،
الاترٰی انانؤمن بان محمداً صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اعز عزیز واجل جلیل من خلق اللہ عزوجل ولکن لایقال محمد عزوجل بل صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔
کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہمارااعتقاد ہے کہ محمد صلی ا للہ تعالٰی علیہ وسلم مخلوق الہٰی میں ہر عزیز سے بڑھ کر عزیز اورہر جلالت والے سے بڑھ کر جلیل ہیں مگر محمد عزوجل نہیں کہا جاتابلکہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہا جاتاہے ۔ (ت)
تو درجہ اول میں ہمیں یہ بیان کرنا ہے کہ اسناد غیر ذاتی کا مطلقاً متحقق ، اوردوم میں یہ کہ یہ اطلاق یقینا جائز ۔ پر ظاہر کہ دلائل وجہ دوم سب دلائل وجہ اول بھی ہیں کہ حکایات الہٰیہ ونبویہ قطعاًصادق ۔ لہذا ہم انہیں جانب کثرت بقلت توجہ کریں گے نصوص وجہ ثانی بکثرت لائیں گے وباللہ التوفیق ۱۲منہ دامت فیوضہ۔
اول یہ کہ غیر خدا کے لیے ایسا اتصاف ماننا ہی مطلقا شرک اگرچہ مجازی ہو ،جس کا حاصل اس مسئلہ میں یہ کہ حضور دافع البلاء صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دفع بلا کے سبب ووسیلہ وواسطہ بھی نہیں کہ مصداق نسبت کسی طرح متحقق جو غیر خدا کو ایسے امور میں سبب ہی مانے وہ بھی مشرک ۔ دوم یہ کہ ایسی نسبت وحکایت خاص بذاتہ حدیت جل وعلا ہے غیر کے لئے مطلقا شرک اگرچہ اسناد غیر ذاتی مانے ،آدمی اگر عقل وہوش سے کچھ بہرا رکھتا ہو تو غیر ذاتی کا لفظ آتے ہی شرک کا خاتمہ ہوگیا کہ جب بعطائے الہی مانا تو شرک کے کیا معنی برخلاف اس طاغی سرکش کےجو عقل کی آنکھ پر مکابرہ کی پٹی باندھ کر صاف کہتا ہے پھر خواہ یوں سمجھے کہ یہ بات ان کو اپنی ذات سے ہے خواہ اللہ کے دینے سے غرض اس عقیدے سے ہر طرح شرک ثابت ہوتا ہے۱ ۔
(۱تقویۃ الایمان ،پہلا باب ،مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص۷)
کسی سفیہ مجنوں سے کیا کہا جائے گا کہ صفت الہی بعطائے الہی نہیں تو جو بعطائے الہی ہے صفت الہی نہیں ،تو اس کا اثبات اصلا کسی صفت الہی کا اثبات بھی نہ ہوا نہ کہ خاص صفت ملزومہ الوہیت کا کہ شرک ثابت ہو بلکہ یہ تو بالبداہۃ صفت ملزومہ عبدیت ہوئی کہ بعطائے غیر کسی صفت کا حصول تو بندہ ہی کے لئے معقول تو اس کا اثبات صراحتا عبدیت کا اثبات ہوا نہ کہ معاذ اللہ الوہیت کا ،ایک یہی حرف تمام شرکیات وہابیہ کو کیفر چشانی کے لئے بس ہے ،مگر مجھے تو یہاں وہ بات ثابت کرنی ہے جس پر میں نے یہ تمہید اٹھائی ہے یعنی ان صاحبوں کا حکم شرک اللہ ورسول تک متعدی ہونا،ہاں اس کا ثبوت لیجئے ابھی بیان کرچکا ہوں کہ اس حکم ناپاک کے لئے دو ہی وجہیں متصور ،ان میں سے جو وجہ لیجئے ہر طرح یہ حکم معاذ اللہ ورسول تک منجر
جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔