الجواب
(۱) یہ علم سمع ہے نہ قیاس ۔ کلمات علمائے کرام سے دو ضابطے ملتے ہیں :
اول : مطردہ کہ ہر جمع مذکر سالم کثیر الدورمحذوف الالف ہے جبکہ اس الف پر مد نہ ہو۔
دوم : اکثری یہ کہ الف پرمد ہویعنی اس کے بعد ہمزہ یا حرف مشدد آئے تو ثابت الالف ہے مگر ذوات الہمزہ میں حذف بھی بکثرت پایاگیا ہے ۔ اورجمع مونث سالم تو مطلق محذوف الالف والالفین ہے اگرچہ قلیل الدور ہو، اگرچہ الف ممدود ہومگر گنتی کے حروف جیسے سورہ شورٰی میں
روضٰت الجنّٰت ،
یونس میں
اٰیاتنا بیّنٰت ،
اسی میں
مکر فی اٰیاتنا ،
حٰم سجدہ میں
سمٰوٰت ،
فاطر میں
علٰی بینات
علی الخلاف الٰی غیر ذلک من حروف قلائل ۔
امام عمرو دانی رحمۃ اللہ علیہ مقنع میں فرماتے ہیں :
اتفقوا علی حذف الالف من جمع السالم الکثیر الدور من المذکر والمونث جمیعا
وشبھہ اثبت الالف علی انی تتبعت مصاحف اھل المدینۃ واھل العراق القدیمۃ فوجد ت فیھا مواضع کثیرۃ مما بعد الالف فیہ ھمزۃ قد حذف الالف منھا واکثر ماوجدتہ فی جمع المونث لثقلہ والاثبات فی المذکر اکثر قال ابوعمرو ما اجتمع فیہ الفان من جمع المونث السالم فان الرسم فی اکثر المصاحف بحذفھا جمیعا سواء کان بعد الالف حرف مضعف اوھمزۃ نحو
اور جو اس کے مثل ہواورالف کے بعد ہمزہ یا حرف مشدد آئے جیسے
سائلین ، قائلین، ظانین، عادین ،حافین
اوراس کے مشابہ ۔ مگر میں نے اہل مدینہ اوراہل عراق کے قدیم مصاحف کا تتبع کیا تو بہت سے مقاما ت پر جہاں الف کے بعد ہمزہ تھا وہاں سے بھی الف حذف کردیا ہے اورایسا اکثر جمع مونث میں اس کے ثقل کی وجہ سے ہوا ہے ۔ اورمذکر میں زیادہ طور پر الف کا اثبات ہے ۔امام ابو عمر وفرماتے ہیں جہاں جمع مونث سالم میں دوالف جمع ہوجائیں وہاں عام طور سے دونوں الف کو حذف کردیتے ہیں۔ اس کے بعد ہمزہ اورحرف مشدد ہویا نہ ہو ، جیسے
اوراس کے اشباہ ۔ میں نے اہل عراق کے اصل مصاحف میں غور سے دیکھا جہاں مجھے کوئی تصریح نہ ملی تو ہرجگہ انہیں کو محذوف پایا۔
محمد بن عیسی اصفہانی اپنی کتاب ''ہجاء المصاحف''میں فرماتے ہیں کچھ ذار یات اورطور میں طاغون کو اورروضات الجنّٰت الف سے لکھتے ہیں ۔
ابو عمرو فرماتے ہیں مصاحف اہل عراق میں کراماً کاتبین کو الف اور بغیر الف دونوں طرح تحریر پایا۔ انتہی مختصرا۔
(۱المقنع فی رسم المصحف لعثمان بن سعید )
اس کے سوا جمع مذکر سالم قلیل الدور عدیم المد کے لئے کوئی ضابطہ نہیں اور خاص خاص الفاظ میں اختلاف مصاحف ثابت ۔
مقطع میں ہے :
بعض مصاحف میں فارھین باالف اوربعض بغیر الف ۔ اسی طرح حاذرون بھی دونوں طرح تحریر پایاگیا۔
(۲ المقطع فی رسم المصحف )
اسی طرح دخان وطور ومطففین فاکھین اورلیس کے فاکھون سب کو فرمایا کہ فی بعضھا بالف وفی بعضھا بغیر الف تو مطلقاً ایک حکم کلی اثبات خواہ حذف کا لگا دینا ہرگز صحیح نہیں، بلکہ ہر کلمہ میں رجوع بنقل پھر بحالت اتفاق اس کا اتباع لازم ، اوربحالت اختلاف اکثرواشہر کی تقلید کی جائے اورتساوی ہوتو حذف واثبات میں اختیار ہے ۔اوراحسن یہ کہ جہاں اختلاف قراء ت بھی ہو جیسے فٰکھین اورفاکھین وہاں حذف معمول بہ رکھیں لیحتمل القراءتین ۔ اوراگر نقل اصلاً نہ ملے تو ناچار رجوع بہ اصل ضرور ، اوروہ اثبات ہے کہ اصل کتابت میں اتباع ہجاء ہے ۔
علامہ علم الدین سخاوی شرح عقلیہ میں زیر قول مصنف قدس سرہ ع وبالذی غافر عن بعضہ الف فرماتے ہیں :
اصل ماجھل اصلہ ان یکتب بالالف علی ماینطق۳ ۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔
جس کی اصل نہ معلوم ہو تو قاعدہ یہ ہے کہ جس طرح باالف پڑھا جاتا ہے اسی طرح لکھا جائے ۔