Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
99 - 166
وما ارادبہ دفعہ فی العنایۃ بقولہ بعد ایراد الحدیث فان قیل ھذا امر والامر للوجوب فکان ینبغی ان تکون واجبۃ قلنا قدذھب الی ذلک بعض اصحابنا واختارہ صاحب الاسرار والعامۃ ذھبت الٰی کونھا سنۃ لانھا لیست من شعائر الاسلام فانھا توجد بعارض لکن صلاھا النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فکانت سنۃ والامر للندب ۲؎ اھ۔
عنایۃ میں اس کا جواب حدیث ذکر کرنے کے بعد اس طور پر دینا چاہا ہے: ''اگر کہا جائے کہ یہ امر ہے اور امر وجوب کیلئے ہوتا ہے تو نمازِ کسوف کو واجب ہونا چاہئے۔ تو ہم کہیں گے ہاں اس طرف ہمارے بعض اصحاب گئے ہیں، اسی کو صاحبِ اسرار نے بھی اختیار کیا ہے۔ مگر عامہ علماء کا مذہب یہ ہے کہ نمازِ کسوف سنّت ہے اس لئے کہ یہ شعارِ اسلام نہیں کیونکہ اس کا وجود عارضی طور پر ہوتا ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نمازِ کسوف پڑھی ہے اس لئے سنّت ہوئی اور امر ندب کیلئے ہے''۔ اھ (ت)
 (۲؎ عنایۃ مع الفتح    باب صلٰوۃ الکسوف    نوریہ رضویہ سکھر    ۲/۵۶)
فاقول: حاصلہ ان ھذا لیس بشعار وکل واجب شعار فھذا لیس بواجب والکبرٰی(۱) ممنوعۃ فرب واجب لیس من الشعائر ککفارۃ الیمین والظھار والصّیام وکذا(۲) الصغری ممنوعۃ ودلیلھا ان ھذا لعارض وما کان لعارض لم یکن شعارا فیہ ایضا الکبری ممنوعۃ وای دلیل علیھا وقد قال فی الاسرارکما فی الفتح انھا صلاۃ تقام علی سبیل الشھرۃ فکان شعار للدین حال الفزع ۱؎ اھ۔
فاقول اس جواب کا حاصل یہ ہوا کہ نماز کسوف شعار نہیں اور ہر واجب شعار ہوتا ہے اس لئے نماز کسوف واجب نہیں اس دلیل کا کبری ممنوع ہے اس لئے کہ بہت سے ایسے بھی واجب ہیں جو شعار نہیں جیسے کفارہ قسم، کفارہ ظہار، کفارہ صیام اسی طرح صغری بھی ممنوع ہے صغری کی دلیل یہ دی تھی کہ یہ نماز عارض کی بنا پر ہوتی ہے اور جو عارض کی بنا پر ہو وہ شعار نہیں اس قیاس کا بھی کبری ممنوع ہے۔ آخر اس کبری کی دلیل کیا ہے؟ جب کہ اسرار میں یہ فرمایا ہےجیسا کہ فتح القدیر میں نقل کیا ہے: ''یہ ایسی نماز ہے جو علانیہ طور پر اور بطریق شہرت واعلان ادا کی جاتی ہے تو فزع اور گھبراہٹ کی حالت میں یہ دین کا شعار ہے'' اھ۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر        باب صلٰوۃ الکسوف     نوریہ رضویہ سکھر    ۲/۵۱)
وقال فی البدائع امافی کسوف الشمس فقد ذکر القاضی فی شرحہ مختصر الطحاوی انہ یصلی(۱) فی الموضع الذی یصلی فیہ العید اوالمسجد الجامع لانھا من شعائر الاسلام فتؤدی فی المکان المعد لاظھار الشعائر ۲؎ اھ
اور بدائع میں فرمایا ہے: نماز کسوف کے بارے میں قاضی نے مختصر طحاوی کی شرح میں ذکر کیا ہے کہ یہ عید گاہ یا جامع مسجد میں ادا کی جائے گی اس لئے کہ یہ ایک شعار اسلام ہے تو اس کی ادائیگی ایسی ہی جگہ ہوگی جو شعائر دین کے اعلان واظہار کیلئے تیار کر رکھی گئی ہے'' اھ۔ (ت)
 (۲؎ بدائع الصنائع    کیفیۃ صلٰوۃ الکسوف    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۲۸۲)
وقد اجاب فی الفتح عن استدلال الاسرار علی وجوبھا بشعاریتھا بان المعنی المذکور لایستلزم الوجوب اذلامانع من استنان شعار مقصود ابتداء فضلا عن شعار یتعلق بعارض ۳؎ اھ۔وھذا کما ینفی الاستدلال علی الوجوب بالشعاریۃ کذلک یرد الاستدلال علی نفی الشعاریۃ بکونہ لعارض۔
اسرار میں نماز کسوف کے وجوب پر اس امر سے استدلال کیا کہ وہ شعائر اسلام ہے تو فتح القدیر میں اس کا یہ جواب دیا کہ: ''معنی مذکور (یعنی کسوف کا شعارِ اسلام ہونا) وجوب کو مستلزم نہیں اس لئے کہ جو شعار ابتدا ہی سے مقصود ہو اس کے بھی مسنون ہونے سے کوئی مانع نہیں پھر جو شعار محض کسی عارض سے متعلق ہو اس کے مسنون ہونے سے کون سی چیز مانع ہوسکتی ہے؟ '' اھ (ت)نماز کسوف کے وجوب پر اس کے شعار اسلام ہونے سے جو استدلال کیا گیا ہے اس جواب سے اس کی تردید ہوتی ہے اسی طرح اس جواب سے اُس استدلال کی بھی تردید ہوتی ہے جس میں ہے یہ کہا گیا ہے کہ نماز کسوف امر عارض کی وجہ سے ہوتی ہے اس لئے شعار نہیں ہوسکتی۔
 (۳؎ فتح القدیر        باب صلٰوۃ الکسوف    نوریہ رضویہ سکھر    ۲/۵۱)
وبالجملۃ(۱) ذھب الاسرار الی ان کل شعار واجب والعنایۃ الی ان کل واجب شعار والصحیح ان بینھما عموما من وجہ یجتمعان فی العیدین ویفترقان فی الاذان والکفارات ثم رأیت سعدی افندی اعترض العنایۃ باعتراضی الثانی اٰخذا عن الفتح اذ قال اقول ماالمانع في تعلق ماھو من الشعائر بعارض تأمل ۱؎ اھ۔
مختصر یہ کہ صاحبِ اسرار کا یہ خیال ہے کہ ہر شعار واجب ہوتا ہے اور صاحبِ عنایہ کا یہ نظریہ ہے کہ ہر واجب شعار ہوتا ہے اور صحیح یہ ہے کہ واجب اور شعار میں عموم من وجہ کی نسبت ہے کوئی امر واجب اور شعار دونوں ہوتا ہے جیسے نماز عیدین اور کوئی چیز شعار تو ہوتی ہے مگر واجب نہیں ہوتی جیسے اذان۔ اور کوئی امر واجب ہوتا ہے مگر شعار نہیں ہوتا جیسے کفّارات (مصنف کے مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ) عیدین میں واجب وشعار دونوں کا اجتماع ہے۔ اذان اور کفّارات میں دونوں کا افتراق ہے پھر میں نے دیکھا کہ میں نے عنایہ پر جو دوسرا اعتراض کیا ہے وہی سعدی آفندی نے بھی فتح القدیر سے اخذ کرتے ہوئے اپنے ان الفاظ میں کیا ہے: ''میں کہتا ہوں جو چیز شعائر اسلام سے ہو کسی عارض سے اس کا تعلق ہونے سے کون سی چیز مانع ہے؟ تأمل سے کام لو''۔ اھ (ت)
 (۱؎ حاشیۃ سعدی افندی مع الفتح    صلٰوۃ الکسوف    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۵۶)
لکنی اقول: وباللّٰہ التوفیق لم(۲) یتم الجواب عن کلام محررالمذھب فی الاصل اذلوکان مرادہ ھذا لم یصح الحصر فیھما لمکان العیدین۔
لکنی اقول: وباللہ التوفیق، مبسوط میں محرر مذہب کے ارشاد (قیام رمضان اور نمازِ کسوف کے سوا کوئی نفلی نماز جماعت سے نہ ادا کی جائیگی، کا جواب تام نہیں ہوا اس لئے کہ اگر ان کی مراد وہ ہوتی تو دو میں حصر درست نہ ہوتا اس لئے کہ ان دونوں کے علاوہ عیدین بھی جماعت سے ادا ہوتی ہیں۔
اما الاستدلال(۱) بصیغۃ الامر فاقول منقوض بصلاۃ الخسوف بل وصلوات(۲) الریح الشدیدۃ والصواعق والزلزلۃ والمطر والثلج الدائمین والظلمۃ بالنھار والضوء الھائل باللیل وامثال ذلک الاھوال اعاذنا المولٰی سبحٰنہ وتعالی واھل السنۃ جمیعا منھا دنیا واخری اٰمین فانھا مستحبۃ اجماعا والامر یشملھا جمیعا۔
اب رہا صیغہ امر سے وجوب پر استدلال، فاقول خسوف (چاند گہن) کی نماز، بلکہ آندھی، صاعقے، زلزلے، دائمی ابرباری وبرف باری، دن میں تاریکی، رات میں خوفناک تا بانی ، اور اس طرح کی دوسری ہولناک چیزیں مولٰی سبحانہ وتعالٰی ہمیں اور تمام اہل سنت کو ان سے دنیا اور آخرت میں پناہ میں رکھے۔ آمین سب سے متعلق نمازوں سے اس استدلال پر نقض وارد ہوتا ہے کیونکہ یہ سب بالاجماع مستحب ہیں۔ اور امر سب کو شامل ہے۔
وقد(۳) قال ملک العلماء نفسہ اما صلاۃ خسوف القمر فحسنۃ لما روینا عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذارأیتم من ھذہ الافزاع شیأ فافزعوا الی الصّلاۃ ۱؎ اھ ثم قال وکذا تستحب الصلاۃ فی کل فزع کالریح الشدیدۃ والزلزلۃ والظلمۃ والمطر الدائم لکونھا من الافزاع والاھوال ۲؎ اھ
خود ملک العلماء فرماتے ہیں: نماز خسوف حسن (پسندیدہ وعمدہ) ہے اس لئے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت ہے: ''جب تم ان خوف وپریشانی والی چیزوں میں سے کوئی چیز دیکھو تو نماز کی پناہ لو''۔ پھر فرمایا: ''اسی طرح ہر فزع، گھبراہٹ اور پریشانی کی چیز میں نماز مستحب ہے جیسے آندھی، زلزلہ، تاریکی، دائمی بارش، کیونکہ یہ سب ہَول وفزع والی چیزیں ہیں اھ'' (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    کیفیۃ الکسوف    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۲۸۲)

(۲؎ بدائع الصنائع    کیفیۃ الکسوف    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۲۸۲)
تو ظاہر ہوا کہ نوافل کا سنن اور خسوف کا کسوف پر قیاس مع الفارق ہے۔
وباللّٰہ التوفیق الا ان یقال ان الحاجۃ ھنا تکثیر ابواب الخیرات ارادۃ لافاضۃ کرمہ عزوجل الا یری انہ اباح التنفل علی الدابۃ بالایماء لغیر القبلۃ مع فوات الشروط والارکان فیھا ولاضرورۃ الا لحاجۃ القائمۃ بالعبد لزیادۃ الاستکثار من فضلہ تعالٰی کما افادہ فی الفتح فی مسألۃ انہ یصلی بتیممہ ماشاء من الفرائض والنوافل وعند الشافعی رحمہ اللّٰہ تعالٰی یتیمّم لکل فرض لانہ طہارۃ ضروریۃ ۱؎۔
وباللہ التوفیق، مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں ضرورت یہ ہے کہ کرم باری عزوجل کے فیضان کے ارادہ سے نیکیوں کی راہیں زیادہ کی جائیں دیکھیے کہ باری تعالٰی نے سواری پر اشارہ سے اور غیر قبلہ کی جانب نفل پڑھنے کو جائز فرمایا جبکہ اس میں نماز کی شرطیں بھی فوت ہوتی ہیں اور ارکان بھی اور ضرورت یہی ہے کہ بندہ کو باری تعالٰی کے فضل کی کثرت طلب کرنے میں زیادتی کی حاجت ہے جیسا کہ فتح القدیر میں افادہ فرمایا ہے اس مسئلہ کے تحت کہ بندہ اپنے تیمم سے جس قدر فرائض ونوافل چاہے ادا کرے اور امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے نزدیک یہ ہے کہ ہر فرض کیلئے تیمم کرے اس لئے کہ تیمم طہارت ضرور یہ ہے۔
 (۱؎ فتح القدیر مع الہدایۃ    باب التیمم    نوریہ رضویہ سکّھر    ۱/۱۲۱)
اقول: ویکدرہ ان ھذا حیث صح التیمم بوجود شرطہ من فقد الماء فانھا طھارۃ مطلقۃ عندنا ولوجوز لمجرد الاستکثار لجاز لمطلق النوافل ولوغیر موقتۃ للعلم القطعی بان ماتصلیہ بالتیمم اکثر مما تصلیہ بعد التوضیئ اوالاغتسال الا(۱) تری ان الذی رخص لہ الصلاۃ علی الدابۃ بالایماء علی غیر القبلۃ لم یرخص لہ فی التیمم اذا قدر علی الماء والرکوب والنزول مع ان مکثہ فی طلب الطھارۃ بالماء وقلۃ نوافلہ اکثر من المقیم فی بیتہ وعندہ الماء۔
اقول: اس استدلال کی صفائی پر کدورت اس جہت سے آتی ہے کہ یہ حکم وہاں ہے جہاں تیمم صحیح ودرست ہوچکا اس طرح کہ تیمم کی شرط پانی کا فقدان پائی جاچکی (تو وہ جس قدر فرائض ونوافل چاہے پڑھ سکتا ہے) اس لئے کہ تیمم ہمارے نزدیک طھارت مُطلقہ ہے۔ اور اگر محض کثرتِ فضل طلب کرنے کیلئے اسے جائز قرار دیا جاتا تو مطلق نوافل کیلئے اس کا جواز ہوتا اگرچہ نوافل ایسے ہوں جو کسی خاص وقت کے پابند نہیں اس لئے کہ یہ بات قطعی طور پر معلوم ہے کہ وضو یا غسل کرنے کے بعد جس قدر نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں تیمم کرکے اس سے زیادہ نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں۔ دیکھئے جس کیلئے سواری پر اشارہ سے، اور غیر قبلہ کی سمت نماز پڑھنے کی رخصت دی گئی اس کیلئے پانی اور چڑھنے اُترنے پر قدرت ہوتے ہوئے تیمم کی رخصت نہ دی گئی جب کہ پانی سے طہارت حاصل کرنے میں اس کے توقف کی مدّت اور اس کے نوافل کی کمی اس مقیم سے زیادہ ہوگی جو اپنے گھر میں ہے اور اس کے پاس پانی بھی موجود ہے۔ (ت)
بالجملہ فقیر کے نزدیک مستحبات محضہ مثل نماز خسوف وتہجد وچاشت میں یہ حکم خلافِ دلیل ہے اس کیلئے ائمہ سے نقل درکار تھی اور وہ منتفی بلکہ نقل جانب نفی نفل ہے کما تقدم وباللّٰہ التوفیق واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (جیسا کہ اس کا بیان گزر چکا اللہ تعالٰی کی توفیق سے، اور اللہ تعالٰی زیادہ جانتا ہے۔ ت)
Flag Counter