Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
98 - 166
اور(۴) عدد نافی زیادت ہے کمافی الھدایۃ وغیرھا (جیسا کہ ہدایہ وغیرہا میں ہے۔ ت) بلکہ امام ملک العلماء نے بدائع میں صراحۃً انہیں دو نمازوں میں حصر اور اس کے ماسوا کے لئے عدم جوازتیمم کی تصریح فرمائی،
حیث قال وھذا الشرط الذی ذکرنا الجواز التیمّم وھو عدم الماء فیما وراء صلاۃ الجنازۃ وصلاۃ العیدین فاما فی ھاتین الصلاتین فلیس بشرط بل الشرط فیھما خوف الفوت لواشتغل بالوضوء ۱؎۔
وہ فرماتے ہیں : جوازِتیمم کیلئے ہم نے پانی نہ ہونے کی جو شرط ذکر کی یہ نماز جنازہ اور عیدین کے ماسوا میں ہے۔ اِن دونوں میں یہ شرط نہیں بلکہ یہ شرط ہے کہ وضو میں مشغول ہونے سے فوتِ نماز کا اندیشہ ہو۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی شرائط رکن التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۵۱)
بعینہٖ اسی طرح امام تمرتاشی وامام علی اسبیجابی نے صراحۃً انہیں دو۲ میں حصر فرمایا بحر میں زیر قول ماتن ولبعدہ میلا (جبکہ وہ ایک میل دُور ہو۔ ت) ہے۔
قال فی شرح الطحاوی لایجوز التیمم فی المصر الا لخوف فوت جنازۃ اوصلاۃ عید او للجنب الخائف من البرد وکذا ذکر التمرتاشی ۲؎۔
شرح طحاوی میں فرمایا: شہر میں تیمم کا جواز صرف نماز جنازہ یا نمازِ عید کے فوت ہونے کے اندیشہ سے ہے یا ایسے جنبی کیلئے جسے ٹھنڈک سے اندیشہ ہو۔ ایسے ہی تمرتاشی نے بھی ذکر کیا ہے۔ (ت)
 (۲؎ بحرالرائق        باب التیمم        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۴۰)
اسی طرح خزانۃ المفتین میں نوازل سے ہے
لایجوز التیمم فی المصر الا فی ثلٰثۃ مواضع ۳؎ الخ
 (شہر کے اندر تین مقامات کے سواتیمم جائز نہیں الخ۔ ت)
 (۳؎ خزانۃ المفتین)
تو اصل حکم منصوص تو یہ ہے ہاں حلیہ نے اپنی بحث میں نظربہ علت کہ خوف فوت لا الی بدل ہے نماز کسوف وسنن رواتب کا الحاق کیا ان کی تبعیت بحر ونہر ودُر نے بھی کی اور یوں ہی سُنن کو رواتب سے مقید کیا یہ قید(۱) نافلہ محضہ کو خارج کررہی ہے پھر حلیہ میں(۲) رواتب کے الحاق پر بھی اس سے استظہار کیا کہ نماز عید کیلئے تیمم ائمہ مذہب سے منقول ہے اور وہ مختار امام شمس الائمہ سرخسی وغیرہ میں سنّت ہی ہے جس سے ظاہر کہ سنن رواتب کے الحاق میں بھی اشتباہ تھا کہ جنازہ فرض عیدین واجب ہیں اس اشتباہ کا یوں ازالہ کیا
حیث قال فتحصل کما فی شرح الزاھدی للقدوری ان الصلٰوۃ ثلاثۃ انواع نوع لائخشی فوتھا اصلا لعدم توقیتھا کالنوافل فلایجوزلہ التیمم عند وجود الماء لعدم العذر ونوع ئخشی فواتھا لتوقیتھا ولکن تقضی بعد الفوات کالجمعۃ والمکتوبات فلایجوزلھا التیمم لامکان جبرھا بالبدل باکمل الطھارتین ونوع ئخشی فواتھا لا الی بدل کصلاۃ الجنازۃ والعید فیجوز خلافا للشافعی قال العبد الضعیف غفر اللّٰہ تعالٰی لہ وعلی ھذا القائل ان یقول یجوز لصلاۃ الکسوف والسنن الرواتب لانھا تفوت لا الی بدل فانھا لا تقضی کمافی العید ولا سیما علی القول بان صلاۃ العید سنۃ کما اختارہ شمس الائمۃ السرخسی وغیرہ ۱؎ اھ۔
فرمایا: ''حاصل یہ ہُوا جیسا کہ زاہدی کی شرح قدوری میں ہے کہ نماز تین قسم کی ہے ایک قسم وہ جس کے فوت ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں کیوں کہ اس کا کوئی مقررہ وقت نہیں جیسے نوافل۔ اس کیلئے پانی کی موجودگی میں تیمم جائز نہیں اس لئے کہ کوئی عذر نہیں دوسری قسم وہ جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ وقت مقرر ہے لیکن فوت ہونے کے بعد اس کی قضا ہوسکتی ہے جیسے نمازِ جمعہ اور پنجگانہ فرائض۔ اس کیلئے بھی تیمم جائز نہیں کیونکہ کامل تر طہارت کے ساتھ بدل کے ذریعہ اس کا تدارک ہوسکتا ہے۔ تیسری قسم وہ جس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہے اور کوئی بدل نہیں جیسے نمازِ جنازہ اور عید اس کیلئے تیمم جائز ہے، بخلاف امام شافعی کے بندہ ضعیف -- خدا اس کی مغفرت فرمائے کہتا ہے: اس قائل پر لازم آتا ہے کہ نماز کسوف اور سنن رواتب کیلئے بھی تیمم کا جواز مانے کیونکہ یہ بھی ایسی فوت ہونے والی نمازیں ہیں کہ ان کا کوئی بدل نہیں، خصوصاً اس قول پر کہ نمازِ عید سنّت ہے جیسا کہ شمس الائمہ سرخسی وغیرہ نے اسے اختیار کیا ہے''۔ اھ (ت)
 (۱؎ حلیہ)
اور پُر ظاہر کہ نفل مطلق سنّت راتبہ کے حکم میں نہیں شرع اُن کا مطالبہ فرماتی ہے اور اس کا نہیں تو یہ اُن سے کیونکر ملحق کیا جائے مطالبہ شرع(۱) ہی وہ چیز ہے جو اس صورت میں جوازِتیمم کی راہ دیتا ہے ظاہر ہے کہ پانی موجود اور استعمال پر قدرت ہو توتیمم باطل اگر کرے تو نماز بے طہارت ہو اور نماز بے طہارت حرام قطعی ہے ہاں جب صاحبِ حق عز جلالہ خاص اس عبادت کا اس وقتِ خاص میں اس سے مطالبہ فرمارہا ہے اور ساتھ ہی حکم ہے کہ یہ وقت نکل گیا تو اس مطالبہ سے برأت کی کوئی صورت نہیں اس کا بدل بھی نہ ہوسکے گا اور وقت میں تنگی ہے کہ وضو نہیں کرسکتا لاجرم اس ادائے مطالبہ کیلئے پانی پر قادر نہ ہونا ثابت ہوا اورتیمم کی راہ ملی جس نماز کا شرع مطالبہ ہی نہیں فرماتی اُس میں کون سی عہدہ برائی کیلئے پانی ہوتے ہوئے تیمم جائز ہوجائے گا مطالبہ شرعیہ پر(۱) یہاں بنائے کار کی یہ حالت ہے کہ نماز جنازہ کیلئے جوازِتیمم میں بھی شُبہ ہوا کہ وہ تو فرض کفایہ ہے ہر شخص سے مطالبہ کب ہے اور علماء کو اس جواب کی حاجت ہُوئی کہ فرض کفایہ میں بھی مطالبہ سب سے ہے ولہذا سب ترک کریں تو سب گنہگار ہیں اگرچہ بعض کا فعل سب پر سے مطالبہ ساقط کردیتا ہے۔
فتح القدیر وغنیہ میں ہے:منعہ (ای التیمم لصلاۃ الجنازۃ) الشافعی لانہ تیمّم مع عدم شرطہ قلنا مخاطب بالصلاۃ عاجز عن الوضوء لھا فیجوزا ماالاولی فلان تعلق فرض الکفایۃ علی العموم غیر انہ یسقط بفعل البعض واما الثانیۃ فبفرض المسألۃ ۱؎۔
امام شافعی نماز جنازہ کے لئے تیمم کا جواز نہیں مانتے۔ اس لئے کہ یہ ایساتیمم ہوگا جس کی شرط مفقود ہے، ہم یہ جواب دیتے ہیں کہ (شرط موجود ہے اس لئے کہ) اس شخص سے بھی ادائے نماز کا خطاب ہے جو اس کیلئے وضو سے عاجز ہے توتیمم کا جواز ہوگا۔ پہلی بات اس لئے ہے کہ فرض کفایہ کا تعلق بطور عموم سبھی سے ہے، اتنا ہے کہ بعض کے ادا کرلینے سے ساقط ہوجاتا ہے۔ دوسری بات کی تفصیل مسئلہ کی مفروضہ صورت سے ظاہر ہے۔ (ت)

نماز چاشت ونماز تہجد کا مطالبہ کب ہے یوں ہی چاند گہن کی نماز صرف مستحب ہے بخلاف نماز کسوف(۲) کہ اس مرتبہ کی سنّت ہے جسے امام دبوسی نے واجب کہا اور اسی کو امام ملک العلماء نے بدائع میں ترجیح دی اور دلائل سنیت سے جواب دیا ہاں مختار جمہور سنیت ہے اقول بلکہ وہ کتاب مبسوط میں محرر مذہب امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کا نص ہے
کماسیأتی مناتحقیقہ فانقطع النزاع
 (جیسا کہ اس کی تحقیق ہمارے قلم سے عنقریب آرہی ہے تو اس نص سے اختلاف کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ ت)
(۱؎ غنیۃ المستملی   فصل فی التیمم   سہیل اکیڈمی لاہور    ص۸۱)
بدائع میں فرمایا:صلاۃ الکسوف واجبۃ ام سنۃ ذکر محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی الاصل ما یدل علی عدم الوجوب فانہ قال ولا تصلی نافلۃ فی جماعۃ الا قیام رمضان وصلاۃ الکسوف وروی الحسن بن زیادعن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ قال فی کسوف الشمس ان شاؤا صلوا رکعتین وان شاؤا اربعا وان شاؤا اکثر والتخییر یکون فی النوافل وقال بعض مشائخنا انھا واجبۃ لماروی ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ (فذکر حدیث الکسوف وفیہ قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم) صلوا حتی تنجلی وفی روایۃ ابی مسعود الانصاری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فاذا رأیتموھا فقوموا وصلوا ومطلق الامر للوجوب وتسمیۃ محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی ایاھا نافلۃ لاینفی الوجوب لان النافلۃ عبارۃ عن الزیادۃ وکل واجب زیادۃ علی الفرائض الموظفۃ الا تری انہ قرنھا بقیام رمضان وھو التراویح وانھا سنۃ مؤکدۃ وھی فی معنی الواجب وروایۃ الحسن لاتنفی الوجوب لان التخییر قد یجری بین الواجبات کمافی قولہ تعالٰی فکفارتہ اطعام عشرۃ مساکین من اوسط ماتطعمون اھلیکم اوکسوتھم اوتحریر رقبۃ ۱؎ اھ کلامہ قدس سرہ،۔
نمازِ کسوف واجب ہے یا سنّت؟ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے اصل (مبسوط) میں جو تحریر فرمایا ہے اس سے عدمِ وجوب کا پتا چلتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ''قیامِ رمضان اور نمازِ کسوف کے علاوہ کوئی نمازِ نفل باجماعت نہ ادا کی جائے گی''۔ اور حسن بن زیادنے امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے سورج گہن کے بارے میں فرمایا ہے کہ ''لوگ اگر چاہیں تو دو۲ رکعت پڑھیں، چاہیں تو چار پڑھیں اور چاہیں تو زیادہ پڑھیں'' اور تخییر نوافل ہی میں ہوتی ہے اور ہمارے بعض مشائخ نے فرمایا ہے کہ نماز کسوف واجب ہے اس لئے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے (اس کے بعد حدیثِ کسوف ذکر کی ہے رسولِ اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے) نماز اداکرو یہاں تک کہ سورج روشن ہوجائے۔ اور حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ''تو جب تم اسے دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور نماز پڑھو''۔ اور مطلق امر وجوب کیلئے ہوتا ہے۔ اور امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کا اسے نفل کے نام سے ذکر کرنا وجوب کی نفی نہیں کرتا اس لئے کہ نفل کا معنی ''زائد'' ہے، اور ہر واجب مقررہ فرائض سے زائد ہی ہے۔ دیکھ لیجئے کہ انہوں نے نمازِ کسوف کو قیامِ رمضان کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہ نماز تراویح ہے جو سنّتِ مؤکدہ ہے اور سنّتِ مؤکدہ واجب کا معنٰی رکھتی ہے اور حسن بن زیاد کی روایت سے بھی وجوب کی نفی نہیں ہوتی اس لئے کہ تخییر واجبات میں بھی ہوتی ہے جیسے باری تعالٰی کے اس ارشاد میں ہے: ''تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا دینا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو اس میں سے متوسط قسم کا کھانا یا دس مسکینوں کو کپڑا دینا یا ایک بردہ آزاد کرنا''۔ ملک العلماء قدس سرہ کا کلام ختم ہوا۔
 (۱؎ بدائع الصنائع    صلٰوۃ الکسوف     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۲۸۰)
Flag Counter