(۸۶) اقول اگر زخم ہے کہ اُترنے سے جاری ہوجائے گا اور نماز طہارت سے نہ مل سکے گی نہ اُترے اورتیمم سے پڑھے یہ مسئلہ بھی علماء نے نماز میں افادہ فرمایا ہے کہ اگر کھڑے ہونے سے زخم جاری ہوتا ہو بیٹھ کر پڑھے دُرمختار(۲) میں ہے
(اس کیلئے بیٹھ کر نماز پڑھنا واجب ہے جس کا زخم قیام سے بہنے لگتا ہو یا جسے کھڑے ہونے سے پیشاب آنے لگتا ہو۔ ت)
(۲؎ الدرالمختار باب صفۃ الصلٰوۃ مجتبائی دہلی ۱/۷۰)
(۸۷) ہر عبادت فرض یا واجب یا سنّت کہ پانی سے طہارت کرے تو فوت ہوجائے گی اور اس کا عوض کچھ نہ ہوگا اُس کیلئے تیمم کرسکتا ہے مگر یہ تیمم(۳) صرف اسی عبادت کیلئے طہارت ہوگا نہ اور کیلئے کہ اُسی کی ضرورت سے اجازت ہوئی تھی تو اس تیمم سے کوئی اور عبادت کہ بے طہارت جائز نہ ہوجائز نہ ہوگی اس(۴) فوت بلاعوض کی بہت صورتیں ہیں مثلاً نماز(۱) جنازہ قائم ہے یا قائم ہونے کو ہے اس کے وضو کا انتظار نہ ہوگا جب تک وضو کرے چاروں تکبیریں ہوچکیں گی اگرچہ سلام پھیرنا باقی رہے کہ نماز(۵) جنازہ تکبیروں پر ختم ہوجاتی ہے اُن کے بعد ملنے کا محل نہیں اگرچہ ابھی سلام نہ ہوا ہو کما فی الدر وغیرہ (جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت) یا(۲) عیدین کا وقت نکل جائےگا یا ان کا امام معین سلام پھیر دے گا۳؎۔
(۳؎ الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱/۴۳)
اقول: جبکہ دوسرے امام معین کے پیچھے نہ ملیں
کماقالوا فی الفاسق لایقتدی بہ فی الجمعۃ ایضا اذا تعددت فی المصرلانہ بسبیل من التحول ۴؎ کما فی الفتح وغیرہ
(جیسے علمانے فرمایا ہے کہ جمعہ میں بھی فاسق کی اقتداء نہ کی جائے گی اگر شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہوتا ہو کیوں کہ ایسے امام کو چھوڑ کو دُوسری جگہ جانے کی راہ موجود ہے، جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ میں ہے۔ ت)
(۴؎ فتح القدیر باب الامامۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۳۰۴)
یہ اس لئے کہ عیدین(۱) کی نماز کی نماز مثل جمعہ ہر امام کے پیچھے نہیں ہوسکتی سوا سلطانِ اسلام یا اس کے نائب یا ماذون کے، اور وہ نہ ہوں تو بضرورت جسے مسلمان امامِ جمعہ مقرر کرلیں یا سورج(۴) گہن ہوچکے گا
صلاۃ الجنازۃ والعیدین من مسائل المتون و زاد الکسوف کالرواتب الاٰتیۃ ۱؎ فی الحلیۃ بحثا واقرہ فی البحر والنھر والدر وحواشیہ
(نماز جنازہ اور عیدین کا مسئلہ تو متون میں ذکر ہے اور کسوف کا مسئلہ یوں ہی سنن رواتب سے متعلق آنے والا مسئلہ حلیہ میں بطور بحث زیادہ کیا جسے بحررائق، نہرفائق، دُرمختار اور اس کے حواشی میں برقرار رکھا گیا۔ ت)
(۱؎ الدرالمختار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۷۸)
اقول: اور اگر کسوف باقی رہے اور جماعت ہوچکے گی توتیمم کی اجازت نہیں کہ اگرچہ کسوف(۲) میں بھی ہر شخص امامت نہیں کرسکتا خاص امامِ جمعہ ہی اس کا امام ہوسکتا ہے کما فی الدر ۲؎ وغیرہ (جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت) مگر اس(۳) میں جماعت ضروری نہیں تنہا بھی ہوسکتی ہے نہ مثل(۴) جنازہ تکرار ممنوع ہے،
لتصریحھم بجواز ان یصلیھا کل بحیالہ فی بیتہ ۳؎ کما فی شرح الطحاوی ومشی علیہ فی الدر او فی مساجد ھم علی مافی الظھیریۃ وعزاہ فی المحیط الی شمس الائمۃ ۴؎ ش عن مفتی دمشق اسمٰعیل نعم الجماعۃ مستحبۃ اذاحضر امام الجمعۃ ۵؎ کمافی الدر۔
اس لئے کہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ نماز کسوف ہر شخص اپنے گھر میں انفرادی طور پر ادا کرسکتا ہے۔ جیسا کہ شرح طحاوی میں ہے اس راہ پر صاحبِ درمختار بھی گئے ہیں یا لوگ اپنی اپنی مسجدوں میں بھی ادا کرسکتے ہیں جیسا کہ ظہیریہ میں ہے اور محیط میں اسے شمس الائمہ کے حوالہ سے بیان کیا ہے۔ شامی از مفتی دمشق شئخ اسمٰعیل۔ ہاں جب امامِ جمعہ موجود ہو تو جماعت مستحب ہے۔ جیسا کہ دُرمختار میں ہے۔ (ت)
(۳؎ الدرالمختار مع الشامی صلٰوۃ الکسوف مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۶۲۳)
(۴؎ الدرالمختار مع الشامی صلٰوۃ الکسوف مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۶۲۳)
(۵؎ الدرالمختار صلٰوۃ الکسوف مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/)۱۱۷)
تو اُس کا فوت(۱) یوں ہی ہوگا کہ گہن چھُوٹ جائے، ردالمحتار میں ہے
لوانجلت لم تصل بعدہ ۱؎
(اگر سورج روشن ہوگیا تو اس کے بعد نماز کسوف نہ پڑھی جائے گی۔ ت)
(۱؎ ردالمحتار مع الشامی صلٰوۃ الکسوف مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۶۲۲)
یا ظہر(۵) وجمعہ(۶) ومغرب(۷) وعشا(۸) کے فرضوں کے بعد وضو جاتا رہا اور اب وضو کرتا ہے تو بعد کی سنتیں نہ ملیں گی وقت نکل جائےگا۔ اقول یونہی(۹) ظہر یا جمعہ(۱۰) کی پہلی سنتیں اگر قیام جماعت کے سبب نہ پڑھ سکا اور بعد فرض یا بعد سنّتِ بعد یہ وضوجاتا رہا اور اب وضو کرے تو وقتِ عصر آجائےگا
لانھا وان فاتت عن وقتھا فانھا تقضی فی الوقت ثم لاقضاء فقضاؤھا یفوت لا الی بدل ۲؎
(اس لئے کہ یہ سنتیں اگرچہ اپنے مقررہ وقت سے ہی فوت ہوئیں مگر ان کی قضا وقت کے اندر ہی ہوسکتی ہے بعدِ وقت قضا نہیں تو بعد ظہر وجمعہ اگر ان کی قضا فوت ہوجاتی ہے تو پھر اس کا کوئی بدل نہیں۔ ت)
(۲؎ ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۷۸)
یا صبح(۱۱) کے وقت پانی وضو کیلئے منگایا کسی نے دینے کا وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کرے تو وضو کرکے صرف فرض پائے گا یوں کہ یا تو سُنّتوں کے قابل وقت ہی نہ رہے گا یا سنتیں پڑھے تو جماعت فوت ہونا چار سنتیں چھوڑنی ہوں گی تو جب تک پانی آئے تیمم کرکے سنتیں پڑھ لے پھر وضو کرکے فرض ۳؎
کمافی ش وغیرہ
(جیسا کہ شامی وغیرہ میں ہے۔ ت)
(۳؎ ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۷۸)
یا(۱۲) صبح کی نماز نہ ہوئی تھی اور اب زوال تک اتنا وقت نہیں کہ وضو کرکے دو۲ رکعتیں پڑھ سکیں تو تیمم کرکے سنتیں پڑھ لے کہ بعد زوال نہ ہوسکیں گی پھر وضو کرکے وقتِ ظہر آنے پر صبح کے فرض پڑھے
ذکرہ ش عن شئخہ قال وذکرلھا ط صورتین اخریین ۴؎ اھ
(اسے شامی نے اپنے شیح کے حوالہ سے ذکر کیا اور فرمایا کہ طحطاوی نے اس کی دو۲ صورتیں اور ذکر کی ہیں۔ ت)
(۴؎ ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۷۸)
اقول: بل اولھما ھی ھذہ التی اثرھا عن شئخہ وذکر اخری وردھا وھی حقیقۃ بالرد
(بلکہ ان دونوں سے بہتر یہی صورت ہے جو شامی نے اپنے شئخ سے نقل فرمائی اور دوسری صورت ذکر کرکے اسے رد کردیا اور وہ رد ہی کے لائق ہے۔ ت) یا(۱۳) بے وضو خصوصاً جنب ہے اور کسی نے سلام کیا یا(۱۴) کوئی سامنے آیا اور خود اُسے سلام کرنا ہے اور سلام نام الٰہی عزوجل ہے بے طہارت لینا نہ چاہا اور وضو کرے تو سلام فوت ہوتا ہے کہ جواب(۳) میں اتنی دیر کی اجازت نہیں اور سلام(۴) بھی ابتدائے لقا پر ہے نہ بعد دیر لہذا اجازت ہے کہ تیمم کرکے جواب دے یا سلام کرے مسئلہ جواب خود فعل اقدس حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت کہ ایک صاحب گزرے حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سلام کیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا یہاں تک کہ قریب ہوا وہ گلی سے گزر جائیں حضور نے تیمم فرماکر جواب دیا اور ارشاد فرمایا
انہ لم یمنعنی ان ارد علیک السلام الا انی لم اکن علی طھر ۱؎
ہم کو جواب دینے سے مانع نہ ہوا مگر یہ کہ اس وقت وضو نہ تھا
رواہ ابو داؤد عن نافع عن ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما قال المحقق الحلبی فی الحلیۃ سکت علیہ ابوداؤد فھو حجۃ ۲؎ اھ
(اسے ابوداؤد نے بطریق نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا، محقق حلبی نے حلیہ میں فرمایا کہ ابوداؤد نے اس پر سکوت کیا ہے اس لئے وہ حجت ہے اھ۔ ت) اور ابتدائے سلام اُس پر قیاس کرکے زیادت ائمہ کرام ہے بحر میں ہے
المذھب ان التیمم للسلام صحیح ۳؎
(مذہب یہ ہے کہ سلام کے لیے تیمم درست ہے۔ ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد باب التیمم فی الحضر عند الخلا مطبوعہ مجتبائی لاہور ۱/۴۷)
(۲؎ حلیہ)
(۳؎ بحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵۰)
تنبیہ: علامہ سید طحطاوی پھر اُن کے اتباع سے علامہ سید شامی نے دو۲ چیزیں اور زائد کیں وضو کرتا ہے تو چاند گہن ہوچکے گا یا ضحوہ کبرٰی ہوجائے گی نماز چاشت جاتی رہے گی تو ان دونوں کوتیمم سے ادا کرلے
قال فی الدر جاز لکسوف فقال ط مرادہ مایعم الخسوف ۴؎ اھ ونقلہ ش واقرہ وقال فی حاشیتہ علی المراقی اخذ منہ الحلبی جواز التیمم للکسوف ای والخسوف ۵؎ اھ
دُرمختار میں تھا: تیمم سُورج گرہن کی نماز کیلئے جائز ہے۔ اس پر طحطاوی نے کہا اس سے ان کی مراد وہ ہے جو چاند گہن کو بھی شامل ہے اھ۔ اسے شامی نے نقل فرما کر برقرار رکھا۔ اور طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں لکھا ہے کہ اسی سے حلبی نے سورج گہن کیلئے۔ یعنی چاند گہن کیلئے بھی تیمم کا جواز اخذ کیا ہے اھ۔
(۴؎ طحطاوی علی الدر باب التیمم مطبوعہ بیروت ۱/۱۲۹)
(۵؎ طحطاوی علی مراقی الفلاح باب التیمم مطبعہ ازہریہ مصر ص۶۸)
وقال ھوثم ش الظاھر ان المستحب کذلک لفوتہ بفوت وقتہ کما اذاضاق وقت الضحی عنہ وعن الوضوء فتیمم لہ ۱؎ اھ۔
اور انہوں نے پھر علامہ شامی نے فرمایا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ مستحب کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ وہ بھی وقت کے فوت ہونے سے فوت ہوجاتا ہے مثلاً چاشت کا وقت اتنا تنگ ہوجائے کہ نماز چاشت اور وضو دونوں کی گنجائش نہ رہے تو اس نماز کیلئے تیمم کرلے گا اھ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱/۱۷۸)
اقول: اس تقدیر پر نمازِ(۱۷) تہجد کیلئے بھی تیمم جائز ہوگا جبکہ وضو کرنے میں دو۲ رکعت کا وقت نہ ملے اور فجر طلوع کر آئے کہ ہماری تحقیق(۱) میں وہ مستحب ہے
کمابیناہ فی فتاوٰنا
(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔ ت) اگر زعم بعض کے طور پر سنّتِ مؤکدہ مانئے جب تو مثل رواتب جواز ہوگا ہی مگر وہ ضعیف ہے یوں ہی فجر کی سُنتّیں جب تنہا قضا ہوں زوال تک اُن کی قضا مستحب ہے اور ایک تخریج پر امام محمد کے نزدیک سنّت۔ خیر، یہاں کلام اس میں ہے کہ مستحب نمازیں بھی حسبِ گمان فاضلین طحطاوی وشامی اس جوازتیمم میں مثل رواتب ہیں۔
اقول: مگریہ سخت(۲) تأمل ہے کتب(۳) مذہب میں صرف دو۲ نمازوں کا ذکر ہے جنازہ وعیدین اور اسی قدر ائمہ مذہب سے منقول حتّٰی کہ خود علّامہ ابن امیر حاج حلبی نے حلیہ میں تصریح فرمائی کہ ہمارے نزدیک تندرست کو بے خوفِ مرض پانی ہوتے ہوئے انہیں دو۲ نمازوں کے لئے تیمم جائز ہے۔
وھذا نصہ اعلم انہ یجوز التیمم للصحیح فی المصر عندنا فی ثلاث مسائل احدھما اذا کان جنبا وخاف المرض بسبب الاغتسال بالماء البارد الثانیۃ حضرت جنازۃ وخاف ان اشتغل بالوضوء تفوتہ الصلٰوۃ علیھا الثالثۃ اذا خاف فوات صلاۃ العید ۲ج؎ اھ
ان کی عبارت یہ ہے: ہمارے نزدیک تندرست کیلئے شہر میں تیمم کا جواز تین مسائل میں ہے۔ (۱) جب حالت جنابت میں ہو اور ٹھنڈے پانی سے غسل کی وجہ سے بیماری کا اندیشہ رکھتا ہو (ت)
(۲) جنازہ حاضر ہو اور وضو کرنے کی صورت میں نمازجنازہ فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ (۳) نمازِ عید فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ اھ (ت)