Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
96 - 166
وانت تعلم ان الامر فی مسألتنا ھذہ اظھر من تلک فلیس ھھنا شیئ من قبل العباد اما تلک فقال المحقق الحلبی فی الحلیۃ الاشبہ الاعادۃ تفریعا علی ظاھر المذھب فی الممنوع من ازالۃ الحدث بصنع العباد ۲؎ اھ ورأیتنی کتبت علی قول الرحمتی المذکور مانصہ۔
اور معلوم ہے کہ ہمارے زیر تحریر مسئلہ میں معاملہ اُس سے زیادہ ظاہر اور واضح ہے۔ اس لئے یہاں بندوں کی جانب سے کسی چیز کا وجود ہی نہیں۔ اور اُس مسئلہ میں تو محقق حلبی نے حلیہ میں یہ لکھا ہے کہ ''جو شخص بندوں کے فعل کی وجہ سے ازالہ حدث نہ کرسکے اس کے متعلق ظاہر مذہب میں یہی حکم ہے کہ اعادہ کرے'' تو ظاہر مذہب میں تفریع کرتے ہوئے یہاں بھی زیادہ مناسب اعادہ ہی ہے'' اھ میں نے دیکھا کہ رحمتی کے قول مذکور پر خود میں نے کبھی درج ذیل عبارت تحریر کی تھی:
 (۲؎ ردالمحتار    ابحاث الغسل    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۱۵)
اقول: وباللّٰہ(۱) التوفیق محل(۲) المسألۃ انما ھو حیث کان ممنوعا عن التحول الٰی موضع ستر والا لم یجز لہ الکشف ولا التیمم قطعا فھذا المنع اما ان یکون من قبل القوم کأن حبسوہ اوقالوا لہ لوتحولت قتلناک اوسلبناک فان المال شقیق النفس اولا کمریض ومن سفینۃ فی لجۃ بحر علی الاول لاشک ان المنع جاء من قبل العباد فیتیمّم ویعید وعلی الثانی لقائل ان یقول لابدلہ ان یسألھم تحویل الدبر اوغض البصر فان فعلوا فبھا والا فقد تسببوا فی المانع وان لم یکن نفس المانع من قبلھم کالخوف فانہ من قبل اللّٰہ تعالٰی ومع ذلک اذا نشأ بتسبب العبد بالایعاد یعد من العبد ویؤمر بالاعادۃ فادن الاشبہ ماذکر المحقق الحلبی مع ان فیہ الخروج عن العھدۃ بیقین فعلیہ فلیکن التعویل واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اقول: وباللہ التوفیق (میں کہتا ہوں، اور توفیق خدا ہی کی جانب سے ہے) یہ مسئلہ اُسی صورت میں ہے جب کسی پردہ کی جگہ چلے جانے سے رکاوٹ ہو ورنہ اس کیلئے نہ ستر کھولنا جائز ہوگا نہ ہی تیمم کرنا جائز ہوگا۔ اب یہ رُکاوٹ یا(۱) تو لوگوں کی جانب سے ہے۔ مثلا اسے قید کردیا ہے یا اس سے کہا ہے کہ یہاں سے ہٹے تو ہم تجھے قتل کردیں گے یا تیرا مال چھین لیں گے ۔مال بھی جان کا بھائی ہے ۔یا لوگوں کی جانب سے رکاوٹ نہیں ہے۔ مثلاً بیمار ہے یا سمندر کی گہرائی میں کشتی پر سوار ہے۔ پہلی صورت میں رکاوٹ بلاشبہ بندوں کی جانب سے ہے تو تیمم کرے گا پھر اعادہ کرے گا۔ اور دُوسری صورت میں کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اس پر لازم ہے کہ لوگوں سے کہے پیٹھ پھیر لیں یا نگاہ بند کرلیں، اگر وہ ایسا کرلیں تو ٹھیک ورنہ وہ رکاوٹ کا سبب بن گئے اگرچہ اصل مانع ان کی طرف سے نہیں۔ جیسے خوف کا معاملہ ہے کہ دراصل یہ اللہ تعالٰی کی جانب سے ہے، اس کے باوجود جب خوف اس سبب سے پیدا ہوا کہ کسی بندے نے دھمکی دی ہے تو وہ بندے کی جانب سے شمار ہوتا ہے اور اعادہ کا حکم دیا جاتا ہے اس تفصیل کی روشنی میں اشبہ (زیادہ مناسب) وہی ہے جو محقق حلبی نے فرمایا۔ ساتھ ہی اس میں احتیاط کا پہلو بھی ہے کیونکہ اعادہ کرلے تو یقینی طور پر سبکدوش اور عہدہ برآ ہوجائے گا اس لیے انہی کے قول پر اعتماد ہونا چاہئے، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)

(۶۸ تا ۷۰) اقول یوں ہی اگر پانی لادینے والا اُجرت مانگتا ہے اور یہ مفلس یا وہ ادھار پر راضی نہیں یا اُجرت مثل سے زیادہ کا طالب ۱؎
علی وزان مامر فی ۳۵ و ۳۶ و ۳۷ عن البحر والدر
 (اسی طور پر جیسا کہ نمبر ۳۵، ۳۶، ۳۷ میں بحررائق اور درمختار کے حوالہ سے بیان ہوا ہے۔ ت)
 (۱؎ البحرالرائق        باب التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۴۳ )
(۷۱) اقول: کنواں رسّی ڈول سب کچھ موجود ہے مگر یہ ایسا مریض یا اتنا ضعیف ہے کہ بھرنے پر قادر نہیں اور نوکر غلام بیٹا کوئی پاس نہیں نہ کوئی ایسا کہ اس کے کہے سے بھر دے نہ اور تدبیروں سے کہ نمبر۲ میں گزریں پانی لے سکتا ہے،
 فقد تحقق عجزہ وھو ملاک الاباحۃ وکانہ دخل فیما ذکروا من فقد الاٰلۃ فان فیہ الفقد حکما وان لم یکن حساکما قال تعالی
وَلَمْ تَجِدُوْا مَاءً
فعم الفقد الحسی والحکمی۔
اس لئے کہ اس کا عاجز ہونا متحقق ہوگیا اور جو ازتیمم کی بنیاد یہی ہے۔ علماء نے پانی کھینچنے کا آلہ نہ پانے کا جو ذکر کیا ہے گویا یہ صورت بھی اس میں داخل ہے کیونکہ اس میں بھی حکماً ذریعہ کا فقدان ہے اگرچہ حَسّاً فقدان نہیں جیسے باری تعالٰی کا ارشاد ہے: ''اور تم پانی نہ پاؤ'' یہ حسّی وحکمی دونوں فقدان کو شامل ہے۔ (ت)
 (۷۲ تا ۷۴) اقول یوں ہی اگر دُوسرا پانی بھر دینے والا اُجرت مانگتا ہے اور یہ مفلس یا وہ ادھار پر راضی نہیں یا اُجرت مثل سے زائد مانگتا ہے۔
 (۷۵ تا ۷۸) اقول انہی صورتوں کی مثل ہے کہ یہ مریض وضعیف بھی نہ ہو مگر(۱) کُنویں کا چرسہ اکیلے سے نہ کھینچ سکے گا اور دُوسرا چھوٹا ڈول یا پانی لینے کا اور طریقہ نہیں نہ اس کے پاس اتنے آدمی کہ مل کر کھینچ دیں یا کھِنچوانے    (۲) کی اُجرت نہیں رکھتا یا کھنچنے(۳) والے اجرت مثل سے زیادہ مانگتے ہیں یا ادھار(۴) پر راضی نہیں اور یہ صورت اکیلے شخص پر محصور نہیں دو۲ یا زائد بھی ہوں مگر اس چرسہ کے کھینچنے کو زیادہ آدمی درکار ہیں جب بھی یہی احکام ہوں گے خصوصاً جبکہ یہ عورتیں ہوں
کواقعۃ بنتی شعیب علیہ وعلیھما الصلاۃ والسلام
 (جیسے حضرت شعیب کی دونوں بیٹیوں کا واقعہ ہے۔ ان پر اور ان دونوں پر درود وسلام۔ ت)
 (۷۹) اقول پانی پر گزرا سامان سب حاضر ہے مگر یہ گھوڑے پر سوار ہے اور گھوڑا بدرکاب کہ اُترکر چڑھنے میں بہت دقّت کا سامنا ہوگاتیمم کرکے گھوڑے پر پڑھ لے جبکہ جنس ارض سے کوئی شے پاس ہو اگرچہ چلم ہو یا زین وغیرہ پر اتنا غبار ہو کہ ہاتھ پھیرنے سے انگلیوں کا نشان بن جائے۔
 (۸۰ تا ۸۳) اقول یونہی اگرچہ سواری شائستہ ہو مگر یہ مریض یا ایسا ضعیف ہے کہ بے مددگار چڑھ نہ سکے گا اور(۱) مددگار انہیں تفصیلوں پر نہیں یا(۲) اجرت مانگتا ہے اور یہ مفلس یا(۳) وہ ادھار پر راضی نہیں یا(۴) اجرت مثل سے زیادہ چاہتا ہے۔

(۸۴) اقول: یو ں ہی اگر سوار عورت ہے اور چڑھانے کو محرم یا شوہر درکار اور وہ ساتھ نہیں، منیہ میں ہے:
الشئخ(۱) اذارکب دابۃ ولم یقدر علی النزول اوامرأۃ(۱) ولیس معھا محرم یصلیان علیھا ۱؎ اھ قال فی الحلیۃ بل ظاھر الخانیۃ انہ یجوزلھا وان کان معھا محرم فان فیھا الرجل اذا حمل امرأتہ من القریۃ الی المصر کان لھا ان تصلی علی الدابۃ فی الطریق اذا کانت لاتقدر علی الرکوب والنزول انتھی لکن ھذا ظاھر علی اصل ابی حنیفہ فی انہ لایجعل قدرۃ الانسان بغیرہ کقدرتہ بنفسہ اما علی قولھما فینبغی ان لایجوز اذا کان الزوج یقدر علی مساعدتھا فی الرکوب والنزول ویبذل ذلک لھا ثم لائخفی ان جواب الخانیۃ مع تعقبنا بہ اٰت بطریق اولی اذا کان مکان الزوج محرم اواجنبی ۲؎ اھ۔
''بوڑھا شخص کسی جانور پر سوار ہوا اور اترنے پر قدرت نہیں، یا عورت سوار ہوئی جس کے ساتھ کوئی محرم نہیں تو دونوں کے لئے یہ حکم ہے کہ سواری پر نماز پڑھ لیں'' اھ حلیہ میں فرمایا: ''بلکہ خانیہ کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے ساتھ محرم ہو جب بھی اس کے لئے اجازت ہے اس لئے کہ خانیہ میں یہ ہے کہ جب مرد اپنی عورت کو سوار کرکے گاؤں سے شہر لے جائے تو عورت راستے میں سواری پر نماز پڑھ لے جب چڑھنے اترنے پر قادر نہ ہو'' انتہی۔ یہ حکم امام اعظم ابوحنیفہ کے قاعدہ پر تو ظاہر ہے اس لئے کہ وہ انسان کیلئے دوسرے کے ذریعہ حاصل ہونے والی قدرت کو خود اس کی اپنی قدرت کی طرح قرار نہیں دیتے۔ لیکن صاحبین کے قول پر اس صورت میں اس کا جواز نہیں ہونا چاہئے جب شوہر چڑھنے اترنے میں اس کی مدد کرسکتا ہو اور اپنی مدد پیش بھی کرسکتا ہو پھر خانیہ میں جو حکم مذکور ہے یہ ہماری تنقید کے ساتھ اس صورت میں بھی بدرجہ اولٰی جاری ہوگا جب بجائے شوہر کے، کوئی محرم یا اجنبی ہو، جیسا کہ ظاہر ہے اھ''۔ (ت)
 (۱؎ منیۃ المصلی        فرائض الصلوٰۃ    مکتبہ قادریۃ جامعہ نظامیہ لاہور    ص۲۵۳)

(۲؎ تعلیق المجلی مع المنیۃ    فرائض الصلوٰۃ    مکتبہ قادریۃ جامعہ نظامیہ لاہور (ملتقطاً ))
اقول: اما الاولویۃ فی تأتی جواب الخانیۃ ان حمل علی الجواز مطلقا وان ساعدھا من معھا علی الرکوب والنزول فظاھرۃ ولکن اولاً ای اولویۃ(۱) في اتیان التعقب فی المحرم بل الزوج ھو الاولی وثانیا لا(۲) تأتی للتعقب فی الاجنبی فضلا عن الاولویۃ فان ارکابہ وانزالہ ایاھا فیہ مافیہ وقد(۳) نصت مسألۃ المتن علی جواز صلاتھا علی الدابۃ اذا کان معھا اجنبی ھذا منطوقھا وعدم الجواز اذا کان معھا محرم مفھومھا وتثبت۔
اقول: خانیہ میں مذکورہ حکم کے جاری ہونے کا اگر یہ معنٰی ہے کہ مطلقاً جواز ہو اگرچہ عورت کا ہم راہی اترنے چڑھنے میں اس کا معاون ہو تو یہاں اس کا اولٰی ہونا ظاہر ہے۔ لیکن (یہاں صاحبِ حلیہ کی تنقید بھی بدرجہ اولٰی جاری ہونے پر ہمیں کلام ہے) اولاً محرم سے متعلق تنقید مذکور بطریقِ اولٰی کیوں کر جاری ہوسکتی ہے اس تنقید کے معاملہ میں تو شوہر ہی اولٰی ہے ثانیاً اجنبی کے سلسلہ میں تو تنقید مذکور جاری بھی نہیں ہوسکتی اس کا اولٰی ہونا تو درکنار، اس لئے کہ اس کے چڑھانے اتارنے میں بہت خرابیاں دشواریاں ہیں متن (منیۃ المصلی) کے مسئلہ میں اس کی صراحت ہے کہ جب عورت کے ساتھ اجنبی ہو تو اس کیلئے سواری پر نماز پڑھنا جائز ہے، یہ اس کی صریح عبارت اور منطوق ہے۔ اور جب عورت کے ساتھ محرم ہو تو سواری پر نماز پڑھنا جائز نہیں یہ اس کا معنی مخالف اور مفہوم ہے تو فہم وثبات سے کام لو۔ (ت)
(۸۵) اقول یوں ہی اگر اُترنے چڑھنے سے بیماری بڑھے۔ یہ مسائل علمائے کرام نے دربارہ نماز ذکر فرمائے کہ یوں اترنے سے عجز ہو تو سواری پر پڑھے تو دربارہ طہارت بدرجہ اولٰی درِمختار میں زیر قول
 متن الصلاۃ علی الدابۃ تجوز فی حالۃ العذرلا فی غیرھا
(سواری پر نماز ادا کرنا بحالتِ عذر جائز ہے بلاعذر نہیں۔ ت) فرمایا
 ومن(۴) العذر دابۃ لاترکب الابعناء اوبمعین ۱؎
 (یہ بھی عذر ہی ہے کہ جانور پر مشقت یا کسی مددگار کے بغیر سوار نہ ہوسکے۔ ت)
 (۱؎ الدرالمختار    باب الوتر والنوافل    مجتبائی دہلی    ۱/۹۸)
ردالمحتار میں ہے:لوکانت الدابۃ جموحا لونزل لایمکنہ الرکوب الابمعین اوکان شئخا کبیرا لونزل لایمکنہ ان یرکب ولایجد من یعینہ تجوز الصلاۃ علی الدابۃ اھ وقدمنا عن المجتبی ان الاصح عندہ لزوم النزول لو وجد اجنبیا یطیعہ فعلی ھذا لاخلاف فی لزوم النزول لمن وجد معینا یطیعہ ولم یکن(۱) مریضا یلحقہ بنزولہ زیادۃ مرض وفی المنیۃ المرأۃ اذا لم یکن لھا محرم تجوز صلاتھا علی الدابۃ اذا لم تقدر علی النزول ۱؎ اھ۔
اگر جانور سرکش ہوکہ اتر جائے تو بغیر مددگار کے اس پر چڑھنا ممکن نہ ہو یا سوار بہت بوڑھا ہوکہ اتر جائے تو چڑھ نہ سکے نہ ہی اسے کوئی مددگار ملے تو سواری پر نماز ادا کرنا جائز ہے اھ اور ہم مجتبٰی کے حوالہ سے پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ان کے نزدیک اصح یہ ہے کہ اترنا لازم ہے اگر ایسا کوئی اجنبی مل جائے جو اس کی بات مان لے۔ تو اس بنیاد پر اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس شخص کیلئے اترنا لازم ہے جسے کوئی ایسا مددگار مل جائے جو اس کی بات مان لے اور ایسا بیمار نہ ہو کہ اترنے سے مرض بڑھ جائے اور منیہ میں ہے کہ: ''عورت کے ساتھ جب محرم نہ ہو تو اس کیلئے سواری پر نماز پڑھنا جائز ہے جبکہ اترنے پر قدرت نہ ہو اھ۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار  باب الوتر والنوافل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۵۱۸)
Flag Counter