Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
95 - 166
اقول: ومازدت من القیود ظاھر
 (اور میں نے جن قیدوں کا اضافہ کیا ہے وہ ظاہر ہیں۔ ت) پھر بعد کو نماز کا اعادہ کرے یا نہ کرے اس کا ذکر نمبر ۶۷ میں آتا ہے وباللہ التوفیق۔
 (۵۵) اقول: یونہی اگر عورت کو وضو کرنا ہے اور وہاں کوئی نامحرم مرد موجود ہے جس سے چھپا کر ہاتھوں کا دھونا اور سر کا مسح نہیں کرسکتی تیمم کرے (۵۶) محبوس کو پانی نہیں ملتا (۵۷) کفار معاذ اللہ پکڑ کرلے گئے اور غسل یا وضو نہیں کرنے دیتے (۵۸) ظالم ڈراتا ہے کہ پانی سے طہارت کی تو مار ڈالوں گا یا کوئی عضو کاٹ دوں گا اور ایسا ہی خوف جس سے اکراہ ثابت ۲؎ ہو۔
الکل فی الذخیرۃ وشرح الوقایۃ والفتح والدرر وغیرھا
 (یہ سب ذخیرہ، شرح وقایہ، فتح القدیر، درر وغیرہا میں ہے۔ ت)
(۲؎ فتح القدیر    باب التیمم         نوریہ رضویہ سکھّر        ۱/۱۱۸)
اقول: ومازدت من القطع وسائر مایصح بہ الاکراہ ظاھر
(میں نے عضو کاٹنے اور ہر اس چیز کا جس سے اکراہ ثابت ہو اضافہ کیا، یہ ظاہر ہے۔ ت) (۵۹) پانی میل بھر سے کم دُور ہے مگر نوکر یا مزدور کو آقا یا مستاجر جانے کی اجازت نہیں  دیتا ۳؎ بحر عن المبتغی (بحر بحوالہ مبتغی)
 (۳؎ البحرالرائق   باب التیمم           ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۴۲)
 (۶۰) اقول: ریل میں ہےاور اس درجے میں پانی نہیں اور دروازہ بند ہے تیمم کرے
لانہ کالمحبوس فی معنی العجز
 (اس لئے کہ وہ عاجز ہونے میں قیدی کی طرح ہے۔ ت) مگر ۵۶ سے یہاں تک ان پانچوں صورتوں میں جب پانی پائے طہارت کرکے نماز پھیرے
لان المانع من جھۃ العباد
 (اس لئے کہ مانع بندوں کی طرف سے ہے۔ ت) اور اگر اُتر کر پانی لانے میں مال جاتے رہنے کا خوف ہو تو اعادہ بھی نہیں اور یہ نمبر ۳۴ ہے اور اگر ریل چلے جانے کا اندیشہ ہو تب بھی تیمم کرے اور اعادہ نہیں یہ نمبر آیندہ کے حکم میں ہے (۶۱) پانی میل سے کم مگر اتنی دُور ہے کہ اگر یہ وہاں جائے تو قافلہ چلا جائے گا اور اس کی نگاہ سے غائب ہوجائے گا (۶۲) اقول یا اگرچہ ابھی نگاہ سے غائب نہ ہوگا مگر یہ ایسا کمزور ہے کہ مل نہ سکے گا۔
قال فی البحر عن ابی یوسف اذا کان بحیث لو ذھب الیہ وتوضأ تذھب القافلۃ وتغیب عن بصرہ فھو بعید ویجوزلہ التیمم واستحسن المشائخ ھذہ الروایۃ کذا فی التجنیس وغیرہ ۱؎ اھ۔
بحر میں فرمایا: امام ابویوسف سے روایت ہے کہ ''جب یہ حالت ہو کہ پانی تک جاکر وضو کرے تو قافلہ چلا جائے گا اور اس کی نظر سے غائب ہوجائے گا تو وہ پانی سے دور ہے اور اس کیلئے تیمم جائز ہے"۔ مشائخ نے یہ روایت بنظرِ استحسان دیکھی، اسے پسند کیا، ایسا ہی تجنیس وغیرہ میں ہے اھ۔ (ت)
 (۱؎ البحرالرائق        باب التیمم     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۴۰)
اقول: والمختار فی تقدیر البعد وان کان المیل لکن ھذا عذر صحیح معتبر لاشک ولذا استحسنہ المشائخ فیجب اعتبارہ مستقلا لا من حیث تقدیر البعد بہ۔
اقول: دوری کی تحدید میں مختار اگرچہ میل ہی ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ ایک صحیح او رمعتبر عذر ہے اسی لئے مشائخ نے اسے پسند کیا تو مستقل طور پر اس کا اعتبار ضروری ہے اسی لحاظ سے نہیں کہ یہی دوری کی حد مان لی گئی ہے۔ (ت)
 (۶۳ تا ۶۶) اقول: عورت(۱) کے پاس پانی نہیں نہ باہر نکلنے کو چادر نہ بیٹا وغیرہ لادینے والا یا(۲) اجیر اجرت مثل سے زیادہ مانگتا ہے یا(۳) یہ مفلس ہے یا(۴) مال غائب اور وہ ادھار پر راضی نہیں تیمم کرے اور اعادہ نہیں
لان المنع من جھۃ الشرع
 (اس لئے کہ رکاوٹ شریعت کی جانب سے ہے۔ ت)
 (۶۷) اقول شریف زادی پردہ نشین کہ باہر نکلنے کی قطعاً عادی نہیں اگر گھر میں پانی نہ رہے نہ باہر سے کوئی لادینے والا ہو تو رؤف رحیم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی رحمت سے امید ہے کہ اُسے اجازت تیمم ہو اور پانی پانے پر اعادہ کی بھی حاجت نہ ہو تفصیل(۱) اس کی یہ کہ عورات چند قسم ہیں ایک وہ کہ دن دہاڑے منہ کھولے بے تکلّف بازاروں میں پھرتی ہیں یہ مطلقاً مردوں کی مثل ہیں مگر جبکہ چادر نہ پائیں ۔ اقول اگرچہ خود بدلحاظی (عہ) سے پھرنے کی عادی ہوں کہ وہ حرام ہے اور شرع حرام کا حکم نہیں دیتی۔
 (عہ) اقول: اس کی نظیر یہ ہے کہ پانی پینے کی سبیل سے وضو کی اجازت نہیں اگر صرف وہی پانی ہو تیمم کرے اور اگر کوئی شخص ظلم وغصب کا عادی ہو تو اسے بھی تیمم کا حکم ہوگا یہ نہ فرمایا جائے گا کہ تو تو غاصب ہے اسے غصباً لے کر وضو کر ۱۲ منہ (م)
دوسری وہ کہ برقع اوڑھ کر دن کو آتی جاتی ہیں یہ بھی معذور نہیں ہوسکتیں مگر اُسی حالت میں کہ بُرقع یا چادر بھی نہ پائیں تیسری وہ کہ رات کو چادر اوڑھ کر دوسرے محلّوں تک جاتی ہیں جس طرح رامپور وبدایوں کے بہت گھروں کی رسم سُنی گئی ان کیلئے دن میں شاید عذر ہوسکے شب میں ہرگز نہیں مگر یہ کہ کنویں پر مردوں کا مجمع ہو اور یہ مجمع میں چادر اوڑھ کر شب کو بھی نہ جاسکتی ہوں چوتھی وہ کہ شب کو چادر کے ساتھ بھی دُور نہ جاسکے صرف اس کی عادی ہو کہ گھر سے نکل کر سامنے کے دروازے میں دو قدم رکھ کر چلی جائے اس کیلئے اگر کُنواں ایسا ہی قریب ہے اور اس پر مرد نہیں تو عذر نہیں اور اگر کُنواں دُور ہے یا وہاں مردوں کا اجتماع ہے تو کہہ سکتے ہیں کہ معذور ہے پانچویں وہ کہ گھر سے باہر قدم رکھنے کی مطلقاً عادی نہیں جس طرح بحمداللہ تعالٰی بریلی میں شریف زادیوں کا دستور ہے یہ ہر طرح معذور ہے اور کیونکر اُسے مجبور کیا جائے گا حالانکہ اس نے کُنواں دیکھا تک نہیں، نہ اس تک راہ جانتی ہے نہ کسی سے پوچھ سکے گی نہ اُس کے قدم اُٹھیں گے
ولایکلّف اللّٰہ نفساً اِلاّ وُسعھا ۱؎
(اور خدا کسی جان کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ ت)
 ( ۱؎ القرآن   ۲/۲۸۶)
عادت چھُڑانے میں حرج ہے خصوصاً وہ نیک عادت کہ کمال حیا پر مبنی ہو اور حیا جتنی زائد ہو اُسی قدر بہتر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الحیاء خیر کلہ ۲؎
حیا سراسر بہتر ہے رواہ البخاری ومسلم وابو داؤد والنسائی عن عمران بن حصین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وعن الصحابۃ جمیعا (اسے بخاری، مسلم، ابوداؤد اور نسائی نے حضرت عمران بن حصین سے روایت کیا ہے خدا اُن سے اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو۔ ت)
 (۲؎ الصحیح للمسلم    باب عدد شعب الایمان الخ        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۴۸)
اُوپر گزرا کہ شریعتِ مطہرہ نے ہمارے ایک پیسے کا لحاظ فرمایا کہ پانی بیچنے والا پیسے کی جگہ دو مانگتا ہو نہ دو اور تیمم کرلو ان شریف زادیوں کو اگر کوئی دس روپے بلکہ باعتبار حیثیت ہزار روپے دے اور کہے کنویں سے پانی بھر لاؤ ان سے ہرگز نہ ہوسکے گا

 للہ الحمد تو یہ اس پر کیونکر مجبور کی جائیں۔ یہ ہے وہ جو براہِ تفقہ ذہنِ فقیر میں آیا،
ولااقول انہ حکم اللّٰہ عزوجل بل ارجوان یکون حکمہ تعالی فلینظر فیہ العلماء الذین عـــہ لھم اعین یبصرون بھا ولھم قلوب یفقھون بھا واللّٰہ یھدی السبیل وھو حسبی ونعم الوکیل۔
اور میں یہ نہیں کہتا کہ یہی اللہ عزوجل کا حکم ہے بلکہ مجھے امید ہے کہ یہ رب تعالی کا حکم ہو۔ تو اس میں وہ علما نظر فرمائیں جن کے پاس بصیرت والی نگاہیں اور فقاہت والے دل ہیں۔ اور خدا ہی صحیح راستے کی طرف ہدایت فرمانے والا ہے، اور وہی مجھے کافی اور کیا ہی عمدہ کارساز ہے۔ (ت)
عـــہ احتراز عن بعض ابناء الزمان الذین تسموا بالعلم ومالھم من العلم الا الاسم ۱۲ منہ غفرلہ (م)

یہ ایسے بعض ابنائے زمانہ سے احتراز ہے جنہوں نے اپنے ساتھ علم وعلماء کا نام چسپاں کرلیا ہے اور حقیقت میں ان کے پاس علم نہیں صرف علم کا نام ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اما قولی انھا اذا وجدت الماء لا تعید فلان المانع الحیاء والحیاء من المولٰی سبحٰنہ وتعالٰی فالمانع من جھۃ صاحب الحق عزجلا لہ کما استظھر الفاضلان الرحمتی ثم الشامی فی مسألۃ نمرۃ ۵۴ ومثلھا۵۵ قائلین ان العذر لم یأت من قبل المخلوق فان المانع لھا الشرع والحیاء وھما من اللّٰہ تعالٰی کما قالوا لوتیمّم(۱) لخوف العدو فان توعدہ علی الوضوء اوالغسل یعید لان العذر ا تی من غیر صاحب الحق ولوخاف بدون توعد من العدو فلا لان الخوف اوقعہ اللّٰہ تعالٰی فی قلبہ فقد جاء العذر من صاحب الحق فلا تلزمہ الاعادۃ ۱؎ اھ
لیکن یہ جو میں نے کہا کہ ''پانی پانے پر اسے اعادہ کی بھی حاجت نہیں''۔ تو اس لئے کہ اس کیلئے پانی سے مانع چیز حیا ہے۔ اور حیا مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی کی جانب سے ہے۔ تو مانع خود صاحبِ حق عزّجلالہ کی طرف سے ہے جیسا کہ فاضل رحمتی پھر شامی نے مسئلہ ۵۴ میں اور اسی کے مثل ۵۵ میں اظہار کیا۔ ان کے الفاظ یہ ہیں: ''عذر مخلوق کی جانب سے نہ آیا اس لئے کہ اس عورت کے لئے مانع شریعت اور حیا ہے دونوں ہی اللہ تعالٰی کی جانب سے ہیں۔ جیسا کہ علماء نے فرمایا ہے کہ اگر دشمن کے خوف سے تیمم کیا، تو اگر یہ صورت ہے کہ دشمن نے وضو یا غسل کرنے پر کوئی دھمکی دی ہے تو اعادہ کرے گا اس لئے کہ عذر صاحب حق (مولٰی تعالٰی) کی جانب سے نہیں۔ اور اگر دشمن کے ڈرائے بغیر یہ خوفزدہ ہوا (اورتیمم کرلیا) تو اعادہ نہیں۔ اس لئے کہ خدائے تعالٰی نے ہی اس کے دل میں خوف ڈال دیا تو یہ عذر صاحبِ حق کی جانب سے ہی آیا لہذا اس پر اعادہ لازم نہیں''۔ اھ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    ابحاث الغسل    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۱۵)
Flag Counter