Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
94 - 166
اقول: یہ ایک شرعی مسئلہ ہے کہ ان بلاد میں جاری نہیں یہاں قرضخواہ نالش کے سوا خود حبس کا اختیار نہیں رکھتا تو یہ یہاں یوں عذر نہیں بلکہ اس طرح کہ اُس نے گرفتاری جاری کرائی ہے اگر وہاں جاتا یا باہر نکلتا ہے گرفتار ہوجائے گا (۱۳) جو وارنٹ کے سبب پانی کے پاس نہیں جاسکتا (۱۴) جو پولیس سے رُوپوش ہے
وقد ذکروا(۱) فی الجمعۃ ان الاختفاء من السلطان الظالم مسقط ۲؎
فتح وھندیۃ (علماء نے جمعہ کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ ظالم بادشاہ کے خوف سے رُوپوشی کے سبب جمعہ ساقط ہوجاتا ہے۔ فتح، ہندیہ۔ ت)
 (۲؎ فتح القدیر        باب صلوٰۃ الجمعۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر        ۲/۳۲)
 (۱۵) اقول یہ دونوں صورتیں کہ فقیر نے زائد کیں ظاہر ہیں اور مسئلہ مدیون سے بدلالۃ النص ثابت تیسری صورت اور ہے کہ عزّت دینی والا عالم دین جسے اعزاز دین وعلم دین کیلئے کچہریوں سے احتراز ہے مخالف نے ایذار سانی کیلئے اُسے شہادت میں لکھا دیا یا اور کسی طرح طلب کرایا سمن جاری ہے اُس کے خوف سے باہر نہیں جاسکتا ظاہراً یہ بھی اِن شاء اللہ العزیز عذر صحیح ہے کہ آخر یہ مضرت ایک پیسے کے نقصان سے جس کیلئے شرع نے تیمم جائز فرمایا جس کا ذکر عنقریب آتا ہے کہیں زیادہ ہے
فلیحرر ولیتأمل واللّٰہ تعالٰی اعلم
(اس کی توضیح اور اس میں تأمل کی ضرورت ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ ت)
 (۱۶ تا ۳۲) اقول:  ۱۰ سے ۱۵ تک ہر صورت میں یہ بھی شرط ہے کہ کوئی پانی لادینے والا غلام خادم بیٹا وغیرہ نہ ملے اور ہر ایک میں بدستور یہ تین تین صورتیں بڑھیں گی کہ اُجرت پر لادینے والا اجرت مثل سے زائد مانگتا ہے یا یہ اُجرت دینے پر قادر نہیں یا اس وقت پاس نہیں اور وہ ادھار پر راضی نہیں۔
 (۳۴) مال پاس ہے اپنا خواہ امانت اور پانی پر ساتھ لے جانے کا نہیں نہ یہاں کوئی محافظ اگر پانی لینےجائے تو اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ۱؎ بحر ودر جبکہ وہ مال ایک درم سے کم نہ ہو ۲؎
علی مااستفاد ش من فرع التاترخانیۃ المذکور والمسألۃ تحتاج بعد الی زیادۃ تحریر
 (یہ اس بنیاد پر ہے جو علامہ شامی نے تاتارخانیہ کے مذکورہ جزئیہ سے استفادہ کرتے ہوئے کہا مگر یہ مسئلہ اب بھی مزید توضیح کا محتاج ہے۔ ت)
 (۱؎ الدرالمختار        باب التیمم    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۴۱)

(۲؎ ردالمحتار     باب التیمم      مصطفی البابی مصر        ۱/۱۷۳)
 (۳۵) پانی ملتا ہے مگر دو چند قیمت کو یعنی اُس جگہ بازار کے بھاؤ سے اتنے پانی کی جو قیمت ہے بیچنے والا اُس سے دو چند مانگتا ہے ۳؎
بحر عن البدائع والنھایۃ والنوادر وقدمہ فی الخانیۃ فکان ھو الاظھر الاشھر
 (بحر بحوالہ بدائع ونہایہ ونوادر، اور خانیہ میں اسے مقدّم رکھا تو یہی اظہر واشہر ہے۔ ت)
 (۳؎ البحرالرائق   باب التیمم   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی،  ۱/۱۶۲)
 (۳۶) قیمت(۱) مثل ہی کو ملتا ہے مگر یہ مفلس ہے یعنی حاجت سے زائد اتنا مال نہیں رکھتا ۴؎ کمافی الدر (جیسا کہ دُرمختار میں ہے۔ ت)
 (۴؎ الدرالمختار   باب التیمم   مجتبائی دہلی        ۱/۴۴)
 (۳۷) مال تو رکھتا ہے مگر یہاں نہیں اور بیچنے والا اُدھاردینے پر راضی نہیں ہاں(۲) راضی ہو تو خریدنا واجب اور اگر کوئی (۳) اُتنے دام اسے قرض دینا چاہے تو لینا لازم نہیں تیمم کرسکتا ہے
لان الاجل لازم  ولامطالبۃ قبل حلولہ بخلاف القرض ۵؎ ش عن البحر
 (اس لئے کہ ادھار کی صورت میں مقررہ میعاد لازم ہوگی اور اس سے پہلے مطالبہ نہیں ہوسکتا، اور قرض کا حکم اس کے برخلاف ہے۔ شامی بحوالہ بحر۔ ت)
 (۵؎ ردالمحتار     باب التیمم     مصطفی البابی مصر        ۱/۱۸۴)
تنبیہ: شریعتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رحمت دیکھیے ہمارے ایک ایک پیسے پر لحاظ فرمایا گیا نہانے کی حاجت ہے اور وہاں قابلِ غسل پانی کی قیمت ایک پیسہ ہو اور جس کے پاس ہے دو۲ پیسے مانگتا ہے پیسہ زیادہ نہ دو اور تیمم کرکے نماز پڑھ لو ایسی رحمت والی شریعت کے کسی حکم کو کرّا سمجھنا یا شامتِ نفس سے بجا نہ لانا کیسی ناشکری وبے حیائی ہے مولٰی عزوجل صدقہ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی رحمت کا اس فقیر عاجز اور سب اہل سنّت کو کامل اتباع شریعت کی توفیق بخشے اور اپنی رحمت محضہ سے قبول فرمائے آمین وصلی اللہ تعالٰی علٰی سیدنا محمد وآلہٖ وصحبہ اجمعین (۳۸) مریض ہے پانی سے طہارت کرے تو مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں اچھا ہوگا اور یہ بات ظاہر علامت(۴) یا تجربہ سے ثابت ہو ۶؎ ش عن الغنیۃ (شامی بحوالہ غنیہ)
 (۶؎ ردالمحتار     باب التیمم     مصطفی البابی مصر  ۱/۱۷۱)
یا طبیب حاذق مسلم مستور ایسا کہے در و ش وقیل عدالتہ شرط ۱؎ غنیۃ
(درمختار وشامی، اور کہا گیا کہ اس کا عادل ہونا شرط ہے۔ غنیہ۔ ت)
 (۱؎ ردالمحتار مع الدرالمختار      باب التیمم    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۷۱)
اقول: فیہ مافیہ من الحرج وماشرع التیمّم الا لدفعہ
(اس پر اعتراض یہ ہے کہ اس میں حرج ہے حالانکہ تیمم دفع حرج ہی کیلئے مشروع ہوا۔ ت)
 (۳۹) یوں ہی اگر فی الحال مرض نہیں مگر تجربہ وغیرہ دلائل معتبرہ شرعیہ مذکورہ سے ثابت ہے کہ اس وقت پانی سے طہارت کی تو بیمار ہوجائے گا ۲؎ ش عن القھستانی (شامی از قہستانی۔ ت)
 (۲؎ ردالمحتار مع الدرالمختار      باب التیمم    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۷۱)
(۴۰) سردی شدید ہے اور حمام نہیں یا اُجرت دینے کو نہیں نہ پانی گرم کرسکتا ہے نہ ایسے کپڑے میں کہ نہا کر اُن سے گرمی حاصل کرسکے نہ تاپنے کو الاؤمل سکتا ہے اور اس سردی میں نہانے سے مرض کا صحیح خوف ہے تو تیمم کرسکتا ہے اگرچہ شہر میں ہو ۳؎ درمختار۔ سردی کے باعث وضو نہیں چھوڑ سکتا
 وھو الصحیح کما فی الخانیہ والخلاصۃ بل ھو بالاجماع، مصفی ۴؎
 (یہی صحیح ہے۔ خانیہ، خلاصہ بلکہ یہ بالاجماع ہے۔ مصفی۔ ت) ہاں اگر اُس سردی میں وضو سے بھی صحیح خوف حدوث مرض ہو جب بھی تیمم کرے ۵؎ ش عن الامداد (شامی بحوالہ امداد الفتاح۔ ت)
 (۳؎ الدرالمختار          باب التیمم    مجتبائی دہلی        ۱/۴۱)

(۴؎ ردالمحتار    باب التیمم    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۷۲ و ۱۷۱)

( ۵؎ ردالمحتار    باب التیمم    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۷۲ و ۱۷۱)
خالی وہم کا اعتبار نہانے میں بھی نہیں وضو تو وضو (۴۱) مریض کو پانی سے طہارت تو مضر نہیں مگر جنبش مضر ہے   (۴۲) ضرر تو کچھ نہیں مگر وضو نہیں کرسکتا اور دوسرا کرانے والا نہیں اور اگر ہے تو مثلاً غلام یا نوکر یا اولاد جن پر اس کی اطاعت وخدمت لازم ہے تو بالاتفاق تیمم نہیں کرسکتا اور اگر اُس پر خدمت لازم تو نہیں مگر اس کے کہنے سے وضو کرادے گا جیسے دوست یا زوج یا زوجہ تو معتمدیہ کہ اب بھی تیمم جائز نہیں ۶؎
 (۶؎ بحرالرائق        باب التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۴۰)
 (۴۳)دوسرا ہے مگر وہ اجرت مانگتا ہے اور یہ قادر نہیں (۴۴) قادر بھی ہے مگر وہ اُجرت مثل سے زیادہ مانگتا ہے ۷؎
الکل فی البحر والدر
 (یہ سب بحررائق اور درمختار میں ہے۔ ت)
 (۷؎ بحرالرائق باب التیمم،  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱/۱۴۱)
 (۴۵) اقول: یہاں بھی وہ صورت آئیگی کہ وہ اُجرت مثل ہی مانگتا ہے اور یہ دے بھی سکتا ہے مگر یہاں نہیں اور وہ اُدھار پر راضی نہیں (۴۶ تا ۴۸) سفر میں پانی پاس موجود ہے اور استعمال پر قدرت بھی اور مرض کا بھی اندیشہ نہیں مگر اس سے طہارت کرتا ہے تو اب(۱) یا بعد کو یہ یا(۲) اور کوئی مسلمان یا(۳) اس کا جانور اگرچہ وہ کُتّا جس کا پالنا جائز ہے پیاسا رہ جائے گا (۴۹) یا(۴۹) آٹا گوندھنے کو پھر پانی نہ ملے گا (۵۰) یا(۵) بدن یا بقدر ستر عورت کے کپڑے پر نجاست ہے جس سے نماز نہ ہوگی اور اگر وضو یا غسل کرلیا تو اتنی نجاست پاک کرنے کو جس سے وہ مانع نماز نہ رہے پانی نہ ملے گا، یہ پانچوں صورتیں ہمارے رسالہ النور والنورق فصل اول نمبر ۳۱ میں مشرح ہیں (۵۱) راہ میں سبیل کا پانی موجود ہے مگر وہ پینے کیلئے وقف ہے غسل ووضو کیلئے نہیں۔ اس کا نہایت مفصل مکمل بیان ہمارے اسی رسالے نمبر ۲۹ میں ہے (۵۲) طہارت ہی کیلئے وقف ہے مگر ایک قوم خاص یا وصف خاص پر اور یہ اُن میں نہیں اس کا بیان نمبر ۳۰ میں ہے۔
 (۵۳) پانی دوسرے کی مِلک ہے اور اس کیلئے اجازت نہیں اس کا بیان نمبر ۳۲ وغیرہ میں ہے (۵۴) نہانے کی حاجت ہے اور وہاں کچھ لوگ ہیں کہ نہ وہ ہٹتے ہیں نہ اُسے آڑ ملتی ہے نہ کچھ باندھ کر نہانے کو ہے تیمم کرے اگرچہ مرد صرف مردوں ہی میں ہو یا عورت صرف عورتوں میں  ۱؎
علی مااستظھر فی الحلیۃ والغنیۃ خلافا لما فی القنیۃ والدر
 (یہ اس بنیاد پر ہے جسے حلیہ اور غنیہ میں ظاہر کہہ کے بیان کیا اس کے برخلاف جو قنیہ اور درمختار میں ہے۔ ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی        سنن الغسل    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۵۱)
Flag Counter