Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
93 - 166
تعریف ہفتم رضوی۔ اقول وباللّٰہ التوفیق ان مباحث جلیلہ میں جو کچھ ہم نے منقح کیا اس پر تیمم کی تعریف اصح واوضح واصرح بعونہٖ تعالٰی یہ ہُوئی کہ فرض طہارت کیلئے کافی پانی سے عجز کی حالت میں مسلمان عاقل کا اپنے بدن سے نجاست حکمیہ حقیقۃً یا صورۃً یا میت مسلم کے بدن سے نجاست موت حقیقیہ یا دوسرے قول پر حکمیہ دُور کرنے کیلئے اپنے یا اُس میت کے مُنہ اور ہاتھوں سے اُتنے حصّہ پر جس کا دھونا وضو میں ہے جنس زمین سے کسی کامل الطہارۃ چیز کو خود یا اپنی نیت مذکورہ سے دوسرے کو حکم دے کر اُس کے واسطہ سے یوں استعمال کرنا کہ یا تو خود اس فعل سے اُن دونوں عضووں کے ہر جز کو اُس جنس ارض سے مس واقع ہو یا اپنے خواہ اپنے مامور کے وہ کف کہ اس کی نیت مذکور کے ساتھ جنس ارض سے اتصال دئے گئے ہوں اُن کے اکثر کا جدا جدا اتصالوں سے مُنہ اور کہنیوں کے اوپر ہر ہاتھ سے اس طرح مس ہونا کہ کوئی حصّہ ایسا نہ رہے جسے خود جنس ارض یا اُس کف سے اتصال نہ ہو۔
توضیحات: ہمارے ان بیانات وقیود کے بہت فوائد مباحث سابقہ سے روشن ہیں مگر ہمارے عوام بھائی کہ عربی نہ سمجھیں اُن کیلئے اجمالاً اعادہ اور کثیر وغزیر جدید فوائد کا کہ پہلے مذکور نہ ہوئے افادہ کریں
سمح الندرٰی فیما یورث العجز عن الماء(۱۳۳۵ھ)
فاقول:  وباللّٰہ التوفیق اوّل پانی سے عجز کی ۱۷۵ صورتیں ہیں: (۱) پانی وہاں سے میل بھر دُور ہو اگرچہ خود(۱) اپنے شہر ہی میں ہو یا سفر میں اُسی طرف جدھر جارہا ہے، درمختار میں ہے: لبعدہ ولومقیما فی المصر میلا ۱؎ (کیونکہ وہ پانی سے ایک میل دُور ہے اگرچہ شہر ہی میں مقیم ہے۔ ت) فتح القدیر میں ہے قولہ المیل ھو المختار احتراز عما قیل میلان اومیلان ان کان الماء امامہ والا فمیل ۲؎ (مصنف کا قول ''میل'' یہی مختار ہے۔ یہ ان دونوں قولوں سے احتراز ہے: (i) دو میل (ii) دو میل اگر پانی اس کے آگے سمت میں ہو ورنہ ایک میل۔ ت)
 (۱؎ الدرالمختار             باب التیمم    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۴۱)

(۲؎ فتح القدیر     باب التیمم    نوریہ رضویہ سکھر        ۱/۱۰۸)
تنبیہ: رحمۃ اللعالمین بالمومنین رؤف رحیم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شریعت مطہرہ کی رحمت دیکھیے ہمارے صرف میل بھر چلنے کی مشقت پر ایسا لحاظ فرمایا کہ اس کیلئے وضو بلکہ بحال جنابت غسل کی ضرورت نہ رکھی تیمم جائز فرمادیا اگرچہ آدمی خود اپنے شہر میں ہو بلکہ سفر میں جس طرف جانا ہے اسی طرف میل بھر ہو جب بھی یہاں تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے اگرچہ یہ میل خود ہی طے کرے گا ہاں(۲) جس طرف جاتا ہے اُدھر ہی پانی ہے اور جانے میں وقت کراہت نہ آجائے گا تو مستحب یہ ہے کہ وہاں پہنچ کر پانی ہی سے طہارت کرکے نماز پڑھے متون میں ہے
ندب لراجیہ اٰخر الوقت تنویر۔ المستحب در۔ ھو الاصح ش ۳؎
(اس کیلئے تاخیر مندوب ہے جو آخر وقت میں پانی ملنے کی امید رکھتا ہو۔ تنویر الابصار یعنی۔ آخر وقت مستحب میں درمختار یہی اصح ہے۔ شامی۔ ت)
 (۳؎ ردالمحتار مع الرد     باب التیمم     مصطفی البابی مصر        ۱/۱۸۲)
 (۲) جنگل میں کُنواں ہے رسّی یا ڈول بھرنے کا آلہ نہیں نہ عمامے وغیرہ سے نکال سکے نہ کوئی ایسا ہو کہ پانی اُتر کر لادے (۳) یا لانے والا اُجرت مثل سے زائد مانگتا ہے ۴؎
کما فی البحر عن التوشیح
(جیسا کہ البحرالرائق میں توشیح کے حوالے سے ہے۔ ت)
 (۴؎ بحرالرائق    باب التیمم     سعید کمپنی کراچی        ۱/۱۴۳)
 (۴) اقول:  یا یہ مفلس ہے کہ اُجرت دے ہی نہیں سکتا (۵) یا یہاں دینے کو نہیں اس کا مال دوسری جگہ ہے اور اجیر ادھار پر راضی نہیں اور اگر راضی ہوجائے تو تیمم جائز نہ ہوگا
زدتھما اخذا مما یأتی فی ثمن الماء
 (پانی کے دام سے متعلق جو مسئلہ آرہا ہے اس سے اخذ کرتے ہوئے میں نے ان دو۲ صورتوں کا اضافہ کیا۔ ت) (۶) کپڑا تو ایسا ہے جسے رسّی کی جگہ کرکے پانی نکال سکتا ہے یا بار بار ڈبو کر نچوڑنے سے پانی قابلِ طہارت لے سکتا ہے مگر ایسا کرنے سے کپڑا خراب ہوجائیگا یا پانی تک پہنچنے کیلئے اُسے بیچ میں چیر کر باندھنا درکار ہوگا۔اور ایسا کرنے سے اس میں ایک درم کا نقصان ہوتا ہے جب بھی تیمم کی اجازت ہے ورنہ نہیں ش
عن التاتارخانیۃ عن الامام فقیہ النفس خلافا لما فی التوشیح فالبحر فالنھر فالدر معتمدین مافی کتب الشافعیۃ ان لونقص قدر قیمۃ الماء واٰلۃ الاستقاء لایتیمم وان زاد تیمم ۱؎
 (شامی از تاتارخانیہ از امام فقیہ النفس قاضی خان اس کے برخلاف جو توشیح پھر بحر پھر نہر پھر در میں ہے اس پر اعتماد کرتے ہوئے جو کتب شافعیہ میں ہے کہ اگر پانی اور پانی کھینچنے کے آلے کی قیمت بقدر نقصان ہو تو تیمم نہ کرے ورنہ تیمّم کرلے۔ ت)
 (۱؎ ردالمحتار         باب التیمم    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۷۳)
فائدہ(۱) درم شرعی یہاں کے روپے سے ۲۵/۷ ہے یعنی ساڑھے چار آنے سے ۲۵/۶ پائی کم۔
 (۷) تالاب کا پانی اُوپر سے بوجہ برف جم گیا ہے اور اس کے پاس کوئی آلہ نہیں کہ اُسے توڑ کر نیچے سے پانی نکال سکے یا برف کو پگھلا سکے بحر عن المبتغی ۲؎ (بحر نے مبتغی کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔ ت)
 (۲؎ البحرالرائق     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۴۳)
اقول: اگر بلا آلہ ہوا سے پگھلا سکے جب بھی تیمم روانہ ہوگا مگر یہ کہ اتنی دیر میں پگھلے کہ وقت جاتا رہے گا تو تیمم کرکے پڑھ لے۔
وھل ھو علی قول زفر المفتی بہ من جواز التیمم لخوف فوت وقتیۃ فیعمل بہ ثم یعید متطھرا بالماء عملا باصل المذھب ام علی قول الکل۔
کیا یہ حکم امام زفر کے مفتی بہ قول پر ہے کہ اگر نماز وقتیہ کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو تیمم جائز ہے۔ لہذا اس پر عمل کرلے، پھر اصل مذہب پر عمل کرتے ہوئے پانی سے وضو کرکے نماز کا اعادہ کرے؟ یا یہ سب کے قول پر ہے؟
اقول: الظاھر الثانی لانہ عادم للماء حقیقۃ بخلاف مسألۃ زفر فیسوغ التیمم فان کان یجدہ بعد الوقت بالذوبان الا تری ان راجیہ آخر الوقت لایجب علیہ التاخیر فکیف من لایرجوہ فی الوقت اصلا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول: ظاہر یہ ہے کہ سب کے قول پر ہے۔ اس لئے کہ حقیقۃً وہ پانی پانے والا نہیں بخلاف مسئلہ امام زفر کے تو تیمم اس کیلئے جائز ہے اگرچہ وقت کے بعد پگھلنے سے وہ پانی پالے گا دیکھئے کہ جسے آخر وقت میں پانی ملنے کی امید ہو اس پر تاخیر واجب نہیں، پھر اس کا کیا حکم ہوگا جسے وقت میں پانی ملنے کی بالکل امید نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۸) پانی کے پاس شیر بھیڑیا وغیرہ درندہ یا سانپ یا آگ ہے کہ پانی لے نہیں سکتا (۹) رہزن ہے کہ لوٹ لے گا (۱۰) دشمن ہے جس سے حملہ کا صحیح اندیشہ ہے (۱۱) فاسق ہے کہ عورت یا امرد کو اس سے اندیشہ بدکاری ہے (۱۲) قرضخواہ ہے اور یہ مفلس وہ مطالبہ میں حبس کرلے گا الکل فی البحر والدر ۱؎ (یہ سب البحرالرائق اور دُرمختار میں ہے۔ ت)
  (۱؎ البحرالرائق        باب التیمم        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۴۲)
Flag Counter