Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
92 - 166
فثبت(۲) وللّٰہ الحمد ان الحدیث ینفی تنجس المسلم بالموت فوجب کما قال المحققان ترجیح ان غسلہ للحدث وقد قال فی البحر انہ الاصح اما(۳) فرعا فساد صلاۃ حاملہ قبل الغسل والماء(۴) القلیل بوقوعہ فمبنیان علی قول العامۃ کما جوزہ ش اقول ونعمل بھما اخذا بالاحتیاط اما الکافر فجیفۃ خبیثۃ قطعا فالحکمان فیہ قطعیان واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
تو بحمداللہ یہ ثابت ہوگیا کہ حدیث پاک سے موت کی وجہ سے مسلمان کے نجس ہونے کی نفی ہوتی ہے تو دونوں محققوں کے فرمان کے بموجب اس کی ترجیح ضروری ہے کہ غسلِ میت حدث کی وجہ سے ہے۔ اور بحر میں فرمایا ہے کہ ''یہی اصح ہے اب رہے یہ دو۲ جزئیے کہ اگر کوئی غسل دئے بغیر مُردہ کو نماز میں لیے ہوئے ہو تو اس کی نماز فاسد ہوجاتی ہے (اور مردہ آبِ قلیل میں پڑ جائے تو وہ پانی فاسد ہوجاتا ہے''۔ تو یہ دونوں مسئلے عامہ مشائخ کے قول کی بنیاد پر ہیں، جیسا کہ علّامہ شامی نے بطور تجویز واحتمال اسے کہا ہے (یعنی یہ کہ ہوسکتا ہے کہ یہ قول عامہ کی بنیاد پر ہو، اور حقیقۃً یہ انہی کے قول پر مبنی ہے) اقول اور احتیاط کا پہلو اختیار کرتے ہوئے ہمارا عمل مذکورہ دونوں مسئلوں پر ہوگا۔ لیکن کافر قطعاً مردار خبیث ہے تو اس کے بارے میں دونوں حکم قطعی ہیں واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول:  ای غیر الانبیاء فانھم صلوات اللّٰہ تعالٰی وسلامہ علیھم طیبون طاھرون احیاء وامواتا بل لا(۱) موت لھم الا اٰنیا تصدیقا للوعد ثم ھم احیاء ابدا بحیاۃ حقیقۃ دنیاویۃ روحانیۃ جسمانیۃ کما ھو معتقد اھل السنۃ والجماعۃ ولذا لایورثون ویمتنع تزوج نسائھم صلوات اللّٰہ تعالی وسلامہ علیہم بخلاف الشھداء(۱) الذین نص الکتاب العزیز انھم احیاء ونھی ان یقال لھم اموات فعلی قول العامۃ یکون ھذا التیمم مطھراعن خبث۔
اقول: مراد غیر انبیاء ہیں اس لئے کہ حضرات انبیاء صلوٰت اللہ تعالٰی وسلامہ علیہم۔حیات وممات ہر حالت میں طیب وطاہر ہیں بلکہ ان کیلئے موت محض آنی تصدیق وعدہ، الٰہیہ کے لئے ہے پھر وہ ہمیشہ حیات حقیقی ودنیاوی روحانی وجسمانی کے ساتھ زندہ ہیں جیسا کہ اہل السنت والجماعت کا عقیدہ ہے اسی لئے کوئی ان کا وارث نہیں ہوتا اور ان کی عورتوں کا کسی سے نکاح کرنا ممتنع ہے صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہم بخلاف شہداء کے جن کے بارے میں کتاب مجید نے صراحت فرمائی ہے کہ وہ زندہ ہیں اور اس سے نہی فرمائی ہے کہ انہیں مردہ کہا جائے (مگر ان کی میراث تقسیم ہوگی، ان کی ازواج کا دوسرا نکاح ہوسکتا ہے) تو عامہ مشائخ کے قول پر یہ تیمم میت اسے خبث سے پاک کرنے والا ہوگا۔
اقول و ربما یترجح بہ قول من قال ان الموت حدث وافاد فی طھارۃ البحر الرائق انہ الاصح فان التیمم لم یعرف الامطھرا عن نجاسۃ حکمیۃ قال تعالٰی
اَوْ جَآءَ اَحَدمِّنْکُمْ مِّنَ الْغَائِطِ اَوْ لٰمَسْتُمْ اَلنِّسَآءَ وَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیمَّمُوْا ۱؎
الاٰیۃ الا ان یقال ان المولٰی عــہ سبحٰنہ وتعالٰی جعل ھذا المسح بالصعید مزیلا للخبث عن جمیع بدن المیت عند امتناع الغسل تفضلا منہ وتکرما تعبدا غیر معقول المعنی کما جعل المسح بالحجر مزیلا لہ فی الاستنجاء واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول: اس سے ان حضرات کے قول کی ترجیح سمجھ میں آتی ہے جو یہ فرماتے ہیں کہ موت حدث ہے، اور البحرالرائق کے باب طہارت میں افادہ فرمایا ہے کہ یہی اصح ہے اس لئے کہ تیمم نجاستِ حکمیہ سے مطہّر ہونے کی حیثیت سے ہی جانا پہچانا گیا ہے ارشادِ باری تعالٰی ہے: ''تم میں کا کوئی پاخانہ سے آئے یا تم نے عورتوں سے قربت کی ہو اور پانی نہ پاؤ تو تیمم کرو''۔ مگر یہ کہا جائے کہ مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی نے غسل نہ ہوسکنے کی صورت میں جنسِ زمین سے اس مسح کو پُورے بدنِ میت سے خبث دُور کرنے والا قرار دیا ہے محض ازراہِ فضل وکرم، ایسا حکم تکلیفی جس کا معنی عقل کی دسترس میں نہیں، جیسے استنجاء میں پتھّر سے مسح کو خبث دُور کرنے والا قرار دیا ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
عــہ ولابد للقائلین بالحقیقیۃ ایضا الالتجاء الی مثل ھذا فقد نصوا ان المیت تکفی فیہ غسلۃ واحدۃ وانما التثلیث سنۃ ولوکانت حقیقیۃ لوجب التثلیث فاجابوا بان ھذا من تکریم اللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی عبدہ المسلم المیت جعل تطھیرہ بمرۃ واحدۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

نجاست حقیقیہ ماننے والوں کیلئے بھی اس طرح کی بات سے مفر نہیں کیوں کہ انہوں نے بھی یہ تصریح کی ہے میت کے بدن کو ایک بار دھونا ہی کفایت کرتا ہے اور تین بار دھونا فقط سنّت ہے۔ اگر نجاست حقیقیہ ہوتی تو تین بار دھونا واجب ہوتا۔ اس کا انہوں نے یہ جواب دیا ہے کہ یہ اللہ سبحانہ وتعالٰی کی جانب سے اپنے بندہ مسلم کی میت کی تکریم ہے کہ ایک بار سے ہی اس کی تطہیر کا حکم فرمادیا ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ القرآن    ۴/۴۳)
الثانی : یؤمر الصبی العاقل بالوضوء والصلاۃ فان کان مریضا اوعلٰی سفر ولم یجد ماء تیمّم ولایخرج تیممہ من التیمم الشرعی کوضوئہ وصلاتہ مع انہ لایحدث عندہ کمابیناہ فی الطرس المعدل فیراد فیہ صورۃ التطھیر وان لم یکن تطہیرا حقیقۃ لعدم النجاسۃ الحکمیۃ فکان کقول الخانیۃ الصبی العاقل اذا توضأ یرید بہ التطھیر ینبغی ان یصیر الماء مستعملا لانہ نوی قربۃ معتبرۃ ۱؎ اھ تامل۔
دوم: عاقل بچہ کو وضو ونماز کا حکم دیا جائیگا، تو اگر وہ بیمار، یا سفر میں ہو اور پانی نہ پائے تو تیمم کرے اور اس کا تیمم، تیمم شرعی سے باہر نہیں، جیسے اس کا وضو اور نماز۔ حالانکہ اس کے پاس حدث نہیں، جیسا کہ الطرس المعدل میں ہم نے اسے بیان کیا ہے تو اس میں تطہیر کی صورت مقصود ہوتی ہے اگرچہ حقیقۃً تطہیر نہ ہو کیوں کہ نجاست حکمیہ نہیں۔ تو ایسا ہوگا جیسے خانیہ میں فرمایا ہے: ''عاقل بچّہ جب تطہیر کے ارادہ سے وضو کرے تو پانی مستعمل ہوجانا چاہئے اس لئے کہ اس نے ایک معتبر قربت کا ارادہ کیا'' اھ تامل (غور کرو)
 (۱؎ فتاوٰی قاضیخان، آخر فصل فی الماء المستعمل۔ ۱/۹)
وقد یقال علی مابینا فی الطرس المعدل ان(۱) النجاسۃ الحکمیۃ تعم المعاصی والمکروھات ولذا کان الوضوء علی الوضوء منویا موجبا لاستعمال الماء مع عدم حدث یسلب الماء طھوریتہ ونص(۲) علماء الباطن منھم سیدی عبدالوھاب الشعرانی قدس سرّہ فی المیزان ان للاطفال ایضا معاصی بحسبھم وان لم تعد معاصی فی ظاھر الشریعۃ وبھا یصیبھم مایصیبھم کما لا(۳) تعضد شجرۃ ولا تسقط ورقۃ ولایذبح حیوان الالغفلتہ عن التسبیح فعلی ھذا تحقق النجاسۃ الحکمیۃ فیھم ایضا حقیقۃ ۱؎ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
یہ بھی کہا جاسکتا ہے جیسا کہ ہم نے ''الطرس المعدل'' میں بیان کیا ہے کہ نجاست حکمیہ معاصی اور مکروہات دونوں ہی کو عام ہے اس لئے نیت کے ساتھ وضو پر وضو پانی کے مستعمل ہونے کا سبب ہے جبکہ ایسا کوئی حدث نہیں جو پانی سے مطہر ہونے کی صفت سلب کررہا ہو۔ اور علمائے باطن نے۔ جن میں سے سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ میزان الشریعۃ الکبرٰی میں رقمطراز ہیں۔ تصریح فرمائی ہے کہ بچّوں کیلئے بھی ان کی حالت کے لحاظ سے معاصی ہوتے ہیں اگرچہ ظاہر شریعت میں وہ معاصی کے دائرہ میں شمار نہیں، اور ان ہی معاصی کی وجہ سے انہیں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ پہنچتی ہے جیسے یہ ہے کہ کوئی بھی درخت کاٹا جاتا ہے یا کوئی پتّہ گرتا ہے یا کوئی جانور ذبح کیا جاتا ہے تو اس وجہ سے کہ وہ تسبیح الٰہی سے غافل ہوا۔ تو اس قول کی بنیاد پر بچّوں میں بھی نجاست حکمیہ کا ثبوت حقیقۃً ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ المیزان الکبرٰی    خاتمۃ الکتاب    مصطفی البابی مصر    ۲/۲۰۹)
الثالث:  قدمنا ان الاستعمال ھو المسح وقولک مسح العضوین علی قصد التطھیر یتبادر منہ ان الماسح ھو القاصد ولیس ھذا علی اطلاقہ فان من یمم غیرہ بامرہ یعتبر فیہ نیۃ الاٰمر دون المامور کما تقدم عن البحر نعم من یتمم بنفسہ اویمم(۱) میتا اعتبر فیہ نیۃ الماسح واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
سوم: ہم بتاچکے ہیں کہ استعمالِ صعید سے مراد مسح ہے۔ اور ''بقصدِ تطہیر دونوں عضووں کا مسح'' کہنے سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ مسح کرنے والا قصد کرنے والا بھی ہوگا۔ حالانکہ یہ حکم مطلق نہیں اس لئے کہ جو کسی دوسرے کو اس کے حکم سے تیمم کرائے اس میں آمر کی نیت کا اعتبار ہوگا مامور کی نیت کا نہیں جیسا کہ البحرالرائق کے حوالے سے گزرا۔ ہاں جو خود تیمم کرے یا کسی میت کو تیمم کرائے تو اس میں مسح کرنے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
Flag Counter