| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
اقول: وفیہ ثلٰثۃ مباحث الاوّل الظاھر ان المراد بالتطھیر ازالۃ النجاسۃ الحکمیۃ لکن ربما ییمم(۱) المیت اذالم یوجد ماء اوکان رجلا بین نساء اوامرأۃ بین رجال اوخنثی مراھقۃ مطلقا فانہ ییمہ المحرم فان لم یکن فالاجنبی بخرقۃ ۱؎ الکل فی الدر ویأتی مفصلا وقد(۲) قال عامۃ المشائخ ان المیت یتنجس بالموت نجاسۃ حقیقۃ وھو الاظھر ۲؎ بدائع وھو الصحیح ۳؎ کافی وھو الاقیس عــہ فتح ۴؎۔
اقول: یہاں تین بحثیں ہیں: اول ظاہر یہ ہے کہ تطہیر سے نجاست حکمیہ کا ازالہ مراد ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ میت کو تیمم کرایا جاتا ہے جب پانی نہ ملے یا میت عورتوں کے درمیان کوئی مرد، یا مردوں کے درمیان کوئی عورت یا کوئی مراہق خنثی ہو مطلقا۔ اسے کوئی محرم تیمم کرائے گا، وہ نہ ہو تو اجنبی کسی کپڑے کے ذریعے تیمم کرائے گا۔ یہ سب درمختار میں ہے اور تفصیلی ذکر آگے آئیگا اور عامہ مشائخ نے یہ فرمایا ہے کہ موت سے میت نجاست حقیقیہ کے ساتھ نجس ہوجاتی ہے اور یہ ظاہر تر ہے، بدائع-- یہی صحیح ہے، کافی-- یہی زیادہ قرین قیاس ہے، فتح القدیر۔
(۱؎ الدرالمختار باب صلاۃ الجنائز مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۱۱۹) (۲؎ بدائع الصنائع فصل فی وجوب غسل المیت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۲۹۹) (۳؎ کافی) (۴؎ فتح القدیر فصل فی الغسل نُوریہ رضویہ سکھّر ۱/۷۰)
عــہ لان الاٰدمی حیوان دموی فیتنجس بالموت کسائر الحیوان فتح اقول ویرد علیہ ان لوکان کذالم یمکن تطہیرہ بالغسل الاتری الجیفۃ لوغسلت الف مرۃ لم تطھر وانما یطھر منھا الجلد بالدباغ وجلد الانسان لایحتملہ ولعل قولی ھذا اولی من قول القائلین بالحدث اذقالوا نجاسۃ الحدث تزول بالغسل لانجاسۃ الموت لقیام موجبھا بعدہ فغسل المسلم لیس لنجاسۃ تحل بالموت بل للحدث لان الموت سبب الاسترخاء و زوال العقل ولما کان یرد علیہ ان ھذا سبب الوضوء دون الغسل قالوا بل ھو سبب الغسل وکان ھو القیاس فی الحی وانما اقتصر فیہ علی الوضوء دفعا للحرج لتکرر سبب الحدث منہ بخلاف المیت ۱؎ اھ اذیرد علیہ مافی الفتح ان قیام الموت مشترک الالزام فان سبب الحدث ایضا قائم بعد الغسل ۲؎ اھ۔ اس لئے کہ آدمی، خُون رکھنے والا جاندار ہے تو یہ بھی ایسے دوسرے جانداروں کی طرح موت سے نجس ہوجائیگا، فتح القدیر۔ اقول اس پر یہ اعتراض وارد ہوگا کہ اگر ایسا ہوتا تو غسل سے اس کی تطہیر ممکن نہ ہوتی۔ دیکھ لیجئے کہ مردار کو اگر ہزار بار بھی غسل دیا جائے تو پاک نہ ہوگا، ہاں دباغت سے صرف اس کی جلد پاک ہوجاتی ہے، اور انسان کی جلد میں اس کا احتمال نہیں۔ امید ہے کہ میری مذکورہ عبارت حدثِ میت کے قائل حضرات کی اس عبارت سے بہتر ہوگی جس میں انہوں نے یہ کہا کہ ''حدث ہی کی نجاست ہے جو غسل سے دُور ہوتی ہے نہ کہ موت کی نجاست، اس لئے کہ اس نجاست کا سبب (موت) تو بعد غسل بھی قائم وباقی رہتا ہے۔ تو مسلم کا غسل کسی ایسی نجاست کی وجہ سے نہیں جو موت سے اس میں حلول کرجاتی ہے بلکہ حدث کی وجہ سے ہے، اس لئے کہ موت اعضاء کے ڈھیلے پڑنے اور عقل کے زائل ہونے کا سبب ہے'' اس پر جو اعتراض وارد ہوتا تھا کہ یہ تو وضو کا سبب ہے غسل کا نہیں، تو اس کے جواب میں ان حضرات نے کہا: ''بلکہ یہ غسل ہی کا سبب ہے اور زندہ شخص میں بھی قیاس کا تقاضا یہی تھا کہ اس سے غسل لازم ہو، مگر دفع حرج کیلئے اس میں صرف وضو پر اکتفا کا حکم ہوا کیونکہ اس سے یہ سبب باربار پایا جاتا ہے بخلاف میت کے، کہ اس میں ایسا نہیں''۔ اھ۔ اس عبارت پر وہ اعتراض وارد ہوتا ہے جو فتح القدیر میں ہے کہ ''سبب کے قائم وباقی رہنے کا الزام تو دونوں ہی صورتوں میں مشترک ہے کیونکہ حدث کا سبب بھی تو غسل کے بعد قائم وباقی رہتا ہے'' اھ۔
(۱؎ فتح القدیر فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/۷۰) ( ۲؎ فتح القدیر فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/۷۰)
واقول: بل لیس(۱) مشترکا فان الموت تبقی النجاسات متشربۃ فی البدن ولاتزول بالغسل والاسترخاء یوجب خروج ریح وبزوال العقل لایتنبہ لہ کالنوم فکان سببا بالعرض وھما قدعرضا للمیت وھو حی فتوجہ الیہ الخطاب وثبتت النجاسۃ الحکمیۃ فاذا غسل زالت ولاتعود لانھا حکمیۃ وقد انھی الموت توجہ الخطاب والتکلیف۔
واقول: (میری عبارت کے برخلاف قائلین حدث کی عبارت پر یہ اعتراض ہے اگرچہ میرے نزدیک اس کا جواب بھی ہے کہ) یہ الزام دونوں قول (نجاست وحدث) میں مشترک نہیں اس لئے کہ موت، بدن میں نجاستوں کو پیوست رہنے دیتی ہے اور وہ غسل سے دُور نہیں ہوتیں۔ اور اعضاء ڈھیلے پڑنا ہوا خارج ہونے کا سبب ہوتا ہے اور آدمی عقل زائل ہونے کی وجہ سے اس پر متنبہ نہیں ہوتا، جیسے نیند کی حالت میں ہوتا ہے۔ تو یہ بالعرض سبب ہوا، اور دونوں امر (اعضاء ڈھیلے پڑنا اور زوالِ عقل) میت کو حالتِ حیات ہی میں عارض ہوئے تو اس کی جانب خطاب متوجہ ہوا، اور نجاست حکمیہ ثابت ہوئی، جب اسے غسل دے دیاگیا تو زائل ہوگئی اور دوبارہ لَوٹنے والی نہیں اس لئے کہ یہ حکمیہ ہے اور موت کی وجہ سے اس کی جانب خطاب کا متوجہ ہونا اور اس کا مکلّف ہونا ختم ہوگیا۔
اما اعتذارھم بان الغسل جعل مطھرا لہ تکریما کما فی الفتح فاقول التکریم ان(۲) لایجعل جیفۃ لاان یحکم بانہ جیفۃ خبیثۃ ثم یحکم بطھارتہ بالغسل مع قیام المنافی وقدقال رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ان المومن لاینجس ۱؎ رواہ الستۃ عن ابی ھریرۃ واحمد والخمسۃ الا الترمذی عن حذیفۃ والنسائی عن ابن مسعود والطبرانی فی الکبیر عن ابی مُوسٰی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وزاد الحاکم من حدیث ابی ھریرۃ حیا ومیتا قال فی الفتح ان صح وجب ترجیح انہ للحدث ۲؎ اھ۔
اب رہا ان (قائلینِ نجاست) کا یہ عذر کہ ''تکریماً اس کے لئے غسل کو مطہّر قرار دیا گیا ہے'' جیسا کہ فتح القدیر میں ہے فاقول: تکریم تو یہ ہے کہ اسے مردار نہ قرار دیا جائے۔ یہ نہیں کہ اس کے مردار خبیث ہونے کا حکم دیا جائے پھر منافی قائم رہنے کے باوجود غسل سے اس کے پاک ہوجانے کا حکم دے دیا جائے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ''یقینا مومن نجس نہیں ہوتا''۔ یہ حدیث صحاح ستّہ میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے اور حضرت حذیفہ سے امام احمد اور ترمذی کے علاوہ پانچوں حضرات نے روایت کیا ہے اور حضرت ابن مسعود سے نسائی نے اور حضرت ابوموسٰی سے رضی اللہ تعالٰی عنہم طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیا ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں حاکم کے الفاظ یہ ہیں کہ (مومن) ''حیات وموت کسی بھی حالت میں'' (نجس نہیں ہوتا) فتح القدیر میں ہے: ''اگر یہ روایت صحیح ہے تو اس قول کی ترجیح لازم ہے کہ غسل حدث کی وجہ سے ہے'' اھ۔
اقول: ولولم یصح لکنی اطلاق الصحاح علی انہ قدصح وللّٰہ الحمد قال فی الحلیۃ قد اخرج الحاکم عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم لاتنجسوا موتاکم فان المؤمن فلاینجس حیا ولامیتا قال صحیح علی شرط البخاری ومسلم وقال الحافظ ضیاء الدین فی کتابہ اسنادہ عندی علی شرط الصحیح فترجح الاول ۱؎ اھ۔
اقول: (الفاظ مذکورہ کے اضافہ کے ساتھ حاکم کی جو روایت ہے) اگر صحیح نہ بھی ہوتی تو صحاح ستّہ کی روایت کا مطلق ہونا ہی کافی ہوتا (مومن نجس نہیں ہوتا، مطلق فرمانے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حیات وموت کسی حالت میں نجس نہیں ہوتا) مگر بحمداللہ روایت حاکم کی صحت ثابت ہے۔ حلیہ میں فرمایا: ''حاکم نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ''اپنے مردوں کونجس نہ قرار دو اس لئے کہ مومن حیات وموت کسی حالت میں نجس نہیں ہوتا''۔ اور کہا کہ یہ صحیح برشرط بخاری ومسلم ہے۔ اور حافظ ضیاء الدین نے اپنی کتاب میں فرمایا: اس کی سند میرے نزدیک برشرط صحیح ہے تو اول کو ترجیح حاصل ہوگئی اھ۔
اقول: وبہ اندفع لانہ لمن تامل تاویل(۱) الغنیۃ ان المراد لاینجس بالجنابۃ لسیاق حدیث ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ۔
اقول تامل کرنے والے کیلئے اسی سے غنیہ کی یہ تاویل بھی دفع ہوجاتی ہے کہ: ''حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سیاق کی روشنی میں اس ارشاد کی مراد یہ ہے کہ مومن جنابت کی وجہ سے نجس نہیں ہوجاتا''۔
اماقول ش المراد نفی النجاسۃ الدائمۃ والالزم ان لواصابہ نجاسۃ خارجیۃ لاینجس ۲؎ اھ ۔
رہا علّامہ شامی کا یہ قول کہ ''اس سے دائمی نجاست کی نفی مراد ہے ورنہ لازم آئے گا کہ اسے کوئی خارجی نجاست لگ جائے تو بھی نجس نہ ہو''۔ اھ
اقول: وقد ظھرلک دفعہ(۲) بما قررنا فبون بین بین ان تصیبہ نجاسۃ من خارج فتزال وان یجعل جیفۃ خبیثۃ نجسا کل جزء جزء منہ ظاھرا وباطنا وھذا ھو حقیقۃ النجس بخلاف من اصاب جلدہ نجاسۃ من خارج فلایصح علیہ حقیقۃ انہ نجس انما النجس مااصابہ النجاسۃ من بشرتہ ،
اقول: ہماری تقریر سابق سے اس کا جواب بھی ناظر پر ظاہر ہے۔ بڑا نمایاں فرق ہے اس میں کہ اسے خارج سے کوئی نجاست لگ جائے پھر دور کردی جائے اور اس میں کہ اسے مردار خبیث، اور ظاہراً باطناً اس کے ہر ہر جز کو نجس قرار دیا جائے۔ یہی نجس کی حقیقت ہے۔ اس کے برخلاف جس کی جلد پر خارج سے کوئی نجاست لگ گئی ہو، اس پر حقیقی طور سے یہ بات راست نہیں آتی کہ وہ نجس ہے نجس تو صرف اس کی ظاہری جلد کا وہ حصہ ہے جس پر نجاست لگی ہے۔