Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
90 - 166
وبالجملۃ فلیس اللازم الا الامساس ومن البین ان التیمم المعھود لاتحقق لہ فی الخارج الابہ لانہ مسح الکفین بالصعید الحقیقی وبقیۃ العضوین بالکف الموضوع علی الصعید کماتقدم عن الکافی والبرجندی ان الواجب المسح بکف موضوع علی الارض ۱؎ وعن البدائع ان الشرط امساس الید المضروبۃ علی وجہ الارض علی الوجہ والیدین ۲؎ اھ فاذالم یضرب لم یتحقق شیئ منھما فلاوجود لارکانہ الابھذا الشرط۔
الحاصل لازم وضروری صرف مس کرنا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کے بغیر خارج میں تیمم معہود کا تحقق بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ تیمم معہود یہ ہے کہ ہتھیلیوں کا صعید حقیقی سے، اور بقیہ ہاتھوں اور چہرے کا صعید پر رکھی ہوئی ہتھیلی سے مسح ہو۔ جیسا کہ کافی اور برجندی کے حوالے سے گزر چکا کہ ''واجب یہ ہے کہ مسح اس ہتھیلی سے ہو جو زمین پر رکھی جاچکی ہے''۔ اور بدائع کے حوالے سے گزرا کہ ''شرط یہ ہے کہ رُوئے زمین پر مارے ہوئے ہاتھ سے چہرے اور ہاتھوں کو مس کیا جائے'' اھ تو جب ضرب ہی نہ ہو تو دونوں (صعید حقیقی سے مسح اور صعید حکمی سے مسح) میں سے کسی کا تحقق نہ ہوگا تو اس شرط کے بغیر تیمم معہود کے ارکان کا وجود ہی نہ ہوگا۔
 (۱؎ شرح النقایہ للبرجندی    فصل التیمم        مطبع نولکشور لکھنؤ    ۱/۴۶)

(۲؎ بدائع الصنائع    فصل مایتیم بہ    سعید کمپنی کراچی    ۱/۵۴)
وھذا مع شدۃ وضوحہ ربما یزیدہ ایضاحا ان من قام عن نومہ فجعل یمسح النوم عن وجھہ وامر کفیہ علی ذراعیہ رفعا للکسل اوتوضأ فمسح الماء عن وجھہ وذراعیہ لیس لاحدان یتوھم ان قدتحق ارکان التیمم فی الخارج فثبت عــہ ان الضربتین من الشرائط التی لاتحقق التیمم المعھود فی الاعیان ایضا الابھما فناسب ان تسمیا رکنین۔
بہت واضح ہونے کے باوجود اس کی مزید وضاحت اس سے ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص نیند سے اُٹھ کر اثر دُور کرتے ہوئے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگا اور کلائیوں پر بھی سُستی دُور کرنے کیلئے ہتھیلیاں پھیر لیں، یا کسی کو وضو کرنا ہوا تو اپنے چہرے اور کلائیوں پر پانی سے مسح کیا ان صورتوں میں کسی کو وہم بھی نہیں ہوسکتا کہ خارج میں تیمم کے ارکان متحقق ہوگئے تو ثابت ہوا کہ دونوں ضربیں ایسی شرطوں میں سے ہیں کہ ان کے بغیر خارج میں بھی تیمم معہود کا تحقق نہیں ہوسکتا اس لئے انہیں رکن کا نام دینا مناسب ہوا۔
عــہ اقول وکان یمکن ان یرجع الی ھذا قول السید ط لماذکر الدر الصعید من شرائط التیمم قال ھو جزء الحقیقۃ لانھا مسح الوجہ والیدین علی الصعید لکنہ رحمہ اللّٰہ تعالی زاد بعدہ ولیس بشرط فجعلہ مفسّرا بغیر قابل للتاویل وعلی(۱) ھذا یلزم ان یکون الوجہ والیدان ایضا اجزاء حقیقۃ التیمم والبصر جزء حقیقۃ العمی وھو کماتری ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

اقول: درمختار کی عبارت ''صعید شرائط تیمم سے ہے'' پر سید طحطاوی نے فرمایا صعید حقیقت تیمم کا جز ہے اس لئے کہ وہ صعید پر ہاتھ اور چہرے پھیرنے کا نام ہے۔ سید طحطاوی کی اس عبارت کو بھی اسی طرف پھیرا جاسکتا تھا کہ شرط کو جز وحقیقت (رکن) کہہ دیا ہے۔ لیکن انہوں نے اس کے بعد ہی یہ کہہ کر کہ ''وہ (صعید) شرط نہیں'' اپنی عبارت کو مفسَّر ناقابل تاویل بنادیا اور اس پر یہ لازم آئے گا کہ چہرا اور دونوں ہاتھ بھی حقیقت تیمم کا جز ہوں اور بصر حقیقت عمی کا جز ہو، اس کی خامی وکمزوری ہر ناظر پر عیاں ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اما التیمم الغیر المعھود فلا یتوقف علیھما بل یتحقق بادخال المحل فی موضع الغبار وبتحریکہ فيہ وبامرار الید علی النقع الواقع علی المحل وبامرار الصعید علیہ کمامر تقریر کل ذلک۔
لیکن تیمم غیر معہود ان دو ضربوں پر موقوف نہیں، وہ یوں بھی متحقق ہوجاتا ہے کہ اعضائے تیمم کو غبار کی جگہ داخل کردے، یا اس میں ان اعضاء کو جنبش دے لے یا اعضاء پر پڑے ہوئے غبار پر ہاتھ پھیرلے یا جنسِ زمین سے کوئی چیز اٹھا کر ان اعضا پر پھیرلے۔ جیسا کہ ان سب کی تقریر گزرچکی۔
فظھر وللّٰہ الحمد ان مراد ائمتنا بالضرب امساس الکف بالصعید وبالرکن الشرط الذی لاتصور المشروط بدونہ وبالتیمّم التیمم المعھود وھو کلام حق لاغبار علیہ۔
تو بحمدللہ ظاہر ہوا کہ ضرب سے ہمارے ائمہ کی مراد صعید سے ہتھیلی کو مس کرنا، اور رکن سے مراد ایسی شرط جس کے بغیر مشروط کا تصور نہیں ہوتا، اور تیمم سے مراد تیمم معہود اور یہ بالکل بے غبار اور برحق کلام ہے۔
اما الفروع العشرۃ فکلھا فی التیمم الغیر المعھود فعدم الضرب فیھا لاینافی رکنیتہ للتیمم المعھود وبھذا التحقیق الانیق الحقیق بالقبول÷ تلتئم کلمات الائمۃ الفحول÷ وتندفع الشبھات عن الفروع والاصول÷ ویرتفع النزاع المستمر من الف سنۃ بین الخیار العدول÷ ھکذا ینبغی التحقیق÷ والحمدللّٰہ علی حسن التوفیق÷ وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا واٰلہ وصحبہ÷ وابنہ وحزبہ÷ اجمعین ابد الاٰبدین÷ والحمدللّٰہ ربّ العٰلمین٭
رہ گئے وہ دسوں۱۰ جزئیات تو وہ سب تیمم غیر معہود سے متعلق ہیں ان میں ضرب کا نہ ہونا تیمم معہود میں رکنیت ضرب کے منافی نہیں۔ اس دلکش، لائق قبول تحقیق سے ائمہ فحول کے کلمات میں مطابقت وموافقت ہوجاتی ہے، اور فروع واصول سے شبہات کے غبار چھٹ جاتے ہیں۔ا ور عادلانِ برگزیدہ کے مابین ''ہزار سال سے جاری رہنے والے اختلاف'' کاخاتمہ ہوجاتا ہے تحقیق اسی طرح ہونی چاہئے اور حسنِ توفیق پر خدا کا شکر ہے اور اللہ تعالٰی کا درود ہو ہمارے سردار اور آقا پر اور ان کی آل، اصحاب، فرزند، جماعت سب پر ہمیشہ ہمیشہ۔ اور ساری خُوبیاں اللہ کیلئے ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
الثانی عشر:ظھرلک من ھذہ المباحث ان احسن ھذہ الحدود الستۃ ازواجھا دون اوتارھا وان السادس مختص بالتیمم المعھود والثانی والرابع یعمان کل تیمّم بیدان الرابع مقتصر علی حقیقتہ فقدادی حق الحد والثانی زادہ ایضاحا بزیادۃ قصد التطہیر۔
بحث۱۲: ان مباحث سے ظاہر ہوا کہ مذکور (عہ۱)چھ تعریفوں میں بہتر وہ ہیں جو جفت نمبر پر آئی ہیں، وہ نہیں جو طاق ہیں۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ چھٹی تعریف تیمم معہود سے خاص ہے اور دوسری، چوتھی ہر تیمم کو عام ہیں۔ ہاں یہ ہے کہ چوتھی تعریف میں حقیقتِ تیمم کے بیان پر اکتفا کیا ہے تو اس نے تحدید کا حق ادا کیا اور دوسری نے ''قصد تطہیر'' کا اضافہ کرکے مزید وضاحت کردی ہے۔
 (عہ۱) مذکورہ چھ۶ تعریفیں یوں ہیں:

(۱) تطہیر کیلئے پاک صعید کا قصد۔

(۲) دو مخصوص عضووں پر تطہیر کے قصد سے مخصوص شرطوں کے ساتھ صعید کا استعمال یا زمین کے کسی جز کا بقصدِ تطہیر اعضائے مخصوصہ پر استعمال۔

(۳) مطہّر صعید کا قصد اور ادائے قربت کے لئے مخصوص طور پر اس کا استعمال۔

(۴) پاک صعید سے چہرے اور ہاتھوں کا مسح۔

(۵) وہ طہارت جو پاک صعید کو دو مخصوص عضووں میں بقصدِ مخصوص استعمال کرنے سے حاصل ہو۔

(۶) دو۲ ضربیں، ایک ضرب چہرے کیلئے اور ایک ضرب کہنیوں تک ہاتھوں کیلئے۔ ۱۲ محمد احمد مصباحی
Flag Counter