Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
89 - 166
ثم رکن الشیئ وان کان شرعیا وجودلہ فی الاعیان ایضابدونہ اذبہ تقومہ کالرکوع والسجود للصلاۃ والایجاب والقبول للنکاح اللھم الا ان یکون رکنا زائدا کالقراء ۃ اماشرطہ الشرعی فلایجب ان ینتفی بانتفائہ وجودہ العینی بل الشرعی الاتری ان ارکان الصلاۃ من القیام والقعود والرکوع والسجود والقراء ۃ لاتوقف لشیئ منھا فی وجودہ العینی علی شروطھا الشرعیۃ من الطہارۃ والاستقبال والتحریمۃ وغیرھا وان لم تعتبر شرعا نفقدھا غیران من الشروط الشرعیۃ مایحکی حکایۃ الرکن یفتاق الیہ الشیئ فی وجودہ العینی ایضا کافتیاقہ الی الارکان ومثل الشرط اشبہ شیئ بالرکن وکأنہ برزخ بین الارکان والشروط السالفۃ الذکر فلاغرو فی اجراء اسم الرکن علیہ وذلک کالمکان للصلوٰۃ والمرأۃ للنکاح والصعید للتیمّم۔
پھر کسی بھی شیئ کا رکن اگرچہ وہ شرعی ہی ہو اس کے بغیر خارج میں بھی شیئ کا وجود نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ شے کا قوام اور اس کی حقیقت اسی رکن ہی سے بنتی ہے جیسے نماز کیلئے رکوع وسجود اور نکاح کیلئے ایجاب وقبول ہاں مگر یہ کہ رکنِ زائد ہو جیسے قرأت مگر شرط شرعی کا معاملہ مختلف ہے اس کے نہ ہونے سے شیئ کے وجود عینی خارجی کا نہ ہونا ضروری نہیں، بلکہ اس کے انتفا سے صرف وجود شرعی کا انتفا ضروری ہے دیکھ لیجئے کہ ارکانِ نماز قیام، قعود، رکوع، سجود، قرأت میں سے کوئی بھی اپنے وجود خارجی میں شرائط نماز طہارت،استقبالِ قبلہ، تحریمہ وغیرہا پر موقوف نہیں (ان شرائط کے بغیر بھی وہ ارکان خارجی میں موجود ہوسکتے ہیں) اگرچہ فقدانِ شرائط کے سبب ایسی نماز کا ''شرعاً'' اعتبار نہیں۔ ہاں کچھ شرعی شرطیں ایسی بھی ہیں جو رکن سے مشابہت رکھتی ہیں کہ شے اپنے وجود خارجی میں ان کی بھی محتاج ہوتی ہے اور کچھ مثل شرط رکن سے مشابہ تر بھی ہیں گویا وہ رکن اور مذکورہ شرطوں کے درمیان برزخ کی حیثیت رکھتی ہیں، تو کوئی عجب نہیں کہ ان کو رکن ہی کے نام سے ذکر کر دیا جائے (اور بجائے شرط کے رکن کہہ دیا جائے) ایسی شرط کی مثال: جیسے نماز کیلئے جگہ، نکاح کیلئے عورت، تیمم کیلئے صعید۔
اقول: وعلی ھذا یبتنی قول شیخ الاسلام العلاّمۃ الغزی رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی متنہ التنویر والمدقق العلائی فی شرحہ الدر (الاستنجاء ارکانہ اربعۃ) شخص (مستنج) وشیئ (مستنجی بہ) کماء وحجر (و) نجس (خارج) من احد السبیلین (ومخرج) دبر اوقبل ۱؎ اھ۔
اقول: اسی اطلا ق پر (شدت مشابہت واحتیاج کی بنا پر شرط کو رکن کہہ دینے پر) متن تنویر الابصار میں شیخ الاسلام علامہ غزّی رحمہ اللہ تعالٰی اور اسکی شرح دُرمختار میں مدقق علائی رحمہ اللہ تعالٰی کی درج ذیل عبارت مبنی ہے: ''(استنجأ کے چار ارکان ہیں)-(استنجأ کرنے والا) شخص --- وہ چیز (جس سے استنجاء کیا جائے) جیسے پانی اور پتھر وہ نجس جو سبیلین میں کسی ایک سے (خارج(۳) ہو (اور مخرج)(۴) پیچھے کا مقام یا آگے کا مقام اھ''
 (۱؎ الدرالمختار        فصل الاستنجاء    مجتبائی دہلی        ۱/۵۶)
واقرہ السید العلامۃ ط معللا ایاہ بقولہ وذلک لانہ الازالۃ ولاتتحقق الابمزبل وھو الشخص ومزال وھو الخارج ومزال عنہ وھو المخرج واٰلۃ ازالۃ وھو الحجر ونحوہ ۲؎ اھ ولم یلتفت الی مااعترض بہ العلامۃ السید ح ان حقیقۃ الاستنجاء الذی ھو ازالۃ نجس عن سبیل لاتتقوم ولابواحد من ھذہ الاربعۃ ۳؎۔
سید علامہ طحطاوی نے ذیل کے الفاظ سے اس قول کی علت بتاتے ہوئے اسے برقرار رکھا: ''یہ اس لئے کہ استنجاء ازالہ نجاست کا نام ہے اور اس کے تحقق کیلئے ضروری ہے کہ کوئی زائل کرنے والا ہو، وہ شخص(۱) ہے، اور کوئی زائل کیا جانیوالا ہو وہ خارج(۲) ہے، اور کوئی جگہ ہو جہاں سے زائل کیا جائے وہ مخرج(۳) ہے اور کوئی ازالہ کا آلہ وذریعہ ہو وہ پتھّر(۴) وغیرہ ہے'' اھ سید طحطاوی نے علامہ سید حلبی کے اس اعتراض کی طرف التفات نہ کیا کہ ''استنجا جو کسی ایک راستے سے نجس چیز کودُور کرنے کا نام ہے اس کی حقیقت ان چاروں سے یا ان میں کسی ایک سے بھی نہیں بنتی''۔ (پھر انہیں رکن کیسے کہہ دیا گیا؟)
 (۲؎ طحطاوی علی الدرر     فصل الاستنجاء    بیروت        ۱/۱۶۴)

(۳؎ ردالمحتار         فصل الاستنجاء      مصطفی البابی مصر    ۱/۲۴۶)
وتبعہ السید العلامۃ ش واطالا(۱) بما حاشا العلامتین المصنف والشارح ان یکوناغافلین عنہ وانما اخذا بیان حقیقتہ ھذا فیہ عــہ فی صدر ھذا الکلام ثم لایخفی علیک ان المراد بالضرب ھو الامساس لاخصوص مافی مدلولہ من الشدۃ وان کان اولی فی بعض الصور۔
سید علّامہ شامی نے بھی اس اعتراض میں سید حلبی کی پیروی کی اور دونوں حضرات نے وہ سب ذکر کرکے کلام طویل کیا جس سے مصنف وشارح علیہما الرحمۃ کا غافل رہنا بعید ہے، خود ان حضرات (حلبی وشامی) نے تیمم کی جو حقیقت بیان کی ہے وہ ابتدائے کلام میں خود ان ہی کے منہ سے سُن کر اخذ کی ہے۔ یہ بھی مخفی نہ رہے کہ ضرب سے مراد مس کرنا ہے ضرب (مارنے) کا لفظ جس شدت پر دلالت کررہا ہے خاص وہ مراد نہیں اگرچہ وہ بعض صورتوں میں اولٰی ہے۔
عــہ ای من فم الشارح حیث قال الاستنجاء ازالۃ نجس عن سبیل فلایسن من ریح وحصاۃ ونوم وفصد ؎۱ اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

یعنی حضرت شارح کی زبانی انہوں نے فرمایا ہے: استنجاء کسی ایک راستے سے نجس چیز دور کرنا ہے۔ تو ریح، کنکری، نیند اور فصد کی وجہ سے استنجاء مسنون نہیں اھ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎درمختار    فصل فی الاستنجاء    ۱/۵۶)
ففی الخانیۃ والخلاصۃ اماصورۃ التیمم ماذکر فی الاصل قال یضع یدیہ علی الصعید وفی بعض الروایات یضرب یدیہ علی الصعید فاللفظ الاول ان یکون علی وجہ اللین والثانی ان یکون الوجہ مع وجہ الشدۃ وھذا اولی لیدخل التراب فی اثناء الاصابع ۱؎ ھذا لفظ الخانیۃ واختصرہ فی الخلاصۃ بقولہ قال فی الاصل یضع یدیہ علی الصعید وفی بعض الروایات یضرب یعنی الوضع علی وجہ الشدۃ وھذا اولٰی ۲؎ اھ۔
خانیہ اور خلاصہ میں ہے: ''تیمم کی صورت وہ ہے جو اصل (مبسوط) میں ذکر کی ہے۔ فرمایا: اپنے ہاتھوں کو صعید (جنسِ زمین) پر رکھے اور بعض روایتوں میں ہے: اپنے ہاتھوں کو جنس زمین پر مارے تو پہلی عبارت کی صورت یہ ہے کہ نرمی کے طور پر ہو دوسری کی صورت یہ کہ زمین پر سختی کے ساتھ ہاتھ رکھتا ہو۔ اور یہ اولٰی ہے تاکہ مٹی انگلیوں کے درمیان داخل ہوجائے''۔ یہ خانیہ کے الفاظ ہیں۔ اسے خلاصہ میں اس طرح مختصر کیا ہے: ''اصل میں فرمایا: اپنے ہاتھوں کو صعید پر رکھے اور بعض روایات میں ہے: مارے اس سے سختی کے ساتھ رکھنا مراد ہے اور یہ اولٰی ہے اھ۔
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    باب التیمم    نولکشور لکھنؤ    ۱/۲۵)

(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی    کیفيۃ التیمم    نولکشور لکھنؤ    ۱/۳۴)
اقول: وھذا اولی کیلا یتوھم من لفظ الخانیۃ فی اللفظ الاول ان الوضع یختص باللین وانما المعنی انہ یشملہ وماعلل بہ اولویۃ الضرب فی الخانیۃ بہ عللوھا فی غیر ماکتاب کفایۃ البیان والعنایۃ والحلیۃ والبحر وغیرھا۔
اقول: اور یہ تعبیر (خلاصہ کی عبارت) اولٰی ہے تاکہ وہ وہم نہ پیدا ہو جو پہلی عبارت کی توضیح میں خانیہ کے الفاظ سے پیدا ہو رہا تھا کہ رکھنے کا لفظ صرف نرمی والی صورت سے ہی مخصوص ہے جب کہ رکھنے سے مراد عام ہے (نرمی کے ساتھ ہو یا سختی کے ساتھ) خانیہ میں ضرب کے اولٰی ہونے کی جو علت بتائی ہے وہی غایۃ البیان، عنایہ، حلیہ، البحرالرائق وغیرہا متعدد کتابوں میں بیان کی گئی ہے۔
اقول: فیقتصر علی ماینفصل منہ تراب اونقع دون نحو حجر املس ولذا قلت فی بعض الصور نعم ان نظر الی ورودہ فی الاٰثار کما علل بہ فی المستصفی وثنی بہ فی الحلیۃ فلایبعد اولویتہ مطلقا لاتباع اللفظ الوارد۔
اقول: یہ علت (ضرب سے مٹی کا انگلیوں کے درمیان داخل ہوجانا) اسی چیز پر ضرب سے خاص ہے جس سے مٹّی یا غبار جدا ہوسکے چکنے پتھر جیسی چیز پر ضرب میں یہ علّت نہ پائی جائے گی۔ اسی لئے میں نے اسے ''بعض صورتوں میں اولٰی'' کہا ہاں اگر اس پر نظر کی جائے کہ لفظ ضرب آثار میں وارد ہے (اسی لئے اس پر عمل اولٰی ہے) جیسا کہ مستصفی میں یہی علت بتائی ہے اور حلیہ میں اسے دوسرے نمبر پر ذکر کیا ہے تو بعید نہیں کہ اس بنیاد پر ضرب مطلقا اولٰی ہو کیونکہ اس میں لفظ حدیث کا اتباع ہوگا۔
Flag Counter