Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
88 - 166
ثمّ اقول: لوکان الامر علی ھذا لزم ان من کان مست یداہ جدارا اوارضا اواخذ بیدیہ جرۃ اوشیئا من خزف ومضت علیہ سنون واحتاج الاٰن الی التیمم لایحتاج لاحد عضویہ الی قصد صعید ولامسہ اصلا بل ینوی ویمسح وجھہ مثلا بکفیہ لانہ قدکان کفاہ مستا الصعید فی وقت من عمرہ ولایشترط قران النیۃ ولاینافیہ الحدث بعدہ قبل المسح وان کان الف مرۃ لااعلم احدا یقبل ھذا ویجعلہ تیمما صحیحا شرعیا۔
ثمّ اقول: اگر معاملہ ایسا ہو ( کہ ضرب کے بعد حدث ہوا پھر بھی اس ضرب سے تیمم جائز ہو) تو لازم آئے گا کہ جس کے ہاتھ کسی دیوار یا زمین سے مس ہوئے یا اپنے ہاتھوں سے کوئی گھڑا یا ٹھیکری کی کوئی بھی چیز پکڑلی پھر اس فعل پر سالہاسال گزر گئے اور اب اسے تیمم کی حاجت ہوئی تو دونوں عضووں میں سے کسی کیلئے بھی نہ صعید (جنسِ زمین) کے قصد کرنے کی ضرورت ہونہ مس کرنے کی کوئی حاجت۔ بلکہ اب نیت کرلے اور ہتھیلیاں چہرے پر پھیرلے یہی کافی ہوجائے اس لئے کہ یہ ہتھیلیاں عمر کے کسی حصے میں جنسِ زمین سے مس ہوچکی تھیں، نیت کا مس کے ساتھ ہونا شرط ہی نہیں، نہ ہی مس کے بعد مسح سے پہلے حدث ہونا اس کے منافی، اگرچہ ہزار بار حدث ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی نہ اسے مان سکتا ہے نہ ہی اسے صحیح شرعی تیمم قرار دے سکتا ہے۔
وبالجملۃ فالصواب فی کلام الفرعین مع السید الامام ان شاء اللّٰہ تعالٰی ولا(۱) بناء لھما علی رکنیۃ الضرب فلیسامن ثمرۃ الخلاف فی شیئ فیما اعلم و ربی اعلم۔
الحاصل دونوں مسئلوں (ضرب کے بعد تیمم کی نیت ہو تو اس ضرب سے تیمم نہ ہو پائے گا، ضرب کے بعد حدث ہوجائے تو اس سے بھی تیمم نہ ہوگا) میں حق وصواب سید امام ابوشجاع کے ساتھ ہے اور ان مسئلوں کی بنیاد اس پر نہیں کہ ضرب رکنِ تیمم ہے۔ تو میرے علم کی حد تک انہیں ثمرہ اختلاف ہونے سے کوئی واسطہ نہیں۔ اور میرا رب خوب جاننے والا ہے۔
نعم اذا (۱) ضرب فالتزق بیدہ من التراب مایکفی للتیمّم ثم احدث ثم مسح بذلک التراب وجھہ ناویا اجزأہ لان الکف وان بطلت طھارتھا وتطھیرھا وذھب بہ الصعید الحکمی فالصعید الحقیقی موجود بیدہ فيکون ھذا تیمما بالتراب لابالکف المکتسی بالضرب صفۃ التطھیر۔
ہاں جب اس نے زمین پر ہاتھ مارا اس کے ہاتھ میں اتنی مٹی لگ گئی جو تیمم کیلئے کافی ہو پھر اسے حدث ہو، پھر بہ نیت تیمم اس مٹی سے اپنے چہرے کا مسح کرلیا تو یہ کافی ہوگا اس لئے کہ ہتھیلی کی طہارت اور تطہیر اگرچہ ختم ہوگئی اور اسی وجہ سے صعید حکمی جاتی رہی مگر صعید حقیقی اس کے ہاتھ میں موجود ہے تو یہ اصل مٹی سے تیمم کرنا ہوگا ضرب کی وجہ سے صفت تطہیر حاصل کرنے والی ہتھیلی سے نہیں۔

وھذا ھو عندی محمل ماتقدم عن الخانیۃ وخزانۃ المفتین لقولھما فمسح بذلک التراب وجھہ ولم یقولا مسح بتلک الکف المحدثۃ۔
خانیہ اور خزانۃ المفتین کی مذکورۃ الصدر عبارت میرے نزدیک اسی صورت پر محمول ہے اس لئے کہ ان کے الفاظ یہ ہیں: (جب تیمم کا ارادہ ہوا زمین پر ایک بار ہاتھ مارا پھر اسے حدث ہوگیا) تو ''اسی مٹی سے'' چہرے کا مسح کرلیا (پھر کہنیوں سمیت ہاتھوں کیلئے دوسری بار ہاتھ مارا) یہ جائز ہے تیمم ہوگیا اھ یہ نہ فرمایا کہ ''اسی بے ہتھیلی سے'' مسح کرلیا۔
ولیراجع عبارۃ المضمرات فلعلھا کعبارۃ الخانیۃ والخزانۃ ولک ان تقرأ قولہ لم یعد الضرب بفتح العین وشد الدال من العد دون الاعادۃ فيکون تصحیحا لما علیہ السید الامام والا فاذا قیدنا ھا بکون التراب علی کفیہ کان توفیقا و باللّٰہ التوفیق۔
مضمرات کی اصل عبارت بھی دیکھنا چاہئے شاید وہ بھی عبارتِ خانیہ وخزانہ ہی کی طرح ہو (جامع الرموز نے مضمرات کے اصل الفاظ نقل نہ کئے بلکہ یوں لکھا ہے کہ ''لواحدث قبل المسح لم یعد الضرب علی الاصح، کما فی المضمرات'' جس کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ اگر ہاتھ مارنے کے بعد مسح سے پہلے اسے حدث ہوا تو برقولِ صحیح ضرب کا اعادہ نہ کرے، یعنی اسی ضرب سے مسح کرلے جیسا کہ مضمرات میں ہے) اس عبارت میں بھی ''لم یعد'' کو عین کے فتحہ اور دال کی تشدید کے ساتھ بجائے اعادہ کے عدد سے لے کر لَمْ یعَدِّ الضَّرْب پڑھا جاسکتا ہے۔ اب یہ معنٰی ہوجائیگا کہ اگر قبل مسح حدث ہوگیا تو یہ ضرب، برقول اصح، شمار نہ کی جائے گی۔ اس صورت میں اس سے اسی قول کی تصحیح حاصل ہوگی جو سید امام ابوشجاع کا ہے اگر یہ نہ پڑھیں تو جب ہم اسے اس صورت سے مقید کردیں (اعادہ ضرب کی حاجت اُس وقت نہیں جب) ہتھیلیوں پر لگی ہُوئی مٹّی بقدر کافی موجود ہو تو دونوں قولوں میں تطبیق وتوفیق ہوجائے گی۔ اور خدا ہی سے توفیق ملتی ہے۔
التاسع: مابحث العلامۃ الحدادی فیما(۱) اذا امر غیرہ لییممہ فضرب المامور یدیہ فاحدث الاٰمر انہ ینبغی بطلانہ علی قول ابی شجاع فعندی(۲) فیہ وقفۃ فان الاٰمر اذا امر ونوی فضرب المامور کفیہ علی الصعید اکسبھما صفۃ التطھیر وصارا صعیدا حکمیا حتی صلحتا لتطھیر الاٰمر بمسحھما وحدث الاٰمر لایخل بشیئ من ذلک لا تزول بہ طہارۃ کفی المامور لینتفی تطھیرھما۔
بحث۹: دوسرے کو حکم دیا کہ مجھے تیمم کرادے، مامور نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے کہ حکم دینے والے کو حدث عارض ہوا۔ اس پر بحث کرتے ہوئے علّامہ حدادی نے فرمایا کہ ابوشجاع کے قول پر مامور کی ضرب مذکور کو (جس کے بعد قبلِ مسح آمر کو حدثِ جدید عارض ہوا) باطل ہوجانا چاہئے۔ مجھے اس بارے میں کچھ توقف ہے۔ اس لئے کہ آمر نے جب حکم دیا اور نیت کرلی پھر مامور نے اپنی ہتھیلیاں جنسِ زمین پر ماریں تو اس ضرب نے ان ہتھیلیوں کو تطہیر کی صفت بخش دی اور وہ صعید حکمی بن کر اپنے مسح سے آمر کو پاک کرنے کے قابل ہو گئیں۔ اور آمر کا حدث اس میں سے کسی بات میں کچھ خلل نہیں لاتا۔ اس کے حدث سے مامور کی ہتھیلیوں کی طہارت تو زائل ہوتی نہیں کہ ان کا وصفِ تطہیر ختم ہوسکے۔
وقد کان الاٰمر محدثا قبل الضروب وبعدہ مالم یمسح فاجتمع حدث الاٰمر اعنی کونہ محدثا وثبوت صفۃ التطھیر لکفی المأمور فی وقت واحد ودام الی حصول المسح ولو اشترط الثبوتہ لھما طھارۃ الاٰمر لدار واستحالت المسألۃ رأسا فاذ الم ینافہ کونہ محدثا کیف ینافیہ  حدثہ الجدید ولایزیدہ شیئا فوق ماھو علیہ الاٰن۔
اور آمر تو محدث تھا ہی،ضرب سے پہلے بھی اور ضرب کے بعد بھی، جب تک کہ مسح نہیں ہوجاتا۔ تو آمر کا حدث یعنی اس کا محدث ہونا اور مامور کی ہتھیلیوں میں صفتِ تطہیر کا ثبوت دونوں چیزیں بیک وقت جمع ہُوئیں اور یہ اجتماع مسح ہوجانے تک قائم ودائم رہا۔ اور اگر مامور کی ہتھیلیوں میں صفتِ تطہیر کیلئے طہارتِ آمر کی شرط لگائی جائے تو دور لازم آئے گا۔ اور اس مسئلہ کا وجود ہی محال ہوجائے گا۔ تو جب اس کا محدث ہونا اس کے منافی نہیں تو یہ حدث جدید کیسے اس کے منافی ہوجائے گا جب کہ وہ مامور کی حالت میں اس سے زیادہ کوئی اضافہ نہیں کرتا جو بروقت اس میں موجود ہے (فی الحال بھی وہ محدث ہی ہے حدث جدید سے بھی محدث ہی رہا تو ضرب پر حدثِ جدید کا کیا اثر؟)
العاشر : ما(۱) استظھر منہ البحر انہ لایبطل بحدث المأمور فعندی ابعد منہ اذ لو سلمنا انہ یبطل بحدث الاٰمر مع انہ لایوجب تنجیس کفی المأمور وجب بطلانہ بحدث المأمور بالاولی لانہ ینجسھما فيسلبھما الطھارۃ فيسلبھما التطھیر ولونہ اٰلۃ لاینفیہ فانہ اٰلۃ التطھیر فلابدمن طھارتہ اذمالیس بطاھر کیف یفید غیرہ التطھیر فالظاھر عندی عکس ماقالاہ یبطل بحدث المأمور دون الاٰمر واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
بحث ۱۰: علامہ حدادی کی بحث لے کر صاحبِ بحر نے یہ کہا تھا کہ: ''اس کا ظاہر یہ ہے کہ وہ ضرب مامور کے حدث سے باطل نہ ہوگی اس لئے کہ وہ تو صرف ذریعہ اور آلہ ہے''۔ یہ بات میرے نزدیک پہلی سے بھی زیادہ بعید ہے۔ اس لئے کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ آمر کا حدث مامور کی ہتھیلیوں کو نجس بنانے کا موجب نہ ہونے کے باوجود مامور کی ضرب کو باطل کردیتا ہے تو مامور کا حدث اس ضرب کو بدرجہ اولٰی باطل کردے گا کیونکہ اس کا اپنا حدث تو اس کی ہتھیلیوں کو نجس کرکے ان سے طہارت سلب کرلے گا تو وصفِ تطہیر بھی سلب کرلے گا۔ اور مامور کا ذریعہ وآلہ ہونا اس کے منافی نہیں کیونکہ وہ تطہیر کا آلہ ہے توخود اس کا طاہر ہونا ضروری ہے اس لئے کہ جو خود ہی طاہر نہیں وہ دوسرے کو تطہیر کیسے عطا کرسکے گا؟ تو ان دونوں حضرات (حدادی وبحر) نے جو فرمایا میرے نزدیک اس کے برعکس ہے۔ ضرب مذکور مامور کے حدث سے باطل ہوجائیگی اورآمر کے حدث سے باطل نہ ہوگی واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
الحادی عشر: الابحاث الی ھنا لم تزد اصل الامر الاغمۃ لانہ ثبت ان الفروع العشرۃ متفق علیھا بین ائمتنا ولاضرب فیھا بالمعنی المعروف وھم مجمعون علی رکنیتہ۔
بحث۱۱: یہاں تک کی بحثوں سے اصل معاملہ کی پیچیدگی میں اور اضافہ ہی ہوا اس لئے کہ ثابت یہ ہوا کہ مذکورہ دس جزئیات ہمارے ائمہ کے درمیان متفق علیہ ہیں اور ان میں ضرب بمعنی معروف کا وجود نہیں، حالانکہ ان ائمہ کا اس پر اجماع ہے کہ ضرب تیمم کا رکن ہے (پھر رکن کے بغیر شیئ کا تحقق کیونکر ہوگیا؟)
فاقول:  وباللّٰہ التوفیق قد اوجدناک ان الصعید ضربان حقیقی وحکمی وان التیمم المعھود المعروف المأمور فی الاحادیث القولیۃ والفعیلۃ ھو امساس الکفین بالصعید الحقیقی وسائر العضوین بھذا الصعید الحکمی وغیر المعھود ھو امساس جمیع اجزاء العضوین بالصعید الحقیقی فانقسم التیمم ایضا الی قسمین المعھود بالحقیقی فی الکفین والحکمی فی غیرھما وغیرہ بالحقیقی فی الکل۔
فاقول: وباللہ التوفيق۔ ہم بتا چکے ہیں کہ صعید کی دو۲ قسمیں ہیں: حقیقی اور حکمی اور معروف ومعہود تیمم جو قولی وفعلی احادیث میں مروی ہے وہ یہ ہے کہ ہتھیلیوں کو صعید حقیقی سے مس کیا جائے اور بقیہ ہاتھوں اور چہرے کو اِس صعید حکمی (ہتھیلیوں) سے مَس کیا جائے اور غیر معہود تیمم یہ ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کے تمام اجزاء کو صعید حقیقی (جنس زمین) سے مس کیا جائے تو تیمم دو۲ قسمیں ہوگئیں: ایک معہود تیمم صعید حقیقی سے ہتھیلیوں کا، اور حکمی سے بقیہ کا مسح کرنا۔ دوسرا غیر معہود تیمم صعید حقیقی سے سبھی کا مسح کرنا۔
Flag Counter