| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
ثمّ اقول لم یظھر(۱) للعبد الضعیف مافرق بہ ھھنا بین الحدث بعد الاغتراف قبل التطھر والحدث فی خلالہ غیر ان ھذا یبطل ماسبق وذلک لاسابق لہ فمبطلہ ولاکلام فیہ انما کلام فی جواز استعمالہ ولامدخل فیہ لسبق بعض التطھر وعدمہ فیما اعلم فان(۲) من غسل وجھہ ثم ملا کفیہ لغسل یدیہ فاحدث بطلت طہارۃ وجھہ اما یداہ فقد کان الحدث فیھما الی الاٰن ولم یزد بانضیاف ھذا الجدید ولم یصر الماء مستعملا بعد لعدم الانفصال فلم لایجوز ان یغسل بہ ذراعیہ وما ھو الاٰن الاکمن اغترف اول وھلۃ لانہ قدعاد کماکان فالماء یلاقی کفا محدثۃ فی الوجھین فينبغی ان یجوز حیث یجوز ثمہ ولاحیث لا فلیحرر ولیتأمل۔
ثمّ اقول: چلّو لینے کے بعد عمل طہارت سے پہلے حدث ہونے اور عمل طہارت کے درمیان حدث ہونے میں یہاں جو فرق کیا گیا ہے وہ بندہ ضعیف پر واضح نہ ہوا دونوں میں آخر کیا فرق ہے؟ سوائے اس کے یہ حدث (جو کچھ وضو ہوجانے کے بعد عارض ہوا) ماسبق وضو کو باطل کردیتا ہے اور وہ (جو چلّو لینے کے بعد شروع ہی میں عارض ہوا) اس سے پہلے کچھ عمل وضو وجود میں آیا ہی نہیں کہ اسے باطل کرے۔ اور کلام اس میں نہیں، کلام تو اُس پانی کے استعمال کے جواز میں ہے اور اس مسئلہ میں میرے علم کی حد تک اس کا کوئی دخل نہیں کہ کچھ وضو پہلے ہوچکا ہے یا ابھی کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ اس لئے کہ جس نے چہرہ دھولیا پھر ہاتھ دھونے کیلئے چلّو میں پانی لیا پھر اسے حدث ہوا تو اس کے چہرے کی طہارت تو ختم ہوگئی، رہ گئے ہاتھ تو ان دونوں میں تو اب تک حدث موجود ہی تھا، وہ اس جدید حدث کے ملنے سے زیادہ نہ ہوا، نہ ہی پانی مستعمل ہوا کیونکہ ابھی ہاتھ سے جدا نہیں ہوا پھر اس سے کلائیاں دھولینا کیوں جائز نہیں؟ وہ اِس وقت اُسی کی طرح ہے جس نے شروع شروع چلّو لیا، اس لئے وہ جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا ہے تو پانی کا اتصال دونوں ہی صورتوں میں محدث ہتھیلی سے پایا جارہا ہے۔ تو اگر وہاں اس کا استعمال جائز ہے تو یہاں بھی جائز ہونا چاہئے اور اگر وہاں جائز نہیں تو یہاں بھی جائز نہیں ہونا چاہئے۔ اس تفریق کی وضاحت اور اس میں تامل کی ضرورت ہے۔
فانی متعجب کیف تواردہ ھؤلاء الجلۃ کالاسبیجابی والعنایۃ والفتح والجوھرۃ وجواھر الفتاوٰی والحلیۃ والغنیۃ والبحر والشرنبلالی وغیرھم وسکتوا جمیعا علیہ فلعل فیہ سرا لم اصل الیہ وقد بینت فی بعض فتاوی فی باب الوضوء انہ یبتنی علی احد قیلین ضعیفین فی المذھب فتذکر وتبصر واللّٰہ تعالٰی اعلم اماھھنا فلاسبیل الی الجواز لان الضربۃ اذا اتت علی الحدث رفعتہ وکست الکفین صفۃ التطھیر فاذا طرء الحدث علیھا ابطل الطھارۃفابطل التطھیر واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ مجھے حیرت ہے کہ یہ امام اسبیجابی، اور عنایہ، فتح القدیر، جوہرۃ، جواہر الفتاوٰی، حلیہ، غنیہ، البحرالرائق کے مصنفین اور شرنبلالی وغیرہم جیسے اجلّہ سب کا اس پر توارد کیسے ہوگیا؟ اور سبھی حضرات نے کیسے اس پر سکوت فرمایا؟ شاید اس میں کوئی ایسی رمز ہو جہاں تک میرے فہم کی رسائی نہ ہوسکی۔ میں تو بابِ وضو میں اپنے ایک فتوے کے اندر یہ بیان کرچکا ہوں کہ اس کی بنیاد ہمارے مذہب کی دو ضعیف روایتوں میں سے کسی ایک پر ہے اسے ذہن میں لائیں اور غور کریں(عہ۱)۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ مگر یہاں تو کوئی صورت جواز نہیں اس لئے کہ حدث کے بعد جب ضرب واقع ہوئی تو اس نے حدث اٹھادیا اور ہتھیلیوں کو تطہیر کی صفت بخش دی پھر جب اس پر حدث طاری ہوا، اس نے طہارت زائل کردی تو تطہیر کی صفت بھی ختم کردی واللہ تعالٰی اعلم۔
(عہ۱) مصنف قدس سرہ اس فتوے میں فرماتے ہیں: اقول وباللہ التوفیق۔ انہوں نے استشہاد میں جو یہ مسئلہ بیان کیا کہ ''جس نے ہتھیلیوں میں آبِ وضو لیا پھر اسے حدث ہوا پھر اسے بعض وضو میں استعمال کیا تو یہ جائز ہے''۔ یہ دو غیر ماخوذ روایتوں میں سے کسی ایک کی بنیاد پر چل سکتا ہے۔ ایک امام ابویوسف کا قول ہے کہ مستعمل ہونے کیلئے محدث کا پانی بہانا اور نیت کرنا شرط ہے۔ اور مذکورہ صورت میں دونوں مفقود ہیں۔ دوسری روایت وہ جس پر مشائخ بلخ ہیں کہ جدا ہونے کے بعد بدن یا کپڑے یا زمین یا کسی اور چیز پر پانی کا ٹھہر جانا شرط ہے۔ اور معلوم ہے کہ جب ہتھیلی کا پانی وہ کسی عضو میں استعمال کرے تو ہتھیلی سے جدا ہونا اگرچہ پالیا گیا مگر وہ پانی ابھی ٹھہرا نہیں اس لئے مستعمل نہ ہوگا____ لیکن صحیح معتمد قول کی بنیاد پر یہ ہے کہ حدث والے بدن سے پانی کا محض مس ہوجانا اور اس سے جدا ہوجانا مستعمل ہونے کا حکم کرنے کیلئے کافی ہے اگرچہ وہاں نہ حدث والے سے بہانا پایا گیا ہو نہ نیت ہو نہ جُدا ہونے کے بعد استقرار ہوا ہو۔ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی ہتھیلی سے پانی جدا ہونے سے مستعمل ہوجائے گا پھر کسی عضو کے وضو میں اس کا استعمال صحیح نہ ہوگا۔ یہی مجھے سمجھ میں آیا اور یہ بہت واضح ہے اور اسی سے اس قول کا رد مکمل ہوجاتا ہے،واللہ تعالی اعلم (فتاوی رضویہ جلد ۱باب الوضوء فتوی نمبر ۵)۱۲منہ محمد احمد مصباحی