Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
86 - 166
ۤوفی الکافی(۱) ینفض یدیہ مرۃ وعن ابی یوسف مرتین ولاخلاف فی الحقیقۃ لانہ ان تناثر ماالتصق بکفہ من التراب بنفضۃ یکتفی بھا والانفض نفضتین لان الواجب المسح بکف موضوع علی الارض لااستعمال التراب فانہ مثلہ ۲؎ اھ ومثلہ عنہ فی البرجندی ومعناہ فی الحلیۃ وغیرھا ولا یتقید بنفضتین ایضا بل ینفض الی ان یتناثر فقد قال فی الھدایۃ ینفض یدیہ بقدرما یتناثر التراب کیلا یصیر مثلۃ ۳؎ اھ
اور کافی میں ہے ''اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک بار جھاڑلے گا۔ اور امام ابویوسف سے روایت ہے کہ دوبار۔ اور درحقیقت کوئی اختلاف نہیں اس لئے کہ اگر ایک ہی بار جھاڑنے سے ہتھیلی پر چپکی ہوئی مٹی جھڑ جائے تو اسی پر اکتفاء کرے ورنہ دوبار جھاڑے کیونکہ واجب یہی ہے کہ جو ہتھیلی زمین پر رکھی جاچکی ہے اس سے مسح کرے یہ واجب نہیں کہ مٹّی کو استعمال کرے یہ تو مثلہ ہے''۔ اھ اسی کے مثل کافی کے حوالہ سے برجندی میں نقل ہے، اور حلیہ وغیرہا میں اس کے ہم معنی عبارت تحریر ہے۔ اور دوہی بار جھاڑنے کی بھی کوئی پابندی نہیں بلکہ یہاں تک جھاڑے کہ مٹّی جھڑ جائے۔ کیونکہ ہدایہ میں یہ فرمایا ہے: ''اپنے ہاتھوں کو اس قدر جھاڑے گا کہ مٹّی جھڑ جائے تاکہ مثلہ نہ ہو اھ
 (۱؎ بدائع الصنائع    رکن التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۴۶)       ( ۲؎ کافی)

(۳؎ الہدایۃ    باب التیمم    المکتبۃ العربیۃ کراچی    ۱/۳۴)
فمن کان جالسا علی فرش من رخام فقام معتمدا بکفیہ علیہ ثم بعد زمان اراد ان یتیمّم فاجتزاء بذلک المس الذی وقع بین الرخام وکفیہ عند القیام فمتی تیمّم صعیدا طیبا للطھور حین کان الصعید بکفیہ لم یقصد وحین قصد لاصعید وانما ورد القصد علی کفين صفرین فالظاھر ان الصواب فیہ مع السید الامام ابی شجاع وقد علمت قوۃ مالہ من التصحیحات وکثرتھا سواء(۱) قلنا برکنیۃ الضربتین اولالان المساس الواقع بین الکفین والتراب لایصیر مطھرا الا اذا کان منویا۔
تو جو شخص کسی سنگِ مرمر کے فرش پر بیٹھا ہوا تھا پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اس پر ٹیک دیتے ہواکھڑا ہوا پھر کچھ دیر بعد تیمم کرنا چاہا تو کھڑے ہوتے وقت اس کی ہتھیلیوں اور سنگِ مرمر کے درمیان جو مس پایا اسی پر اکتفا کرلیا تو اس نے طہارت کے لئے پاک صعید کا قصد کب کیا؟ جب صعید اس کی ہتھیلیوں سے متصل تھی اُس وقت قصد نہ کیا۔ اور جب قصد کیا اس وقت صعید نہیں۔ بس خالی ہتھیلیوں پر قصد کا عمل پایا گیا۔ تو ظاہر یہ ہے کہ اس مسئلہ میں صواب ودرستی سید امام ابوشجاع کے ساتھ ہے۔ اور ان کی تصحیحات کی قوت اور کثرت بھی معلوم ہے خواہ ہم یہ کہیں کہ دونوں ضربیں رکنِ تیمم ہیں یا نہیں ہیں۔ اس لئے کہ ہتھیلیوں اور مٹی کے درمیان پایا جانے والا عمل مس اسی وقت مطہر ہوتا ہے جب مقصد ونیت کے ساتھ ہو۔
نعم ان(۲) التصق بکفیہ تراب کاف للتیمم ونوی الاٰن جاز لصدق قصدہ الی صعید طیب للتطھیر وکم لہ فی الفروع المارۃ من نظیر فان حملنا علیہ قول التجویز کان توفیقا وباللّٰہ التوفیق واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
ہاں اگر اس کی ہتھیلیوں سے اتنی مٹّی لگی ہُوئی موجود ہو جو تیمم کیلئے کافی ہے اور اب نیت کرلی تو جائز ہے کیونکہ اب یہ بات صادق آگئی کہ اس نے تطہیر کیلئے پاکیزہ صعید کا قصد کیا۔ گزشتہ جزئیات میں اس کی بہت سی نظیریں بھی آچکی ہیں۔ زمین پر ہاتھ مارنے کے بعد پائی جانیوالی نیت سے تیمم جائز قرار دینے والے قول کو اگر اس معنٰی پر محمول کرلیا جائے تو دونوں قولوں میں تطبیق بھی ہوجائے گی (جواز کا قول اس صورت میں ہے جب ہاتھوں پر بقدر کافی پاک صعید موجود ہو اور عدمِ جواز کا قول اس صورت میں ہے جب ایسا نہ ہو۔ م۔ ا) واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
الثامن اظھر(۱) منہ الامر فی ثمرۃ الخلاف الاخری فان(۲) التراب بامساس الکفین بہ للطھور یکسبھما باذن اللّٰہ تعالٰی وصف التطھیر حتی انہ بنفسہ یخرج من البین وان کان لہ بقیۃ تزال بنفض الیدین ومستحیل ان یکون نجس مطھرا فاذا ضرب ثم احدث قبل المسح فقد صارکفاہ غیر طاھرتین فکیف تبقیان مطھرتین۔
بحث۸: (عہ۱) اختلاف کے ثمرہ دیگر کا معاملہ اس سے زیادہ روشن ہے۔ اس لئے کہ ہتھیلی کو طہارت کیلئے جب مس کیا جاتا ہے تو مٹّی باذنِ الٰہی ان ہتھیلیوں کو تطہیر کی صفت بخش دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ خود مٹی درمیان سے نکل جاتی ہے۔  اگر کچھ باقی رہ بھی گئی تو ہاتھوں کو جھاڑ کر دُور کردی جاتی ہے۔ اور یہ محال ہے کہ کوئی نجس مطہِّر ہو۔ تو جب اس نے زمین پر ہاتھ مارے پھر مسح سے پہلے اسے حدث عارض ہوگیا تو اب اس کی ہتھیلیاں تو بے طہارت ہوگئیں جپھر وہ خود غیر طاہر ہوکر مطہّر کیسے رہ جائیں گی؟
 (عہ۱)  بحث سابق سے معلوم ہوا کہ ضرب کفایت نیت کی بات کسی قول پر بھی راست نہیں آتی اور اسے ضرب کی رکنیت اور عدمِ رکنیت میں اختلاف کا ثمرہ شمار کرانا کسی طرح درست نہیں۔ اب حضرت مصنف نے تعریف ہشتم کے بعد ذکر شدہ پہلے ثمرہ اختلاف پر کلام کیا ہے وہ ثمرہ یہ بیان کیا گیا تھا کہ بعد ضرب اگر متیمم کو حدث عارض ہوا تو قولِ رکنیت پر یہ ضرب تیمم کے لئے کافی نہ ہوگی اور قولِ دیگر پر کافی ہوگی ۱۲ م۔ الف)
وما(۳) استدلوا بہ للسید الامام انہ علی الرکنیۃ یقع الحدث فی خلال التیمم۔
اب وہ بات رہی جس سے سید امام ابوشجاع کی حمایت میں استدلال کیا گیا ہے کہ ان کے رکنیت ضرب کے قول پر یہ لازم آرہا ہے کہ حدث درمیان تیمم میں واقع ہوا۔
فاقول: حاصل علی کل حال لما قدمنا اٰنفا من ان الکفین قد طھرتا بالضرب حتی لایمسحھما علی الصحیح فالحدث الواقع بعد الضرب لایقع الا وقد اتی ببعض التیمم وان لم تکن الضربۃ رکنا اماحدیث من ملأ کفیہ ماء فاحدث کان لہ ان یستعملہ ۱؎۔
فاقول:  یہ تو بہرحال لازم ہے کیونکہ ابھی ہم بتا چکے کہ ضرب سے ہتھیلیاں پاک ہوگئیں اب قولِ صحیح کی بنیاد پر، ان پر دوبارہ مسح نہ کیا جائے گا۔ تو ضرب کے بعد پایا جانے والا حدث اسی حالت میں واقع ہورہا ہے جب کہ کچھ تیمم ہوچکا ہے اگرچہ ضرب رکن تیمم نہ ہو (عدمِ رکنیت ضرب کے قول پر حدث بھی ضرب مذکور سے اگلا مسح درست ہونے کے ثبوت میں) یہ جو کہا گیا تھا کہ کسی نے اپنی ہتھیلیوں میں پانی لیا پھر اسے حدث ہوا تو بھی وہ اس پانی کو وضو کیلئے استعمال کرسکتا ہے (ایسے ہی ضرب کے بعد حدث ہوا تو بھی وہ اس سے تیمم کرسکتا ہے)
 (۱؎ فتح القدیر    باب التیمم    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۱۱۰)
فاقول: یجب عــہ ان یکون فی اول مااغترف قبل ان یغسل شیئا من الاعضاء والالکان حدثا فی خلال الوضوء وحینئذ(۱) لامانع من ان یصرفہ فی غسل یدیہ لانھما کانتا محدثتین عند الغرف وقد لاقامھما الماء وبقی سائغ الاستعمال لعدم الانفصال فالحدث بعد الغرف لایزیدہ شیئا فوق ذلک والمطھر ھو الماء لایداہ بخلاف ماھنا(۲) فان کفیہ ھما اعتبرتا مطھرتین بعد الضراب لا التراب الذی لاحاجۃ الیہ بل لوکان ازیل۔
فاقول: ضروری ہے کہ یہ اس وقت ہو جب اس نے پہلی بار چلّو میں پانی لیا اور ابھی کوئی عضونہ دھویا ہو ورنہ یہ حدث درمیان وضو میں ہوگا۔ اور شروع ہی میں جو پانی لیا اور حدث ہوگیا تو اس پانی کو اپنے ہاتھوں کے دھونے کے عمل میں صرف کرنے سے کوئی مانع نہیں کیونکہ یہ دونوں ہاتھ تو چُلّو لینے کے وقت بھی محدث وبے طہارت تھے اب ان سے پانی کا اتصال ہوا اور اسے استعمال کرنا جائز رہا کیوں کہ ابھی پانی ہاتھ سے جُدا نہ ہوا (اور پانی جب تک عضو سے جدا نہ ہو وہ مستعمل اور غیر مطہر قرار نہیں پاتا) چلّو لینے کے بعد حدث پایا گیا تو یہ حدث ہاتھوں کی حالت میں سابقہ حالت سے زیادہ کوئی اضافہ تو نہیں کررہا ہے (پہلے بھی پانی محدث ہاتھوں میں ہی تھا اور اب بھی محدث پانی ہاتھوں میں ہی ہے) اور مطہّر پانی ہی ہے اس کے دونوں ہاتھ مطہر نہیں ہیں بخلاف تیمم والی صورت کے، کیوں کہ یہاں تو اس کی دونوں ہتھیلیاں ہی ضرب کے بعد مطہّر مانی گئی ہیں، نہ کہ وہ مٹی جس کی اب کوئی ضرورت نہ رہی بلکہ اگر ہاتھ پر لگی بھی ہو تو وہ جھاڑ دی جائے گی۔
عـــہ وکتبت ھھنا فیما علقت علی ردالمحتار اقول المراد من ملأ کفیہ ماء اول الوضوء لیغسل بہ یدیہ الی رسغیہ لانہ لم یزد ھذا الحدث الاملاقاۃ الماء کفا ذات حدث وقد کان ھذا حاصلا قبل ھذا الحدث لکونہ محدثا من قبل فکما جاز للمحدث ان یملأ کفیہ ماء یغسل بہ یدیہ ولا یکون بہ مستعملا للماء المستعمل لان الاستعمال بعد الانفصال فکذا اذا احدث بعد الاغتراف امامن غسل یدیہ ثم اغترف للوجہ فاحدث لم یجز لہ ان یغسل بہ وجھہ کمااشار الیہ بقولہ صار کما لواحدث فی الوضوء بعد غسل بعض الاعضاء وذلک لان الماء ینفصل عن ید محدثۃ فيصیر مستعملا فلایبقی طھورا فافہم ۱؂اھ ماکتبت علیہ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

میں نے اس مقام پر حاشیہ ردالمحتار (جدالممتار) میں لکھا ہے اقول مراد یہ ہے کہ جس نے شروع وضو میں گٹوں تک ہاتھوں کو دھونے کیلئے اپنی ہتھیلیوں میں پانی بھرا، اس لئے کہ اس حدث سے صرف یہی بات زیادہ ہوئی کہ حدث والی ہتھیلی سے پانی کا اتصال ہوا، اتنی بات تو اس سے پہلے وہ محدث وبے وضو تھا تو جیسے محدث کو اپنی ہتھیلیوں میں ہاتھوں کو دھونے کیلئے پانی بھر لینا جائز ہے، اور اس سے وہ مائے مستعمل کو استعمال کرنے والا نہیں قرار پاتا کیوں کہ پانی پر مستعمل ہونے کا حکم اس وقت ہوتا ہے جب وہ عضو سے جُدا ہوجائے۔ تو یہی بات اُس صورت میں بھی ہوگی جب وہ چلّو لینے کے بعد حدث کرے۔ لیکن وہ شخص جس نے اپنے ہاتھوں کو دھو لیا پھر چہرے کیلئے چُلّو میں پانی لیا اور اب اسے حدث ہوگیا تو اس کیلئے اس پانی سے چہرہ دھونا جائز نہیں۔ جیسا کہ اس کی طرف اپنے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ایسا ہوا جیسے بعض اعضا دھونے کے بعد درمیان وضو اسے حدث ہوا یہ اس لئے کہ یہ پانی (جب ہاتھ سے چہرے پر ڈالے گا اسی وقت وہ) محدث ہاتھ سے جدا ہوگا تو مستعمل ہوجائے گا پھر مطہر نہ رہ جائے گا (کہ اس سے چہرہ دھوسکے) فافہم۔ اسے سمجھو۔ ردالمحتار پر میرا لکھا ہُوا حاشیہ ختم ہوا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۱؂جد الممتار علی ردالمحتار   باب التیمم   المجمع الاسلامی  مبارکپور  ۱/۱۴۱)
Flag Counter