وقال مشائخنا یضرب(عہ۲) یدیہ ثانیا ویمسح باربع اصابع یدہ الیسر ظاھرہ یدہ الیمنی من رؤس الاصابع الی المرفق ثم یمسح بکفہ الیسری باطن یدہ الیمنی الی الرسغ ویمر باطن ابھامہ الیسری علی ظاھر ابھامہ الیمنی ثم یفعل بالید الیسری کذلک وھو الاحوط ۱؎ اھ
اور ہمارے مشائخ نے فرمایا کہ دوسری بار دونوں ہاتھوں کو مارے اور بائیں ہاتھ کی چار انگلیو سے دائیں ہاتھ کی پشت کا انگلیوں کے سروں سے کہنی تک مسح کرے پھر اپنی بائیں ہتھیلی سے دائیں ہاتھ کے پیٹ کا گٹّے تک مسح کرے۔ اور بائیں انگوٹھے کا پیٹ دائیں انگوٹھے کی پشت پر پھیرے۔ پھر بائیں ہاتھ کا اسی طرح مسح کرے۔ اور یہی زیادہ بااحتیاط طریقہ ہے۔ اھ''
(۱؎ بحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۴۵)
(عہ۲) الذی فی المحیطین مثلہ فی التحفۃ والبدائع و زاد الفقہاء ونصوا جمیعا انہ احوط کما عزالھم فی الحلیۃ والبحر والھندیۃ۔
دونوں محیط میں جو طریقہ مسح ہے وہی تحفہ، بدائع اور زادالفقہاء میں بھی ہے۔ اور تمام حضرات نے صراحت کی ہے کہ یہ ''احوطـ'' ہے۔ جیسا کہ حلیہ،بحر اور ہندیہ میں ان کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔
اقول: اولا سنحقق(۱) ان التراب لایوصف بالاستعمال ففیم الاحتیاط وان فرض اوارید بہ الصعید الحکمی علی مانحققہ فھذا الماء الذی یوصف بہ اجماعا لایصیر مستعملا فی عضو واحد فی الوضوء وفی شیئ من البدن فی الغسل لان الکل فیہ کعضو واحد فما بال التراب یصیر مستعمل فی عضو واحد۔
اقول، اولا عنقریب ہم تحقیق کرینگے کہ مٹّی مستعمل ہونے سے موصوف نہیں ہوتی پھر احتیاط کس بات میں ہے؟ اور اگر فرض کیا جائے یا اس سے صعید حکمی مراد لیا جائے جیسا کہ ہم اس کی تحقیق کرنے والے ہیں تو اس صورت میں یہ کلام ہے کہ پانی جو مستعمل ہونے سے بالاجماع موصوف ہوتا ہے وہ بھی وضو میں ایک ہی عضو کے اندر اور غسل میں بدن کے کسی بھی حصّے میں مستعمل نہیں ہوجاتا، اس لئے کہ غسل سب عضو واحد کی طرح ہے۔ پھر کیا بات ہے کہ مٹی ایک ہی عضو میں مستعمل ہوجائے؟
وثانیا: ان(۲) فرض فلامفر منہ لان الکف لایستوعب الذراع لولابل ولاحول المرفق عرضا ولذا کتبت علی قول ش نقلا عن البدائع ھذا الاقرب الی الاحتیاط لما فیہ من الاحتراز عن استعمال التراب المستعمل بالمقدار الممکن مانصہ۔
ثانیا اگر صعید حکمی فرض کریں تو بھی اس سے مفر نہیں اس لئے کہ ہتھیلی طول میں پوری کلائی کا استیعاب نہیں کرسکتی، بلکہ عرض میں بھی کہنی کے گرد کا استیعاب واحاطہ نہیں کرتی۔ اسی لئے بدائع سے نقل کرتے ہوئے شامی نے جو یہ عبارت درج کی ہے کہ: ''یہی احتیاط سے قریب تر ہے کیونکہ اس میں ''بقدر ممکن'' مستعمل مٹی کے استعمال سے بچنا حاصل ہوتا ہے''۔ اس پر میں نے یہ لکھا تھا:
اقول: انا وبقولہ بالقدر الممکن مع ماصرح بہ فی الاحادیث والروایات ان التیمم ضربتان انہ لولم یفعل ذلک وانما استوعب المسح کیفما اتفق اجزاء ہ وذلک لان کل احد یعلم ان دور یدہ قریب المرفق اعظم بکثیر من طول مقدار الکف مع الاصابع فلایمکن ان یحصل الاستیعاب بما ذکروا بل لابد من بقاء مواضع فلولم یجز ذلک لزمت ضربات مکان ھو ضربتین وھو باطل ولذا عبروہ بینبغی لایجیب فالحمدللّٰہ الذی جعل ھذا الامر واسعا اھ ماکتبت علیہ والاٰن اقول اذا لم یحصل بہ المقصود لم یکن الا تکلفا فما احسن ما فی البدائع من بعضھم انہ یمسح من دون تلک المراعات والا یتکلفا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اقول: احادیث اور روایات میں تیمم دو ضرب ہونے کی تصریح کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی عبارت ''بقدر ممکن'' سے یہ افادہ ہوتا ہے کہ اگر خاص اس طریقہ پر مسح نہ کیا اور جیسے بھی اتفاق ہُوا مسح سے پورے عضو کا احاطہ کرلیا تو تیمم ہوجائیگا۔ یہ اس لئے کہ ہر شخص جانتا ہے کہ کہنی کے قریب اس کے ہاتھ کا دَور (گھیرا) انگلیوں سمیت ہتھیلی کی مقدار سے بہت زیادہ ہے، تو ان حضرات کے بتائے ہوئے طریقہ پر بھی اس حصہ کا احاطہ ممکن نہیں، بلکہ کچھ جگہیں ضرور مسح سے رہ جائیں گی تو اگر یہ (احاطہ مسح کیلئے چھُوٹی ہوئی جگہوں پر مستعمل مٹی کو استعمال کرنا) جائز نہ ہو تو بجائے دو۲ ضربوں کے بہت ساری ضربیں لازم ہوں گی۔ اور یہ باطل ہے۔ اسی لئے مذکورہ طریقہ کو ''مناسب'' فرمایا ''واجب'' نہ کہا۔ تو خدا کا شکر ہے کہ اس نے کام میں وسعت رکھی ہے۔ شامی پر میری لکھی ہوئی عبارت ختم ہوئی۔ اور اب میں یہ کہتا ہوں کہ اس طریقہ مسح سے بھی جب مقصود (مستعمل مٹی کے استعمال سے احتراز) حاصل نہیں تو یہ بس تکلف ہی ہے اس لئے بعض حضرات سے بدائع میں جو منقول ہے کہ ''اس رعایت کے بغیر مسح کرلے اور تکلف میں نہ پڑ ے'' وہ بہت عمدہ اور کیا خوب ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۱جد الممتار علی ردالمحتار باب التیمم المجمع الاسلامی مبارکپور ۱/۱۴۰-۴۱)
ومثل الصفۃ فی الھندیۃ عن محیط السرخسی وبالجملۃ فالصحیح الرجیح المشہور المذکور للجمھور ھو ترک مسح بطن الکفین۔
یہی طریقہ ہندیہ میں محیط سرخسی کے حوالے سے لکھا ہوا ہے۔ الحاصل صحیح، راجح، مشہور جمہور کا بیان کیا ہوا قول یہی ہے کہ ہتھیلیوں کے پیٹ کا مسح نہیں کیا جائیگا۔
اقول: فاذن مافی الذخیرۃ نقلا عن محمد فی الاصل ثم یضرب اخری وینفضھما ویمسح بھما کفیہ وذراعیہ الی المرفقین ۲؎ اھ المراد فیہ بکفیہ ظاھرھما کماقال فی الحلیۃ فی عبارۃ شرح الجامع الصغیر ھل یمسح الکف الصحیح لاان المراد بالکف باطنھا لاظاھرھا ۳؎ اھ
اقول: اس تحقیق سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ امام محمد سے اصل کے حوالے سے ذخیرہ میں جو یہ عبارت نقل کی ہے کہ ''پھر دوسری بار ہاتھ مارے اور دونوں کو جھاڑلے اور ان سے اپنی ہتھیلیوں کا اور کہنیوں سمیت کلائیوں کا مسح کرے'' اھ۔ اس میں ہتھیلیوں سے مراد ان کی پشت ہے جیسے حلیہ میں شرح جامع صغیر کی عبارت ''کیا ہتھیلی کا مسح کریگا؟ صحیح یہ ہے کہ ''نہیں'' سے متعلق لکھا ہے کہ ''(یہاں) ہتھیلی سے مراد اس کا باطن ہے ظاہر نہیں'' اھ۔
(۲؎ المبسوط لامام محمد باب التیمم بالصعید ادارۃ القرآن کراچی ۱/۱۰۳)
(۳؎ حلیہ)
فان قلت فیھا ایضا عن الذخیرۃ قال مشائخنا الاحسن فی مسح الذراعین ان یمسح بثلاثۃ اصابع یدہ الیسری ظاھر یدہ الیمنی الی المرفقین ویمسح المرفق ثم یمسح باطنھا بالابھام والمسبحۃ الی رؤس الاصابع وھکذا یفعل بالید الیسری ولوتیمم بجمیع الاصابع والکف من غیران یراعی الکف والاصابع یجوز ۱؎ اھ
اگر یہ اعتراض ہو کہ اسی (حلیہ) میں ذخیرہ سے یہ بھی نقل ہے کہ ''ہمارے مشائخ نے فرمایا ہے کہ کلائیوں کے مسح میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنے بائیں ہاتھ کی تین انگلیوں سے اپنے دائیں ہاتھ کے ظاہر کا کہنیوں تک مسح کرے اور کہنی کا مسح کرے، پھر اس ہاتھ کے اندرونی جانب کا انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے ''انگلیوں کے سروں'' تک مسح کرے۔ اور اسی طرح بائیں ہاتھ کا بھی مسح کرے۔ اور اگرانگلیاں اور ہتھیلی سب ملا کر ہتھیلی اور انگلیوں کی رعایت کیے بغیر تیمم کرلیا تو بھی جائز ہے''۔ اھ۔
اقول: لاتنکر الخلاف فقد افید بالتصحیح لکن اذا ثبت الصحیح لایعدل عنہ وقد ذکرہ قاضی خان فی بیان صفۃ التیمّم انہ یضع بطن کفہ الیسری علی ظھر کفہ الیمنی ویمد من رؤس الاصابع الی المرفق ثم یدیر الی بطن الساعد ویمد الی الکف وھل یمسح الکف قال بعضھم لالانہ مسح مرۃ حین ضرب یدیہ علی الارض ثم یضع بطن کفہ الیمنی علی ظھر کفہ الیسری ویفعل مافعل بالیمنی ۲؎ اھ خانیہ فھذہ الصفۃ لیست الابیان ماھو الاولٰی فی التیمم وقد اخرج منہ مسح بطن الکفین فلم یکن اولی فکان عبثا فکان مکروھا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول: (تو جواب یہ ہوگا) ہمیں اختلاف سے انکار نہیں ترک مسح خفین کو قول صحیح بتانے سے ہی یہ مستفاد ہوجاتا ہے کہ اس مسئلہ میں اختلاف ضرور ہے لیکن جب قول صحیح ثابت ہو تو اس سے عدول وانحراف کی گنجائش نہیں۔ اسے قاضیخان نے طریقہ تیمم کے بیان میں ذکر بھی فرمایا ہے کہ ''وہ اپنی بائیں ہتھیلی کا پیٹ داہنی ہتھیلی کی پشت پر رکھے گا اور انگلیوں کے سروں سے کہنی تک کھینچے گا، پھر کلائی کے پیٹ کی جانب گھمائے گا اور ہتھیلی تک لے جائے گا، کیا ہتھیلی کا بھی مسح کریگا؟ بعض حضرات نے فرمایا: نہیں۔ کیوں کہ جب زمین پر اپنے ہاتھوں کو مارا اس وقت ایک بار اس کا مسح کرلیا۔ پھر اپنی داہنی ہتھیلی کا پیٹ اپنی بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھے گا اور وہی کرے گا جو دائیں میں کیا''۔ اھ خانیہ۔ یہ طریقہ کیا ہے؟ اس کا بیان ہے جو تیمم میں بہتر واولٰی ہے اور ہتھیلیوں کے پیٹ کا مسح اس سے خارج کردیا تو یہ اولٰی نہ ہوا پس یہ عبث تو مکروہ ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ حلیہ)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خان باب التیمم نولکشور لکھنؤ ۱/۲۵)
ثمّ مذھب صاحب المذھب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ لایحتاج الی شیئ یلتزق بالید بل السنۃ ازالتہ بالنفخ والنفض وقد قدمناہ تحت الوجہ الثانی عن البدائع وفیھا ایضا التعبد ورد یمسح کف مسہ التراب علی العضوین لاتلو یثھما بہ ۱؎ اھ۔
پھر صاحبِ مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مذہب یہ ہے کہ اس کی حاجت نہیں کہ ہاتھ سے کچھ مٹّی چپک جائے بلکہ سنّت یہ ہے کہ پھونک کر اور جھاڑ کر اسے دُور کردیا جائے۔ اسے تعریف دوم کے تحت بدائع کے حوالے سے ہم نقل بھی کرچکے ہیں۔ بدائع میں یہ بھی ہے کہ ''حکمِ شرع یہ آیا ہے کہ جو ہتھیلی مٹّی سے مس ہوچکی ہے اسے دونوں عضووں پر پھیرا جائے یہ حکم نہیں کہ اس سے دونوں کو آلودہ کیا جائے''۔ اھ