السابع: لاوجہ یظھر(۲) لکفایۃ النیۃ بعد الضرب کیف(۳) وان التراب فی اصلہ ملوث وانما جعل مطھرا بالنیۃ تفضلا من المولٰی سبحٰنہ وتعالی قال الامام الجلیل ابو البرکات فی الکافی قال زفر النیۃ لیست بشرط فیہ کالوضوء لانہ خلفہ فلایخالفہ ولنا ان التراب ملوث بذاتہ وانما صار مطھرا اذا نوی قربۃ مخصوصۃ والماء خلق مطھرا فاذا استعملہ فی المحل النجس طھرہ وان کان نجساً حکما والخلف قد یفارق الاصل لاختلاف حالھما الا تری ان الوضوء یحصل باربعۃ اعضاء بخلاف التیمم وسن التکرار(۱) فی الاصل دون الخلف ۱؎ اھ۔
بحث۷: (ضربوں کے رکنِ تیمم ہونے اور نہ ہونے کا ایک ثمرہ اختلاف یہ بتایا گیا کہ بعد ضرب اگر نیتِ تیمم کی تو یہ نیت عدم رکنیت والے قول پر کافی ہوگی یہاں اوّلاً مصنف کی تحقیق یہ ہے کہ کسی قول پر بھی مذکورہ نیت کے کافی ہونے کی کوئی وجہ نہیں، آخراً اس نیت کے کافی ہونے اور کافی نہ ہونے سے متعلق جو دو قول ملتے ہیں ان میں تطبیق کی ایک صورت بھی ذکر کی ہے ۱۲ م۔ الف) جنس زمین پر ہاتھ مارنے کے بعد تیمم کی نیت کی جائے تو اس نیت کے کافی ہونے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی اور یہ بھلا کیونکر کافی ہوگی جبکہ مٹی دراصل آلودہ کرنے والی چیز ہے اور مولٰی سبحٰنہ وتعالٰی کے فضل وکرم سے نیت ہی کی وجہ سے اسے مُطَہِرّ (پاک کرنیوالی) قرار دیا گیا ہے۔ امام جلیل ابو البرکات نسفی کافی میں رقمطراز ہیں: امام زفر کا قول ہے کہ وضو کی طرح تیمم میں بھی نیت شرط نہیں۔ اس لئے کہ تیمم وضو کا خلیفہ ونائب ہے تو اس کے برخلاف نہ ہوگا۔ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ مٹّی بذاتِ خود آلودہ کرنے والی چیز ہے اور مطہر صرف اس وقت ہے جب قربتِ مخصوصہ کی نیت ہو اور پانی تو مطہِرّ ہی پیدا کیا گیا ہے۔ وہ جب نجس جگہ استعمال ہوگا تو اسے پاک کردیگا اگرچہ وہ جگہ حکماً نجس ہو۔ اور نائب کبھی اصل سے الگ اور اس کے برخلاف ہوتا ہے جب کہ دونوں کی حالت مختلف ہو۔ دیکھیے وضو چار اعضا میں ہوتا ہے اور تیمم میں ایسا نہیں۔ اسی طرح اصل یعنی وضو میں تکرار مسنون ہے اور نائب یعنی تیمم میں تکرار نہیں۔ اھ
(۱؎ کافی)
وقد نصوا ان(۲) الضرب المعتبر فی التیمّم یطھر الکفین فلا تمسحان بعدہ ومعلوم ان لاتطھیر الابالنیۃ ولو(۳) کان الضرب بدون النیۃ کافیا فی التیمم وجب تقیید المسألۃ بہ وھم انما یرسلونہ ارسالا ففی شرح الجامع الصغیر للامام قاضی خان ثم الحلیۃ وجامع الرموز وفی جامع المضمرات ثم الھندیۃ ثم ط ثم ش ھل یمسح الکف الصحیح انہ لایمسح وضرب الکف یکفی ۲؎ اھ
علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ تیمم میں معتبر ضرب یعنی دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارنا ہتھیلیوں کو پاک کردیتا ہے اس لئے اس ضرب کے بعد ہتھیلیوں کا مسح نہیں کیا جائیگا۔ اور یہ معلوم ہے کہ تطہیر بغیر نیت کے نہیں ہوسکتی، اگر بلانیت ضرب تیمم میں کافی ہوتی تو مسئلہ کو اس سے مقید کرنا ضروری ہوتا، حالانکہ علماء اسے مطلق ذکر فرماتے ہیں۔ امام قاضی خان کی شرح جامع صغیر، پھر حلیہ و جامع الرموز میں، اور جامع المضمرات پھر ہندیہ پھر طحطاوی پھر شامی میں ہے کیا ہتھیلی پر بھی مسح کریگا؟ صحیح یہ ہے کہ اس پر مسح نہ کرے گا اور ہتھیلیوں کو زمین پر مارنا ہی
کافی ہے اھ۔
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع فی التیمم پشاور ۱/۲۶)
وفی الحلیۃ عن الذخیرۃ لم یذکر محمد انہ یضرب علی الارض ظاھر کفیہ اوباطنہما واشار(۱) الی انہ یضرب(عہ۱) باطنھما فانہ قال فی الکتاب لوترک المسح علی ظاھر کفیہ لایجوز وانما یکون تارکا للمسح علی ظاھر کفیہ اذا ضرب باطن کفیہ علی الارض ۱؎ اھ فقد افاد(۱) ان لوکان الضرب بظاھر ھما کان مسحا لظاھرھما۔
حلیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ امام محمد نے یہ ذکر نہ فرمایا کہ زمین پر ہتھیلیوں کی پشت سے مارے گا یا پیٹ سے۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ باطنِ کف سے مارے گا۔ انہوں نے کتاب میں یوں فرمایا ہےکہ اگر ظاہر کف (پشت کفِ دست) پر مسح ترک کردیا تو جائز نہیں۔ اور ظاہر کف پر مسح ترک کرنے والا اس وقت قرار پائے گا جب زمین پر باطن کف سے مارا ہو اھ۔ اس عبارت سے امام محمد نے یہ افادہ فرمایا کہ اگر ظاہر کف سے زمین پر مارا ہو تو یہی مارنا ظاہر کف کا مسح بھی ہوگیا۔
(۱؎ بحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۴۶)
(عہ۱) وفی الدرر سننہ ثمانیۃ الضرب بباطن کفیہ ۱؎الخ وفی ش عن الذخیرۃ الاصح(۲) انہ یضرب باطنھما وظاھرھما علی الارض ۲؎اھ ای فالسنۃ الضرب بھما معاً ولذا قال فی ما زاد من السنن یزاد الضرب بظاھر الکفین ایضا کماعلمت تصحیحہ ۳؎اھ
درمختار میں ہے: تیمم کی سُنتیں آٹھ ہیں، باطنِ کف سے زمین پر مارنا الخ۔ شامی میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے: اصح یہ ہے کہ ہتھیلیوں کے باطن اور ظاہر دونوں ہی کو زمین پر مارے اھ۔ تو سنّت یہ ہے کہ ظاہر وباطن دونوں سے زمین پر مارے۔ اسی لئے علّامہ شامی نے درمختار کے بیان پر جن سنتوں کا اضافہ کیا ہے اس میں یہ بھی فرمایا ہے: دونوں ہتھیلیوں کے ظاہر سے بھی زمین پر مارنا سنن تیمم میں اسے زیادہ کرلیا جائے۔ جیسا کہ تمہیں معلوم ہوچکا ہے کہ یہی صحیح ہے۔
(۱؎ردالمحتار مع درمختار باب التیمم ۱/۱۵۴-۵۵ )
(۲؎ ردالمحتار مع درمختار باب التیمم ۱/۱۵۴-۵۵)
اقول: وکیفما کان لیس الضرب بباطنھا الاسنۃ فماوقع فی نور الایضاح ومراقی الفلاح السادس من الشروط ان یکون بضربتین بباطن الکفین۴؎ اھ غیر مسلم وقد قال فی النھر غیر خاف ان الجواز حاصل بایھما کان نعم الضرب بالباطن سنۃ ۵؎اھ کما فی المنحۃ عنہ والعجب(۳) ان لم ینبہ علیہ ناظروہ کالسیدین الازھری والطحطاوی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول: جیسے بھی ہو مگر باطنِ کف سے زمین پر مارنا سنّت ہی ہے (شرط نہیں) تو نورالایضاح اور مراقی الفلاح میں جو درج ہے کہ ''چھٹی شرط یہ ہے کہ تیمم دونوں ہتھیلیوں کے باطن سے دو ضربوں سے ہو'' اھ یہ قابلِ تقسیم نہیں۔ النہرالفائق میں ہے: یہ بات ظاہر ہے کہ باطن کف سے زمین پر مارے یا ظاہر کف سے مارے تیمم دونوں ہی صورت میں ہوجائے گا ہاں باطن کف سے مارنا سنّت ہے اھ جیسا کہ منحۃ الخالق میں نہر سے نقل ہے۔ مگر تعجب ہے نورالایضاح پر سید ازہری اور سید طحطاوی جیسے نظر فرمانیوالے حضرات نے اس کی اس خطا پر تنبیہ نہ کی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
( ۳؎ ردالمحتار مع درمختار باب التیمم ۱/۱۵۴-۵۵ )
(۴؎مراقی الفلاح مع الطحطاوی باب التیمم ص ۶۹)
(۵؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب التیمم ۱/۱۴۶)
اقول: والظاھر(۲) ان قولھم لا یمسح علی ظاھرہ للنھی لابمعنی انہ لاحاجۃ الیہ کماقد یتوھم من قول التبیین لایجب فی الصحیح مسح باطن الکف لان ضربھما علی الارض یکفی ۲؎ اھ وتبعہ البحر فی ھذا التعبیر وذلک لانہ اذاحصل مسحھما مرۃ بالضرب کماافاد فی الخانیۃ بقولہ لانہ مسح مرۃ حین ضرب یدیہ علی الارض ۳؎ اھ
اقول: ظاہر یہ ہے کہ علماء کا قول ''لایمسح علی ظاھرہ'' (ظاہر کف پر مسح نہیں کرے گا) نہی کیلئے ہے، یہ معنٰی نہیں کہ پشتِ دست پر مسح کی حاجت نہیں (مگر کرلیا تو کوئی کراہت بھی نہیں) جیسا کہ تبیین کی اس عبارت سے وہم ہوتا ہے: ''صحیح مذہب میں باطنِ کف کا مسح واجب نہیں اس لئے کہ زمین پر اس کا مارنا ہی کافی ہے''۔ اھ۔ اس تعبیر میں بحر نے بھی تبیین کی پیروی کی ہے لایمسح نہی کیلئے اس لئے ہے کہ ضرب کے ذریعہ جب ایک بار ہتھیلیوں کا مسح کرلیا''۔ جیسا کہ خانیہ میں فرمایا ہے کہ ''اس لئے کہ اس نے جب زمین پر ہاتھوں کو مارا تو ایک بار مسح کرلیا''۔ اھ۔
(۲؎ تبیین الحقائق باب التیمم بولاق مصر ۱/۳۸)
(۳؎ فتاوٰی قاضی خان باب التیمم نولکشور لکھنؤ ۱/۲۵)
اور تیمم میں تکرار مسنون نہیں جیسا کہ ابھی ہم کافی کے حوالے سے بیان کرآئے۔ تو دوبارہ ان کا مسح کرنا عبث ہوگا اس لئے مکروہ ہوگا جیسا کہ البحرالرائق میں فرمایا ہے کہ ''تیمم پر تیمم کوئی قربت نہیں۔ ایسا ہی قنیہ میں ہے۔ اس عبارت کا ظاہر یہ ہے کہ تیمم پر تیمم مکروہ نہیں، مگر اسے مکروہ ہونا چاہئے، اس لئے کہ یہ عبث ہے اھ۔
(۱؎ بحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۴۹)
بلکہ قہستانی نے لکھا ہے کہ ''مسح کی تکرار نہ کی جائیگی اس لئے کہ یہ بالاجماع مکروہ ہے جیسا کہ کشف میں ذکر ہے'' اھ۔ اسی لئے عامہ علماء نے تیمم کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ کلائیوں کے اوپری حصہ کا، انگلیوں کے سرے کہنیوں تک مسح کرے اور اندرونی حصّے کا کہنیوں سے گِٹّے تک مسح کرے۔ جیسا کہ بدائع، جوہرہ، عنایہ میں اور محیط سرخسی پھر ہندیہ میں، اور تحفہ، محیط رضوی، زاد الفقہاء پھر حلیہ پھر ردالمحتار میں ہے۔
(۲؎ جامع الرموز فصل فی التیمم مطبعۃ کریمیہ قزان ۱/۶۸)
وایدہ فی الحلیۃ بما فی روایۃ للبخاری واخری لمسلم فی حدیث عمار رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ من مسحہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم بعد الضرب ظھر کفیہ فیترجح علی مافی الکافی ینبغی(۲) ان یضع بطن کفہ الیسری علی ظھر کفہ الیمنی ویمسح بثلاثۃ اصابع اصغرھا ظاھر یدہ الیمنی الی المرافق ثم یمسح باطنہ بالابھام والمسبحۃ الی رؤس الاصابع ثم یفعل بالید الیسری کذلک ۱؎ اھ ونقل مثلہ القھستانی عن المحیط ثم استدرک علیہ بما فی جامع الامام القاضی ان الکف لایمسح جعلی الصحیح ۲؎ اھ کما قدمنا،
اور حلیہ میں اس کی تائید میں حدیثِ عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے متعلق بخاری کی ایک روایت اور مسلم کی ایک دوسری روایت پیش کی ہے جس میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر ہتھیلیاں مارنے کے بعد پشتِ کفِ دست پر مسح فرمایا۔ تو اسے اس پر ترجیح ہوگی جو کافی میں ہے کہ: ''یہ چاہئے کہ اپنی بائیں ہتھیلی کا پیٹ داہنی ہتھیلی کی پشت پر رکھے اور تین چھوٹی انگلیوں سے اپنے داہنے ہاتھ کی پشت کا کہنیوں تک مسح کرے۔ پھر پیٹ کی جانب کا انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے ''انگلیوں کے سروں'' تک مسح کرے۔ پھر بائیں ہاتھ کا اسی طرح مسح کرے'' اھ اسی کے مثل قہستانی نے محیط سے نقل کیا ہے پھر اس پر اس سے استدراک کیا ہے جو جامع امام قاضیخان میں ہے جکہ ''صحیح قول کے مطابق ہتھیلی (باطنِ کف) کا مسح نہیں ہوگا''۔ جیسا کہ ہم نے پہلے نقل کیا ہے۔
(۱؎ جامع الرموز فصل فی التیمم مطبعۃ کریمیہ قزان ۱/۶۸)
(۲؎ جامع الرموز فصل فی التیمم مطبعۃ کریمیہ قزان ۱/۶۸)
والذی فی البحر(عہ۱) عن المحیط الرضوی ھکذا کیفیۃ التیمّم ان یضرب یدیہ علی الارض ثم ینفضھما فیمسح بھما وجھہ بحیث لایبقی منہ شیئ وان قل ثم یضرب یدیہ ثانیا علی الارض ثم ینفضھما فیمسح بھما کفیہ وذراعیہ کلیھما الی المرفقین،
اور البحرالرائق میں محیط رضوی کے حوالے سے اس طرح تحریر ہے تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ زمین پر اپنے دونوں ہاتھ مار کرجھاڑلے پھر ان سے چہرے کا اس طرح مسح کرے کہ اس کا ذرا سا حصہ بھی چھُوٹنے نہ پائے۔ پھر دوسری بار زمین پر ہاتھ مار کر جھاڑلے ان سے اپنی ہتھیلیوں اور دونوں کلائیوں کا کہنیوں تک مسح کرے۔
(عہ۱) والمحیط ھذا ھو الرضوی کما یظھر بمراجعۃ الحلیۃ ویرید بھذا ان الذی نقل فی البحر عن المحیط الرضوی وفی الھندیۃ عن المحیط للسرخسی خلاف مانقلہ القھستانی فلیکن ان کان فی المحیط البرھانی واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہ محیط، محیط رضوی ہی ہے جیسا کہ حلیہ کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ بحر میں جو محیط رضوی کے حوالہ سے، اور ہندیہ میں محیط سرخسی کے حوالہ سے منقول ہے یہ اس کے خلاف ہے جو قہستانی نے (محیط سے) نقل کیا ہے۔ اگر قہستانی کی نقل کردہ عبارت ''محیط برہانی'' کی ہو تو ہوسکتا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)