والثانیۃ: ان تجد لہ ثخنا کثیرا حول اعضائک کأن تکون مختبیا فی رمل اویھجم غبار بھبوب ریح اواثارۃ منک بھدم وغیرہ ولوبذر مثیر فتجد غبارا ثائرا مرتفعا غیر منقطع احاط بعضویک فترید التیمم بہ قبل سکونہ کما فی الفرع الخامس ومنہ السابع والثامن۔
(۲) متیمم اپنے اعضاء کے گرد صعید کی کافی دبازت پائے مثلاً ریت میں چھُپا ہوا ہو، یا آندھی چلنے، یا دیوار گرانے وغیرہ سے خواہ غبار انگیز چھڑکاؤ ہی کی وجہ سے غبار کی وافر مقدار ہوگئی ہے جس کے باعث اپنے اعضاء کے گرد نہ ختم ہونے والا بلند اڑتا ہوا غبار پارہا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے ٹھہرنے سے پہلے اس سے تیمم کرلے۔ جیسا کہ جزئیہ۵ میں ہے۔ اسی سے متعلق جزئیہ۷، ۸ بھی ہے۔
ففی ھاتین وان وجد الاتصال بین الصعید والعضوین لکن لیس بفعلک للتیمّم بل امّا لا فعل لک فیہ کما فی القاء الریح وارتفاع الغبار بانھدام الجدار اوکان فعلک فی تحریکہ ثم وصولہ الی عضویک بطبعہ کمافی الھدم والکنس والکیل والذر وضرب الید ونفض الثوب اووصل بفعلک لاللتیمّم کمافی صورۃ الاختباء والشرط وجود فعل ناو یقع بنفسہ امساس العضوین بالصعید۔
ان دونوں صُورتوں میں اگرچہ صعید اور اعضاء کے درمیان اتصال پایا گیا لیکن یہ اتصال تیمم کیلئے متیمم سے ہونے والے فعل کے ذریعہ نہ ہوا بلکہ اس میں یا تو متیمم کا سرے سے کوئی فعل ہی نہیں، جیسے اس صورت میں کہ آندھی نے اعضاء پر غبار ڈال دیا، یا دیوار گرنے سے غبار اٹھا، یا متیمم کا فعل تو ہوا لیکن یہ فعل صرف اتنا تھا کہ غبار کو حرکت دی، برانگیختہ کیا، پھر اعضاء تک غبار کا پہنچنا خود غبار کی فطرت وطبیعت کے تحت پایا گیا، جیسے اس صورت میں کہ متیمم نے دیوار گرائی، جھاڑو دیا، غلّہ ناپا، مٹّی چھڑکی، غبار پر ہاتھ مارا، کپڑا جھاڑا، یا غبار متیمم کے فعل ہی سے پہنچا لیکن یہ فعل تیمم کیلئے نہ تھا جیسے اس صورت میں کہ متیمم ریت میں چھُپا ہوا تھا۔ اور شرط یہ ہے کہ بہ نیتِ تیمم ایسا فعل پایا جائے کہ خود اسی فعل سے اعضاء کو صعید سے مس کرنا متحقق ہو۔
دُوسری صورت میں چونکہ اعضائے متیمم کے گرد صعید کی دبازت موجود ہے اس لئے بہ نیتِ تیمم اس کا اپنے چہرے اور ہاتھوں کو حرکت دے لینا ہی کافی ہے کیونکہ پہلے جس سے اتصال تھا اس کے علاوہ فعل (فعل تحریک) کی وجہ سے صعید سے اتصال اور مس کرنا پالیا جاتا ہے تو فعل مقصود کا حصول ہوجاتا ہے۔ یہی صورت جزئیہ ۵ کے تحت خلاصہ اور بحر میں ہے۔
لکن فی الصورۃ الاولی لا تجد صعیدا وراء عضویک فمھما حرکتھما لم یحصل امساس بشیئ جدید فلا یکفی ولابد من ان تمر یدک علیہ ناویا فیقع امساس لم یکن وھذا ما فی الفتح والبحر والظھیریۃ والھندیۃ فی الفرع الاول والخلاصۃ والدرر والبزازیۃ وابن کمال وکتاب الصلاۃ فی الفرع الثانی والخانیۃ والخلاصۃ والخزانۃ والایضاح والجوھرۃ فی الفرع السادس والمحیط والھندیۃ فی الفرعین التاسع والعاشر فذھب القلق÷ واسفر الفلق÷ وللّٰہ الحمد وظھر(۱) بھذا التقریر المنیر÷ فوائد مھمۃ نفعھا غزیر÷
لیکن پہلی صورت میں چونکہ اعضائے متیمم کے گرد صعید موجود نہیں ہے اس لئے اگر وہ چہرے اور ہاتھوں کو حرکت دے تو کسی نئی چیز سے مس کرنا حاصل نہ ہوگا اس لئے یہاں تحریک اعضاء تیمم کیلئے کفایت نہیں کرسکتی۔ ضروری ہے کہ بہ نیتِ تیمم صعید پر ہاتھ پھیرے کہ اعضاء کو صعید سے مس کرنے کا عمل حاصل ہو جو پہلے حاصل نہ تھا۔ یہی صورت جزئیہ ۱ کے تحت فتح القدیر، بحرالرائق، ظہیریہ اور ہندیہ میں ہے، اور جزئیہ۲ کے تحت خلاصہ، درر، بزازیہ، ابنِ کمال اور کتاب الصّلاۃ میں ہے جزئیہ۶ کے تحت خانیہ، خلاصہ، خزانہ، ایضاح اور جوہرہ میں ہے۔ اور جزئیہ ۹، ۱۰ کے تحت محیط اور ہندیہ میں ہے۔ اس تفصیل وتحقیق سے اضطراب دُور ہوگیا، اور صبح کا جمال روشن ہوگیا وللہ الحمد۔ اور اس تقریر منیر سے چند اہم فوائد بھی ظاہر ہوئے جو بہت نفع بخش ہیں، کچھ فوائد کا بیان درج ذیل ہے:
ف۱: خلاصہ اور بحر نے صرف تحریک اعضاء کے ذکر پر اکتفاء کیا مگر درر اور دیگر کتبِ معتمدہ نے مسح کی شرط لگائی دونوں میں کوئی اختلاف وتعارض نہیں جیسا کہ فاضل خادمی کو وہم ہوا۔ اس لئے۔اوّل اس صورت میں ہے جب اعضاء کے گرد اٹھتا ہوا غبا رموجود ہو، اور ثانی اس صورت میں ہے جب غبار منقطع ہوچکا ہو۔
ومنھا(۲) ان لیس المسح فی مسألۃ الدرر فی الفرع الثانی بمعنی یشمل التحریک کمازعم(۱) ایضا فان التحریک لایکفی فیہ بل لابدمن امرار الید۔
ف۲: جزئیہ۲ کے تحت ذکر شدہ مسئلہ درر میں مسح کا ایسا کوئی معنی مراد نہیں جو تحریکِ اعضاء کو بھی شامل ہو جیسا کہ فاضل موصوف نے خیال کیا۔ اس میں تحریک تو کافی ہو ہی نہیں سکتی بلکہ اعضاء پر ہاتھ پھیرنا ضروری ہے۔
ومنھا(۳) ان لا تھافت بین کلام الخلاصۃ فی الفرع الخامس وکلامہ فی الثانی والسادس لعین مامر فی الدرر۔
ف۳: جزئیہ ۵ کے تحت ذکر شدہ عبارت خلاصہ اور جزئیہ ۲ ، ۶ کے تحت مذکورہ عبارتِ خلاصہ کے درمیان کوئی تعارض نہیں۔ وجہ وہی ہے جو عبارتِ درر کی توضیح میں ابھی بیان ہوئی۔
ومنھا(۴) مثلہ للبحر فی الخامس والاول۔
ف۴: یہی حال جزئیہ ۵ اور جزئیہ ۱ کے تحت بحر کی مذکور عبارتوں کا ہے۔
ومنھا(۵) ان الذرفی الفرع السادس مالا یثیر نقعا وترید التیمم بعد ماوقع وسکن فلذا شرطوا المسح وفی الفرع السابع مایثیر
وترید التیمم وھو مرتفع فاکتفی البزازی بتحریک المحل لما علمت ان التحریک لاینفع بعد السکون۔
ف۵: جزئیہ۶ کے تحت اعضاء پر مٹّی چھڑکنے کا جو ذکر ہے اس سے ایسا چھڑکنا مراد ہے جس سے غبار نہ اُڑتا ہو اور مٹی اعضاء پر گر کر بیٹھ گئی اس کے بعد تیمم کا ارادہ کیا۔ اسی لئے اس میں مسح کی شرط ہے۔ اور جزئیہ۷ کے تحت ایسا چھڑکنا مراد ہے جس سے غبار اٹھتا ہو اور غبار بلند ہونے کی حالت میں ہی تیمم کا ارادہ ہو اسی لئے بزازی نے اعضائے تیمم کو اس غبار میں حرکت دے لینے پر ہی اکتفا کیا۔ یہ اس لئے کہ معلوم ہے غبار بیٹھ جانے کے بعد تحریکِ اعضاء سے کوئی فائدہ نہیں۔
ومنھا(۶) ان القیام فی مھب الریح ان کان بحیث ھبت فاثارت نقعا احاط بک فاردت التیمم حین ھو مرتفع کفاک التحریک وھو المراد البزازیۃ فی الفرع الثامن وان اردت بعد ماسکن لزمک امرار الید وھو المراد الخلاصۃ فی الفرع الثانی۔
ف۶: آندھی کے رُخ پر کھڑا ہونا اگر اس صورت میں ہو کہ آندھی چلی جس سے اس قدر غبار اٹھا کہ اس نے ہر طرف سے آدمی کو گھیر لیا اب اس نے غبار بلند رہنے ہی کی حالت میں تیمم کا ارادہ کیا تو اس وقت اعضائے تیمم کو اس بلند غبار میں حرکت دے لینا ہی کافی ہے۔ جزئیہ۸ کے تحت یہی بزازیہ کی مراد ہے۔ اور اگر غبار بیٹھ جانے کے بعد تیمم کا ارادہ کیا تو اعضاء پر بیٹھے ہوئے غبار پر ہاتھ پھیرنا ضروری ہے۔ جزئیہ۲ کے تحت خلاصہ کی یہی مراد ہے۔
ومنھا(۷) ان ادخال(۱) المحل فی موضع الصعید ترابا کان او رملا اوغبارا اذا کان بنیۃ التیمم کفی لحصول الامساس بفعلک ناویا وھو فرع الخلاصۃ الرابع وان کان لابالنیۃ واردت التیمم لزمک التحریک وھو فرع البزازیۃ الثامن فالادخال فی الخلاصۃ مع النیۃ ولذا لم یزد شیئا وفی البزازیۃ بدونھا ولذا زاد التحریک۔
ف۷: اعضائے تیمم کو صعید کی جگہ داخل کرنا۔ صعید خواہ مٹّی ہو یا ریت یا غبار۔ جب بہ نیتِ تیمم ہو تو یہی کافی ہے کیونکہ نیت کے ساتھ اعضاء کو صعید سے مس کرنے کا عمل حاصل ہوگیا۔ خلاصہ میں ذکر شدہ جزئیہ ۴ یہی ہے۔ اور اگر اعضائے تیمم کو داخل کرنا نیت کے بغیر ہوا پھر تیمم کا ارادہ کیا تو اعضا کو حرکت دینا ضروری ہے۔ یہ بزازیہ میں مذکورہ جزئیہ ۸ ہے۔ تو خلاصہ میں جو داخل کرنا مذکور ہے وہ بہ نیتِ تیمم داخل کرنا ہے اسی لئے اس پر کسی اور عمل کا اضافہ نہ بتایا۔ اور بزازیہ میں جو داخل کرنا بیان ہوا وہ بلانیت تیمم داخل کرنا ہے۔ اسی لئے اس میں قیدِ تحریک کا اضافہ کیا۔
وبالجملۃ اذا ھبت ریح فاثارت غبارا فذھبت الیہ ودخلتہ ناویا کان من الفرع الرابع اوغیرناو والغبار مرتفع کان من الثامن اواردت بعدما سکن کان من الثانی واذا قمت فی جھۃ المھب حتی ا تاک الغبار واحاط بک لم یکفک مطلقا وان کان وقوفک ھذا بنیۃ التیمم لان الوصول من جھۃ الغبار لامن قبلک فان کان بعد مرتفعا فحرکت اعضائک ناویا کان من الفرع الثامن وان وقع وسکن فاردت کان من الفرع الثانی۔
حاصلِ کلام یہ کہ جب آندھی چلے جس سے غبار اٹھے اس اڑتے ہوئے غبار کے پاس جاکر تیمم کی نیت سے اس میں داخل ہوجائے تو یہ صورت جزئیہ۴ کے تحت آئیگی۔ اور بغیر نیت داخل ہوگیا اور غبار ابھی بلند ہے تو جزئیہ۸ کی صورت ہوگی۔اور غبار بیٹھ جانے کے بعد اعضاء پر پڑے ہوئے غبار سے تیمم کا ارادہ کیا تو جزئیہ۲ کی صورت ہوگی۔ اور اگر آندھی کے رُخ پر کھڑا ہوگیا پھر غبار آخر محیط ہوگیا تو اس قدر مطلقاً کافی نہیں اگرچہ یہ ٹھہرنا تیمم ہی کی نیت سے ہُوا ہو۔ اس لئے کہ پہنچنے کا عمل غبار کی جانب سے ہوا متیمم سے نہ ہوا۔ اب اگر غبارا بھی بلند ہے اس میں اپنے اعضا کو بہ نیتِ تیمم حرکت دے لی تو جزئیہ۸ کی صورت ہوگئی۔ اور غبار جسم پر پڑ گیا اور بیٹھ گیا پھر تیمم کا ارادہ کیا تو یہ صورت جزئیہ۲ کے تحت آئے گی۔
وبوجہ اخصر اما ان تذھب الی الغبار فتدخل فیہ اعضائک ناویا اوغیر ناو اویأتیک علی الاول ثم التیمم وعلی الاخرین کفی التحریک ان کان مرتفعا ولزم امرار الیدان وقع وسکن۔
اور زیادہ مختصر طور پر یوں کہا جائے گا کہ تین صورتیں ہیں:
(۱) متیمم غبار کے پاس جاکر تیمم کی نیت سے اس میں اپنے اعضائے تیمم داخل کرے۔
(۲) بلانیت اعضاء کو داخل کرے۔
(۳) غبار خود متیمم تک پہنچے۔
پہلی صورت میں اتنے ہی عمل سے تیمم مکمل ہوگیا۔ آخری دو۲ صورتوں میں اگر غباراب بھی بلند ہے تو اعضاء کو حرکت دے لینا کافی ہے۔ اور اگر غبار اعضا پر پڑ گیا اور بیٹھ گیا تو ہاتھ پھیرنا ضروری ہے۔
ومنھا(۸) ان التحریک والادخال کل ذلک مسح کماعلمت فلا(۱) اخذ علی المحقق کمازعم البحر۔
ف۸: مختلف صورتوں کی تفصیل کے ذیل میں معلوم ہوا کہ غبار میں اعضاء کو حرکت دینا بھی مسح ہے اور اس میں داخل کرنا بھی مسح ہے۔ تو بحر نے محقق علی الاطلاق پر جو اعتراض کیا وہ ساقط ہے۔
ومنھا(۹) ان مراد الخلاصۃ فيقولہ ان الشرط وجود الفعل منہ ھو المسح عینا لاما(۱) یعمہ وغیرہ کما زعم ایضا۔
ف۹: خلاصہ نے جو کہا کہ ''شرط یہ ہے کہ خودمتیمم سے فعل کا وجود ہو'' اس فعل سے ان کی مراد بعینہٖ مسح ہے ایسا کوئی فعل مراد نہیں جو مسح اور غیر مسح کو عام ہو جیسا کہ بحر کا خیال ہے۔
ومنھا(۱۰) ان المسح ھورکن التیمم لاغیربہ یتقوم ولا تصورلہ بدونہ کماقال المحقق انہ الحق ھکذا ینبغی ان تفھم کلمات العلماء کرام÷ والحمدللّٰہ ولی الانعام÷ ذی الجلال والاکرام÷ وافضل الصلاۃ واکمل السلام÷ علی سید الانام÷ واٰلہ وصحبہ علی مراللیالی والایام÷ اٰمین۔
ف۱۰: مسح ہی رکن تیمم ہے، کچھ اور نہیں۔ اسی سے تیمم کی حقیقت وجود میں آتی ہے اور اس کے بغیر تیمم متصور بھی نہیں ہوسکتا، جیسا کہ حضرت محقق نے فرمایا کہ ''یہ حق ہے''۔ اسی طرح علمائے کرام کے کلمات کو سمجھنا چاہئے۔ اور ساری خوبیاں خدا کیلئے جو احسان کا مالک اور عزّت وبزرگی والا ہے۔ اور بہتر درود، کامل تر سلام ہو سیدانام اور ان کی آل واصحاب پر جب تک روزوشب کی گردش جاری رہے۔ آمین!