Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
82 - 166
اقول: وھو(۳) ظاھر السوق والتعلیل فکان ھو الاولی کما فعل فی التیسیر وفی ابن اثیر وتلخیصہ للسیوطی والمجمع مسحھم مربھم مراخفیفا لم یقم فیہ عندھم ۱؎ اھ
اقول: سیاقِ کلام اور تعلیل سے یہی آخری معنی ظاہر ہوتا ہے اس لئے یہی مراد لینا بہتر ہے جیسا کہ تیسیر میں کیا ہے۔ نہایہ ابن اثیر اور تلخیص نہایہ للسیوطی اور مجمع البحار میں ہے: ''مسحھم کا معنی ہے ان کے پاس سے ایسی سبک روی سے گزر گیا کہ ان کے پاس ٹھہرا نہیں''۔
 (۱؎ النہایۃ لابن اثیر    باب المیم مع السین    المکتبۃ الاسلامیہ بیروت    ۴/۳۲۷)
وفی الاخیر حدیث یمسح مناکبنا ای یضع یدہ علیھا لیسویھا ۲؎ اھ ای عند اقامۃ الصفوف وفی القاموس تماسحا تبایعا فتصافقا ۳؎ اھ
مجمع البحار میں ہے: ''حدیث میں ہے یمسح مناکبنا، یعنی (صفیں سیدھی کرتے وقت) سرکار ہمارے کاندھوں کو برابر کرنے کیلئے ان پر اپنا ہاتھ رکھتے''۔ قاموس میں ہے: ''تماسحا تبایعا فتصافقا اھ (تماسحا کا معنی یہ ہے کہ باھم خریدوفروخت کرکے ایک نے دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارا)
 (۲؎ مجمع البحار        لفظ مسح        نولکشور لکھنؤ    ۳/۲۹۸)

(۳؎ القاموس        باب الحاء فصل المیم    مصطفی البابی مصر    ۱/۲۵۸)
وفی التاج ماسحہ صافحہ والتقوا فتماسحوا تصافحوا ۴؎ اھ وقال المجد ھو یتمسح بہ ای یتبرک بہ لفضلہ ۵؎ فقال التاج کأنہ یتقرب الی اللّٰہ تعالٰی بالدنومنہ ویتمسح بثوبہ ای یمرثوبہ علی الابدان فیتقرب بہ الی اللّٰہ تعالی قیل وبہ سمی المسیح عیسٰی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام قالہ الازھری ۶؎ اھ
تاج العروس میں ہے: ''ماسحہ کا معنی ہے اس سے مصافحہ کیا التقوا فتماسحوا یعنی باہم ملے تو ایک دوسرے سے مصافحہ کیا'' اھ۔ قاموس میں مجدالدین نے لکھا: ''ھویتمسح بہ ای یتبرک بہ لفضلہ'' (وہ اس سے مسح کرتا ہے یعنی اس کی فضیلت کی وجہ سے اس سے برکت حاصل کرتا ہے''۔ اس پر تاج العروس میں کہا: ''گویا وہ اس کے قُرب کے ذریعہ خدا کی نزدیکی حاصل کررہا ہے۔ اور یتمسح بثوبہ کا معنی یہ ہے کہ وہ اس کے کپڑے کو اپنے بدن پر گزار کر اس سے خدا کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس وجہ سے حضرت عیسٰی علی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو مسیح کہا گیا۔ یہ ازہری نے کہا ہے''۔ اھ
 (۴؎ تاج العروس    فصل المیم من باب الحاء    احیاء التراث العربی مصر    ۲/۲۲۶)

(۵؎ القاموس المحیط    باب الحاء فصل المیم    مصطفی البابی مصر        ۱/۲۵۸)

(۶؎ تاج العروس    فصل المیم من باب الحاء    احیاء التراث العربی مصر    ۲/۲۲۶)
اقول: (۱) فقول المجد المسح امرار الید علی الشیئ السائل ۱؎ لیس السیلان لازمہ ولذا لم یزدہ الراغب فی مفرداتہ وھذا ربنا تبارک وتعالٰی یقول
فی الصعید فامسحوا بوجوھکم وایدیکم منہ ۲؎
ولا الید(۲) قیدا فیہ لحدیث تمسحوا عــہ بالارض فی وضع الجباہ علیھا بلاحائل ولاالامرار بمعنی التحریک علیہ لحدیث یمسح مناکبنا وقدنص ائمتنا ان ضرب الکفین بل ووضعھما علی الارض ناویا یطھرھما فلایمسحھما بعد وسیأتیک بعض نصوصہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی وانما امر المولی سبحنہ وتعالٰی بالمسح فلولا ان امساسھما بالارض مسحھما بھا لمااغنی۔
اقول: ان تصریحات کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ مجدالدین نے قاموس میں مسح کے معنٰی میں سیال چیز پر ہاتھ گزارنا جو لکھا ہے اس میں (شیئ کے ساتھ سیال کی قید نہ ہونا چاہئے کیونکہ) سیلان اس مفہوم کیلئے لازم شیئ نہیں۔ اسی لئے مفردات میں امام راغب نے اس قید کا اضافہ نہ کیا۔ قرآن مجید میں باری تعالٰی کاارشاد ہے: فامسحوا بوجوھکم وایدیکم منہ (اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کو مسح کرو) اس میں ہاتھ مفہوم مسح کی قید نہیں، کیوں کہ حدیث میں زمین پر بغیر حائل کے پیشانی رکھنے کیلئے بھی لفظ مسح وارد ہے جیسا کہ گزرا تمسحوا بالارض۔ اسی طرح ہاتھ پھیرنا یعنی عضو پر اسے حرکت دینا اور گزارنا یہ بھی مفہوم مسح کی قید نہیں کیونکہ حدیث میں وارد ہے یمسح مناکبنا۔ جبکہ یہاں کاندھوں پر صرف ہاتھ رکھنا ہوتا تھا (جیسا کہ مجمع البحار کے حوالے سے بیان ہوا) اس کا دوسرا ثبوت یہ بھی ہے کہ ہمارے ائمہ کرام نے تصریح فرمائی کہ اگر تیمم کی نیت سے دونوں_________ کفِ دست کو زمین پر مارا بلکہ اس نیت سے دونوں کو زمین پر صرف رکھ دیا تو دونوں پاک ہوگئیں بعد میں دونوں ہتھیلیوں کا مسح نہیں کرے گا۔ اس سلسلہ میں کچھ نصوص ان شاء اللہ تعالٰی عنقریب آئیں گے حالانکہ مولائے کریم سبحانہ وتعالٰی نے ''مسح'' کا حکم دیا ہے اگر زمین سے دونوں ہتھیلیوں کو مَس کرنا ہی ان دونوں کا مسح نہ ہوتا تو بعد میں الگ سے ان کا مسح ضروری ہوتا۔ اور پہلی بار دونوں کا زمین پر مَس کرنا ان دونوں کے مسح سے بے نیاز نہ کرتا۔
عـہ وفی النھایۃ والدر النثیر ومجع البحار تحت حدیث حماد المعتدۃ فی الجاھلیۃ تاخذ طائرا فتمسح بہ فرجھا ۱۲ منہ غفرلہ (م)

نہایہ، دُرِنثیر اور مجمع البحار میں حدیثِ حماد کے تحت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں معتدہ عورت پرندہ پکڑتی تو اسے اپنی شرمگاہ پر لگاتی ۱۲ منہ غفرلہ غفرلہ (ت)
 (۱؎ القاموس المحیط    باب الحاء فصل المیم    مصطفی البابی مصر    ۱/۲۸۵)

(۲؎ القرآن        ۴/۴۳)
اذا علمت ھذا(۱) فاعلم ان ھھنا صورتین تعود اربعا وذلک لانک حین ترید التیمم اما ان تجد الصعید متصلا باعضائک اومنفصلا عنھا علی الثانی لک وجھان احدھما ان تمسہ کفیک فتمسح بھما عضویک وذلک ھو المعھود المعروف والوارد فی الاحادیث القولیۃ والفعلیۃ والاٰخر عط امرارک عضویک علی الصعید أما مسحا من فوقہ کما فی الفرع الھادی عشر للاشل وفی الثالث للصحیح وھی واقعۃ سیدنا عمّار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالٰی ولم ینکر علیہ النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بمعنی انہ لم ینف طھورہ بہ وان ارشد الی ماکان یکفی الغاء للزائد علی الحاجۃ واما ادخالا فی خلالہ کمن یولج وجھہ وکفیہ فی الرمل بنیۃ التیمم وعلیہ الفرع الرابع اوعط امرارک الصعید علی عضویک کان تأخذ قطعۃ حجر فتمرھا علی وجھک وذراعیک ناویا مستوعبا وبالجملۃ تفعل مابنفسہ یقع المساس بین الصعید والمحل۔
یہ سب واضح ہوجانے کے بعد یہ جاننا چاہئے کہ یہاں دو۲ صورتیں ہیں جو چار ہوجاتی ہیں۔ اس لئے کہ جب تیمم کا ارادہ ہو متیمم اس وقت صعید کو یا تو اپنے اعضائے تیمم سے متصل(۱) پائے گا یا منفصل(۲)۔ برتقدیر ثانی دو۲ صورتیں ہیں (۱) صعید سے ہتھیلیاں مس کرکے ہتھیلیوں کو اعضا پر پھیرلے۔ یہی صورت معہود ومعروف اور قولی وفعلی احادیث میں مذکور ہے۔ (۲) ا۔ اعضائے تیمم کو صعید پر گزارے۔ خواہ اس طرح کہ صعید کے اوپر اعضاء کو پھیرے جیسے جزئیہ ۱۱ میں اعضاء شل ہوجانے والے شخص کیلئے بیان ہوا اور جزئیہ ۳ میں تندرست کیلئے ذکر ہوا۔ یہی سیدنا عماربن یاسر رضی اللہ تعالٰی عنہما کا واقعہ بھی ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انکار نہ فرمایا یعنی ان کی طہارت کی نفی نہ فرمائی، اگرچہ قدر حاجت سے زائد کو لغو بنانے کیلئے قدر کافی کی ہدایت ورہنمائی فرمائی، خواہ اس طرح کہ اعضائے تیمم کو صعید کے اندر داخل کردے۔ مثلاً کوئی شخص بہ نیتِ تیمم اپنے چہرے اور ہاتھوں کو ریت میں داخل کرے، اس پر جزئیہ ۴ ہے۔ ب۔ یا صعید کو اعضاء پر گزارے۔ مثلاً پتھر کا کوئی ٹکڑا لے کر بہ نیت تیمم چہرے اور ہاتھوں پر پورے طور سے پھیرلے۔ مختصر یہ کہ ایسا فعل ہو کہ خود اسی فعل سے صعید اور اعضائے تیمم باہم مَس ہوجائیں۔
واقول:  وھذا الوجہ الاخیر الذی زدتہ وان لم یذکروہ معلوم اجزاؤہ قطعا لوجود امتثال قولہ عزوجل فتیمّموا صعیدا طیبا فامسحوا بوجوھکم وایدیکم منہ ھذا کلہ فی الثانی اما الاول اعنی وجد انہ متصلا ففیہ صورتان:
اقول: یہ آخری صورت جس کا میں نے اضافہ کیا اگرچہ اسے علماء نے ذکر نہیں کیا مگر اس کا جواز تیمم کیلئے کافی ہونا قطعی طور پر معلوم ہے اس لئے کہ ارشادِ باری عزّوجلّ: ''تو پاک صعید کا قصد کرکے اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرو'' کی بجا آوری پائی جاتی ہے۔ یہ کلام برتقدیر ثانی تھا۔ اب پہلی تقدیر لیجئے یعنی صعید کو اعضاء سے متصل پانا۔ اس میں دو صورتیں ہیں:
الاولی: ان تجدہ علی عضویک فقط لاورائھما کغبارساکن وقع علیہما بالقاء ریح کما فی الفرع الاول اوبفعل منک کھدم اوکنس اوکیل اوذر اوضرب بہ اونفض ثوب کما فی الفرع الثانی والسادس والتاسع والعاشر کل ذلک اذا اردت التیمّم بما بقی منہ علی عضویک بعد سکونہ اولم یثر غبارا فی الذربل نزل علی العضو فسکن۔
 (۱) تیمم کرنے والا صرف چہرے اور ہاتھوں پر صعید پائے اور کسی عضو پر نہ پائے مثلاً دونوں عضووں پر غبار ہوا کے اڑا کر ڈال دینے سے پڑا ہو۔ جیسا کہ جزئیہ ۱ میں ہے یا خود متیمم کے کسی فعل سے ان اعضاء پر گرد آئی ہو جیسے دیوار گرنا، جھاڑودینا، غلّہ ناپنا یا مٹّی چھڑکنا یا اس پر ہاتھ مارنا، یا غبار آلود کپڑا جھاڑنا، ایسا کوئی فعل جس کے باعث گرد آکر اعضائے تیمم پر بیٹھ گئی جیسا کہ جزئیہ ۲، ۶، ۹، ۱۰ میں ہے۔ ان ساری صورتوں میں یہ ہو کہ جب گرد اعضاء پر بیٹھ گئی اس کے بعد اعضائے تیمم پر بیٹھی ہوئی گرد سے تیمم کا ارادہ کیا، یا چھڑکنے کی صورت میں غبار نہ اڑایا بلکہ جو مٹّی چھڑکی وہ عضو پر گر کر بیٹھ گئی۔
Flag Counter