الاوّل احادیث کثیرۃ قولیۃ وفعلیۃ وردت بذکر الضرب فی التیمم بل ھو المعھود فی جل ماجاء فی صفتہ ولولا خشیۃ الاطالۃ لسردتھا ولا اقول کما قال(۱) فی غایۃ البیان ان الضرب لم یذکر فی الاٰیۃ ولافی سائر الاٰثار وانما جاء فی بعضھا ۱؎ اھ اراد بہ الاخذ علی قول الامام النسفی فی المستصفی انھم انما اختارو الفظ الضرب وانکان الوضع جائزا لما ان الاٰثار جاء ت بلفظ الضرب ۲؎ اھ
بحث۱: بہت سی قولی وفعلی حدیثیں ہیں جن میں تیمم کے اندر ضرب کا ذکر آیا ہے بلکہ کیفیتِ تیمم سے متعلق بیشتر احادیث میں یہی معہود ومعروف ہے اگر تطویل کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں یہاں ان تمام احادیث کو ذکر کرتا، اور میں اس طرح نہیں کہتا جیسے غایۃ البیان میں کہا ہے کہ: ''ضرب آیت میں مذکور نہیں، اور تمام آثار میں بھی نہیں، صرف بعض میں ہے'' اھ اس سے انہوں نے المستصفی للامام النسفی کی درج ذیل عبارت پر گرفت کرنی چاہی ہے: اگرچہ وضع یعنی صعید پر ہاتھ رکھ کر تیمم کرلینا بھی جائز ہے مگر ان حضرات کے لفظ ضرب اختیار فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ لفظ ضرب آثار واحادیث میں وارد ہے'' اھ۔
(۱؎ البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۴۵)
(۲؎ البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۴۵)
ومن تتبع الاحادیث تبین لہ صدق کلام المستصفی فالاخذ لاوجہ لہ وان اقرہ علیہ البحر فھذا فی نفس ذکر الضرب امارکنیتہ فلا اعلم فیہ حدیثین صحیحین ولاحدیثا واحدا صریحا فضلا عن احادیث فقول الحلیۃ بہ قال اکثر العلماء لاحادیث صریحۃ بہ منھا ماعن ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما (فذکر ماقدمنا قال)
جو احادیث کی چھان بین کرے گا اس پر عیاں ہوجائیگا کہ مستصفی کی عبارت بجا ہے تو اس پر گرفت بلاوجہ اور بے جا ہے اگرچہ بحر میں بھی اس گرفت کو برقرار رکھا ہے۔ یہ احادیث میں ضرب کے صرف مذکور ہونے کی بات ہوئی اب یہ بات رہی کہ کیا احادیث میں اس کا رکن تیمم ہونا بھی مذکور ہے؟ تو میرے علم میں تو اس بارے میں دو صحیح حدیثیں بلکہ ایک بھی صریح حدیث نہیں۔ احادیث ہونا تو دور کی بات ہے۔ اب حلیہ کا یہ اقتباس پڑھئے۔ فرماتے ہیں: ''اکثر علماء رکنیت ضرب کے قائل ہیں اس لئے کہ اس بارے میں ''صریح احادیث وارد ہیں انہی میں سے وہ حدیث ہے جو حضرت ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے (اس کے بعد وہ الفاظ حدیث ہیں جو پہلے ہم نے تعریف ششم کے بعد ہی ذکر کیے ہیں فرمایا)
رواہ الحاکم واثنی علیہ ومنھا ماعن عمار بن یاسر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما قال کنت فی القوم حین نزلت الرخصۃ فامرنا بضربتین واحدۃ للوجہ ثم ضربۃ اخری للیدین الی المرفقین اخرجہ البزار باسناد حسن ۱؎ اھ
اسے حاکم نے روایت کیا اور اس کی ستائش کی۔ اور ان ہی میں سے وہ بھی ہے جو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے، فرمایا: جب رخصت نازل ہوئی میں لوگوں کے درمیان موجود تھا، سرکار نے ہمیں دو۲ ضربوں کاحکم دیا ایک چہرے کیلئے، پھر دوسری ضرب کہنیوں تک ہاتھوں کیلئے۔ بزار نے اس حدیث کی بسندِ حسن تخریج کی اھ''
(۱؎ حلیہ)
فیہ اولاان الحاکم لم یثن علیہ بل سکت عن تصحیحہ وعن تصحیح اسنادہ قال المحقق فی الفتح تبعا للامام الزیلعی المخرج سکت عنہ الحاکم وقال لااعلم احدا اسندہ عن عبیداللّٰہ غیر علی بن ظبیان وھو صدوق ۲؎ اھ
اس عبارت میں حلیہ پر چند کلام ہیں:
اوّلا: حاکم نے اس کی ستائش نہ کی، اس کی تصحیح سے بلکہ اس کی اسناد کی تصحیح سے بھی سکوت اختیار کیا۔ نصب الرایہ میں اس کی تخریج فرمانے والے امام زیلعی کی تبعیت میں محقق علی الاطلاق نے بھی فتح القدیر میں فرمایا: ''حاکم نے اس سے سکوت اختیار کیا اور فرمایا کہ میرے علم میں کوئی ایسا شخص نہیں جس نے اس حدیث کو عبیداللہ سے مُسند روایت کیا ہو، سوائے علی بن ظَبیان کے، اور یہ صَدُوق (راست گو) ہیں اھ''۔
(۲؎ فتح القدیر باب التیمم سکھر ۱/۱۱۰)
اقول: الثناء(۱) علی(۲) الراوی لیس ثناء علی(۳) الروایۃ وکونہ صادقا فی نفسہ لاینافی کونہ ضعیفا فی حدیثہ کیف(۴) وقد تظافرت کلمات ائمۃ الشان علی تضعیفہ بل قال ابوحاتم ثم النسائی متروک بل بالغ ابن معین فيما روی عنہ فقال کذاب واغتربہ المناوی فی التیسیر فقال فيہ کذاب۔
اقول: راوی کی تعریف وستائش، روایت کی تعریف وستائش نہیں۔ اور راوی کا فی نفسہٖ صادق ہونا، حدیث میں اس کے ضعیف ہونے کے منافی نہیں۔ پھر راوی مذکور حدیث میں ضعیف کیسے نہ ہوں؟ جبکہ ائمہ فن انہیں بیک زبان ضعیف کہتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں ابوحاتم پھر نسائی نے تو ''متروک'' بھی کہا ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ابن معین نے۔ جیسا کہ ان سے روایت کی گئی ہے۔ کذّاب کہا جس سے دھوکا کھاکر تیسیر میں مناوی نے ''کذاب'' لکھ ڈالا۔
اقول:(۱) ولیس کذلک بل الرجل خیر دین فقیہ ضعیف عند المحدثین فی الحدیث لاجرم ان قال فی التقریب ۱؎ ضعیف۔
اقول: حالانکہ ایسا نہیں۔ آدمی پسندیدہ، دین دار، فقیہ ہیں۔ یہ ہے کہ محدثین کے نزدیک حدیث میں ضعیف ہیں لاجرم تقریب میں کہا: ضعیف ہیں۔
وثانیا العجب(۲) استنادہ الی ھذا وترکہ حدیث جابر الصحیح الاسناد وتواردہ علیہ الامام السیوطی فی الجامع الصغیر۔
ثانیا: یہ بھی عجیب بات ہے کہ انہوں نے اس حدیث سے تو استناد کیا مگر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کی صحیح الاسناد حدیث کو چھوڑ دیا، جامع صغیر میں امام سیوطی سے بھی یہی ہوا ہے۔
وثالثا حدیث عمار(۳) رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انما فیہ الامر بضربتین ولیس کل یؤمربہ رکنا وابعد منہ حدیث البزار عن امّ المؤمنین الصدیقۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فلفظہ علی ضعف اسنادہ فی التیمم ضربتان ۲؎ اھ
ثالثا: اب حضرت عمار رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث لیجئے اس میں صرف اتنا ہے کہ ''ہمیں دو ضربوں کا حکم ہُوا۔'' اور ایسا نہیں کہ جس چیز کا بھی حکم دیا جائے وہ رکن ہو۔ اس سے بھی زیادہ بعید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت اُمّ المومنین صدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی روایت سے مُسند بزار کی حدیث ہے۔ ایک تو اس کی سند ضعیف ہے، دوسرے یہ کہ متن میں بس یہ ہے: ''فی التیمّم ضربتان'' (تیمم میں دو۲ ضربیں ہیں) اھ
(۲؎ کشف الاستار عن زوائد البزار باب التیمم مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱/۱۵۹)
ورابعا بل(۱) لیست العبارۃ التیمّم ضربتان(۲) صریحۃ فی الرکنیۃ وقد تقدم عن المحقق انہ خرج مخرج الغالب ۱؎ وسیأتی تحقیقہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔
(۱؎ فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھّر ۱/۱۱۱)
رابعا بلکہ ''التیمّم ضربتان'' (تیمم دو ضرب ہے) یہ عبارت بھی رکنیت کے بارے میں صریح نہیں۔ گزر چکا کہ محقق علی الاطلاق نے فرمایا ہے یہ بیان غالب واکثر کے لحاظ سے وارد ہے، عنقریب اس کی تحقیق آرہی ہے۔
اقول: بل روی مسلم عن معٰویۃ بن الحکم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ان ھذہ الصّلاۃ لایصلح فیھا شیئ من کلام الناس انما ھی التسبیح والتکبیر وقراء ۃ القراٰن ۲؎ ولیس التسبیح ولا التکبیر من ارکانھا وقال ملک العلماء فی البدائع صلاۃ الجنازۃ دعاء للمیت ۳؎ اھ ومعلوم ان لیس ارکانھا الا التکبیرات الاربع۔
اقول: بلکہ امام مسلم نے حضرت معاویہ بن الحکم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث روایت کی ہے: ''لوگوں کی بات چیت میں سے کچھ بھی اس نماز کے اندر ہونے کے لائق نہیں، نماز تو بس تسبیح وتکبیر اور قرآن کی قرأت ہے''۔ حالانکہ نہ تسبیح نماز کے ارکان میں سے ہے نہ تکبیر (اسی طرح ''تیمم'' دو ضرب ہے۔ یہ بھی محمول کو موضوع کا رکن بتانے کے معاملے میں صریح نہیں) ملک العلماء نے بدائع الصنائع میں فرمایا ہے: ''نمازِ جنازہ میت کیلئے دُعا کرنا ہے'' اھ جیسا کہ معلوم ہے کہ ارکان نماز جنازہ، چاروں تکبیروں کے سوا اور کچھ نہیں۔