| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
اقول: وھذا ربما یعتل فیہ بالضرورۃ فتکون الضربۃ رکنا محتمل السقوط کالقراء ۃ عن الاخرس فتلک عشرۃ کاملۃ لاضرب فیہا مع صحۃ التیمم۔
اقول: اس جزئیہ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ضرورت کی وجہ سے بغیر ضرب کے تیمم ہوگیا تو ضرب ایک ایسا رکن ہے جو ساقط ہوسکتا ہے جیسے نماز کا رکنِ قرأت گونگے سے ساقط ہے۔ تو اس جزئیہ کو چھوڑ کر وہ پُورے دس جزئیے ہوئے جن میں ضرب نہ ہونے کے باوجود تیمم صحیح ہونے کا حکم ہے۔
فالمحقق حیث اطلق سلک فیہا مسلکین اذقال بعد ذکر الفرع الاوّل یلزم فیہا اماکونہ قول من اخرج الضربۃ (ای عن مسمّی التیمّم) لاقول الکل واما اعتبار الضربۃ اعم من کونھا علی الارض اوعلی العضو مسحا ۱؎ اھ اقرہ فی الحلیۃ وخالفہ فی البحر فقال بعد نقل کلامہ اعلم ان الشرط وجود الفعل منہ اعم من ان یکون مسحا اوضربا اوغیرہ فقد قال فی الخلاصۃ (فاثر کلامہ فی الفرع الرابع والخامس) قال وھذا یعین ان ھذا الفروع مبنیۃ علی قول من اخرج الضربۃ من مسمّی التیمم اما من ادخلھا فلایمکنہ القول بھا فيما نقلنا عن الخلاصۃ اذ لیس فیہا ضرب اصلا لا علی الارض ولا علی العضو الا ان یقال مرادہ بالضرب الفعل منہ اعم من کونہ ضربا اوغیرہ وھو بعید کمالایخفی ۲؎ اھ
اِن سے متعلق محقق علی الاطلاق نے دو۲ طریقے اختیار کئے ہیں اس طرح کہ انہوں نے پہلے جزئیہ کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ: ''اس میں لازم ہے کہ یہ صرف ان حضرات کا قول ہو جو ضرب کو حقیقتِ تیمم سے خارج مانتے ہیں، سب کا قول نہ ہو۔ یا یہ مانا جائے کہ ضرب اس سے عام ہے کہ زمین پر ہو یا بطور مسح کے عضو پر ہو اھ'' حلیہ میں اسے برقرار رکھا ہے اور بحر نے اس کی مخالفت کی ہے۔ حضرت محقق کی عبارت نقل کرنے کے بعد یہ لکھا: ''جاننا چاہیے کہ شرط یہ ہے کہ اس سے فعل پایا جائے چاہے مسح ہو یا ضرب ہو یا کچھ اور ہو، کیونکہ خلاصہ میں یہ کہا ہے: (اس کے بعد جزئیہ۴ وجزئیہ۵ نقل کیا اور کہا) اس سے یہ بات متعین ہوجاتی ہے کہ یہ جزئیات ان حضرات کے قول پر مبنی ہیں جو ضرب کو حقیقتِ تیمم سے خارج مانتے ہیں، لیکن جو لوگ اسے داخلِ تیمم مانتے ہیں وہ اس میں اس کے قائل نہیں ہوسکتے جسے ہم نے خلاصہ سے نقل کیا کیونکہ اس میں سرے سے ضرب کا وجود ہی نہیں نہ زمین پر نہ عضو پر۔ مگر یہ کہا جائے کہ ضرب سے ان کی مراد تیمم کا عمل ہے خواہ ضرب ہویا اور کچھ، تو ہوسکتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ بعید ہے'' اھ۔
(۱؎ فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکّھر ۱/۱۱۰) (۲؎ البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۴۵)
وتبعہ اخوہ المحقق فی النھر والمدقق فی الدر فقالا المراد الضرب او ما یقوم مقامہ ونظم الدر بضربتین ولومن غیرہ اومایقوم مقامھا لما فی الخلاصۃ وغیرھالوحرک راسہ او ادخلہ فی موضع الغبار بنیۃ التیمّم جاز والشرط وجود الفعل منہ ۱؎ اھ
ان کے برادر محقق نے النہرالفائق میں اور مدقق علائی نے دُرِمختار میں ان کی پیروی کی ہے ان دونوں حضرات نے فرمایا: ''مراد یہ ہے کہ ضرب ہو یا وہ جو اس کے قائم مقام ہو''۔ اور درمختار کی عبارت یہ بھی ہے:'' دو ضربوں سے، اگرچہ یہ دوسرے شخص سے صادر ہوں، یاایسے فعل سے جو دونوں ضربوں کے قائم مقام ہو کیونکہ خلاصہ وغیرہامیں ہے کہ: ''اگر تیمم کی نیت سے اپنے سر کو حرکت دی یا اسے غبار کی جگہ داخل کیا تو جائز ہے اور شرط یہ ہے کہ اس سے فعل پایا جائے''۔ اھ
(۱؎ الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱/۴۲)
اقول: والعجب(۱) ان السید ط قال فاشار الشارح بقولہ اوما یقوم مقامھما الی اختیار ماقالہ الکمال ۲؎ اھ ثم قال علی قولہ وجود الفعل منہ اعم من ان یکون مسحا اوضربا اوغیرہ کمافی البحر ۳؎ اھ
اقول: حیرت ہے کہ سید طحطاوی لکھتے ہیں کہ ''شارح نے اپنی عبارت ''اومایقوم مقامھما (یا وہ فعل جو دونوں ضربوں کے قائم مقام ہو) سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کا مختار وہ ہے جو کمال ابنِ ہمام نے فرمایا''۔ اھ۔ پھر شارح کی عبارت ''وجود الفعل منہ'' (اس سے فعل پایا جانا شرط ہے) کے تحت فرمایا: ''عام اس سے کہ وہ فعل مسح ہو یا ضرب ہو اور کچھ ہو جیسا کہ بحر رائق میں ہے''۔ اھ۔
(۲؎ الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱/۴۲) ( ۳؎ الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱/۴۲)
فاین ھذا مما اختار الکمال الا ان یقال ان المراد اختیار خروج الضرب عن مسمی التیمّم وان لم یتابع المحقق علی رکنیۃ المسح بخصوصہ بل فعل مامنہ کتحریک الرأس اوادخالہ فی موضع الغبار ثم اعترض علی ھذا ایضا بقولہ وفیہ انھم اکتفوا بتیمّم الغیر لہ ولافعل منہ ۴؎ اھ
( ۴؎ طحطاوی علی الدر باب التیمم بیروت ۱/۱۲۷)
تو یہ وہ کہاں رہا جو کمال ابن ہمام نے اختیار فرمایا! مگر یہ کہا جائے کہ مطلب یہ ہے کہ شارح نے بھی یہی اختیار کیا ہے کہ ضرب حقیقت تیمم سے خارج ہے اگرچہ انہوں نے اس سلسلہ میں محقق علی الاطلاق کی متابعت نہیں کی ہے کہ ''خاص مسح رکنِ تیمم ہے'' بلکہ کوئی بھی فعل جو اس سے پالیا جائے جیسے سر کو حرکت دینا یا غبار کی جگہ داخل کرنا۔ پھر سید طحطاوی نے اس پر بھی یوں اعتراض کیا ہے: ''اس میں یہ خامی ہے کہ دوسرے کا اسے تیمم کرادینا بھی کافی مانا گیا ہے جب کہ خود اس کا کوئی فعل نہ پایا گیا'' اھ ۔
واجاب العلامۃ ش بان فعل غیرہ بامرہ قائم مقام فعلہ فھو منہ فی المعنی ۱؎ اھ وقال قبلہ ای الشرط فی ھذہ الصورۃ وجود الفعل منہ وھو المسح اوالتحریک وقد وجد فھو دلیل علی ان الضرب غیر لازم کمامر ۲؎ اھ
علامہ شامی نے اس کا جواب دیا ہے کہ اس کے حکم سے دوسرے کا فعل خود اسی کے فعل کے قائم مقام ہے تو وہ معنیً اسی کا ہے'' اھ۔ اور اس سے پہلے فرمایا کہ: ''اس صورت میں'' اس سے فعل پایا جانا شرط ہے۔ وہ مسح ہے یا حرکت دینا۔ اور یہ پالیا گیا۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ضرب ضروری نہیں، جیسا کہ گزر چکا'' اھ۔
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱/۱۷۴) (۲؎ ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱/۱۷۴)
اقول: ای(۱) خصوصیۃ لھذہ الصورۃ فان الفعل منہ موجود فی الضرب والمسح والتحریک والادخال جمیعا الا ان یرید بھذہ الصورۃ مااذاتیمّم بنفسہ اما لویممّہ غیرہ فلایشترط وجود الفعل منہ فح یکون ھذا مسلکا اخر فی الجواب وکان اذن حقہ ان یقول اونقول فعل غیرہ بامرہ الخ
اقول: اسی صورت کی کیا خصوصیت ہے فعل تو اس سے ضرب، مسح، اِدخال، تحریک سبھی صورتوں میں پایا جاتا ہے۔ مگر یہ کہا جائے کہ اس صورت سے ان کی مراد یہ ہے کہ جب خود تیمم کرے لیکن اگر اس کو کوئی اور تمیم کرائے تو فعل اس سے پایا جانا شرط نہیں۔ تب یہ جواب کا ایک دوسرا طریقہ ہوگا اور اِس وقت انہیں یوں کہنا چاہئے تھا: اونقول فعل غیرہ بامرہ الخ (یاہم یہ کہیں کہ اس کے حکم سے دوسرے کا فعل)۔
اقول: وبقی ان یقول امرہ من فعلہ ھکذا جری القیل والقال٭ وللعبد الضعیف لطف بہ مولاہ اللطیف عدۃ ابحاث فی ھذا المقال٭ ثم تحقیق وتوفيق یزول بہ الاشکال٭ بتوفیق الملک المھیمن المتعال٭
اقول: اب بھی کہنے کی ایک بات رہ گئی، وہ یہ کہ اس کا حکم دینا ہی اس کا فعل ہے۔ اسی طرح یہاں قیل وقال جاری ہے۔ اس مقام پر بندہ ضعیف اب ۔لطیف اسے لطف سے نوازے۔ کی چند بحثیں ہیں پھر ایک ایسی تحقیق اور تطبیق ہے جس سے اشکال دُور ہوجاتا ہے۔ یہ سب خدائے بلند ونگہبان کی توفیق سے ہے۔