وبہ حوّل الدرر حتی اذالم یمسح لم یجز الی ان المراد اذا عــہ لم یمسح عند عدم وجود فعل منہ بنیۃ التیمم والذر علی الاعضاء اذالم یصلح للاعتبار مالم یمسح اویحرک اعضاء ہ فماابعدالکیل والھدم والکنس من الاعتبار واللّٰہ تعالی الموفق۔
اسی لئے فاضل رومی نے درر کی عبارت ''اذا لم یمسح لم یجز'' (ہاتھ نہ پھیرا تو تیمم نہ ہوا) کو اس کے معنٰی سے پھیر کر یہ بنایا کہ: ''مراد یہ ہے کہ بہ نیتِ تیمم اس سے کوئی فعل نہ پائے جانے کی صورت میں جب ہاتھ نہ پھیرا (تو تیمم نہ ہوا)''۔ جب اعضاء پر گرد اڑانا قابلِ اعتبار نہیں جب تک کہ ہاتھ پھیرے یا اعضاء کو حرکت نہ دے تو گیہوں وغیرہ ناپنے، دیوار گرنے، جھاڑو دینے کا معتبر ہونا کس قدر بعید ہے- اور خدا ہی توفیق دینے والا ہے۔
عــہ فانقلت تأویل لاتحویل
اگر کہا جائے کہ (یہ عبارت درر کی) تاویل ہے، تحویل (اصل معنٰی سے دوسرے معنی کی طرف پھیرنا) نہیں ہے۔
اقول: کلا لواراد ان یسلک بالشرح ھذا المسلک لقال اشار بذکر المسح الی کل فعل یوجد منہ بنیۃ التیمم لاان یقدر فی کلامہ قیدا لا اثر لہ فی الکلام ولا اشارۃ فافھم ۱۲ منہ (م)
اقول: ہرگز نہیں۔ اگر وہ اس روش پر شرح کو چلانا چاہتے تو یوں کہتے: ''مصنّف نے مسح کا ذکر کرکے ہر اس فعل کی جانب اشارہ کیا ہے جو اس سے بہ قصد تیمم پایا جائے''۔ ایسا نہ کرتے کہ ان کے کلام کے اندر ایک ایسی قید مان لیں جس کا ان کے کلام میں نہ کوئی نام ونشان ہے نہ ہی کوئی اشارہ فافہم (ت)
وللّٰہ در امام المذھب فی کتاب الصلاۃ اذا اتی بما فیہ فعل لہ من الکنس والھدم والکیل ثم اطلق عدم الجواز مالم یمر یدہ علیہ ارشادا الی ان ھذہ الافعال لاتکفی وان کانت بنیۃ التیمّم ما لم یوجد المسح اما ما قال الفاضل الخادمی علی قول الدرر انہ یوھم ھذہ الافعال انہ لابد من کون الغبار اثر الفعل المتیمّم ولیس کذلک ۱؎ اھ ای للفرع المار القاء الریح الغبار والفرع الخامس انھدام الجدار۔
کتاب الصلوٰۃ میں امام مذہب کی عبارت کیا ہی جامع کیا ہی خوب ہے انہوں نے جھاڑو دینا، دیوار گرانا، گیہوں ناپنا ذکر کیا جس میں خود تیمم کرنے والے کا فعل پایا جاتا ہے پھر مطلق طور پر ذکر فرمادیا کہ تیمم نہ ہوگا جب تک اس پر ہاتھ نہ گزارے تاکہ اس بات کی جانب رہنمائی ہو کہ جب تک ہاتھ پھیرنا نہ پایا جائے یہ افعال کافی نہیں اگرچہ بہ نیت تیمم ہوں۔ فاضل خادمی نے دُرر کی عبارت پر لکھا کہ ''یہ افعال اس بات کا وہم پیدا کرتے ہیں کہ غبار کو تیمم کرنے والے کے کسی فعل کا نتیجہ واثر ہونا ضروری ہے۔ جبکہ ایسا نہیں''اھ۔کیونکہ آندھی کے غبار ڈالنے کا جزئیہ اور دیوار گرنے سے متعلق پانچواں جزئیہ گزر چکا۔
(۱؎ حاشیہ الدرر شرح غررلابی سعید خادمی باب التیمم مطبعۃ عثمانیہ بیروت ۱/۲۸)
فاقول: ھو فیہ مصیب لان الدرر ذکر ھذہ الافعال فی جانب الجواز فکان مثارا للتوھم ان الجواز مشروط بکون مایمسح بہ منہ ثائرا بفعلہ بخلاف عبارۃ کتاب الصلاۃ ففیھا ذکرھا فی جانب المنع فافادات تلک الفائدۃ العائدۃ واللّٰہ تعالی اعلم۔
فاقول: فاضل موصوف کا یہ کلام درست ہے اس لئے کہ درر میں یہ افعال جواز کے تحت مذکور ہیں جن سے وہم پیدا ہوتا ہے کہ جواز اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ جس غبار سے مسح ہو وہ اس کے فعل سے اُڑا ہو مگر کتاب الصّلٰوۃ کی عبارت میں اس وہم کا موقع نہیں کیونکہ اس میں یہ افعال ممانعت کے تحت مذکور ہیں۔ اس لئے وہ عبارت، مذکورہ عظیم فائدہ کی حامل ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
ومنھا(۹)فی المحیط ثم(۱) الھندیۃ صورۃ التیمم بالغبار ان یضرب بیدیہ ثوبا اولبدا او وسادۃ اومااشبھھا من(۲) الاعیان الطاھرۃعــہ التی علیھا غبار فاذا وقع الغبار علی یدیہ تیمّم۔ ۱؎
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ، الباب الرابع فی التیمم، پشاور ، ۱/۲۷)
جزئیہ۹: محیط پھر ہندیہ میں ہے: ''غبار سے تیمم کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کوئی کپڑا یا گدّا یا تکیہ یا اسی طرح کی کوئی پاک چیز جس پر غبار پڑا ہوا ہو اس پر ہاتھ مارے جب ہاتھوں پر غبار آجائے تو اس سے تیمم کرلے''۔
عــہ اقول: انما یشترط طھارۃ الغبار دون مایقع علیہ غیر ان الغبار یتنجس بوقوعہ علی نجس رطب اما اذا وقع بعد جفافہ فلاباس کما ذکر بعد اسطرعن النھایۃ اذاتیمم بغبار الثوب النجس لایجوز الا اذا وقع التراب بعدماجف الثوب اھ وذکرہ فی الحلیۃ وقال اشار الیہ فی التجنیس اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول: صرف غبار کا پاک ہونا شرط ہے۔ جس چیز پر غبار پڑا ہو اس کا پاک ہونا شرط نہیں مگر یہ ہے کہ غبار کسی تر نجس چیز پر پڑنے سے نجس ہوجاتا ہے لیکن اس کے خشک ہونے کے بعد اس پر غبار پڑے تو کوئی حرج نہیں۔ جیسا کہ چند سطروں کے بعد نہایہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ: ''اگر نجس کپڑے کے غبار سے تیمم کرے تو نہ ہوگا مگر جب کپڑا خشک ہونے کے بعد گرد پڑی تو ہوجائے گا''۔ اھ اسے حلیہ میں بھی ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرف تجنیس میں اشارہ موجود ہے اھ (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع فی التیمم ، پشاور ، ۱/۲۷)
(۴؎ حلیہ)
ومنھا(۱۰) فیھما قالا بعدما مر او ینفض ثوبہ حتی یرتفع غبارہ فيرفع یدیہ فی الغبار فی الھواء فاذا وقع الغبار علی یدیہ تیمّم ۲؎ اھ
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع فی التیمم پشاور ۱/۲۷)
جزئیہ ۱۰: محیط وہندیہ ہی میں، مذکورہ عبارت کے بعد ہے: ''یا اپنے کپڑے کو اس طرح جھاڑے کہ غبار بلند ہو پھر اپنے ہاتھوں کو ہوا میں بلند کرے جب اس کے ہاتھوں پر غبار پڑ جائے تو تیمّم کرلے''۔اھ
اقول: وماذکر اولا من الضرب بیدیہ علی الثوب لیست الضربۃ المطلوبۃ وانما ھی لاثارۃ الغبار والا لما احتاج الی وقوع الغبار علی یدیہ فان الید اذا ضربت علی الصعید اکسبھا صفۃ التطھیر فیمسح بھا وان لم یلتزق بھا شیئ منہ وقد اوضح ذلک بالصورۃ الاخیرۃ المقتصرۃ علی نفض الثوب۔
اقول: پہلے جو ذکر کیا کہ کپڑے پر اپنے ہاتھوں کو مارے یہ تیمم کی ضربِ مطلوب نہیں یہ تو صرف اس لئے ہے کہ کپڑے سے غبار اُٹھے ورنہ ہاتھوں پر غبار پڑنے کی ضرورت ہی نہ تھی، کیونکہ صعید پر جب بھی ہاتھ مارے تو وہ اس میں تطہیر کی صفت پیدا کردے گی پھر اس سے وہ مسح کرے گا اگرچہ ہاتھ پر کچھ بھی گردوغبار نہ لگا ہو اس مقصد کو انہوں نے بعد والی صورت سے واضح کردیا ہے جس میں صرف کپڑے کو جھاڑنے کا ذکر ہے۔
ومنھا(۱۱) فی(۱)الذخیرۃ ثم الھندیۃ لوشلت یداہ یمسح یدہ علی الارض و وجہہ علی الحائط ویجزیہ ۱؎ اھ
جزئیہ۱۱: ذخیرہ پھر ہندیہ میں ہے: ''اگر دونوں ہاتھ شل ہوگئے ہوں تو زمین پر ہاتھ اور دیوار پر چہرہ پھیرے اسی سے اس کا تیمم ہوجائےگا''۔ اھ
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع فی التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۶)