Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
76 - 166
ومنھا(۲) فی الخانیۃ(۲) والخلاصۃ لوقام فی مہب الریح اوھدم الحائط فاصاب الغبار وجھہ وذراعیہ لم یجز حتی یمسح وینوی بہ التیمّم ۳؎ اھ وفی الدرر کنس دار ا او ھدم حائطا اوکال حنطۃ فاصاب وجھہ وذراعیہ غبار فمسح جاز حتی اذا لم یمسح لم یجز ۴؎
جزئیہ ۲: خانیہ اور خلاصہ میں ہے: ''اگر آندھی کی گزرگاہ میں کھڑا ہوا، یا دیوار ڈھائی غبار اس کے چہرے اور ہاتھوں پر لگ گیا جب تک تیمّم کی نیت سے اس پر ہاتھ نہ پھیرے تیمم نہ ہوگا'' اھ دُرَر میں ہے: ''گھر میں جھاڑُو دیا، یا دیوار گرائی، یا گیہوں ناپا اس کے چہرے اور ہاتھوں پر غبار پڑ گیا اس پر ہاتھ پھیر لیا تو تیمم ہوگیا، نہ پھیرا تو نہ ہوا''۔
 (۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی    نوع فیما یجوزبہ التیمم     نولکشور لکھنؤ        ۱/۳۶)

(۴؎ درر حکام لملّا خسرو     باب التیمم         مطبعۃ کاملیہ بیروت    ۱/۳۱)
وقال العلامۃ الوزیر فی ایضاح اصلاحہ قدذکر فی کتاب الصلٰوۃ لوکنس دارا اوھدم حائطا اوکال حنطۃ فاصاب وجھہ وذراعیہ لم یجزہ ذلک من التیمم حتی یمریدہ علیہ ۵؎۔
اور علّامہ وزیر نے اپنی کتاب اصلاح کی شرح ایضاح میں فرمایا: ''کتاب الصلوٰۃ میں ذکر ہے کہ اگر گھر میں جھاڑو دیا یا دیوار گرائی یا گیہوں ناپا غبار اُڑ کر چہرے اور ہاتھوں پر پڑگیا جب تک اس پر ہاتھ نہ پھیرے تیمم نہ ہوگا'' اھ۔
 (۵؎ ایضاح واصلاح)
ومنھا(۳) فی الخانیۃ والخلاصۃ والتاتارخانیۃ والحلیۃ اذا(۱) اراد التیمم فتمعک فی التراب وذلک بجسدہ کلہ ان کان التراب اصاب وجھہ وذراعیہ وکفیہ جاز وان لم یصب وجہہ وذراعیہ لم یجز ۱؎۔
جزئیہ۳: خانیہ، خلاصہ، تاتارخانیہ اور حلیہ میں ہے: ''جب تیمم کا ارادہ کرکے خاک میں لوٹا اور اس سے سارے جسم کو ملا، اگر چہرے، کلائیوں اور ہتھیلیوں پر مٹّی پہنچ گئی تو تیمم ہوگیا اور چہرے اور کلائیوں پر نہ پہنچی تو نہ ہوا'' اھ۔
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی    کیفیت التیمم        نولکشور لکھنؤ        ۱/۳۵)
ومنھا(۴) فی الخلاصۃ(۲) لوادخل راسہ فی موضع الغبار بنیۃ التیمّم یجوز ۲؎۔
جزئیہ۴: خلاصہ میں ہے: ''کسی غبار کی جگہ اپنا سر (اور دونوں ہاتھ) تیمم کی نیت سے داخل کیا (جس سے منہ اور ہاتھوں پر غبار پھیل گیا) تو تیمم ہوجائےگا''۔
 (۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی    نوع فیما یجوزبہ التیمم        نولکشور لکھنؤ        ۱/۳۶)
ومنھا(۵) فیہا(۳) لوانھدم الحائط فظھر الغبار فحرک راسہ ینوی التیمم جاز والشرط وجود الفعل منہ ۳؎۔
جزئیہ۵: اسی میں ہے: اگر دیوار گری جس سے گرد اٹھی اس میں اپنے سر کو تیمم کی نیت سے حرکت دی تو تیمم ہوگیا۔ تیمم کرنے والے سے فعل کا وجود شرط ہے''۔
 (۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی، نوع فیما یجوزبہ التیمم ، نولکشور لکھنؤ ، ۱/۳۶)
ومنھا(۶) فیہا(۴) وفی الخانیۃ وخزانۃ المفتین لوذر الرجل علی وجھہ ترابا لم یجز وان مسح ینوی بہ التیمم والغبار علیہ جاز عند ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ عنہ ۴؎ اھ ای ومحمد خلافا لابی یوسف رحمھما اللّٰہ تعالی فانہ لایجیز التیمم بالغبار مع القدرۃ علی الصعید ۔
جزئیہ۶: اس میں اور خانیہ وخزانۃ المفتین میں ہے: ''اگر آدمی نے اپنے چہرے پر مٹّی گرائی تو تیمم نہ ہوگا اور غبار چہرے پر ابھی پڑا ہے بہ نیت تیمم ہاتھ پھیر لیا تو امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک تیمم ہوجائےگا اھ''۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں بھی ہوجائے گا امام یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا اختلاف ہے ان کے نزدیک سطح زمین سے تیمم پر قدرت ہوتے ہوئے غبار سے تیمم جائز نہیں۔
 (۴؎ خلاصۃ الفتاوٰی، نوع فیما یجوزبہ التیمم، نولکشور لکھنؤ ، ۱/۳۶)
وفی الجوھرۃ النیرۃ قولہ یمسح اشارۃ الی انہ لوذر التراب علی وجھہ ولم یمسحہ لم یجز وقد نص علیہ فی الایضاح انہ لایجوز ۱؎ اھ
 (۱؎ جوہرہ نیرّہ        باب التیمم        مکتبہ امدادیہ ملتان        ۱/۲۵)
جوہرہ نیرہ میں ہے: ''قولہ یمسح (ان کی عبارت ''ہاتھ پھیرے'') میں یہ اشارہ ہے کہ اگر چہرے پر گرد اڑائی اور ہاتھ نہ پھیرا تو تیمم نہ ہوگا، اور ایضاح میں عدمِ جواز کی تصریح بھی موجود ہے'' اھ۔
ومنھا(۷)و منھا(۸)فرعان فی وجیز الامام الکردری ذر(۱) علی المحل التراب فاصابہ غبارہ او ادخل(۲) المحل فی مثار الغبار فوصل بتحریک المحل جاز لا ان وقف فی المھب فثار الغبار علی المحل بنفسہ الا ان یمسح بھذا الغبار المحل ۲؎ اھ
جزئیہ۷، ۸: وجیز امام کردری میں دو۲ جزئیے ہیں: ''محل تیمم پر گرد اڑائی، غبار اس پر گرا یا اعضائے تیمم کو غبار اڑانے کی جگہ لے گیا اور ان اعضاء کو حرکت دینے سے ان پر گرد پہنچ گئی تو تیمم ہوجائےگا۔ لیکن اگر آندھی کے سامنے اس طرح کھڑا ہوا کہ غبار خود اُڑ کر اعضائے تیمم پر پہنچا تو تیمم نہ ہوگا مگر اس گرد کے ساتھ محلِ تیمم پر ہاتھ پھیر لیا تو ہوجائے گا'' اھ
 (۲؎ فتاوٰی بزازیہ مع الہندیہ    باب التیمم        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۱۷)
اقول:قولہ فوصل بتحریک المحل متعلق بکلتا مسئلتی الذر والادخال فالمعنی ذرفاصابہ غبارہ فحرک ینوی التیمّم جاز لوجود الصنع منہ کمانص علیہ فی مأخذہ الخلاصۃ ان(۳) الشرط وجود الفعل منہ واشار ھو الیہ بقولہ لاان ثار الغبار علی المحل بنفسہ وقد قدم قبلہ ان الشرط فی تحققہ صنع منہ خاص فی وصول التراب الی محلہ بالنیۃ و ان عدما او احدھما لا ۱؎ اھ ومجرد الذر لیس ذلک الصنع المطلوب کما لیس بہ الذھاب الی قرب المشار والوقوف عندہ بنیۃ التیمم فان ھذا الفعل سبب بعید لوصول التراب الی المحل والمأموربہ ھو المسح وھو فعل بنفسہ یقع الایصال والاتصال بین العضو والصعید واذ الوقوف فی المثار لم یعتبر مالم یحرک عضوہ بنیۃ التیمم فان الغبار انما یصل الی العضو بنفسہ بمیلہ الطبعی الی السفل فلایعتبر الذر بالاولی کما قدمنا التنصیص بہ عن المعتمدات فافھم وتثبت۔
اقول: ان کی عبارت ''اعضا کو حرکت دینے سے ان پر گرد پہنچ گئی'' گرد اڑانے، اور گرد اڑانے کی جگہ اعضائے تیمم کو داخل کرنے دونوں ہی مسئلوں سے متعلق ہے۔ تو معنٰی یہ ہوا کہ گرد اڑائی کہ غبار اسے لگا پھر اعضائے تیمم کو بہ نیت تیمم حرکت دی تو تیمم ہوجائے گا کیونکہ خود اس کا عمل پالیا گیا۔ جیسا کہ اس کے ماخذ خلاصہ میں تصریح موجود ہے کہ خود اس سے فعل پایا جانا شرط ہے۔ صاحبِ وجیز نے بھی اس کی طرف ان الفاظ سے اشارہ کیا ہے کہ ''اگر غبار خود سے اڑ کر اعضائے تیمم پر پہنچا تو نہ ہوگا'' اور اس سے پہلے بھی بتا چکے ہیں۔کہ ''تیمم متحقق ہونے کے لئے محل تیمم تک مٹّی پہنچنے میں نیت کے ساتھ خود اس کا خاص عمل پایا جانا شرط ہے۔ اگر دونوں چیزیں نہ ہوں یا ایک نہ ہو تو تیمم نہ ہوگا'' اھ۔ اور صرف اڑانا وہ فعل مطلوب نہیں، جیسے غبار اڑنے کی جگہ جانا اور وہاں تیمم کی نیت سے ٹھہرنا وہ فعل مطلوب نہیں۔ اس لئے کہ یہ عمل، محلِ تیمم تک مٹّی پہنچنے کا سبب بعید ہے۔ اور اسے جس فعل کا حکم دیا گیا ہے وہ مسح ہے، یہ ایسا فعل ہے کہ خود اسی سے مٹّی کا پہنچانا، اور عضو وصعید کے درمیان اتصال متحقق ہوتا ہے۔ اور جب بہ نیتِ تیمم عضو کو حرکت دیے بغیر، غبار کی جگہ صرف کھڑے ہونے کا اعتبار نہیں۔ کیونکہ غبار نیچے کی جانب اپنے میل طبعی کے باعث ازخود عضو تک پہنچتا ہے۔ تو غبار اڑانے کا اعتبار بدرجہ اولٰی نہ ہوگا۔ جیسا کہ متعدد کتابوں سے ہم اس کی تصریح پہلے نقل کرچکے۔ تو سمجھو اور ثابت رہو۔
 (۱؎ فتاوٰی بزازیۃ مع الہندیۃ     باب التیمم    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۱۷)
بقی ان فرع ادخال المحل موضع الغبار مطلق فی الخلاصۃ وقیدہ البزازی بالوصول بتحریک المحل وفرع الذر مذکور فی الکتب باشتراط المسح وابدلہ البزازی بالتحریک فیکشف لک اٰنفا ان شاء اللّٰہ تعالٰی منا شیئ الکلام ویوضع جناہ المعلل علی طرف الثمام وبہ یظھر جعلنا فرعی البزازیۃ غیر السادس والرابع وباللّٰہ التوفیق۔
یہ رہ گیا کہ غبار کی جگہ اعضائے تیمم کو داخل کرنے کا مسئلہ خلاصہ میں مطلق ہے اور بزازیہ میں اعضائے تیمم کو حرکت دینے سے گرد پہنچنے کی قید سے مقید ہے۔ اور گرد اڑانے والا مسئلہ کتابوں میں مسح کی شرط کے ساتھ مذکور ہے اور بزازیہ میں مسح کے بدلے حرکت دینے کا ذکر ہے۔ تو عنقریب ان کلاموں کا منشا منکشف ہوگا اور ان سے چُنا ہوا پھل سرراہ رکھ دیا جائے گا اس سے یہ بھی ظاہر ہوگا کہ ہم نے بزازیہ میں ذکر شدہ دونوں جزئیے چھٹے اور چوتھے جزئیے جسے الگ کیسے شمار کئے۔ و باللہ التوفیق۔
اقول: قد(۱) بان بطلان ما وقع للفاضل عبدالحلیم الرومی فی حاشیۃ الدرر اذقال بعد نقل مافی الخلاصۃ ان الشرط وجود الفعل منہ مانصہ اقول یظھر منہ انہ لوکال حنطۃ لیحصل التیمم بغبارہ کفی ان اصاب مواضع التیمم غبار کمالایخفی ۱؎ اھ۔
اقول: فاضل عبدالحلیم رومی نے حاشیہ درر میں خلاصہ کی عبارت ''اس سے فعل پایا جانا شرط ہے'' نقل کرنے کے بعد جو لکھا ہے اس کا غلط ہونا واضح ہوگیا، ان کی عبارت یہ ہے: ''اقول: اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر اس نے گیہوں اس لئے ناپا کہ اس کے غبار سے تیمم ہوجائے تو یہ کافی ہے اگر تیمم کی جگہوں پر غبار پہنچ گیا۔ یہ پوشیدہ نہیں''۔
 (۱؎ حاشیۃ الدرر للمولٰی عبدالحلیم    باب التیمم        مطبعۃ عثمانیہ بیروت        ۱/۲۷)
Flag Counter