وھی عبارۃ مختصر القدوری والھدایۃ والکافی والوقایۃ والنقایۃ والاصلاح من المتون وغیرما کتاب معتمد(۱) ولایخفی ان ظاھر مدلولہ رکنیۃ ضربتین وبہ قال السید الامام ابوشجاع واختارہ الامام شمس الائمۃ الحلوانی وصححہ فی الخلاصۃ وقال فی النصاب ھذا استحسان وبہ نأخذ وھو الاحوط ۱؎ وفی الدر المختار ھو الاصح الاحوط اھ ۲؎
التیمم ضربتان الخ یہی متون میں سے مختصر قدوری، ہدایہ، کافی، وقایہ، نقایہ، اصلاح اور متعددمعتمد کتابوں کی عبارت ہے۔ یہ پوشیدہ نہیں کہ اس تعبیر کا ظاہر مدلول ومعنی یہی ہے کہ دونوں ضربیں تیمم کا رکن ہیں، یہی سید امام ابو شجاع کا قول ہے، اسی کو امام شمس الائمہ حلوانی نے اختیار کیا، اسی کو خلاصہ میں صحیح کہا نصاب میں فرمایا کہ ''یہ استحسان ہے اسی کو ہم لیتے ہیں اور یہی احوط ہے''۔ درمختار میں ہے: یہی اصح واحوط ہے۔
(۱؎ نصاب الاحتساب)
(۲؎ الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱/۴۱)
اسی پر امام ناصرالدین نے جزم کیا، ظہیریہ میں ہے: یہ عمدہ ہے اور اسی کو ہم لیتے ہیں'' اھ۔ جواہر الفتاوٰی اور منیہ وغیرہا میں اسی پر جزم کیا، اور غنیہ میں اسے برقرار رکھا اور صراحت فرمائی کہ یہ احوط ہے۔ حلیہ میں کہا کہ: ''یہی مدّونہ میں امام مالک کا ظاہر قول ہے یہی امام شافعی کا جدید قول ہے، اکثر علماء اسی کے قائل ہیں اس لئے کہ اس پر صریح حدیثیں وارد ہیں اھ۔
بل قال الامام ملک العلماء فی البدائع امارکنہ فقال اصحابنا ضربتان ضربۃ للوجہ وضربۃ للیدین الی المرفقین ۶؎ اھ ثم ذکر مذاھب الامام مالک والشافعی والزھری وابن ابی لیلی وابن سیرین وغیرھم وفی جمیعھا ان التمیم ضربۃ اوضربتان اوثلاث فافاد اجماع ائمتنا الثلثۃ وھؤلاء جمیعا علی ان الضربۃ ھی رکن التیمم انما اختلفوا فی عددہ ومبلغھا فی الیدین الی الرسغین اوالمرفقین اوالابطین۔
بلکہ امام ملک العلماء نے بدائع میں فرمایا: ''لیکن اس کا رکن، تو ہمارے اصحاب نے فرمایا: یہ دو ضربیں ہیں، ایک ضرب چہرے کیلئے اور ایک ضرب ہاتھوں کیلئے کہنیوں تک''۔ اھ پھر امام مالک، امام شافعی، زہری، ابن ابی لیلی، ابن سیرین وغیرہم کے مذاہب بیان کیے۔ سب میں یہ ہے کہ تیمم ایک ضرب ہے، یا دو ضرب ہے، یا تین ضرب ہے۔ تو افادہ فرمایا کہ ہمارے تینوں ائمہ اور ان تمام حضرات کا اس پر اجماع ہے کہ ضرب تیمم کا رکن ہے۔ ان کا اختلاف ہے تو اس بارے میں کہ ضرب کی تعداد اور انتہا کیا ہے، ہاتھوں پر کہاں تک مسح کرنا ہے، گٹوں تک، یا کہنیوں تک، یا بغلوں تک۔
ونفاہ الامام علی الاسبیجابی والامام فقیہ النفس قاضیخان واختارہ فی البزازیۃ وبہ جزم فی نورالایضاح والامداد و رجحہ فی شرح الوھبانیۃ ونص علیہ ابن کمال وحققہ المحقق فی الفتح وتبعہ فی الحلیۃ والبحر اذ قال والذی یقتضیہ النظر عدم اعتبار ضربۃ الارض من مسمّی التیممّ شرعا فان المأموربہ المسح لیس غیر فی الکتاب قال تعالٰی فتیمّموا صعیدا طیبا فامسحوا بوجوھکم فیحمل قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم التیمم ضربتان اما علی ارادۃ الاعم من المسحتین او انہ خرج مخرج الغالب واللّٰہ تعالی اعلم ۱؎ اھ۔
امام علی اسبیجابی اور امام فقیہ النفس قاضی خان نے ضرب کے رکنِ تیمم ہونے کا انکار کیا، اسی مذہب کو بزازیہ میں اختیار کیا، اسی پر نورالایضاح اور امداد الفتاح میں جزم کیا اسی کو شرح وہبانیہ میں ترجیح دی، اسی کی ابنِ کمال نے تصریح کی اور محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس کی تحقیق کی اور حلیہ وبحر میں ان کا اتباع کیا۔ انہوں نے فرمایا: نظر کا تقاضا یہی ہے کہ شرعا تیمم کے معنی مسمّٰی میں زمین پر ضرب کا اعتبار نہ ہو، اس لئے کہ کتاب اللہ میں تو صرف مسح کا حکم دیا گیا ہے ارشاد ہے: ''تو پاک سطح زمین کا قصد کرکے اپنے چہروں کا مسح کرو، اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ''تیمم دو۲ ضرب ہے'' یا تو اس پر محمول ہوگا کہ یہ زمین پر دو ضرب ہونے یا عضو پر دوبار مسح ہونے سے اعم اور دونوں ہی کو شامل ہے، یا اس پر محمول ہوگا کہ ضرب والی صورت اکثر پائی جاتی ہے اس لئے یہ ارشاد بیان اکثر کے لحاظ سے وارد ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر ، باب التیمم ، مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھّر ۱/۱۱۰)
وذکروا ثمرۃ الاختلاف شیئین:
ضرب کی رکنیت اور عدم رکنیت میں اختلاف کا ثمرہ دو۲ باتیں بتائی گئی ہیں:
احدھما: لوضرب یدیہ علی الارض فقبل ان یمسح احدث لایجوز المسح بتلک الضربۃ علی القول الاول لانھا رکن فصارکما لو احدث فی الوضوء بعد غسل بعض الاعضاء قال فی الخلاصۃ الاصح انہ لایستعمل ذلک التراب کذا اختارہ الشیخ الامام شمس الائمۃ کمالو اعترض الحدث فی خلال الوضوء ۱؎ اھ
ایک یہ کہ اگر اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا پھر مسح کرنے سے پہلے حدث کیا تو قولِ اوّل پر اس ضرب سے مسح جائز نہ ہوگا اس لئے کہ ضرب رکن ہے تو ایسا ہوا جیسے وضو کے دوران بعض اعضاء دھونے کے بعد حدث کیا خلاصہ میں ہے: ''اصح یہ ہے کہ اس مٹّی کو استعمال نہ کرے۔ اسی طرح اس کو امام شمس الائمہ نے اختیار کیا جیسے درمیانِ وضو اگر حدث عارض ہو'' اھ۔
وقال القاضی الاسبیجابی یجوز کمن ملا ء کفیہ ماء فاحدث ثم استعملہ ۲؎ وبہ جزم فی الخانیۃ وخزانۃ المفتین قال اذا اراد ان یتیمّم فضرب ضربۃ واحدۃ ثم احدث فمسح بذلک التراب وجہہ ثم ضرب ضربۃ اخری للیدین الی المرفقین جاز ۳؎ اھ وعزاہ فی الخلاصۃ الی بعض نسخ الواقعات،
اور قاضی اسبیجابی نے فرمایا کہ جائز ہے جیسے کسی نے ہتھیلیوں میں پانی بھر لیا پھر حدث کیا پھر اسی پانی کو استعمال کیا۔ اسی پر خانیہ اور خزانۃ المفتین میں جزم کیا۔ فرمایا: ''جب تیمم کا قصد کیا پھر ایک ضرب ماری پھر حدث کیا پھر اسی مٹّی سے اپنے چہرے کا مسح کیا، پھر دوسری ضرب کہنیوں تک ہاتھوں کے مسح کیلئے ماری تو جائز ہے'' اھ اس پر خلاصہ میں واقعات کے بعض نسخوں کا حوالہ دیا ہے۔
(۲؎ فتح القدیر باب التیمم سکھر ۱/۱۱۰)
(۳؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فيما لایجوزبہ التیمم نولکشور لکھنؤ ۱/۳۰)
ونقل تصحیحہ فی جامع الرموز عن جامع المضمرات قائلا لواحدث قبل المسح لم یعد الضرب علی الاصح کمافی المضمرات ۴؎ اھ
اور جامع الرموز میں جامع المضمرات سے اس کی تصحیح نقل کی ہے، عبارت یہ ہے: ''اگر مسح سے پہلے حدث کیا تو قول اصح پر ضرب کا اعادہ نہیں جیسا کہ مضمرات میں ہے اھ''۔
(۴؎ جامع الرموز ، باب التیمم،مطبعہ کریمیہ قزان ۱/۶۸)
وقال فی البحرقد قدمنا انہ لوامر(۱) غیرہ بان ییممہ جاز بشرط ان ینوی الاٰمر فلوضرب المامور یدہ علی الارض بعد نیۃ الاٰمر ثم احدث الاٰمر قال فی التوشیح ینبغی ان یبطل بحدث الاٰمر علی قول ابی شجاع ۱؎ اھ قال البحر وظاھرہ انہ لایبطل بحدث المأمور لما ان المأمور اٰلۃ وضربہ ضرب الاٰمر فالعبرۃ للاٰمر ولھذا اشترطنا نیتہ لانیۃ المأمور ۲؎ اھ
اور البحرالرائق میں ہے: ہم پہلے بیان کرچکے کہ اگر دوسرے کو حکم دیا کہ اسے تیمم کرادے تو جائز ہے بشرطیکہ حکم دینے والا نیت کرلے۔ تو اگر مامور نے آمر کی نیت کے بعد زمین پر اپنا ہاتھ مارا پھر آمر کو حدث ہوا تو شیح میں کہا ہے کہ اسے ابو شجاع کے قول پر آمر کے حدث سے باطل ہوجانا چاہئے اھ بحر میں فرمایا: اس عبارت کا ظاہر یہ ہوا کہ مامور کے حدث سے باطل نہ ہوگا اس لئے کہ مامور آلہ وذریعہ ہے اور اس کی ضرب آمر ہی کی ضرب ہے تو اعتبار آمر کا ہوگا۔ اسی لئے ہم نے آمر (حکم دینے والے) کی نیت کی شرط رکھی۔ مامور کی نیت کی شرط نہ لگائی اھ۔
والاٰخر اذانوی بعد الضرب فمن جعلہ رکنا لم یعتبر النیۃ بعدہ ومن لم یجعلہ رکنا اعتبرھا بعدہ کذافی السراج الوھاج ۳؎ بحر۔
دُوسرا ثمرہ اختلاف یہ ہوگا کہ جب ضرب کے بعد تیمم کی نیت کی تو جن لوگوں نے ضرب کو رکن قرار دیا ہے انہوں نے بعد کی نیت کا اعتبار نہ کیا۔ اور جن حضرات نے اسے رکن نہیں مانا ہے انہوں نے ضرب کے بعد پائی جانے والی نیت کا اعتبار کیا ہے السراج الوہاج میں ایسا ہی ہے۔ بحر
(۳؎ البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۴۵)
وھھنا فروع جمۃ تشھد للقول الثانی ذکرت فی المعتمدات من دون اشارۃ الٰی خلاف فیہا:
اس مقام پر ایسے بہت جزئیات وفروع ہیں جن سے قول دوم (عدمِ رکنیت ضرب) کی تائید اور شہادت حاصل ہوتی ہے۔ یہ معتمد کتابوں میں مذکور ہیں اور کسی اختلاف کا کوئی اشارہ بھی نہیں۔ کچھ جزئیات یہاں پیش کئے جاتے ہیں:
منھا(۱) فی الفتح والبحر وغیرھماصرحوا(۱) انہ لو القت الریح الغبار علی وجہہ ویدیہ فمسح بنیۃ التیمم اجزاء وان لم یمسح لایجوز ۱؎ اھ وفی الظھیریۃ ثم الھندیۃ لواصاب الغبار وجھہ ویدیہ فمسح بہ ناویا للتیمّم یجوز وان لم یمسح لا ۲؎ اھ ومثلہ فی التبیین۔
جزئیہ۱: فتح القدیر اور بحرالرائق وغیرہمامیں ہے: ''علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر آندھی سے اس کے چہرے اور ہاتھوں پر غبار پڑ گیا پھر ان پر تیمم کی نیت سے ہاتھ پھیر لیا تو کافی ہوگا اور اگر ہاتھ نہ پھیرا تو تیمم نہ ہوگا''۔ اھ اور ظہیریہ پھر ہندیہ میں ہے: ''اگر اس کے چہرے اور ہاتھوں پر غبار پڑ گیا پھر اس پر تیمم کی نیت سے ہاتھ پھیر لیا تو تیمم ہوجائے گا اور اگر مسح نہ کیا تو نہ ہوگا'' اھ۔ ایسا ہی تبیین میں بھی ہے
(۱؎ فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھّر ۱/۱۱۰)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع من التیمم پشاور ۱/۲۷)