| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
اقول: الطھارۃ(۲) حکم التیمم والاثر المترتب علیہ کما علی الوضوء ولیس الوضوء نفس الطھارۃ الا تری ان التیمم ماموربہ ولا یؤمرالمکلف الابفعلہ وفعلہ ھو الاستعمال ولیست الطھارۃ الحاصلۃ بہ فی شیئ من افعالہ وھذا ظاھر جدا وخفاؤہ علی مثل العلامۃ بعید ۔
اقول: طہارت تو تیمم کا حکم اور وہ اثر ہے جو اس پر مرتّب ہوتا ہے، جیسے یہی اثر وضو پر مرتب ہوتا ہے مگر وضو عین طہارت نہیں۔ دیکھیے کہ تیمم ماموربہ ہے اور مکلّف کو اس کی بجا آوری اور اسے کرنے ہی کا تو حکم دیا جاتا ہے اور اسے کرنا وہی صعید کا استعمال ہے۔ اور اس استعمال سے حاصل ہونے والی طہارت مکلف کا کوئی عمل اور فعل نہیں۔ یہ توبہت کھلی ہوئی بات ہے جس کا علّامہ جیسی شخصیت پر مخفی رہ جانا بعید ہے۔
الوجہ السادس: ھو ضربتان ضربۃ للوجہ وضربۃ للیدین الی المرفقین ۱؎ ھذا نص صاحب الشرع صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ثم صاحب المذھب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فقد اخرج الدارقطنی وقال رجالہ کلھم ۲؎ ثقات والحاکم وقال صحیح الاسناد ۳؎ عن جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلّم قال التیمم ضربۃ للوجہ وضربۃ للذرعین الی المرفقین ۴؎ و رویاہ ھما والبہیقی فی الشعب من حدیث عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم التیمم ضربتان ضربۃ للوجہ وضربۃ للیدین الی المرفقین ۵؎ و روی من قول ابن عمر وصوبہ الدارقطنی۔
تعریف ششم: تیمم دوضر بیں ہیں، ایک ضرب چہرے کیلئے اور ایک ضرب کہنیوں سمیت ہاتھوں کیلئے۔ یہ صاحبِ شریعت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پھر صاحبِ مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نص ہے۔ دار قطنی نے روایت کی اور کہا کہ اس کے تمام رجال ثقہ سے ہیں۔ اور حاکم نے روایت کی اور اسے صحیح الاسناد کہا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے وہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں سرکار نے فرمایا: ''تیمم ایک ضرب چہرے کیلئے ہے اور ایک ضرب کہنیوں تک کلائیوں کیلئے ہے''۔ اسے دارقطنی وحاکم نے، اور شعب الایمان میں بیہقی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے یوں روایت کیا: ''تیمم دو۲ ضربیں ہیں، ایک ضرب چہرے کیلئے اور ایک ضرب ہاتھوں کیلئے کہنیوں تک''۔ حضرت ابن عمر کے قول کی حیثیت سے بھی یہ مروی ہے اور اسے دارقطنی نے درست کہا ہے۔
(۱؎ سنن الدارقطنی باب التیمم مدینہ منورہ حجاز ۱/۱۸۱) (۲؎ سنن الدارقطنی باب التیمم مدینہ منورہ حجاز ۱/۱۸۱) (۳؎ نصب الرایۃ باب التیمم المکتبۃ الاسلامیہ ۱/۱۵۱) (۴؎ سنن الدارقطنی باب التیمم مدینہ منورہ حجاز ۱/۱۸۱) (۵؎ سنن الدارقطنی باب التیمم مدینہ منورہ حجاز ۱/۱۸۰)
وقال الامام ملک العلماء فی البدائع ذکر ابویوسف فی الامالی قال سألت اباحنیفۃ عن التیمم فقال التیمم ضربتان ضربۃ للوجہ وضربۃ للیدین الی المرفقین قلت لہ کیف ھو فضرب بیدہ علی الارض فاقبل عــہ بھما وادبر ثمّ نفضھما ثم مسح بھما وجھہ ثم اعاد کفیہ علی الصعید ثانیا فاقبل بھما وادبر ثم نفضھما ثم مسح بذلک ظاھر الذراعین وباطنھما الی المرفقین ۱؎ اھ
امام ملک العلماء نے بدائع الصنائع میں لکھا ہے کہ امام ابویوسف نے امالی میں ذکر کیا کہ میں نے امام ابوحنیفہ سے تیمم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ''تیمم دو ضربیں ہیں، ایک ضرب چہرے کیلئے اور ایک ضرب ہاتھوں کیلئے کہنیوں تک''۔ میں نے عرض کیا کہ تیمم کا طریقہ کیا ہے؟ تو انہوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، انہیں آگے بڑھایا اور پیچھے کیا، پھردونوں کو جھاڑا، پھر ان سے اپنے چہرے کا مسح کیا پھر دوسری بار ہتھیلیاں زمین پر لے جاکر انہیں آگے بڑھایا اور پیچھے کیا، پھر جھاڑا، پھر اس سے دونوں کلائیوں کے ظاہر وباطن کا، کہنیوں تک مسح کیا'' اھ
(۱؎ بدائع الصنائع کیفیۃ التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۴۶)
عــہ: قال فی التبیین کیفیتہ فــــ۱ ان یضرب بیدیہ علی الارض یقبل بھما ویدبر ثم یرفعھما وینفضھما ۱؎الخ قال ابن الشلبی عن یحیٰی ای یحرکھما بعد انصرف اماما وخلفا مبالغۃ فی ایصال التراب الی اثناء الاصابع وان کان الضرب اولی من الوضع ۲؎اھ تبیین الحقائق میں ہے: تیمم کی کیفیت اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھوں کو زمین پر آگے کرتے ہوئے پیچھے لاتے ہُوئے مارے پھر انہیں اٹھائے اور جھاڑ لے الخ۔ ابن شلبی نے یحیٰی سے نقل کرتے ہوئے کہا یعنی دونوں ہاتھوں کو مارنے کے بعد، انگلیوں کے درمیان مٹّی پہنچانے کے عمل میں مبالغہ کیلئے انہیں آگے اور پیچھے کو ہلائے۔ اگرچہ ضرب (ہاتھوں کو زمین پر مارنا) وضع (زمین پر صرف رکھنے) سے بہتر واولٰی ہے اھ
(۱؎ تبیین الحقائق و شلبی علی التبیین باب التیمم المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱/۳۸) ( ۲؎ تبیین الحقائق و شلبی علی التبیین باب التیمم المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۱/۳۸)
اقول: لیس(۲) ھذا محل ان الوصلیۃ بل محل لذا ای ولاجل ھذہ المبالغۃ کان الضرب اولی الا ان یقال المعنی انہ یقبل ویدبر زیادۃ فی ھذہ المبالغۃ وان کانت تحصل بالضرب المرجح علی الوضع ثم تعلیل الاقبال والادبار بھذا عزاہ فی الحلیۃ لبعضھم قال قال بعضھم انما یقبل بیدیہ علی الارض ویدبر حتی یلتصق التراب بیدیہ ۳؎اھ
اقول: یہ ان وصیلہ (اگرچہ) کا موقع نہیں بلکہ لِذا (اسی لئے) کا موقع ہے (اگرچہ ضرب وضع سے اولٰی ہے کہ بجائے کہنا چاہئے کہ اسی لئے ضرب وضع سے بہتر ہے ۱۲ محمد احمد) یعنی اسی مبالغہ کیلئے تو ضرب بہتر ہے۔ مگر ان کی طرف سے معذرت میں یہ کہا جائے کہ معنٰی یہ ہے کہ تیمم کرنے والا ہاتھ آگے لے جائےگا اور پیچھے لائے گا تاکہ یہ مبالغہ زیادہ ہو اگرچہ نفس مبالغہ ضرب سے بھی حاصل ہوجاتا ہے جو وضع پر ترجیح یافتہ ہے۔ ہاتھوں کو آگے بڑھانے پیچھے لانے کی یہ جو علّت بیان کی گئی ہے اسے حلیہ میں بعض علما کی طرف منسوب کیا، اس میں یوں لکھا ہے کہ بعض حضرات نے فرمایا کہ زمین پر ہاتھوں کو آگے لے جائےگا اور پیچھے لائیگا تاکہ مٹی ہاتھوں سے چپک جائے اھ
(۳؎ حلیہ)
ولہ تعلیل اٰخرنقلہ وردہ اذ قال اوجد ناک عن الامالی ان ذلک بعد ضربھما علی الارض فاندفع ماقیل انہ قبل الضرب معللا ایاہ بقولہ لیھیئ نفسہ للتیمم ۲؎اھ ای یستحضر النیۃ۔ اقول(۱) وقضیۃ التعلیل الاول ان لایسن ذلک حیث لاتراب کالرخام مع انھم یطلقونہ اطلاقابل لہ علۃ ثالثۃ ان شاء اللّٰہ تعالٰی علی ما اقول وھو امساس کل جزء من الکف بالارض لان سطح الکف غیر مستو فبمجرد الضرب یحصل المس لاجزاء الکف الناشرۃ دون الطافیۃ فیقبل ویدبر لامساس الکل ھذا یعم الکل واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اور اس کی ایک دوسری تعلیل بھی ہے جسے حلیہ میں نقل کرکے رَد کردیا کیونکہ انہوں نے فرمایا ہم نے تمہیں امالی سے نقل کرکے دکھادیا کہ یہ کام ہاتھوں کو زمین پر رکھنے کے بعد ہوگا تو وہ قول رَد ہوگیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام ضرب سے پہلے ہوگا اور اس کی علّت میں بتایا گیا کہ تاکہ اپنے کو تیمم کیلئے تیار کرے اھ یعنی نیت مستحضر کرلے۔ اقول: پہلی تعلیل کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں مٹی نہ ہو مثلاً سنگِ مرمر وہاں یہ مسنون نہ ہو حالانکہ اسے مطلقاً مسنون بتاتے ہیں۔اقول بلکہ اس کی علت ایک تیسری چیز ہے ان شاء اللہ تعالٰی۔ وہ یہ کہ ہتھیلی کا ہر جُز زمین سے مس کردیا جائے اس لئے کہ ہتھیلی کی سطح برابر نہیں ہے تو ہتھیلی کے ابھرے ہوئے اجزا کا مس ہونا تو ضرب ہی سے حاصل ہوجائےگا مگر دبے ہوئے اجزاء مس نہ ہوپائینگے تو ہاتھوں کو آگے پیچھے حرکت دے لے گا تاکہ ہر جز کو مس کردے یہ علت ایسی ہے جو (مٹّی پر تیمم ہو یا سنگِ مرمر پر) سب کو عام ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ترجمہ محمد احمد مصباحی)
(۲؎ حلیہ)