قال الامام ملک العلماء فی البدائع قال ابوحنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ یجوز التیمم بکل ماھو من جنس الارض التزق بیدہ شیئ او لا وقال محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی لایجوز الا اذا التزق بیدہ شیئ من اجزائہ فالاصل عندہ انہ لابد من استعمال جزء من الصعید ولایکون ذلک الا بان یلتزق بیدہ شیئ وعند ابی حنیفۃ ھذا لیس بشرط وانما الشرط مس وجہ الارض بالیدین وامرارھما علی العضوین وجہ قول محمد ان المامور بہ استعمال الصعید وذلک بان یلتزق بیدہ شیئ منہ ولابی حنیفۃ ان الماموربہ ھو التیمم بالصعید مطلقا من غیر شرط الالتزاق ولایجوز تقیید المطلق الابدلیل وقولہ الاستعمال شرط ممنوع لان ذلک(۱) یؤدی الی التغیر الذی ھو شبیہ المثلۃ وعلامۃ اھل النار ولھذا امر بنفض الیدین بل الشرط امساس الید المضروبۃ علی وجہ الارض علی الوجہ والیدین تعبدا غیر معقول المعنی لحکمۃ استأثر اللّٰہ تعالٰی بعلمہ ۱؎ اھ
امام ملک العلماء بدائع میں فرماتے ہیں امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا تیمم ہر اس چیز سے جائز ہے جو جنس زمین سے ہو، ہاتھ اس سے کچھ لگے یا نہ لگے۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جب تک ہاتھ میں جنسِ زمین کے اجزاء سے کچھ لگ نہ جائے تیمم جائز نہیں۔ تو ان کے نزدیک اصل یہ ہے کہ صعید کے کسی جز کا استعمال ضروری ہے اور یہ اسی وقت ہوگا جب ہاتھ میں کچھ لگ جائے۔ اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شرط نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ رُوئے زمین ہاتھوں سے مس ہو اور ان دونوں کو دونوں عضو پر پھیر لیا جائے۔ امام محمد کے قول کی دلیل یہ ہے کہ ماموربہ، جنس ارض کا استعمال ہے اور وہ اسی طرح ہوگا کہ اس میں سے ہاتھ میں کچھ لگ جائے۔ اور امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ مامور صرف اتنا ہے کہ صعید سے تیمم کرو، ہاتھ سے چپکنے کی شرط نہیں۔ ماموربہ جب مطلق ہے تو اسے بلادلیل مقید کرنا، جائز نہیں۔ اور ان کا یہ قول کہ استعمال شرط ہے تسلیم نہیں اس لئے کہ یہ چہرہ کی تغیر وتبدیل کا باعث ہوگا جو مُثلہ کے مشابہ اور اہل جہنّم کی نشانی ہے اسی لئے ہاتھوں کو جھاڑ دینے کا حکم ہے بلکہ شرط یہ ہے کہ روئے زمین پر لگاتے ہوئے ہاتھ کو چہرے اور ہاتھوں سے مس کردیا جائے بطور عبادت اس کا مکلّف بنایا ہے جس کا معنی عقل کی دریافت میں نہیں۔ یہ حکم کسی ایسی حکمت کی بنا پر ہے جس کا علم خدا تعالٰی کو ہے اھ (ت)
(۱؎ بدائع الصنائع باب مایتیم بہ سعید کمپنی کراچی ۱/۵۴)
وفی کافی الامام النسفی الواجب المسح بکف موضوع علی الارض لااستعمال التراب لان استعمال التراب مثلۃ ۲؎ اھ فانظر(۱) الی قول البدائع فی بیان قول محمد ان استعمال جزء من الصعید لایکون الابان یلتزق بیدہ شیئ والی قولہ فی بیان قول الامام ان الاستعمال یؤدی الی شبیہ المثلۃ ومثلہ قول الکافی ان استعمال التراب مثلۃ کل ذلک یفیدک ماھو المراد من الاستعمال لامجرد جعلہ اٰلۃ للتطھیر۔
اور کافی امام نسفی میں ہے: واجب یہی ہے کہ جو ہتھیلی زمین پر رکھی جاچکی ہے اس سے مسح کرلیا جائے، مٹّی کا استعمال واجب نہیں، کیونکہ مٹّی کا استعمال مُثلہ ہوگا اھ بدائع کے الفاظ پر غور کیا جائے، قول امام محمد کے بیان میں ہے: ''صعید کے کسی جُز کا استعمال اسی طرح ہوگا کہ اس سے ہاتھ میں کچھ چپک جائے''۔ قول امام اعظم کے بیان میں ہے: ''استعمال مشابہ مثلہ ہونے کا باعث ہوگا۔'' اسی طرح کافی کے یہ الفاظ دیکھے جائیں: ''مٹّی کا استعمال مثلہ ہے''۔ ان سب کو دیکھنے سے استعمال کی مراد معلوم ہوجائے گی اور ظاہر ہوجائے گا استعمال صرف آلہ تطہیر بنانے کا نام نہیں۔ (ت)
(۲؎ کافی شرح وافی)
واذا کان الاستعمال ھو المسح المأموربہ والامر ورد بمسح العضوین من الصعید ولابمسح العضوین من الصعید ولایمسح بہ الا الکفان ثم بھما یمسح الوجہ والذراعان تبین لک انقسام الصعید الی الحقیقی والحکمی وقصر الاستعمال مطلقا علی الحکمی فھذا غایۃ التحقیق وباللّٰہ التوفيق÷ ولہ الحمد کماینبغی لہ ویلیق÷
جب یہ ثابت ہوگیا کہ استعمال وہی مسح ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ اور حکم یہ ہے کہ دونوں عضووں کا صعید سے مسح کیا جائے۔ اور صعید سے صرف دونوں ہتھیلیوں کا مسح ہوتا ہے پھر ان دونوں سے چہرے اور دونوں کلائیوں کا مسح ہوتا ہے اس سے یہ واضح ہوگیا کہ استعمال تو اپنے حکمی معنی پر ہی محدود ہے اور صعید حقیقی وحکمی دو قسموں کی طرف منقسم ہے۔ یہ انتہائے تحقیق ہے اور خدا ہی کی توفیق ہے اور اسی کیلئے حمد ہے جیسا کہ اس کیلئے لائق ومناسب ہے۔ (ت)
الوجہ الثالث قال شیخ الاسلام ابو عبداللّٰہ محمد بن عبداللّٰہ الغزی التمرتاشی رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی التنویر ھو قصد صعید مطھر واستعمالہ بصفۃ مخصوصۃ لاقامۃ القربۃ ۱؎ قال ش المصنف ذکر التعریفین المنقولین عن المشائخ والظاھر انہ قصد جعلھما تعریفا واحدا ثم ذکر ماقدمنا عنہ من اخذ المعنی اللغوی فی الشرعی وانہ لابد من ذکر الشروط حتی یتحقق المعنی الشرعی قال ولما کان الاستعمال وھو المسح المخصوص للوجہ والیدین من تمام الحقیقۃ الشرعیۃ ذکرہ مع القصد تتمیما للتعریف فاغتنم ھذا التحریر المنیف ۲؎ اھ
تعریف سوم: شیخ الاسلام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ غزّی تمرتاشی رحمۃ اللہ علیہ نے تنویر الابصار میں فرمایا: ''تیمم، پاک کرنے والی سطح زمین کا قصد کرنا اور اسے قربت کی ادائیگی کیلئے مخصوص طریقہ پر استعمال کرنا''۔ شامی فرماتے ہیں: ''مصنف نے مشائخ سے منقول دونوں تعریفیں ذکر کردیں۔ اور ظاہر یہ ہے کہ وہ دونوں کو ایک تعریف بنانا چاہتے ہیں۔'' پھر علّامہ شامی نے وہ لکھا ہے جس کا ہم نے پہلے تذکرہ کیا یعنی شرعی تعریف میں لُغوی معنی کا ماخوذ ہونا، اور یہ کہ شرعی معنٰی کے ثبوت وتحقق کیلئے شرطوں کا بھی ذکر ضروری ہے، فرمایا: ''چونکہ استعمال۔ یعنی چہرے اور ہاتھوں کا مخصوص مسح۔ تمام حقیقت شرعیہ ہے اس لئے تکمیل تعریف کیلئے قصد کے ساتھ اسے بھی ذکر کیا۔ اس عمدہ تحریر توضیح کو غنیمت سمجھو''۔ (ت)
(۱؎ الدرالمختار باب التیمم مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۴۱)
(۲؎ ردالمحتار باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۶۸)
اقول: لاشک(۱) ان المصنف رحمہ اللّٰہ تعالٰی یرید حدا واحد التیمم ولیس ھذا محل الاستظھار غیر(۲) انک قد علمت مافی جعل القصد من الحقیقۃ فلا یصح ان المسح من تمام الحقیقۃ وانہ ضمہ الی القصد تتمیما للتعریف وباللّٰہ التوفیق والتوقیف۔
اقول: مصنّف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بلاشبہ تیمم کی ایک تعریف کرنا چاہتے ہیں تو اسے صرف ''ظاہر'' کہنے کا یہ موقع نہیں۔ بلکہ یہ یقینی بات ہے۔ ہاں ''قصد'' کو تیمم کی حقیقت سے قرار دینے میں جو خرابی ہے وہ معلوم ہوچکی تو یہ درست نہیں کہ مسح تمام حقیقت سے ہے اور اسے قصد کے ساتھ اس لئے ذکر کردیا کہ تعریف کی تکمیل ہوجائے (قصد رکن تیمم نہیں تو حقیقتِ تیمم کے بیان میں اسے شامل کرنا بھی درست نہیں)۔ اور توقیق وآگاہی خدا ہی کی جانب سے ہے۔ (ت)
ثم قداعلمناک ان کلا التعریفین یشمل کلا الامرین وانما الفرق ان الاول یقول ھو قصد الصعید للاستعمال والثانی انہ استعمال الصعید مع القصد والثالث انہ القصد والاستعمال وخیر الامور اوساطھا۔
پھر ہم یہ بتا چکے کہ دونوں تعریفیں دونوں باتوں۔ قصد واستعمال پر مشتمل ہیں۔ فرق یہ ہے کہ پہلی میں ہے: استعمال کیلئے صعید کا قصد کرنا۔ دوسری میں ہے: قصد کے ساتھ صعید کا استعمال کرنا۔ تیسری میں ہے کہ تیمم قصد اور استعمال ہے۔ اور بہترین امور درمیانی ہے (تینوں میں سے دوسری تعریف کی عمدگی کی طرف اشارہ ہے ۱۲)
الوجہ الرابع قال المحقق وتبعہ البحر والشرنبلالی وابن الشلبی واٰخرون الحق انہ اسم لمسح الوجہ والیدین عن الصعید الطاھر والقصد شرط لانہ النیۃ ۱؎ اھ
تعریف چہارم: محقق علی الاطلاق نے اور ان کی تبعیت میں بحر، شرنبلالی، ابن شلبی اور دوسرے حضرات نے فرمایا: ''حق یہ ہے کہ تیمم، پاک جنس سے چہرے اور ہاتھوں کے مسح کا نام ہے۔ اور قصد شرط ہے اس لئے کہ یہ تو نیت ہے''۔ اھ
(۱؎ فتح القدیر باب التیمم مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۰۶)
اقول: ھو علی ماحققنا من معنی الاستعمال عین الثانی وان فارقہ علی مازعم العلامۃ ش ان الاستعمال جعلہ اٰلۃ التطھیر والعجب(۱) من العلامۃ البحر تبع المحقق علی تصویب ھذا وفیہ التعبیر بطاھر دون مطھر فاذا کان ھذا ھو الحق فلم الاخذ علی الکنز ولھذا قال فی منحۃ الخالق کان علیہ ان یقول المطھر کما سینبہ علیہ نفسہ عند قولہ المصنف بطاھر من جنس الارض ۱؎ اھ
اقول: ہم نے معنی استعمال کی جو تحقیق کی، اس کی بنیاد پر یہ تعریف بعینہ تعریف دوم ہے۔ اگرچہ علامہ شامی نے جو گمان کیا کہ استعمال آلہ تطہیر بنانے کا نام ہے اس کی بنیاد پر یہ تعریف دوم سے جداگانہ تعریف ہے۔ اس تعریف میں ''طاہر'' کالفظ ہے ''مطہّر سے تعبیر نہیں۔ اس کے باوجود تعجب ہے کہ صاحبِ بحر نے بھی اسے درست قرار دینے پر محقق علی الاطلاق کی پیروی کرلی۔ جب یہی حق ہے تو کنز الدقائق کے طاہر وپاک سے تعبیر کرنے پر انہوں نے مواخذہ کیوں فرمایا؟ اسی لئے علامہ شامی نے بحررائق کے حاشیہ منحۃ الخالق میں فرمایا: ''انہیں ''مطہر'' کہنا چاہئے تھا جیسا کہ خود شارح، مصنّف کی عبارت ''بطاھر من جنس الارض'' کے تحت اس پر تنبیہ کریں گے''۔
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۳۸)
اقول: اخذ علی البحر لاتباعہ لہ فی الفرق بین الطاھر من الارض والمطھر والحق ان الصواب مع الکنز والمتون والمحقق والجم الغفیر فانما کان علیہ ان لایؤاخذ علی الکنز فی قولہ بطاھر وعلیکم(۱) ان تؤاخذوا علی قولہ ذلک لاھذا۔
اقول: علّامہ شامی نے یہاں بحر پر مواخذہ کیا اس لئے کہ زمین طاہر اور زمین مطہر کی تفریق کے معاملہ میں شامی بھی بحر کے متبع ہیں۔ اور حق یہ ہے کہ ''طاہر'' سے تعبیر میں کنزالدقائق، کتبِ متون، محقق علی الاطلاق اور علماء کی جماعت کثیرہ ہی صواب ودرستی پر ہیں۔ تو بحر پر لازم تھا کہ کنز کی عبارت ''بطاھر'' پر مواخذہ نہ کریں۔ اور علامہ شامی پر لازم تھا کہ بحر نے وہاں جو مؤاخذہ کیا ہے اس پر گرفت کریں اور یہاں مواخذہ نہ کیا تو اس پر گرفت نہ کریں۔
الوجہ الخامس: قال العلامۃ ابن کمال الوزیر فی ایضاح اصلاحہ ھو طہارۃ حاصلۃ باستعمال الصعید الطاھر فی عضوین مخصوصین علی قصد مخصوص ۲؎ اھ وتبعہ فی مجمع الانھر والیہ یشیر قول البرجندی فی شرح النقایۃ التیمم فی اللغۃ القصد ثم نقل الی ھذہ الطھارۃ المخصوصۃ ۳؎ اھ
تعریف پنجم: علّامہ ابن کمال وزیر نے اپنی کتاب اصلاح کی شرح ایضاح میں فرمایا: ''تیمم وہ طہارت ہے جو مخصوص ارادہ سے دو مخصوص عضووں پر پاک رُوئے زمین کے استعمال سے حاصل ہو'' اھ۔ مجمع الانہر میں بھی اسی کا اتباع کیا ہے، اور نقایہ کی شرح میں برجندی کی یہ عبارت بھی اسی جانب اشارہ کررہی ہے: ''لغت میں تیمم کا معنٰی قصد ہے پھر شریعت میں یہ لفظ اس مخصوص طہارت کیلئے منقول ہوا''۔ اھ
(۲؎ ایضاح واصلاح للعلامہ وزیر ابن کمال)
(۳؎ شرح النقایۃ للبرجندی فصل التیمم مطبع نولکشور لکھنؤ بالسرور ۱/۴۳)