| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ) |
ۤاقول: واغرب(۱) الرومی فی حواشی الدرر فقال بعد ذکرہ ھذا اذا کان المراد بالصعید التراب اما اذا کان بمعنی وجہ الارض فیشمل الحجر الاملس کما لایخفی ۲؎ اھ فکانہ فھم ان الاخذ علی لفظ الصعید انہ التراب ولایشترط بل یجوزبالحجر فاجیب بانہ تراب حکما ولایخفی علیک مافیہ من البعد البعید عن فھم المرام واجاب النھر بوجہ اٰخر فقال یمکن ان یقال ان التیمم بالاملس فیہ استعمال جزء من الارض ۳؎ اھ نقلہ السید ابو السعود الازھری وھو ماٰل مافی مجمع الانھر اذ قال یمکن ان یجاب بان یراد من الجزء الجزء الحاصل من الارض والحجر ایضا من الارض والمراد باستعمالہ استعمالہ المعتبر شرعا تدبر ۴؎ اھ وتبعہ اعنی النھر ط فقال علی قول الدر استعمالہ حقیقۃ اوحکما لیعم التّیمّم بالحجر الاملس مانصہ۔
میں کہتا ہوں فاضل رومی نے حاشیہ درر میں عجیب بات کی، اعتراض مذکور لکھنے کے بعد یہ کہا کہ ''یہ اعتراض اس وقت ہوگا جب صعید سے مراد مٹّی ہو، لیکن جب صعید بمعنی رُوئے زمین ہو تو یہ چکنے پتھّر کو بھی شامل ہے جیسا کہ ظاہر ہے اھ گویا انہوں نے یہ سمجھا کہ لفظِ ''صعید'' پر گرفت کی گئی ہے کہ صعید تو مٹّی کو کہتے ہیں، اور تیمم کے لئے مٹّی کا ہونا شرط نہیں بلکہ پتھّر سے بھی جائز ہے پھر اس کے جواب میں کہا گیا کہ پتھّر بھی مٹّی کے حکم میں ہے''۔ یہ سب باتیں فہم مقصد سے جس قدر بعید تر ہیں مخفی نہیں۔ اعتراض بالا کا النہرالفائق میں دوسری طرح جواب دیا ہے، فرمایا ہے ''کہا جاسکتا ہے کہ چکنے پتھّر سے تیمم کرنے میں بھی زمین کے ایک جُز کا استعمال ہوتا ہے اھ''۔ اسے سید ابو السعود ازہری نے نقل کیا۔ یہی اس جواب کا بھی مآل ہے جو مجمع الانہر میں ہے۔ اس میں یوں فرمایا ہے: ''جواب دیا جاسکتا ہے کہ جُز سے مراد زمین سے حاصل ہونے والا جز ہے اور پتھّر بھی زمین ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اور استعمال سے وہ استعمال مراد ہے جس کا شریعت میں اعتبار ہے غور کرو اھ اور طحطاوی نے نہر کی پیروی کی ہے۔ انہوں نے دُرمختار کی عبارت ''استعمالہ حقیقۃً اوحکماً لیعم التیمم بالحجر الاملس'' (اس کا حقیقۃً استعمال ہویا حکماً تاکہ چِکنے پتھّر سے تیمم کو بھی شامل رہے) کے تحت یہ لکھا ہے:
(۲؎ حاشیہ درر لمولٰنا عبدالحلیم مطبعہ عثمانیہ بیروت ۱/۲۵) (۳؎ فتح المعین باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۸۶) (۴؎ مجمع الانہر باب التیمم دار احیاء التراث العربی بیروت ۱/۳۷)
جواب عن سؤال حاصلہ انہ یجوز التیمم علی الحجر الاملس ولااستعمال فیہ وحاصل الجواب انہ وجد الاستعمال الحکمی بوضع الیدین علیہ و ظاھر ما فی النھر ان الاستعمال فیہ حقیقی بذلک الوضع لاحکمی و علیہ فلا حاجۃ الی زیادۃ او حکما ۱؎ اھ
''یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ حاصل سوال یہ ہے کہ تیمم تو چِکنے پتھّر پر بھی جائز ہے اور اس میں اس کا استعمال نہیں پایا جاتا۔ حاصل جواب یہ ہے کہ اس پر ہاتھوں کے رکھنے سے حکمی استعمال پالیا گیا۔ اور نہر فائق کی ظاہر عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھوں کے رکھنے کی وجہ سے حکمی نہیں حقیقی استعمال موجود ہے اور جب یہ بات ہے تو ''اوحکماً'' بڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں اھ۔ (ت)
(۱؎ طحطاوی علی الدر المختار باب التیمم بیروت ۱/۱۲۲)
واوضحہ ش فقال لایخفی ان الحجر الاملس جزء من الارض استعمل فی العضوین للتطھیر اذلیس المراد بالاستعمال اخذ جزء منھا بل جعلہ اٰلۃ للتطھیر و علیہ فھو استعمال حقیقۃ و ھو ظاہر کلام النھر فلاحاجۃ الٰی قولہ او حکما کماافادہ ط اھ ۲؎۔
(۲؎ ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱/۱۶۷)
شامی نے اسے واضح کرکے یوں فرمایا: ''ظاہر ہے کہ چِکنا پتھّر زمین کا ایک جُز ہے جو تطہیر کیلئے دونوں اعضاء میں استعمال ہوا، کیونکہ استعمال سے یہ مراد نہیں کہ اس کے کسی جُز کو لے لیا جائے بلکہ یہ مراد ہے کہ اس کو آلہ تطہیر بنایا جائے۔ اور جب یہ بات ہے تو مذکورہ استعمال، حقیقۃً استعمال ہے اور یہی عبارتِ نہر کا ظاہر ہے تو لفظ ''اوحکما'' کی کوئی ضرو رت نہیں، جیسا کہ طحاوی نے افادہ فرمایا اھ (ت)
اقول: لایرتاب(۱) احد انک اذاعمدت الی حجر املس فوضعت کفیک علیہ ثم مسحت بھما وجھک وذراعیک فقد استعملت الحجر فی التطھیر لکن اذا قیل استعمال جزء من الارض فی العضوین اوعلی العضوین کما ھوالفاظھم لم یتبادر منہ الامساس العضوین بجزء من الارض الا تری(۱) ان السید ط فسر استعمالہ بقولہ ھو المسح علی الوجہ والیدین ۱؎ اھ وذکر مثلہ غیرہ بل(۲) قال العلامۃ ش نفسہ بعید ھذا الاستعمال ھو المسح المخصوص للوجہ والیدین ۲؎ اھ ولاشک ان مسح العضوین بجزء من الارض لایقع فی نحو الحجر الاملس وکل ما لا یلتزق شیئ منہ بالکفین انما الواقع فیہ امساسھا بکفین امستا بالجزء فلم یستعمل الجزء فیھما وعلیھما الابالواسطۃ وھذا معنی استعمالہ الحکمی۔
میں کہتا ہوں اس میں کسی کو شک نہ ہوگا کہ جب کسی نے چِکنے پتھّر کا قصد کرکے اس پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو رکھا پھر ان سے اپنے چہرے اور دونوں کلائیوں کا مسح کیا تو تطہیر کے کام میں پتھّر کو استعمال کیا۔ لیکن جب یہ کہا جائے کہ ''زمین کے کسی جز کو ''دونوں اعضاء میں'' یا ''دونوں عضووں پر'' استعمال کرنا جیسا کہ ان حضرات کی عبارتوں میں ہے، تو اس سے ذہن اسی بات کی طرف جائے گا کہ دونوں عضووں کا زمین کے کسی جز کو مس کرنا۔ دیکھ لو سید طحطاوی نے استعمال کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: ''وہ چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنا ہے اھ'' اسی کے مثل دوسرے حضرات نے بھی ذکر کیا ہے، بلکہ خود علامہ شامی نے اس استعمال کے کچھ بعد یہ کہا ہے: ''وہ چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مخصوص مسح ہے۔ اھ اور اس میں شک نہیں کہ چکنے پتھّر میں اور ہر ایسی چیز میں جس سے ہتھیلیوں میں کچھ بھی چپک نہ پائے دونوں عضووں کا جزو زمین سے مسح نہ پایا جائےگا اس میں بس دونوں اعضاء پر جزو زمین کا استعمال بالواسطہ ہی ہوا، اور یہی استعمال حکمی کا معنی ہے۔ (ت)
(۱؎ طحطاوی علی الدرالمختار باب التیمم بیروت ۱/۱۲۴) (۲؎ ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱/۱۶۷)
اماجعلہ(۲) اٰلۃ للتطھیر فکلام مجمل خفی لا یحصل بہ التعریف فانہ باطلاقہ یشمل مااذا ذرالتراب علی وجہہ وذراعیہ بنیۃ التطھیر فقد جعلہ اٰلۃ لہ ولایصیر متیمّما مالم یمسح بیدیہ علی وجہہ وذراعیہ بنیۃ التطھیر بعد وقوع التراب علیھا والمسألۃ مخصوص علیھا فی المعتمدات کالخانیۃ والخلاصۃ وخزانۃ المفتین والایضاح والجوھرۃ وغیرھا ستأتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔
اور وہ معنی جو علامہ شامی نے بتایا کہ جزو زمین کو آلہ تطہیر بنانا تو یہ مجمل وخفی کلام ہے جس سے تعریف حاصل نہیں ہوتی۔ اسے مطلق رکھا جائے تو یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جب آدمی مٹّی اپنے چہرے اور کلائیوں پر تطہیر کی نیت سے چھڑک لے اُس نے جزوِ زمین کو آلہ تطہیر تو بنالیا مگر تیمم کرنیوالا نہ ہوگا جب تک کہ چہرے اور کلائیوں پر مٹّی پڑنے کے بعد ان پر بہ نیتِ تطہیر ہاتھوں سے مسح نہ کرے۔ اس مسئلہ پر کتبِ معتمدہ خانیہ، خلاصہ، خزانۃ المفتین، ایضاح، جوہرہ وغیرہا میں نص وتصریح موجود ہے ان شاء اللہ تعالٰی آگے اس کا ذکر بھی آئیگا۔ (ت)
ثم اقول: بل التحقیق عندی ان الاستعمال ھو المسح کمافسرہ السیدان ط وش وھو حقیقۃ التیمم کماحققہ المحقق حیث اطلق فلابد من وجودہ حقیقۃ بالمعنی الذی سنحققہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی فلا یکفی الاستعمال الحکمی والا لم یکن تیمما حقیقۃ لان الحقیقۃ الرکن حقیقۃ۔
ثم اقول: بلکہ میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ استعمال وہی مسح کرنا ہے جیسا کہ حضرات طحطاوی وشامی نے تفسیر کی۔ اور یہی تیمم کی حقیقت ہے جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے اس نے تحقیق کی۔ تو اس کا وجود حقیقۃً۔ اس معنی میں جس کی اِن شاء اللہ تعالٰی ہم عنقریب تحقیق کررہے ہیں، ضروری ہے اور حکمی استعمال کافی نہ ہوگا، ورنہ حقیقۃً تیمم کرنے والا نہ ہوگا۔ اس لئے کہ حقیقت وماہیت تو وہی ہے جو حقیقۃً رکن ہو۔ (ت)
بل(۱) الصعید ھو المنقسم الی الحقیقی وھو جزء من جنس الارض والحکمی(۲) وھو الکف الذی امس بہ علی نیۃ التطہیر فان الشرع المطھر امرنا ان نمسح وجوھنا وایدینا منہ وارشدناہ الی صفتہ بان نضع الاکف علیہ فنمسح بھا من دون(۳) حاجۃ الی ان یلتزق بھا شیئ منہ بل سن لنا ان ننفضھا ان لزق حتی یتناثر فعلم ان الجزء الملتزق ساقط الاعتبار بل مطلوب التجنب فما ھو الا ان الکفین بوضعھما المنوی یورثھما الصعید صفۃ التطھیر فیقومان ویفید ان حکمہ فھما الصعید الحکمی حکما من ربنا تبارک وتعالٰی غیر معقول المعنی۔
بلکہ (تحقیق یہ ہے کہ) صعید ہی کی دو۲ قسمیں ہیں: حقیقی اور حکمی۔ حقیقی، جنس زمین کا کوئی جز ہے، اور حکمی، وہ ہتھیلی ہے جو جنسِ زمین سے بہ نیت تطہیر مس کی گئی۔ اس لئے کہ شرع مطہر نے ہمیں یہ حکم دیا کہ اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کریں۔ اور ہمیں اس کا طریقہ یہ بتایا کہ اس پر اپنی ہتھیلیوں کو رکھیں پھر ان سے مسح کرلیں، اس کی ضرورت نہیں کہ ان میں جنسِ زمین سے کچھ چپک جائے، بلکہ ہمارے لئے مسنون یہ ہے کہ اگر کُچھ لگ جائے تو ہتھیلیوں کو جھاڑ دیں تاکہ گردوغبار جھڑ جائے، اس سے معلوم ہوا کہ جنس زمین کا وہ جُز جو ہتھیلیوں سے چپک جاتا ہے ساقط الاعتبارہے بلکہ اس سے بچنا مطلوب ہے۔ تو یہی ہوا کہ نیت کے ساتھ دونوں ہتھیلیاں جب جنس زمین پر رکھ دی جاتی ہیں تو ان دونوں کے اندر جنس زمین تطہیر کی صفت پیدا کردیتی ہے جس کی وجہ سے یہ دونوں اس کے قائم مقام ہوجاتی ہیں اور اسی کے حکم کا افادہ کرتی ہیں۔ اس لئے یہی دونوں صعید حکمی ہیں۔ یہ ہمارے رب تبارک وتعالٰی کے حکم کی بنا پر ہے جس کا معنی عقل کی دسترس میں نہیں۔ (ت)