فاقول: لم(۲) یعلم کونھا طھورا الا بالکریمۃ والکریمۃ لم تشرط لطھوریتھا الاطیبھا وطھارتھا ومازالت الطھوریۃ الالزوال الطھارۃ فان عادت عادت فلابد من القول بما قالوا والمیل الی مامالوا۔
فاقول: زمین کا مطہّر ہونا آیت ہی سے معلوم ہوا اور آیت نے مطہّر ہونے کیلئے صرف پاکیزگی وپاکی کی شرط لگائی اور وصف طہارت ختم ہونے ہی کی وجہ سے مطہّر ہونے کی صفت ختم ہوئی، تو اگر طہارت کی صفت (خشک ہوجانے سے) لوٹ آئے تو مطہر ہونے کی صفت بھی لوٹ آئیگی،اس لئے اسی کا قائل ہونا پڑے گا جس کے قائل وہ حضرات ہیں اور اسی کی طرف مائل ہونا ہوگا جس کی طرف وہ مائل ہیں۔ (ت)
اقول: لکن قدیلزم علیہ انھا اذا اصابھا الماء تنجس وعادت نجسۃ لان القلیل والکثیر من النجاسۃ سواء فی الماء القلیل فيتنجس ثم ینجس الارض وھو(۱) احد تصحیحین فی کل ماحکم بطھارتہ بغیر مائع کمافصلہ البحر فی البحر قبیل قولہ وعفی قدر الدرھم ونقل عن المحیط فی خصوص مسألۃ الارض ایضا ان الاصح عود النجاسۃ لکن الروایۃ المشھورۃ انھا لاتقود نجسۃ وھو المختار خلاصۃ وھو الصحیح خانیۃ ومجتبی وھو الاولی لتصریح المتون بالطھارۃ وملاقاۃ الماء الطاھر للطاھر لاتوجب التنجس وقد اختارہ فی فتح القدیر فان من قال بالعود بناہ علی ان النجاسۃ لم تزل وانما قلت ۱؎ اھ بحر۔
اقول:، لیکن اس پر یہ اعتراض لازم آتا ہے کہ خشک ہونے سے پاک ہوجانے والی زمین پر اگر پانی پہنچ جائے تو نجس ہوجائےگا اور زمین بھی پھر نجس ہوجائیگی۔ اس لئے کہ آب قلیل کیلئے قلیل وکثیر دونوں ہی نجاستیں برابر ہیں تو پانی نجس ہوجائےگا پھر زمین کو بھی نجس کردے گا۔ اور ہر وہ چیز جس کے متعلق کسی بہنے والی چیز کے بغیر پاک ہوجانے کا حکم کیا گیا ہے اس کے بارے میں دو تصحیحوں میں سے ایک یہی ہے کہ پانی پڑنے سے وہ پھر ناپاک ہوجائیگی، جیسا کہ البحرالرائق میں ''وعفی قدر الدرھم'' سے قبل اس کی تفصیل موجود ہے اور محیط سے خاص مسئلہ زمین میں، یہ نقل کیا ہے کہ اصح یہی ہے کہ نجاست لوٹ آئیگی۔ لیکن روایت مشہورہ یہ ہے کہ نجس نہ ہوگی اور یہی مختار ہے۔ خلاصہ اور یہی صحیح ہے خانیہ ومجتبی اور یہی اولٰی ہے کیونکہ متون میں طہارت کی صراحت موجود ہے اور پاک شیئ سے پاک پانی کا اتصال باعث نجاست نہیں۔ اور اسی کو فتح القدیر میں اختیار کیا اس لئے کہ جو دوبارہ نجس ہوجانے کے قائل ہیں ان کی بنیاد اس پر ہے کہ نجاست زائل نہیں ہوئی صرف کم ہوئی اھ البحرالرائق۔ (ت)
(۱؎ البحرالرائق باب الانجاس سعید کمپنی کراچی ۱/۲۲۷)
اقول: والتحقیق(۲) والنظر الدقیقان ھذا ایضا لایلزمھم ولا بعدم لزومہ یستضر مقصودھم اعنی الامام ملک العلماء والشارحین فلربما یعفی مثل القلیل فی الماء ایضا کمانصوا فی رشاش البول کرؤس الابر ووقوع بعرۃ اوبعرتین الی مایستقلہ الناظر فی البئر وکذا الخثی والروث القلیلان فلیکن ھذا ایضا من ذاک کیف ومابقی بعد الجفاف وذھاب الاثر حتی لم یبق ریح ولا لون لایکون الاکرؤس الابر او اقل ومعنی الطاھر ھنا فی المتون وغیرھا سائغ الاستعمال والا فقد صرحوا بطھارۃ المنی بالفرق ومعلوم قطعا انہ لایزول بالکلیۃ بل تبقی لہ اجزاء ولا امکان للحکم بطھارۃ اجزاء النجس مادامت العین باقیۃ فلا معنی الا المعفو عنہ السائغ الاستعمال وقد عفی ایضا فی الماء فان المختار کما فی الخلاصۃ عدم عودہ نجسا باصابۃ الماء ۱؎۔
اقول: (عہ۲) تحقیق اور نظر دقیق یہ ہے کہ یہ بھی ان پر یعنی ملک العلماء اور شارحین پر لازم نہ آئیگا اور لازم نہ آنے کے ساتھ ان کے مقصود کیلئے مضر بھی نہیں۔ کپڑے وغیرہ میں جیسے ایک حد تک قلیل نجاست معاف ہوتی ہے کچھ خفيف وقلیل سی نجاست پانی میں بھی تو عفو ہوتی ہے سُوئی کے ناکوں کی طرح پیشاب کے چھینٹے پڑ جائیں، کُنویں میں مینگنی پڑ جائے ایک دو یا کچھ اور، جہاں تک کہ دیکھنے والا اسے قلیل ہی سمجھے تو ان سب کے معاف ہونے سے متعلق علماء کی صراحت موجود ہے۔ قلیل گوبر اور لید کا بھی یہی حکم ہے۔ تو خشک زمین پر جو خفيف سی نجاست رہ گئی ہے اس کا بھی یہی حکم ہونا چاہئے کیونکہ جب زمین خشک ہوگئی اور نجاست کا اثر جاتا رہا یہاں تک کہ نہ رنگ باقی رہا نہ بُو، تو اس کے بعد جو کچھ رہ جاتا ہے وہ بس سُوئی کے ناکوں کی طرح یا اس سے بھی کم تر ہوتا ہے (تو یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ ایسی خشک زمین پانی پڑنے کے بعد بھی پاک ہی رہے) یہاں پر متون وغیرہا میں جو طاہر کا لفظ آیا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ استعمال جائز ہے (یہ معنی نہیں کہ کہ وہ کامل طور پر ایسا پاک وطاہر ہے کہ ذرا بھی نجاست کا وجود نہیں) علماء نے صراحت فرمائی ہے کہ کپڑے پر خشک منی ہو تو رگڑ دینے سے پاک ہوجائیگی۔ اور یہ قطعی طور پر معلوم ہے کہ رگڑ سے منی بالکل ختم نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے کچھ اجزاء باقی رہ جاتے ہیں۔ عین کے باقی رہتے ہوئے اجزائے نجس کی طہارت کا حکم دینا ممکن ہی نہیں پھر پاک ہونے کا کیا مطلب ہوا؟ یہی کہ اب استعمال جائز ہے اور جو کچھ رہ گیا ہے وہ معاف ہے۔ اور یہ پانی کے حق میں بھی معاف ہی ہے۔ اس لئے کہ مختار یہی ہے۔ جیسا کہ خلاصہ میں ہے کہ پانی لگنے سے وہ پھر نجس نہ ہوگا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خلاصہ جنس آخر من فصل السادس فی غسل الثوب نولکشور لکھنؤ ۱/۴۲)
(عہ۲) ملک العلماء کی عبارتِ بدائع سے یہ معلوم ہوا کہ زمین خشک ہوجانے سے نجاست بالکل زائل نہیں ہوتی کچھ باقی رہتی ہے اسی لئے اس سے تیمم جائز نہیں کیونکہ کتاب اللہ میں اس کیلئے صعید پاک کی شرط آئی ہے اور نجاست اگرچہ خفيف ہو طہارت کے منافی ہے لیکن قلیل نجاست جواز نماز کے منافی نہیں اس لئے اس زمین پر نماز کا جواز ہے۔ اب بحرالرائق کی منقولہ عبارت کی آخری سطر کی روشنی میں ملک العلماء کے نزدیک ایسی خشک زمین پانی لگنے سے پھر نجس ہوجانی چاہئے کیونکہ ان کی صراحت موجود ہے کہ زمین خشک ہوجانے سے نجاست کم ہوتی ہے، ختم نہیں ہوتی۔ اقول کے بعد مصنّف نے اس شُبہ کا ازالہ فرمایا ہے ۱۲ محمد احمد اصلاحی
فظھر وللّٰہ الحمد صحۃ ماقالوہ من انھا طاھرۃ فی حق الصلاۃ نجسۃ فی حق التیمم وان لاخلاف بینہ وبین مافی المتون من حکم الطھارۃ وان مافعل الجم الغفير من الاقتصار علی تقییدالصعید بالطاھر صاف طاھر لاغبار علیہ واللّٰہ تعالٰی الموفق۔
اس تفصیل سے بحمداللہ علما کے اس ارشاد کی صحت روشن ہوگئی کہ وہ خشک زمین نماز کے حق میں پاک ہے، تیمم کے حق میں ناپاک ہے اور نجاست پڑنے کے بعد خشک ہوجانے والی زمین سے متعلق متون میں پاک ہونے کا جو حکم ہے اور ان علماء کے قول میں تیمم کے حق میں اس کے ناپاک ہونے کا جو حکم ہے دونوں میں کوئی مخالفت اور منافات نہیں۔ اور علماء کے جِم غفیر نے تیمم سے متعلق صعید کو صرف طاہر وپاک سے مقید کرنے پر جو اکتفا کیا ہے یہ بالکل پاک وصاف ہے جس پر کوئی غبار نہیں، اور اللہ تعالٰی ہی توفيق دینے والا ہے۔ (ت)
ثمّ قد یسبق الی بعض الاذھان انھم جعلوا حقیقۃ التیمّم مجرد القصد وھو ظاھر الفساد ولذا اعترضہ عبد الحلیم فی حاشیۃ الدرر بانہ لایفھم منہ الاستعمال وھو رکن کمالایخفی ۱؎ اھ۔
تعریف مذکور ''القصد الی الصعید الطاھر للتطھیر'' (پاک سطحِ زمین کا قصد کرنا تطہیر کیلئے) سے کچھ لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اس تعریف میں محض قصد کو تیمم کی حقیقت قرار دے دیا گیا ہے جس کا فاسد ہونا ظاہر ہے۔ اسی لئے درر کے حاشیہ میں فاضل رومی عبدالحلیم نے اس پر اعتراض کیا کہ اس تعریف سے ''استعمال'' سمجھ میں نہیں آتا حالانکہ استعمال کا رکن تیمم ہونا کوئی پوشیدہ امر نہیں اھ (ت)
(۱؎ حاشیۃ الدر لمولٰی عبدالحلیم باب التیمم مطبع عثمانیہ بیروت ۱/۲۴)
واقول: لیس(۱) کذلک بل قالوا للتطھیر یعنی المعروف المعھود من مسح الوجہ والیدین فکان المعنی التیمّم ھو ان یقصد صعیدا طاھرا فيمسح وجھہ ویدیہ منہ وھذا المجموع عین ما افادہ النظم الکریم غیر انہ لیس فیہ مافی کلام ھؤلاء ان المجموع رکن واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں اس تعریف میں استعمال کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے اس میں للتطھیر موجود ہے(''پاک کرنے کیلئے'') صعید طاہر کا قصد کرنا) تطہیر سے مراد وہی ہے جو معروف ومعلوم ہے یعنی چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرنا۔ اب معنٰی یہ ہُوا کہ تیمم یہ ہے کہ ''پاک سطح زمین کا قصد کرکے اپنے چہرے اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرے''۔ یہی پُوری بات قرآن کریم نے بھی افادہ فرمائی ہے ''پاک سطح زمین کا قصد کرو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کرو''۔ ہاں قرآن کریم کے بیان میں وہ خامی نہیں جو اس تعریف میں ہے وہ یہ کہ اس تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ قصد اور تطہیر ومسح سبھی تیمم کا رکن ہیں (جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قصد رکن نہیں شرط ہے) واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
الوجہ الثانی ماافادہ ملک العلماء فی البدائع وتبعہ کثیرون من اٰخرھم الدرر انہ استعمال الصعید فی عضوین مخصوصین علی قصد التطھیر بشرائط مخصوصۃ ۱؎ اھ ولفظ الامام الزیلعی فی ما حکی عنھم استعمال جزء من الارض علی اعضاء مخصوصۃ علی قصد التطھیر ۲؎ اھ
تعریف دوم: جس کا ملک العلماء نے بدائع میں افادہ فرمایا اور بہت سے حضرات نے ان کا اتباع کیا جس کے آخری لوگوں میں سے صاحب درر ہیں وہ یہ ہے: ''جنس زمین کا' دو خاص عضووں میں، تطہیر کے ارادہ سے، مخصوص شرائط کے ساتھ استعمال کرنا''۔ امام زیلعی نے حضرات علماء سے حکایت کرتے ہوئے جو الفاظ ذکر کیے وہ یہ ہیں ''زمین کے کسی جز کا، خاص اعضاء پر تطہیر کے ارادہ سے استعمال کرنا اھ (ت)
(۱؎ حاشیۃ الدر رلمولٰی عبدالحلیم باب التیمم مطبع عثمانیہ بیروت ۱/۲۴)
(۲؎ تبیین الحقائق باب التیمم بولاق مصر ۱/۳۶)
اقول: وقید الطاھر یستفاد من قصد التطہیر قال وفیہ نظر لانہ لایشترط ان یستعمل الجزء علی الاعضاء حتی یجوز بالحجرالاملس ۳؎ اھ
میں کہتا ہوں (اس تعریف میں صراحۃً صعید طاہر یا جزوطاہر کا ذکر نہیں مگر) طاہر کی قید ''قصد تطہیر'' کے لفظ سے مستفاد ہوجاتی ہے (کیونکہ غیر طاہر سے تطہیر ممکن نہیں) امام زیلعی نے فرمایا: ''اس تعریف میں نظر ہے اس لئے کہ تیمم کے اندر اعضاء پر جزو زمین کا استعمال شرط نہیں، چکنے پتھّر سے بھی تیمم جائز ہے۔''
(۳؎ تبیین الحقائق باب التیمم بولاق مصر ۱/۳۶)
وتبعہ علی ھذا الایراد غیر واحد ولاجل ھذا جعل فی الجوھرۃ التعریف الاوّل اصح حیث قال التیمم استعمال جزء من الارض طاھر فی محل التیمم وقیل القصد الی الصعید للتطھیر وھذا اصلح لان التیمم بالحجر یجوز ۱؎ اھ۔
اس اعتراض پر متعدد حضرات نے ان کا اتباع کیا، اور اسی لئے جوہرہ نیرہ میں تعریف اول کو ''اصح'' قرار دیا۔ جوہرہ میں یہ ہے: تیمم، زمین کے کسی پاک جُز کو محلِ تیمم میں استعمال کرنا اور کہا گیا کہ: تطہیر کے لئے صعید (سطحِ زمین) کا قصد کرنا۔ اور یہ تعریف زیادہ صحیح ہے اس لئے کہ پتھر سے بھی تیمم جائز ہے اھ (ت)
(۱؎ جوہرہ نیرہ باب التیمم مکتبہ امدادیہ ملتان ۱/۲۳)
اقول: ولا دور فی لفظ الجوھرۃ فان محل التیمّم معروف عند الناس والمقصود بیان حقیقتہ الشرعیۃ وردہ الشرنبلالی فی غنیتہ بانہ وان کان اصح من الوجہ الذی ذکرہ لایخفی مافیہ من وجہ اٰخر وھو انہ جعل مدلولہ القصد المخصوص وقد علمت ماذکرہ الکمال ۲؎ اھ فقد سلم تزییف الثانی وان نازع فی تصحیح الاول واجاب العلامۃ ابن کمال باشا فی الایضاح وتبعہ فی الدر وغیرہ۔ بان المراد من الاستعمال مایعم الحکمی فيوجد فی التیمّم بالحجر الاملس ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں جوہرہ کی عبارت میں دور نہیں اس لئے کہ محلِ تیمم لوگوں کے نزدیک معروف ہے، اور تعریف سے اس کی شرعی حقیقت بیان کرنا مقصود ہے۔ جوہرہ میں مذکور دوسری تعریف پر شرنبلالی نے اپنی غنیہ میں یوں رَد کیا ہے کہ: یہ اگرچہ اس لحاظ سے اصح ہے جسے جوہرہ نے ذکر کیا لیکن ایک دوسری جہت سے اس میں جو خامی ہے وہ پوشیدہ نہیں۔ وہ یہ ہے کہ اس تعریف میں تیمم کا مدلول، قصد مخصوص کو قرار دیا ہے، اور اس پر کمال ابن ہمام نے جو اعتراض ذکر کیا ہے وہ معلوم ہے اھ (وہ یہ کہ قصد شرط ہے رُکن نہیں) تو جوہرہ کی تعریف ثانی پر جو تردید ہے شرنبلالی نے اسے تسلیم کیا ہے اگرچہ انہوں نے اس کی تعریف اول کی تصحیح سے بھی اختلاف کیا ہے۔ ہماری نقل کردہ تعریفِ دوم پر جو اعتراض ہے علامہ ابن کمال پاشا نے ایضاح میں اس کا جواب دیا جو دُرمختار وغیرہ میں بھی ان کے اتباع میں مذکور ہے۔ (ت) وہ یہ کہ ''استعمال سے مراد وہ ہے جو استعمال حکمی کو بھی شامل ہو اور یہ چکنے پتھّر سے تیمم میں بھی موجود ہے۔ اھ (ت)