Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
70 - 166
اقول : لاکلام(۱) فی ذکر الشروط بل فی جعل الشرط حقیقۃ المشروط کمایفيدہ بقولھم ھو قصد الصعید بخلاف(۲) قولھم بشرائط مخصوصۃ فانہ ذکر الشرط علی جھتہ ومرتبتہ فالاستناد بہ فی غیر محلہ وشیئ(۳) ماقط لایوجد بدون شرطہ عینا کان اومعنی شرعیا اوغیرہ لکن لایصیر بہ الشرط رکن المشروط حتی یحدبہ وکیف(۴) یسوغ ان یقال ان الصلاۃ ھی الطہارۃ وان کانت لاتوجد الابھا نعم یصلح عذرا لہ ماقال قبل الجوابین انہ لابد فی الالفاظ الاصطلاحیۃ المنقولۃ عن اللغویۃ ان یوجد فيھا المعنی اللغوی غالبا ویکون المعنی الاصطلاحی اخص من اللغوی ولذا عرف المشائخ الحج بانہ قصد خاص بزیادۃ اوصاف مخصوصۃ ۱؎ اھ وحاصلہ انہ تسامح یحمل علیہ بیان المناسبۃ بین المنقول عنہ والیہ وقد اشار الیہ بعض المعرفين بہ کالعنایۃ اذقال التیمّم فی اللغۃ القصدُ وفی الشریعۃ القصدُ الی الصعید الطاھر للتطھر فالاسم الشرعی فيہ المعنی اللغوی ۲؎ اھ ھذا۔
اقول:  شرطوں کے ذکر کرنے پر کوئی کلام نہیں بلکہ کلام اس پر ہے کہ شرط ہی کو مشروط کی حقیقت کیسے بنا دیا گیا جیسا کہ ان کا قول ''ھو قصد الصعید'' (تیمم جنس زمین کے قصد کا نام ہے) بتا رہا ہے۔ اور تعریف دوم میں لفظ ''بشرائط مخصوصۃ'' کی حیثیت اس کے برخلاف ہے۔ اس میں شرط کو اس کی صحیح صورت اور مرتبہ میں رکھ کر ذکر کیا گیا ہے۔ اس لئے اس سے استناد بے محل ہے۔ کوئی بھی چیز خواہ عین ہو یا معنی شرعی یا اور کچھ اپنی شرط کے بغیر کبھی نہیں پائی جاتی لیکن اس سے شرط، مشروط کارکن نہیں ہوجاتی کہ اس شرط کے ذریعہ اس کی تعریف کی جاسکے۔ نماز اپنی شرط طہارت کے بغیر وجود میں نہیں آتی لیکن کیا یہ کہنا روا ہوگا کہ نماز طہارت کا نام ہے؟ ہاں اس تعریف میں ''قصد الصعید'' ذکر کرنے کے عذر میں بیان کئے جانے کے قابل وہ ہے جو علامہ شامی نے مذکورہ دونوں جوابوں سے پہلے فرمایا کہ لغوی معانی سے منقول، اصطلاحی الفاظ میں عموماً لغوی معنی ضرور پایا جاتا ہے۔ اور اصطلاحی معنی لغوی معنی سے اخص ہوتا ہے۔ اسی لئے مشائخ نے حج کی تعریف یہ کی ہے کہ حج ایک خاص قصد ہے کچھ مخصوص اوصاف کی زیادتی کے ساتھ اھ حاصل یہ ہوا کہ یہ ایک تسامح ہے جو معنی منقول عنہ اور معنی منقول الیہ کے درمیان مناسبت بتانے کے پیش نظر روا رکھا گیا ہے۔ بعض تعریف کرنے والوں نے اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ جیسے عنایہ میں کہا ہے۔ لغت میں تیمم کا معنی قصد ہے۔ اور شریعت میں پاک ہونے کیلئے پاک سطح زمین کا قصد کرنا۔ تو تیمم کے شرعی نام میں لغوی معنی بھی موجود ہے اھ ہذا۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب التیمم    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۶۸)

(۲؎ عنایۃ مع الفتح    باب التیمم    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۱۰۶)
ثم(۱) التعبیر بطاھر اطبق علیہ عامۃ الکتب متونا وشروحا وفتاوی وابدلہ فی التنویر بالمطھر قال فی الدر خرج(۲) الارض المتنجسۃ اذا جفت فانھا کالماء المستعمل ۳؎ اھ ای طاھرۃ غیر طھور فتجوز الصلاۃ علیھا ولایجوز التیمم بھا وبہ اخذ البحر علی الکنز قائلا کان ینبغی للمصنف ان یقول بمطھر لیخرج ماذکرنا کما عبربہ فی منظومۃ ابن وھبان ۴؎ اھ۔
تیمم کی تعریف میں طاہر اور مطہر سے تعبیر کا فرق متون، شروح، فتاوٰی کی عامہ کتب کا ''طاہر'' سے تعبیر پر اتفاق ہے مگر تنویر الابصار میں ''طاہر'' کی بجائے ''مطہر'' کہا۔ درمختار میں مطہر سے تعبیر کا فائدہ بتایا کہ یہ کہنے سے وہ زمین خارج ہوگئی جو نجس ہوئی پھر خشک ہوگئی کیونکہ وہ مائے مستعمل کی طرح ہے یعنی طاہر تو ہے مطہّر نہیں۔ تو اس زمین پر نماز پڑھنا جائز ہے مگر اس سے تیمم کرنا جائز نہیں، اسی لئے بحرالرائق میں کنز الدقائق کی عبارت پر گرفت کی ہے کہ مصنف کو ''بمطھر'' کہنا چاہئے تھا تاکہ وہ خارج ہوجائے جس کا ہم نے ذکر کیا، جیسا کہ ابن وہبان کے منظومہ میں ''مطھر'' سے تعبیر کی ہے اھ (ت)
 (۳؎ الدرالمختار        باب التیمم    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۴۱)

(۴؎ بحرالرائق        باب التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۴۷)
واغرب(۱) القھستانی فاخذ علی النقایۃ واشار الی عبارۃ قدکان فيھا الجواب لوتأمل اذقال (علی کل طاھر) تعمیم لایخلو عن تسامح والعبارۃ علی طاھر کامل فانہ لایجوز بارض صارت نجسۃ ثم ذھب اثرھا ۱؎۔
اور قہستانی نے عجب بات کی، نقایہ پر گرفت کرکے اس کی مراد کی طرف ایسے الفاظ میں اشارہ کیا کہ ان ہی الفاظ میں گرفت کا جواب بھی موجود تھا اگر وہ غور سے کام لیتے۔ نقایہ کی عبارت ہے: ''علٰی کل طاھر'' (ہر طاہر پر)۔ اس پر قہستانی نے کہا: یہ تعمیم تسامح سے خالی نہیں۔ اور مراد ''طاہر کامل'' ہے کیونکہ تیمم ایسی زمین پر جائز نہیں جو نجس ہوگئی پھر اس کا اثر جاتا رہا اھ۔ (ت)
    (۱؎ جامع الرموز    باب التیمم    المطبعۃ الکریمیہ قزان (ایران)    ۱/۶۸)
اقول:  الطھارۃ لاتقبل التشکیک وانما التفاوت بمالانجس فيہ اصلا وما فيہ نجس قلیل معفوعنہ فيکون ھذا ھو الجواب ان المراد بالطاھر کامل الطھارۃ الذی لاعفو فيہ۔
اقول:  طہارت قابل تشکیک نہیں (کہ حقیقی طور پر طاہر کامل وطاہر ناقص کی تقسیم ہوسکے) فرق یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایسا طاہر ہوتا ہے جس میں ذرا بھی نجس چیز شامل نہیں۔ اور کوئی ایسا طاہر ہوتا ہے جس میں ایسا قلیل نجس ہوتا ہے جو معاف ہے، تو نقایہ پر اعتراض کا یہی جواب ہے کہ طاہر سے مراد وہ کامل الطہارۃ ہے جس میں نجس قلیل عفو شدہ بھی نہیں۔ (ت)
وھذا ماافادہ الامام ملک العلماء فی البدائع اذقال ان(۱) احراق الشمس ونسف الریاح اثرھا فی تقلیل النجاسۃ دون استئصالھا والنجاسۃ وان کانت تنافی وصف الطھارۃ فلم یکن اتیانا بالمأموربہ فلم یجز فاما النجاسۃ القلیلۃ قدتمنع جواز الصلاۃ عند اصحابنا ولایمتنع ان یعتبر القلیل من النجاسۃ فی بعض الاشیاء دون البعض الاتری ان النجاسۃ القلیلۃ لو وقعت فی الاناء تمنع جواز الوضوء بہ ولواصابت الثوب لاتمنع جواز الصلاۃ ۱؎ اھ
امام ملک العلماء نے بدائع الصنائع میں یہی افادہ فرمایا، فرماتے ہیں: ''سورج کے تمازت اور ہواؤں کے اڑانے کا اثر صرف یہ ہوتا ہے کہ نجاست کم ہوجاتی ہے بالکل ختم نہیں ہوتی۔ اور نجاست اگرچہ کم ہو طہارت کے منافی ہے تو (وہ زمین جو نجس ہوکر خشک ہوگئی اس پر تیمم کرنے میں، پاک زمین سے تیمم کا) جو حکم دیا گیا ہے اس کی بجاآوری نہ ہوسکے گی اس لئے اس سے تیمم جائز نہ ہوا۔ لیکن قلیل نجاست ہمارے اصحاب کے نزدیک جواز نماز سے مانع نہیں اور یہ کوئی محال امر نہیں کہ بعض چیزوں میں قلیل نجاست کا اعتبار ہو اور دوسری بعض چیزوں میں نہ ہو۔ دیکھو کہ برتن میں اگر تھوڑی نجاست پڑ جائے تو اس سے وضو جائز نہیں اور اگر اتنی ہی تھوڑی نجاست کپڑے میں لگ جائے تو اس سے نماز جائز ہے (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    شرائط تیمم        سعید کمپنی کراچی    ۱/۵۳)
وھذا ھو ملمح من قالوا انھا طاھرۃ فی حق الصلاۃ نجسۃ فی حق التیمّم وجعلہ فی البحر ظاھر کلامھم۔
اور یہی ان حضرات کا مطمعِ نظر ہے جنہوں نے فرمایا کہ وہ زمین نماز کے حق میں پاک ہے، تیمم کے حق میں ناپاک ہے۔ مگر بحرالرائق میں اسے انکا ظاہر کلام قرار دیا۔
اقول:  لیست الطھارۃ ولاالنجاسۃ امرا اضافيا بل وصف یثبت للشیئ نفسہ امالاصلہ اولعارض وانما(۱) معنی الطھارۃ فی حق شیئ سوغ الاستعمال فيہ والنجاسۃ فيہ عدمہ ولایکون الاببقاء نجس عفی عنہ فی حق شیئ دون اٰخر کما اشار الیہ ملک العلماء۔
میں کہتا ہوں طہارت اور نجاست کوئی اضافی چیز نہیں (کہ کسی کہ بہ نسبت طہارت ہو اور کسی کی بہ نسبت نجاست) بلکہ یہ ایسا وصف ہے جو خود شیئ کیلئے براہِ راست یا کسی عارض کی وجہ سے ثابت ہوتا ہے۔ کسی شیئ کے حق میں پاک ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس میں اس کا استعمال جائز ہے اور ناپاک ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس میں اس کا استعمال جائز نہیں۔ اور یہ اسی وقت ہوگا جب کچھ نجس جز باقی رہ گیا ہو جو کسی چیز کے حق میں معاف ہے اور دوسری چیز کے حق میں معاف نہیں۔ جیسا کہ ملک العلماء نے اس کی طرف اشارہ فرمایا۔ (ت)
ومنہ(۲) مایؤمر فيہ بالعصر البالغ فعصر زید جھدہ ولوعصرہ عمرو لقطر طھر فی حق زید لاعمر  و۲؎کما فی الدر وغیرہ(۳)
اور اسی سے وہ بھی ہے جس میں خوب نچوڑنے کا حکم ہے۔ اب زید نے اپنی طاقت بھر نچوڑا مگر عمرو اسے نچوڑتا تو ابھی کچھ اور ٹپکتا۔ یہ زید کے حق میں پاک ہے مگر عمرو کے حق میں نہیں۔ جیسا کہ دُرمختار وغیرہ میں ہے۔
 (۲؎ الدرالمختار بالمعنی    باب الانجاس        مجتبائی دہلی        ۱/۵۶)
وبہ ظھر مافی قول البحر اذقال بعد نقلہ الحق انھا طاھرۃ فی حق الکل قال وانما منع التّیمّم لفقد الطھوریۃ کالماء المستعمل وللحدیث عــ۱الوارد من قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم جعلت لی الارض مسجدا وطھورا بناء علی ان الطھور بمعنی المطھر وقد عــ۲ تقدم الکلام فيہ ۱؎ اھ
اس تفصیل سے بحرالرائق کی عبارت میں جو خامی ہے ظاہر ہوگئی انہوں نے اسے نقل کرنے کے بعد یہ فرمایا ہے کہ حق یہ ہے کہ وہ زمین (نماز وتیمم) ہر ایک کے حق میں پاک ہے اور اس سے تیمم اس لئے ممنوع ہے کہ اس میں مطہّر ہونے کی صفت مفقود ہے۔ جیسے مائے مستعمل میں یہ صفت مفقود ہے۔ دُوسری وجہ یہ ہے کہ حدیث میں نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا قول وارد ہے: ''میرے لئے زمین کو مسجد اور طہور بنایا گیا''۔ یہ استدلال اس بنیاد پر ہے کہ طہور بمعنی مطہّر ہے۔ اور اس پر کلام گزر چکا ہے۔ (ت)
عـ۱ اقول فی جعلہ(۲) دلیلا براسہ نظر لایخفی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول: اسے مستقل دلیل بنانا نمایاں طور پر محل نظر ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت) (کیونکہ حدیث سے صرف یہ ثبوت فراہم ہوتا ہے کہ زمین مطّہر ہے اس کو ماسبق سے ملائیں تو ایک دلیل مکمل ہوگی اور ماسبق سے الگ کردیں تو مدعا ثابت نہ ہوگا ۱۲ محمد احمد مصباحی)
عــ۲ اقول الذی(۳) قدم صدر بحث المیاہ انکار ان یکون الطھور بمعنی المطھر لغۃ ولاشک(۴) ان المحاورات الشرعیۃ تظافرت علی ذلک منھا ھذا الحدیث فان کون الارض طاھرۃ لیس من خصائص ھذہ الامۃ بل کونھا طھورا وقد سلم المحقق علی الاطلاق الاجماع علی ان الطھور فی لسان الشرع مایطھر غیرہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

اقول: اس سے پہلے بحث میاہ کے شروع میں انہوں نے لغت میں طہور، بمعنی مطہِّر ہونے کا انکار کیا ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ طہور بمعنی مطہّر ہونے پر شرعی محاورات کثرت سے موجود ہیں انہی میں سے یہ حدیث بھی ہے کیونکہ زمین کا طاہر ہونا اس امت کی خصوصیات میں نہیں بلکہ زمین کا مطہّر ہونا اس امت کے خصائص سے ہے، اور محقق علی الاطلاق نے تو اِس بات پر اجماع تسلیم کیا ہے کہ زبانِ شرع میں طہور وہ ہے جو دوسرے کو پاک کردے۔ (ت)
 (۱؎ بحرالرائق    باب التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۴۷)
اقول: مطمح(۱) نظرھم فی ھذا التعلیل ان الکتاب الکریم انما شرط صعیدا طیباوالطیب ھوالطاھر فاشتراط وصف اٰخر فوق الطھارۃ زیادۃ علی الکتاب فيجب ان تخرج ارض تنجست وجفت من الطہارۃ کیلا یشملھا المأموربہ۔
میں کہتا ہوں اس تعلیل میں ان علماء کا مطمحِ نظر یہ ہے کہ قرآن کریم نے ''صعید طیب'' کی شرط لگائی۔ اور طیب وہی ہے جو پاک ہو۔ اور پاکی سے اوپر ایک وصف کا اور اضافہ کرنا کتاب اللہ پر زیادتی ہے۔ اس لئے یہ (کہنا) ضروری ہے کہ جو زمین نجس ہوکر خشک ہوگئی وہ (تیمم کے حق میں) طاہر ہی نہیں تاکہ ماموربہ اس زمین کو شامل ہی نہ ہو۔ (ت)
اما الحدیث فاقول یفيد(۱) کالاٰیۃ وصف الارض بانھا طھور فيثبت لکل ارض طاھرۃ لاتقییدہ التطھیر بما ھو منھا طھور فوق الطہارۃ اما قرربہ المحقق حیث اطلق ان الصعید علم قبل التنجس طاھرا وطھورا وبالتنجس علم زوال الوصفين ثم ثبت بالجفاف شرعا احدھما اعنی الطھارۃ فيبقی الاٰخر علی ماعلم من زوالہ واذا لم یکن طھورا لایتیمّم بہ ۱؎ اھ۔
رہی وہ حدیث جو آپ نے پیش کی فاقول یہ بھی آیت کی طرح زمین کیلئے طہور ہونے کی صفت کا افادہ کررہی ہے۔ تو یہ صفت ہر طاہر زمین کیلئے ثابت ہوگی۔ حدیث یہ افادہ نہیں کرتی کہ تطہیر کا عمل اسی زمین سے مقید ومخصوص ہے جو طاہر ہونے سے بڑھ کر مطِہّر ہو۔ لیکن محقق علی الاطلاق کی یہ تقریر کہ ''نجس ہونے سے قبل سطح زمین کا طاہر اور مطہّر دونوں کا ہونا معلوم تھا۔ اور نجس ہونے سے دونوں صفتوں کا زوال اور ختم ہونا معلوم ہوا۔ پھر خشک ہونے سے دونوں میں ایک وصف یعنی طاہر ہونا شرعاً ثابت ہوا تو دوسرا وصف اسی حال معلوم زوال پر باقی رہے گا (مطہّر ہونے کا وصف ثابت نہ ہوسکے گا) اور جب مطہر نہ ہوگی تو اس سے تیمم جائز نہ ہوگا''۔ اھ (ت)
 (۱؎ بحرالرائق    باب الانجاس        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۲۲۵)
Flag Counter