Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۳(کتاب الطہارۃ)
68 - 166
مسئلہ ۱۰۲:    از جائس ضلع رائے بریلی محلہ زیر مسجد مکان حاجی ابراہیم مرسلہ ولی اللہ صاحب     ۲ ربیع الاوّل شریف

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو۲ نمازوں کو بلاعذر جمع کرنا اور بلا کوئی بیماری مہلک اور مضر کے تیمم کرنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: دو۲ نمازوں(۱) کو بلاعذر جمع حقیقی کرنا کہ پہلی کا وقت کھو کر دوسری کے وقت میں پڑھیں یا دوسری کا وقت آنے سے پہلے اُسے پہلی کے وقت میں پڑھ لیں حرام ہے پہلی صورت میں نماز قضا ہوگی اور دوسری میں ہوگی ہی نہیں اس کی تحقیق اعلٰی درجہ بیان پر فقیر کے رسالہ حاجز البحرین میں ہے پانی موجود ہو اور ضرر نہ کرے تو ایسی چیز کیلئے جو بِلاطہارت ناجائز ہے جیسے نماز یا قرآن مجید کا چھونا یا سجدہ تلاوت وغیرہا تیمم حرام ہے۔ ہاں جو چیزیں بلاطہارت بھی جائز ہیں جیسے درود شریف، کلمہ شریف یا بے وضو قرآن مجید پڑھنا، مسجد میں جانا سلام کرنا سلام کا جواب دینا ان کیلئے اگر تیمم کرلیا مضائقہ نہیں بلکہ بہتر ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۳ :   مرسلہ سید محمد نور عالم صاحب مقام ڈھولنہ تحصیل ریلوے اسٹیشن کا سگنج ضلع ایٹہ۲ جمادی الاولٰی ۱۳۲۲ھ: خدمت مولٰنا الاعظم الافخم متع اللہ المسلمین بطول بقائکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،۔ مدّت سے دولتِ دیدار سے محروم اور بے نصیب اور اقتباس انوار فوائد علمیہ سے بے بہر۔ تاآنکہ رسوم صوری مکاتبات اور دریافت خیریات سے بھی غافل۔ وائے برمن معہذا آپ کی یاد اور محبت دل میں موجود۔ من دانم وخدایم خدا یہاں وہاں اپنا خاص کرم مبذول رکھے آمین ضروری تصدیع اوقات منتظمہ یہ ہے کہ مشہور کیا گیا ہے کہ مذہب حنفی میں جس وضو سے کہ جنازے کی نماز پڑھے یا پڑھائے اس سے دیگر نمازیں صلوات مکتوبہ خمسہ ودیگر نوافل وغیرہ نہیں پڑھتے ہیں آیا پڑھتے ہیں یا حکم مذہب حنفی اور نمازوں کے پڑھنے کا اس وضو سے نہیں ہے جو امر محقق ہو وہ لکھ کر ممنون فرمائیے اور یہ بھی فرمائیے کہ کسی نے احناف میں سے لکھا ہے یا نہیں اور اس کی اصل کیا ہے باقی خیریت اور آپ کی عافيت مطلوب۔
الجواب: بشرف ملاحظہ عالیہ حضرت اعظم افخم اجل اکرم عالم نور از نور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حضرت سیدنا ومولانا سید شاہ محمد نور عالم صاحب ادام اللہ تعالٰی نورہم وسرورہم۔

پس از آداب معروض، الحمدللہ کہ گوشہ خاطر عاطر میں اس خادم کی یاد جگہ رکھتی ہے، ذلک من فضل اللّٰہ علینا یہ مسئلہ کہ جہاں میں مشہور ہے کہ وضوئے جنازہ سے اور نماز نہیں پڑھ سکتے محض غلط وباطل وبے اصل ہے۔

مسئلہ(۱) صرف اس قدر ہے کہ اگر نمازِ جنازہ قائم ہُوئی عـــہ اور بعض اشخاص آئے تندرست ہیں پانی موجود ہے مگر وضو کریں تو نماز ہوچکے گی اور نماز جنازہ کی قضا نہیں، نہ ایک میت پر دو۲ نمازیں، اس مجبوری میں انہیں اجازت ہے کہ تیمم کرکے نماز میں شریک ہوجائیں اس تیمم سے اور نمازیں نہیں پڑھ سکتے نہ مسِ مصحف وغیرہ امور موقوفہ علی الطہارۃ بجا لاسکتے ہیں کہ یہ تیمم بحالتِ صحت ووجود ماء ایک خاص عذر کیلئے کیا گیا تھا جو اُس نمازِ جنازہ تک محدود تھا تو دیگر صلوٰت وافعال کے لئے وہ تیمم محض بے عذر وبے اثر رہے گا حکم یہ تھا کہ عوام نے اسے کشاں کشاں کہاں تک پہنچایا۔ اگر(۱) مریض نے یا جہاں پانی نہ ہو تیمم سے نمازِ جنازہ پڑھی تو وہ تیممّ بھی تابقائے عذر سب نمازوں کیلئے کافی ہے نہ کہ وضو۔ والسلام مع الوف الاکرام
عـــہ قائم خواہ حقیقۃً ہوکہ نیت بندھ گئی یا جلد بندھنے کو ہے کہ وضو کرنے تک چاروں تکبیریں ہوچکیں گی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
مسئلہ ۱۰۴:    از شہر کہنہ بریلی مسئولہ اکبر علی خان ملازم مدرسہ اہلسنت    یکم ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید بعد نمازِ عصر تکونی باندھ کر ورزش کرتا ہے اُس کا ستر کھلا ہوا ہے اور لوگ بھی وہاں پر موجود ہیں جب وہ ورزش سے فارغ ہوا تو نمازِ مغرب کا وقت اخیر ہوتا ہے ازرُوئے حکمت بعد ورزش جبکہ وہ پسینہ میں تر ہے وضو کرنا مضر ہے بدن میں درد ہوجانے کا اندیشہ ہے اس صُورت میں اِس کا وضو ساقط ہُوا یا نہیں، بلا تازہ وضو نماز پڑھ سکتا ہے یا تیمم کرے، کیا چاہئے۔ بینّوا توجروا۔
الجواب: لوگوں کے سامنے ستر کھولنا حرام ہے ورزش کے سبب جماعت کھونا حرام ہے نماز کا وقت تنگ ومکروہ کردینا منع ہے ایسی ورزش ناجائز ہے ورزش(۲) سے وضو نہیں جاتا جب تک کوئی شے ناقضِ وضو صادر نہ ہو اگر وضو ہے تو اُسی وضو سے نماز پڑھ لے اور جو وضو باقی نہ رہتا ہو تو ایسے وقت ورزش کرنا قصداً نہ چاہئے ورزش عشا یا صبح کے بعد بھی ہوسکتی ہے اور اگر واقع ہولی اور نماز یا جماعت کے فوت کا اندیشہ ہے اور اس وقت وضو کرے تو وجعِ مفاصل وغیرہ امراض پیدا ہونے کا صحیح خوف ہے تو تیمم کرکے نماز پڑھے اس انتظار کی حاجت نہیں کہ مثلاً گھنٹے بھر جب رگیں رگیں ساکن ہوجائیں گی وضو کرکے پڑھے گا۔
فان العبرۃ للحال دون الاستقبال کمن بعد میلا من الماء فی السفر لیس علیہ التاخیر وان ندب۔
اس لئے کہ اعتبار موجودہ حالت کا ہے آئندہ کا نہیں۔ جیسے وہ شخص جو سفر میں پانی سے ایک میل دُور پر ہو اس پر نماز کو مؤخر کرنا واجب نہیں اگرچہ مندوب ہے۔ (ت)

ہاں یہ بہتر وافضل ہے مگر جبکہ اس انتظار سے وقت جاتا یا مکروہ ہوتا یا جماعت فوت ہوتی ہو تو انتظار کی حاجت نہیں ابھی تیمم کرے اور نماز پڑھے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۵ :   از گونڈل علاقہ کا ٹھیا وار مسئولہ شیخ عبدالستار بن اسمٰعیل صاحب قادری رضوی ۱۸ رجب ۱۳۳۴ھ

جحقّہ کا پانی پاک ہے یا ناپاک۔ مسافری میں اگر پانی نہ ملے تو بجائے تیمم کے حُقّے کے پانی سے وضو جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب: اُس کا پانی نجس ہونے کی کوئی وجہ نہیں اور دُھوئیں کے سبب جو اس کے رنگ وبُو ومزہ میں تغیر آجاتا ہے اس سے اس کے طاہر ومطہر ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا۔
ویجوز الوضوء بماء تغیر احد اوصافہ بخلط طاھر غیر ۱؎ مائع کما فی التبیین والفتح والبحر والدر وغیرھا۔
کسی غیر سیال پاک چیز کے ملنے سے جس پانی کا کوئی ایک وصف بدل جائے اس سے وضو جائز ہے جیسا کہ  تبیین الحقائق، فتح القدیر، بحرالرائق، درمختار وغیرہا میں ہے۔ (ت)
 (۱؎  تبیین الحقائق    ابحاث الماء    بولاق مصر    ۱/۱۹)
سفر میں اگر پانی نہ ملے اور یہ پانی بقدر کفایت موجود ہے تیمم نہ ہوگا اس سے وضو لازم ہوگا ۔
لقولہ تعالٰی فلم تجدوا ماء ۲؎
وھذا یجد ماء
(''اور تم پانی حاصل نہ کرسکو''۔ جبکہ یہ پانی حاصل کرنے والا ہے۔ ت)
 ( ۲؎ القرآن        ۴/۴۲)
البتہ اگر اُس میں بُو ہے تو یہ لازم ہوگا کہ ایسے وسیع وقت میں اُس سے وضو کیا جائے کہ بُو زائل ہونے تک کراہت نہ آئے جب بُو جاتی رہے اُس وقت نماز پڑھے اور اگر دیکھے کہ وقت جاتا ہے تو انتظار نہ کرے۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۰۶ :   مسئولہ عابد خان معرفت منشی خدابخش صاحب ٹھیکیدار صدر بازار بریلی دوشنبہ۱۰شعبان ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس بارے میں کہ ایک شخص اپنی بی بی سے صحبت کرکے سوگیا اب اس کی آنکھ ایسے وقت کھلی جبکہ وقت نمازِ فجر بہت تنگ ہوگیا کہ اگر غسل کرتا ہے تو نماز قضا ہوئی جاتی ہے ایسے وقت میں ستر دھو کر نماز پڑھ لینا جائز ہے یا نہیں، اگر بلاغسل نماز جائز نہیں تو کس وجہ سے جبکہ بی بی سے صحبت کرنا حلال ہے۔
الجواب: جبکہ نماز کا وقت تنگ ہو نجاست دھو کر تیمم کرکے نماز پڑھ لے پھر نہا کر بعد بلند آفتاب اُس کا اعادہ کرے اور عورت سے صحبت حلال ہونے کے سبب طہارت کا حکم ساقط نہیں ہوسکتا۔ یہاں تین(۳) صورتیں ہیں اگر(۱) وقت ایسا تھا کہ بعد جماع غسل کرکے نماز کا وقت نہ ملے گا تو ایسی صورت میں جماع ہی حرام ہے کہ قصداً تفویت نماز ہے اور عورت (۲) کا زوجہ ہونا اسے مستلزم نہیں کہ ہر حال میں اُس سے صحبت جائز ہو نماز ہے روزہ ہے احرام ہے اعتکاف ہے حیض ہے نفاس ہے اور بہت صورتیں ہیں کہ ان میں منکوحہ سے بھی صحبت حرام ہے اور اگر(۳) وقت ایسا تھا کہ غسل ونماز کو کافی تھا مگر صبح ہوچکی تھی یا ہونے کے قریب تھی اور یہ ظن غالب تھا کہ اب سو کر آنکھ نہ کھُلے گی تو صحبت جائز تھی اور سونا حرام اور (۱) اگر سونے کیلئے بھی وقت وسیع تھا اور اتفاقاً آنکھ ایسے تنگ وقت کھلی تو صحبت اور سونا دونوں حلال اور گناہ مرفوع بہرحال حکم وہی ہے کہ جب وقت تنگ ہے تیمم کرکے نماز پڑھ لے اور پھر غسل کرکے اعادہ کرے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷ :       ۵ صفر ۱۳۳۵ھکیا فرماتے ہیں علمائے دین صاحب اس مسئلہ میں کہ بسبب ضعیفی کے تمام جوڑوں میں بدن کے درد رہتا ہے جاڑوں میں پیر دھونے سے کُولھے اور کمر میں درد زیادہ ہوتا ہے ایک ہاتھ میں دو برس سے کُہنی میں چوٹ لگ گئی ہے ہمیشہ درد رہتا ہے وضو کرنے میں کہنی سے نیچے ہاتھ دھوتا ہوں تو کُہنی پر مسح کرلیتا ہوں اور کبھی پیروں پر بھی مسح کرلیتا ہوں اسی اندیشہ کی وجہ سے جمعہ کے روز نہانا بھی اتفاقاً ہوتا ہے اس حالت میں پیر کا مسح اور ہاتھ کی کہنی کا مسح کرنا چاہئے یا نہیں اور کسی وقت میں تیمم بھی کرلیتا ہوں اور کبھی پُورا وضو بھی۔
الجواب:جتنی بات پر قدرت ہے اُتنی فرض ہے اگر پُورے وضو پر قدرت ہے تو نہ مسح جائز نہ تیمم اور اگر کُہنی یا پاؤں پر پانی ڈالنے سے ضرر ہوتا ہے تو اگر ہمیشہ نقصان ہوتا ہے ہمیشہ وہاں پُوری جگہ مسح کرے باقی اعضاء دھوئے اور اگر ایسا ہے کہ جاڑے میں دھونا نقصان کرتا ہے گرمیوں میں نہیں یا ٹھنڈے وقت میں نقصان کرتا ہے گرم وقت میں نہیں تو جس وقت نقصان کرتا ہے اُس وقت مسح کرے باقی اوقات دھوئے، تیمم جائز نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۸ :   مرسلہ سید محمد فہیم ڈی ٹی ایس آفس دانا پور کھگول ضلع پٹنہ۱۲جمادی ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کا ایک پاؤں عارضہ فيل پایہ میں مبتلا ہے بدیں وجہ اُس پاؤں کا دھونا اُس کے حق میں مضر ہے ایسی صورت میں وہ شخص اس پر بجائے غسل کے مسح کرسکتا ہے یا نہیں یا بجائے وضو کے صورت ہذا میں تیمم کرے گا۔ بینوا توجروا
الجواب: اس صورت میں تیمم کی اجازت نہیں ہوسکتی بلکہ ضرر نہ ہو تو پاؤں دھونا فرض ہوگا ضرر کرے تو مسح کا حکم لازم ہوگا مثلاً ٹھنڈے وقت پاؤں دھونا ضرر کرتا ہے تو گرم وقت میں پاؤں دھوئے اور سرد وقت میں پاؤں پر مسح کرے یا سرد پانی سے دھونا نقصان دیتا ہے تو گرم سے پاؤں دھوئے مسح نہ کرے یا پاؤں کے ایک حصّے پر پانی ضرر پہنچاتا ہے دُوسرے پر نہیں اور وہ دوسرا حصہ یوں دھو سکتا ہے کہ نقصان والے حصّے کو پانی نہ پہنچے تو اس حصّے کا دھونا فرض اور اُس حصے پر مسح کرے غرض مقدار قدرت دیکھی جائے گی پھر جتنے عضو پر مسح کا حکم ہوگا اُس پُورے ٹکڑے پر بھیگا ہاتھ ایک ایک ذرّے پر پہنچنا لازم ہوگا اگر کوئی حصہ خشک رہا وضو نہ ہوگا
والمسائل منصوص علیھا فی عامۃ الکتب واللّٰہ تعالٰی اعلم
 (عامہ کتب میں ان کی صراحت موجود ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ ت)
سوال(۱۰۹) دوم شخص مذکور الصدر کو بعد حاجت غسل کے تیمم پر اکتفاء کرنا جائز ہے یا نہیں کیونکہ استعمالِ پانی اس کے حق میں نقصان دہ ثابت ہوچکا ہے۔
الجواب:مرض تو صرف پاؤں میں ہے اس طرح نہائے کہ پاؤں کے اُس حصّے کو جسے پانی نقصان دیتا ہے پانی نہ پہنچے اُتنے حصّے پر مسح کامل کرلے تیمم جائز نہیں ہوسکتا اور نقصان کی وہی صورتیں ہیں جو اوپر مذکور ہُوئیں کہ فقط سرد وقت میں پانی نقصان دیتا ہے تو اُس وقت نہا کر اُتنی جگہ مسح کرکے نماز پڑھ لے جب گرم وقت آئے اُتنی جگہ پر بھی پانی ڈال لے یا صرف ٹھنڈا پانی ضرر دیتا ہے تو اُتنی جگہ گرم پانی سے دھوئے باقی بدن جیسے پانی سے چاہے دھوئے اور پاؤں کا اُتنا حصّہ دھونے سے بچائے جتنے پر پانی بہنا ضرر دیتا ہو خواہ یوں کہ خود وہاں مرض ہو یا یوں کہ اُس پر پانی ڈالنا مرض کی جگہ تک پانی پہنچادے گا بچاؤ نہ ہوسکے گا یا یوں کہ پانی تو نہ پہنچے گا مگر یہاں کی سردی سے وہاں ضرر ہوگا۔ جتنی جگہ کسی طرح ضرر ہو اُس کے ایک ایک ذرّہ پر بالاستیعاب بھیگا ہاتھ پہنچے ورنہ غسل نہ ہوگا۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۰ :   از سرنیا ضلع بریلی مسئولہ شیخ امیر علی قادری رضوی     ۱۶ شوال ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ۱۲ بجے رات کے ہل چلانے جاتا ہے اور ہَل چلاتے ہوئے وقتِ فجر کھیت پر ہوگیا اب نہ پانی موجود ہے اور نہ اب مسجد جاسکتا ہے کیونکہ مسجد بھی دور ہے اور پانی بھی دستیاب نہیں ہوسکتا ہے اب زید تیمم سے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب:اگر پانی اس کے کھیت سے جہاں اس وقت یہ ہے ایک میل یا زیادہ دُور ہے تو تیمم کرسکتا ہے ورنہ ہرگز نہیں۔
فی الدرالمختار لبعدہ ولو مقیما فی المصر میلا ۱؎۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم
درمختار میں جواز تیمم کی صورتوں میں ہے: پانی سے ایک میل دُور ہونے کی وجہ سے، اگرچہ وہ شہر میں مقیم ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ الدرالمختار    باب التیمم    مجتبائی دہلی    ۱/۴۱)
مسئلہ ۱۱۱:    از پیلی بھیت مرسلہ مولوی عرفان علی صاحب بیسلپوری چہار شنبہ     ۵ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ

زید صبح کو ایسے تنگ وقت میں سوکر اُٹھا کہ صرف وضو کرکے نمازِ فجر ادا کرسکتا ہے مگر اس کو غسل کی حاجت ہے پس اس کو غسل کرکے قضا نمازِ فجر ادا کرنا چاہئے یا وقت ختم ہوجانے کے خیال سے غسل کا تیمم کرکے اور وضو کرکے نمازِ فجر ادا کرے اور بعدہ غسل کرکے نمازِ فجر کا اعادہ کرے۔ بینوّا توجّروا
الجواب: تیمم کرکے نماز وقت میں پڑھ لے بعد کو نہا کر اعادہ کرے بہ یفتی (اسی پر   فتوٰی دیا جاتا ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter